Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6878

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ*، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، [ص:301] عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، إِذْ رَأَيْتُ قَدَحًا أَتَيْتُ بِهِ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبْتُ مِنْهُ، حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَجْرِي فِي أَظْفَارِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ»، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «الْعِلْمَ»

حمزہ بن عبداللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ''ایک مرتبہ میں

نَائِمٌ ← بَيْنَا ← أَبِيهِ ← حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6878

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6879

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ*، يَقُولُ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَمْ تَعْلَمْ قُرَيْشٌ بِإِسْلَامِهِ، فَقَالَ: «أَيْ أَهْلُ مَكَّةَ، أَنْشَأُ لِلْحَدِيثِ؟ » فَقَالُوا: جَمِيلُ بْنُ مَعْمَرٍ الْجُمَحِيُّ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَأَنَا مَعَهُ أَتْبَعُ أَثَرَهُ، أَعْقِلُ مَا أَرَى، وَأَسْمَعُ فَأَتَاهُ، فَقَالَ: «يَا جَمِيلُ، إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ»، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَيْهِ كَلِمَةً حَتَّى قَامَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَنَادَى أَنْدِيَةَ قُرَيْشٍ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، إِنَّ ابْنَ الْخَطَّابِ قَدْ صَبَأَ، فَقَالَ عُمَرُ: «كَذَبَ، وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ وَآمَنْتُ بِاللَّهِ وَصَدَّقْتُ رَسُولَهُ»، فَثَاوَرُوهُ، فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى رَكَدَتِ الشَّمْسُ عَلَى رُءُوسِهِمْ، حَتَّى فَتَرَ عُمَرُ وَجَلَسَ فَقَامُوا عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ عُمَرُ: «افْعَلُوا مَا بَدَا لَكُمْ، فَوَاللَّهِ لَوْ كُنَّا ثَلَاثَمِائَةِ رَجُلٍ لَقَدْ تَرَكْتُمُوهَا لَنَا أَوْ تَرَكْنَاهَا لَكُمْ»، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ قِيَامٌ عَلَيْهِ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ حُلَّةُ حَرِيرٍ وَقَمِيصٌ قَوْمَسِيٌّ، فَقَالَ: مَا بَالَكُمْ؟ فَقَالُوا: إِنَّ ابْنَ الْخَطَّابِ قَدْ صَبَأَ، قَالَ: [ص:303] فَمَهْ، امْرُؤٌ اخْتَارَ دِينًا لِنَفْسِهِ، أَفَتَظُنُّونَ أَنَّ بَنِي عَدِيٍّ تُسْلِمُ إِلَيْكُمْ صَاحِبَهُمْ؟ قَالَ: فَكَأَنَّمَا كَانُوا ثَوْبًا انْكَشَفَ عَنْهُ، فَقُلْتُ لَهُ بَعْدُ بِالْمَدِينَةِ: يَا أَبَتِ، مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي رَدَّ عَنْكَ الْقَوْمَ يَوْمَئِذٍ؟ فَقَالَ: «يَا بُنَيَّ، ذَاكَ الْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا' تو قریش کو ان کے اسلام قبول کرنے کا پتہ نہیں چلا انہوں نے فرمایا: اے اہل مکہ ! تم میں سے کون شخص سب سے اچھی گفتگو کر سکتا ہے(یعنی سب سے زیادہ سمجھ دار ہے) لوگوں نے بتایا : جمیل بن معمر جمحی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے پاس تشریف لے گئے میں بھی ان کے ساتھ تھا میں ان کے پیچھے چل رہا تھا 'جو کچھ مجھے نظر آرہا تھا وہ بات مجھے سمجھ آرہی تھی اور میں اسے سن رہا تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس شخص کے پاس آئے اور بولے اےجمیل میں اسلام قبول کر لیا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کوئی جواب نہیں دیا ' یہاں تک کہ وہ اس کے ساتھ مسجد حرام کی طرف آئے اور قریش کی بیٹھکوں کے درمیان اس نے یہ اعلان کیا اے قریش کے گروہ خطاب کا بیٹا بے دین ہو گیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اس نے جھوٹ کہا ہے ' بلکہ میں اسلام قبول کر لیا ہے اور میں اللہ تعالی پر ایمان لے کے آیا ہو ں اور میں نے اس کے رسول کی تصدیق کر دی ہے' تو ان لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ لڑنے لگے ' یہاں تک کہ ان کے سروں پر سورج غروب ہو گیا۔(یعنی کافی دیر تک لڑائی ہوتی رہی)' یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ الگ ہو کر بیٹھ گئے وہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سرہانے کھڑے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تمہیں جو مناسب لگتا ہے تم کر لو اللہ کی قسم ! اگر ہم تین سو لوگ ہوگئے تو یا تم اسے ہمارے لیے چھوڑ دو گےیا پھر ہم اسے تمہارے لیے چھوڑ دیں گے' ابھی وہ لوگ اسی حالت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہوئے تھے ایک شخص اآیا جس نے ریشمی حلہ پہنا ہواتھا اور قومسی قمیض پہنی ہوئی تھی اس نے دریافت کیا: تم لوگوں نے بتایا : خطاب کا بیٹا بے دین ہو گیا ہے اس نے کہا : اسے چھوڑدو' کیونکہ ایک شخص نے اپنی ذات کےلیے دین کو اختیار کیا ہے کیا تم لوگ یہ گمان کرتے ہو کر بنو عدی اپنے ساتھی (یعنی اپنے ایک فرد) کو تمہارے سپرد کر دیں گے۔راوی کہتے ہیں : تو یوں تھا جیسے ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا تھا ' جوہٹ گیا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بعد میں مدینہ منورہ میں'میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ابا جان وہ شخص کون تھا" جس نے اس دن دوسرے لوگوں کو آپ سے پرے کیا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بیٹے وہ عاص بن وائل تھا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6879

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6880

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ كَرَامَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: «مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ فرماتے ہیں : جب سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیاہے ہم مسلسل غالب رہے ہیں۔

«مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ» ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ كَرَامَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6880

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6881

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَرِّفٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا يَذْكُرُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الدِّينَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ: بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ أَوْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ». فَكَانَ أَحَبُّهُمَا إِلَيْهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ

حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دعا کی ''اے اللہ ان دو آدمیوں میں سے اپنے نزدیک زیادہ محبوب شخص کے ذریعے دین اسلام کو عزت عطا کر ابو جہل بن ہشام یا عمر بن خطاب '' (راوی کہتے ہیں: ) تو اللہ تعالی کے نزدیک ان دونوں میں زیادہ محبوب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعًا يَذْكُرُ، ← خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَرِّفٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6881

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6882

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، بِنَصَيبِينَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْفَرْوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْمَاجِشُونِ، حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : نبی اکر م ﷺ نے ارشاد فرمایا : (یعنی دعا کی) ''اے اللہ ! بطور خاص عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا کر ۔'' آسمان والوں کا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے سے خوش خبری حاصل کرنا

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْمَاجِشُونِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْفَرْوِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِنَصِيبِينَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6882

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6883

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ، حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ أَتَى جِبْرِيلُ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، لَقَدِ اسْتَبْشَرَ أَهْلُ السَّمَاءِ بِإِسْلَامِ عُمَرَ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں :جب حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا ' تو حضرت جبرائیل ؑ نبی اکرم ﷺ

يَا مُحَمَّدُ، لَقَدِ اسْتَبْشَرَ أَهْلُ السَّمَاءِ بِإِسْلَامِ عُمَرَ ← «لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ أَتَى جِبْرِيلُ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ النَّبِيَّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ خِرَاشٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ مِنْ كِتَابِهِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6883

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6884

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں 'نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ''عمر بن خطاب اہل جنت میں سے ہے۔''

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← النَّزَّالِ بْنِ1 سَبْرَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← مِسْعَرٍ، ← يحيى بن اليمان ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6884

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6885

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ [ص:309] النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «عَائِشَةُ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ: «أَبُوهَا أَبُو بَكْرٍ»، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ».

حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! لوگوں میں آپ ﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عائشہ میں نے عرض کی: یارسو ل اللہ ! مردوں میں سے کون ہے؟ فرمایا اس کا والد ابو بکر ۔ میں نے دریافت کیا: پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا : پھر عمر بن خطاب ' پھر نبی اکرم ﷺ نے مزید کچھ لوگوں کا ذکر کیا۔

قُلْتُ ← عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6885

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6886

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ فِيهَا قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ أَوْ لُؤْلُؤٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَدْخُلَهُ إِلَّا [ص:310] عِلْمِي بِغَيْرَتِكَ»، قَالَ: عَلَيْكَ أَغَارُ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي عَلَيْكَ أَغَارُ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ''میں جنت میں داخل ہوا میں نے اس میں سونے (راوی کو شک ہے شاید الفاظ ہیں) موتیوں سے بنا ہوا ایک محل دیکھا میں نے دریافت کیا: یہ کس کا محل ہے لوگوں نے بتایا : یہ عمر بن خطاب کا ہے' تو میں اس میں صرف اس وجہ سے داخل نہیں ہوا' کیونکہ مجھے تمہارے مزاج کی تیزی کا پتہ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی :یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں کیا میں آپ ﷺ کے خلاف مزاج کی تیزی دکھاؤں گا کیا میں آپ ﷺ کے خلاف مزاج کی تیزی دکھاؤں گا؟''

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6886

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6887

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ فَقَالُوا: لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ، فَظَنَنْتُ أَنِّي أَنَا هُوَ، فَقُلْتُ: وَمَنْ هُوَ؟ قَالُوا: عُمَرُ بْنُ [ص:311] الْخَطَّابِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← وَأَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6887

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6888

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ*، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ، فَإِذَا امْرَأَةٌ تَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ فَقَالَتْ: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَذَكَرْتُ غَيْرَةَ عُمَرَ، فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا»، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَبَكَى عُمَرُ وَنَحْنُ جَمِيعًا فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ، ثُمَّ قَالَ: بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعَلَيْكَ أَغَارُ؟. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ» وَفِي خَبَرِ جَابِرٍ: «أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ» أُدْخِلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَنَّةَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ فَرَأَى قَصْرَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلَ عَنِ الْقَصْرِ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُ لِعُمَرَ، وَبَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ مَرَّةً أُخْرَى، إِذْ رَأَى كَأَنَّهُ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَإِذَا امْرَأَةٌ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ تَتَوَضَّأُ، فَسَأَلَ عَنِ الْقَصْرِ فَقَالَتْ: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَفْظُ خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ بِخِلَافِ لَفْظِ خَبَرِ جَابِرٍ فَدَلَّكَ ذَلِكَ عَلَى أَنَّهُمَا خَبَرَانِ فِي وَقْتَيْنِ مُتَابَيِنَيْنِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ تَضَادٌّ وَلَاتَهَاتُرٌ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ''میں ایک مرتبہ سویا ہوا تھا میں نے خود کو جنت میں دیکھا وہاں ایک عورت ایک محل کے کنارے پر وضو کر رہی تھی ۔ میں نے دریافت کیا: یہ محل کس کا ہے؟ اس عورت نے بتایا : عمر بن خطاب کا ہے' تو مجھے عمر کے مزاج کی تیزی کاخیال آگیا تو میں وہاں سے مڑ کر واپس آگیا۔'' حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ہم سب لوگ جو اس محفل میں موجود تھے رونے لگے پھر حضرت عمر نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میرے والد آپ ﷺ پر قربان ہوں کیا میں آپ ﷺ پر غصہ کروں گا۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) اس روایت میں یہ بات مذکورہ ہے''ا س دوران کہ میں سویا ہوا تھا '' جبکہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ الفاظ ہیں ''مجھے جنت میں داخل کیا گیا '' تو نبی اکرم ﷺ کو جنت میں اس وقت داخل کیا گیا تھا جب آپ ﷺ کو معراج کروائی گئی تھی آپ ﷺ نے وہاں حضرت عم بن خطاب رضی اللہ عنہ کا محل دیکھاتھا اور اس محل کے بارے میں دریافت کیا: تو فرشتوں نے آپ ﷺ کو بتایا تھا یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ جب نبی اکرم ﷺ سوئے ہوئے تھے' تو یہ دوسری مرتبہ کا واقعہ ہے' جب آپ ﷺ نے خواب میں یہ دیکھا کہ آپ ﷺ کو جنت میں داخل کیا گیا تو وہاں ایک محل کے پہلو میں ایک عورت موجود تھی جو وضوکر رہی تھی ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس محل کے بارے میں دریافت کیا : تو اس عورت نے بتایا : یہ عمر بن خطاب کا ہے ۔ روایت کے یہ الفاظ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے نقل کردہ روایت سے مختلف ہیں 'تو یہ چیز آ پکی اس بات کی طرف کرے گی کہ یہ روایات ہیں جو دو مختلف اوقات کے بارے میں ہیں اس طرح ان دونوں کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6888

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6889

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:313] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکر م ﷺ نے ارشاد فرمایا: ''بے شک اللہ تعالی نے حق کو عمر کی زبان اور دل پر رکھ دیا ہے۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ، [ص:184] ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← هَارُونُ بن معروف ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6889

chevron_left Previous
1234…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr