صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7190
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْفَةً، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: الرُّمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «إِلَى هُنَا هُمُ الْأَنْصَارُ، وَإِنَّا نَذْكُرُ بَعْدَ هَؤُلَاءِ مِنْ سَائِرِ قَبَائِلِ الْعَرَبِ، مَنْ لَمْ يَكُنْ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ قُرَيْشٍ، وَلَا الْأَنْصَارِ إِنَّ اللَّهَ يَسَّرَ ذَلِكَ وَسَهَّلَهُ»
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا ' تو میں نے کسی کی آہٹ سنی ۔ میں نے دریافت کیا : یہ کون ہے تو فرشتوں نے بتایا :یہ رمیصاء بنت ملحان ہے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) یہاں تک انصار کا تذکرہ تھا اب ہم ان کے بعد عربوں کے قبائل سے تعلق رکھنے والے ( ان صحابہ کرام ) کا ذکر کریں گے جن کا شمار قریش سے تعلق رکھنے والے مہاجرین یا انصار میں نہیں ہوتا اگر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو آسان کیا اور اسے سہل کیا۔
أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ
Hadith 7190
