Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7190

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْفَةً، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: الرُّمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «إِلَى هُنَا هُمُ الْأَنْصَارُ، وَإِنَّا نَذْكُرُ بَعْدَ هَؤُلَاءِ مِنْ سَائِرِ قَبَائِلِ الْعَرَبِ، مَنْ لَمْ يَكُنْ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ قُرَيْشٍ، وَلَا الْأَنْصَارِ إِنَّ اللَّهَ يَسَّرَ ذَلِكَ وَسَهَّلَهُ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا ' تو میں نے کسی کی آہٹ سنی ۔ میں نے دریافت کیا : یہ کون ہے تو فرشتوں نے بتایا :یہ رمیصاء بنت ملحان ہے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) یہاں تک انصار کا تذکرہ تھا اب ہم ان کے بعد عربوں کے قبائل سے تعلق رکھنے والے ( ان صحابہ کرام ) کا ذکر کریں گے جن کا شمار قریش سے تعلق رکھنے والے مہاجرین یا انصار میں نہیں ہوتا اگر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو آسان کیا اور اسے سہل کیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 7190

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7191

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ زُهَيْرٍ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَزْرَبِ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَدَ يَوْمَ حُنَيْنٍ لِأَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ عَلَى خَيْلِ الطَّلَبِ، فَلَمَّا انْهَزَمَتْ هَوَازِنُ [ص:164] طَلَبَهَا حَتَّى أَدْرَكَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ، فَأَسْرَعَ بِهِ فَرَسُهُ، فَقَتَلَ ابْنُ دُرَيْدٍ أَبَا عَامِرٍ، قَالَ أَبُو مُوسَى: فَشَدَدْتُ عَلَى ابْنِ دُرَيْدٍ، فَقَتَلْتُهُ، وَأَخَذْتُ اللِّوَاءَ، وَانْصَرَفْتُ بِالنَّاسِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآنِي وَاللِّوَاءُ بِيَدِي، قَالَ: «أَبَا مُوسَى قُتِلَ أَبُو عَامِرٍ؟ »، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو لَهُ، يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَبَا عَامِرٍ اجْعَلْهُ فِي الْأَكْثَرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت ابو موسی ٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ کو دشمن کا پیچھا کرنے والے گھڑ سواروں کاامیر مقرر کیا جب ہوازن قبیلے ے تعلق رکھنے والے لوگ پسپا ء ہوئے تو حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ نے ان کا پیچھا کیا ' یہاں تک کہ وہ درید بن صمہ تک پہنچ گئے انہوں نے اپنے گھوڑے تیز دوڑایا اور پھر ابن درید نے ابو عامر کو شہید رکر دیا ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے ابن درید پر حملہ کر کے اسے ما ر دیا اور جھنڈا میں نے لے لیا پھر میں لوگوں کے ساتھ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو اجب آپ نے مجھے دیکھا اور میرے ہاتھ میں جھنڈے کو دیکھا تو دریافت کیا : اے ابو موسیٰ کیا ابو عامر شہید ہو گیا ہے ۔ میں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر کے ان کے لیے دعا کی آپ نے یہ دعا کی۔ ''اے اللہ ابو عامر کو ان لوگوں میں شامل کر دے جو قیامت کے دن زیادہ ( اجرو ثواب والے ہوں گے''۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَزْرَبِ الْأَشْعَرِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُعَيْمٍ، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ زُهَيْرٍ الضَّبِّيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 7191

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7192

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حُمَيْدٍ، [ص:165] عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَقْدَمُ قَوْمٌ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً»، فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ فِيهِمْ أَبُو مُوسَى، فَجَعَلُوا يَرْتَجِزُونَ وَيَقُولُونَ: غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّةَ ... مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ.

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کچھ لوگ آئیں گے جن کے دل انتہائی نرم ہوں گت ( راوی کہتے ہیں ) تو اشعر قبیلے کے لوگ آگئے جن میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی تھے و ہ لوگ یہ رجز پڑھتے ہوئےاور یہ کہتے ہوئے آرہے تھے ۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ، [ص:165] ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7192

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7193

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ أَرَقُّ مِنْكُمْ قُلُوبًا»، فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ، وَفِيهِمْ أَبُو مُوسَى، فَكَانُوا أَوَّلَ مَنْ أَظْهَرَ الْمُصَافَحَةَ فِي الْإِسْلَامِ، فَجَعَلُوا حِينَ دَنَوَا الْمَدِينَةَ يَرْتَجِزُونَ وَيَقُولُونَ: غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّةَ ... مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے پاس کچھ لوگ آئیں گے جن کے دل انتہائی نرم ہوں گے ' تو اشعر قبیلے کے لوگ آگئے ان میں حضرت ابو موسی ٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی تھے یہ وہ پہلے لوگ ہیں ' جنہوں نے اسلام میں مصافحہ کرنے کا آغاز کیا جب یہ لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ لوگ یہ رجز پڑھ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے ۔ ''کل ہم اپنے محبوب لوگوں سے یعنی حضرت محمد ﷺ سے اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے''

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 7193

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7194

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى*، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَحْرِ حَتَّى جِئْنَا مَكَّةَ، وَإِخْوَتِي مَعِي فِي خَمْسِينَ* مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ وَسِتَّةٍ مِنْ عَكٍّ، قَالَ أَبُو مُوسَى: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ لِلنَّاسِ هِجْرَةً وَاحِدَةً وَلَكُمْ هِجْرَتَيْنِ»

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سمندری سفر پر روانہ ہوئے تا کہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں ہم لوگ مکہ آگئے میرے ساتھ اشعر قبیلے سے تعلق رکھنے والے 50 ساتھی تھے اور عک قبیلے سے تعلق رکھنے والے چھ لوگ تھے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ فرمایا کرتے تھے لوگوں نے ایک ہجرت کی ہے اور تم نے دو ہجرتیں کی ہیں۔

أَبِيهِ ← أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَی ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 7194

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7195

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ* بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى، فَقَالَ: «لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا ' تو فرمایا اسے آل داؤد کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ بِبَغْدَادَ

Hadith 7195

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7196

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ*، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، فَقَالَ: «قَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ» [ص:169] قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لِأَبِي مُوسَى - وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَجْلِسِ -: يَا أَبَا مُوسَى ذَكِّرْنَا رَبَّنَا فَيَقْرَأُ عِنْدَهُ أَبُو مُوسَى وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَجْلِسِ وَيَتَلَاحَنُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکر م رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی تلاوت کو سنا ' تو فرمایا اسے آل داؤد کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔ ابو سلمہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک محفل کے دوران ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے ابو موسیٰ ! آپ ہمیں ہمارے پروردگار کی یاد دلائیں (یعنی قرآن کی تلاوت کیجئے ) تو حضرت ابو موسی ٰ رضی اللہ عنہ نے تلاوت کرنا شروع کی وہ اسی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے اور وہ خوش الحانی کے ساتھ تلاوت کر رہے تھے۔

أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ*، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ سَلْمٍ،

Hadith 7196

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7197

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالْأُبُلَّةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ [ص:170] جَعْفَرٍ الْبَرْمَكِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: اسْتَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَتِي مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ، قَالَ: «يَا أَبَا مُوسَى، اسْتَمَعْتُ قِرَاءَتَكَ اللَّيْلَةَ لَقَدْ أُوتِيتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ عَلِمْتُ مَكَانَكَ، لَحَبَّرْتُ لَكَ تَحْبِيرًا «

حضرت ا بو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے رات کے وقت میری تلاوت سنی صبح کے وقت نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اے ابو موسیٰ گزشتہ رات میں نے تمہاری تلاوت سنی تھی تمہیں آل داؤد کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔ میں نے عرض کی : یا رسو ل اللہ! اگر مجھے آپ کی موجودگی کا پتہ ہوتا تو میں اور زیادہ خوبصورتی کے ساتھ تلاوت کرتا ۔

اسْتَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ قِرَاءَتِي مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ، ← أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ [ص:170] جَعْفَرٍ الْبَرْمَكِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ، بِالْأُبُلَّةِ،

Hadith 7197

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7198

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ، بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَى جَيْشٍ إِلَى أَوْطَاسَ، فَلَقِيَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ، فَقَتَلَ دُرَيْدًا وَهَزَمَ اللَّهُ أَصْحَابَهُ، وَرُمِيَ أَبُو عَامِرٍ فِي رُكْبَتِهِ رَمَاهُ رَجُلٌ [ص:172] مِنْ بَنِي جُشَمٍ بِسَهْمٍ، فَأَثْبَتَهُ فِي رُكْبَتِهِ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا عَمِّ مَنْ رَمَاكَ؟ فَأَشَارَ إِلَى أَنْ ذَاكَ قَاتِلِي، يُرِيدُ ذَلِكَ الَّذِي رَمَانِي، قَالَ أَبُو مُوسَى: فَقَصَدْتُ لَهُ فَلَحِقْتُهُ، فَلَمَّا رَآنِي وَلَّى عَنِّي ذَاهِبًا، فَاتَّبَعْتُهُ وَجَعَلْتُ أَقُولُ: أَلَا تَسْتَحِي، أَلَا تَثْبُتُ؟ أَلَا تَسْتَحِي أَلَسْتَ عَرَبِيًّا؟ فَكَفَّ فَالْتَقَيْتُ أَنَا وَهُوَ فَاخْتَلَفْنَا، فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ، فَقَتَلْتُهُ، ثُمَّ رَجَعْتُ، فَقُلْتُ: قَدْ قَتَلَ اللَّهُ صَاحِبِكَ، قَالَ: فَانْزِعْ هَذَا السَّهْمَ، فَنَزَعْتُهُ، فَنَزَلَ مِنْهُ الْمَاءُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ، وَقُلْ لَهُ: يَقُولُ لَكَ اسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: وَاسْتَخْلَفَنِي أَبُو عَامِرٍ وَمَكَثَ يَسِيرًا، ثُمَّ إِنَّهُ مَاتَ، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي بَيْتٍ عَلَى سَرِيرٍ، وَقَدْ أَثَّرَ السَّرِيرُ بِظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَنْبَيْهِ، فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَنَا وَخَبَرَ أَبَى عَامِرٍ، وَقُلْتُ لَهُ: إِنَّهُ قَالَ: قُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهُ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ»، فَقُلْتُ: وَلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاسْتَغْفِرْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ذَنْبَهُ، وَأَدْخِلْهُ مُدْخَلًا كَرِيمًا»، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: أَحَدُهُمَا لِأَبِي عَامِرٍ، [ص:173] وَأَحَدُهُمَا لِأَبِي مُوسَى.

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرمﷺ غزوہ حنین سے فارغ ہوئے ' تو آپ نے ابو عامر کو ایک لشکر کا امیر بنا کر اوطاس قبیلے کی طرف بھیجا ان کا سامنا درید بن صمہ سے ہوا انہوں نے درید کو قتل کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھیوں کو قتل کر دیا ۔ حضرت ابو عامر رضی اللہ عنہ گھٹنے میں تیر لگا ' جو بنو جشم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انہیں مارا تھا وہ گھٹنا پکڑ کر جھک گئے میں ان کے پاس آیا میں نے دریافت کیا: اے چچا جان آپ کو کس نے تیرمار ا ہے ' تو انہوں نے اشارہ کیا وہ شخص میرا قاتل ہے ان کی مراد یہ تھی کہ اس شخص نے مجھے تیرمارا ہے تو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اس شخص کی طرف بڑھا میں اس تک پہنچ گیا جب اس نے مجھے دیکھا ' تو وہ منہ پھیر کر بھاگ کھڑا ہوا میں اس کے پیچھے گیا اور ساتھ ساتھ میں یہ کہہ رہا تھا کیا تمہیں شرم نہیں آتی کیا تم رکتے نہیں ہو کیا تمہیں شرم نہیں آتی کیا تم عر ب نہیں ہو اس پر وہ شخص رک گیا پھر میرا اور اس کا سامنا ہوا ہم دونوں نے ایک دوسرے سے مقابلہ کیا میں نے اس تلوار کا وار کر کے اسے قتل کر دیا پھر میں واپس آیا میں نے کہا: (یعنی میں نے ابو عامر سے کہا) اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو قتل کروا دیا ( جس نے آپ کو تیر مارا تھا )حضر ابو عامر رضی اللہ عنہ نے کہا : اس تیز کو باہر نکالوں اس تیز کو باہر نکالا ' تو اس میں سے پانی نکلا ۔ انہوں نے فرمایا : اے میرے بھتیجے تم نبی اکرمﷺ کے پاس جاؤ اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں میرا سلام عرض کرنا اور نبی اکرم ﷺ سے یہ دوخواست کرنا کہ ابو عامر نے آپ سے درخواست کی ہے آپ میرے لیے دعا ئے مغفرت کیجئے ۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت ابو عامر رضی اللہ عنہ ن ے مجھے اپنا نائب مقرر کیا تھوڑی دیر کے بعد انکا انتقال ہوگیا جب میں واپس نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی اکرمﷺ نے اس وقت گھر میں ایک پلنگ پر موجود تھے اس پلنگ کے نشان نبی اکرمﷺ کی پشت اور پہلو پر نمایاں تھے میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے اور ابو عامر کے واقعے کے بارے میں بتایا میں نے آپ کی خدمت میں گزارش کی حضرت ابو عامر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : تم نبی اکرمﷺ سے یہ کہنا : میرے لیے دعائے مغفرت کر دیں ۔ راوی کہتے ہیں ' تو نبی اکرم ﷺ نے پانی منگوایا ۔ آپ نے اس کے ذریعے وضو کیا پھر آپ نے دونوں ہاتھ بلند کیے پھر یہ دعا کی ۔ ''اے اللہ اپنے ادنیٰ بندے ابو عامر کی مغفرت کر دے اے اللہ قیامت کے دن اسے اپنی مخلوق کے بہت سے افراد میں بلند مرتبہ عطا کرنا ''۔ (حضرت ابو موسیٰ اشعریرضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے لیے بھی دعائے مغفرت کیجئے تو نبی اکرمﷺ نے دعا کی۔ ''اے اللہ عبداللہ بن قیس کے گناہوں کی مغفرت کردے اور اسے عزت والے مقام میں داخل کر دے''۔ اس حدیث کے راوی ابو بردہ (حضرت ابو موسیٰ اشعریرضی اللہ عنہ کےصاحب زادے ہیں ) وہ یہ کہتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ایک دعا ابو عامر کے لئے کی تھی ایک عا حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کے لئے کی تھی ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 7198

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7199

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا دَنَوْتُ مِنْ مَدِينَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَخْتُ رَاحِلَتِي، وَحَلَلْتُ عَيْبَتِي، فَلَبِسْتُ حُلَّتِي، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَمَانِي النَّاسُ بِالْحَدَقِ، فَقُلْتُ لِجَلِيسِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ هَلْ ذَكَرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْرِي شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، ذَكَرَكَ بِأَحْسَنِ الذِّكْرِ، بَيْنَمَا هُوَ [ص:174] يَخْطُبُ إِذْ عَرَضَ لَهُ فِي خُطْبَتِهِ، فَقَالَ: «إِنَّهُ سَيَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ، أَوْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ خَيْرِ ذِي يَمَنٍ، وَإِنَّ عَلَى وَجْهِهِ مَسْحَةَ مَلَكٍ»، فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَلَى مَا أَبْلَانِي.

حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میں نبی اکر م ﷺ کے شہر کے قریب ہوا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھا دیا میں نے اپنا لباس تبدیل کیا اور حل پہن لیا پھر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ' تو آپ اس وقت خطبہ دے رہے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے مجھے سلام کیا لوگوں نے میری طرف غور سے دیکھنا شروع کیا میں نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے دریافت کیا: اے اللہ کے بندے ! کیا نبی اکرمﷺ نے میرے متعلق کچھ ذکر کیا ہے اس نے جواب دیا : جی ہاں نبی اکرم ﷺ نے انتہائی عمدہ طور پر تمہارا ذکر کیا ہے' اس وقت جب آپ خطبہ دے رہے تھے نبی اکرمﷺ نے خطبے کے دوران یہ ارشاد فرمایا : اس دورازے سے تمہارے سامنے ایک شخص داخل ہو گا (راوی کو شک ہے شاہد یہ الفاظ ہیں : ) اس راستے سے ایک آئے گا جو انتہائی برکت والا ہو گا اس کے چہرے کو فرشتے نے چھوا ہو گا ( راوی کہتے ہیں ) تو میں نے اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی کہ اس نے مجھے یہ چیز عطا کی ۔

جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← الْحُسَیْنُ بْنُ حُرَیْثٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 7199

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7200

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتٍ، وَأَبُو عَرُوبَةَ، وَعِدَّةٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو جَابِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: «مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي»

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے نبی اکرمﷺ نے کبھی مجھ سے پردہ نہیں کیا آپ جب بھی مجھے دیکھتے تھے تو مجھے دیکھ کر مسکرا دیتے تھے

«مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي» ← جَرِيرٌ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← هُشَيْمٌ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو جَابِرٍ، ← أَبُو حَاتِمٍ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتٍ، وَأَبُو عَرُوبَةَ، وَعِدَّةٌ،

Hadith 7200

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7201

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ» بَيْتًا كَانَ لِخَثْعَمٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُسَمَّى الْكَعْبَةَ الْيَمَانِيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، قَالَ: فَمَسَحَ صَدْرِي، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا»

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : کیا تم ذی خلصہ کے حوالے سے مجھے راحت نہیں پہنچاؤ گے( راوی کہتے ہیں) یہ زمانہ جاہلیت میں حثعم قبیلے کا بت کدہ تھا جسے یمنی کعبہ کہا جاتا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسو ل اللہ ! میں ایک ایساشخص ہوں ' جو گھوڑے پر جم کر نہین بیٹھ سکتا ۔ راوی کہتےہیں تو نبی اکرم ﷺء نےئ میرےسینے پر ہاتھ پھیرا آپ نے ارشاد فرمایا : ''اے اللہ اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت کا مرکز بنا دے''۔

جَرِيرٌ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7201

chevron_left Previous
1…27282930
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr