Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7178

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَسٌ خَادِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ: «اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی انس آپ کا خادم ہے ' آپ اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے تو نبی اکرم ﷺ نے دعا کی۔

«اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ» ← لِرَسُولِ اللَّهِ أَنَسٌ خَادِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، ← أُمِّ سُلَيْمٍ، أَنَّهَا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← بُنْدَارٌ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 7178

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7179

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَزْرَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا بَعَثَنِي فِي حَاجَةٍ لَمْ تَتَهَيَّأْ إِلَّا قَالَ: » لَوْ قُضِيَ لَكَانَ، أَوْ لَوْ قُدِّرَ لَكَانَ «

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے دس سال نبی اکرمﷺ کی خدمت کی ہے نبی اکرمﷺ نے جب بھی مجھے کسی کام کے لیے بھیجا ' تو یہی ارشاد فرمایا : اگر نصیب میں ہوا ' تو یہ ہو جائے گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اگر مقدار میں ہوا تو یہ ہو جائے گا ۔

لَوْ قُضِيَ لَكَانَ، أَوْ لَوْ قُدِّرَ لَكَانَ ← «خَدَمْتُ النَّبِيَّ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا بَعَثَنِي فِي حَاجَةٍ لَمْ تَتَهَيَّأْ إِلَّا ← أَنَسٍ، ← ثُمَامَةَ ← عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى مِنْ كِتَابِهِ،

Hadith 7179

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7180

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ [ص:146] بْنِ الْمُنَادِي، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، قَالَ: «غَشِيَنَا النُّعَاسُ وَنَحْنُ فِي مَصَافِّنَا يَوْمَ بَدْرٍ»، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: «فَكُنْتُ فِيمَنْ غَشِيَهُ النُّعَاسُ يَوْمَئِذٍ، فَجَعَلَ سَيْفِي يَسْقُطُ مِنْ يَدِي وَآخُذُهُ، وَيَسْقُطُ وَآخُذُهُ، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى الْمُنَافِقُونَ لَيْسَ لَهُمْ هَمٌّ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ، أَجْبَنُ قَوْمٍ، وَأَذَلُّهُ لِلْحَقِّ، يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ، أَهْلُ شَكٍّ وَرِيبَةٍ فِي أَمْرِ اللَّهِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں : حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے غزوہ بدر کے دن ہم لوگ صفوں میں موجود تھے کہ اسی دوران ہم پر اونگھ طاری ہو گئی حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جن پر اس دن اونگھ طاری ہوئی تھی میری تلوار میرے ہاتھ سے گر جاتی تھی میں اسے پکڑ لیتا تھا وہ پھر گر جاتی تھی میں پھر پکڑ لیتا تھا جبکہ دوسرا گروہ منافقین کا تھا نہیں صرف اپنی فکر تھی یہ لوگ سب سے زیادہ بزدل تھے اور سب سے زیادہ ذلیل تھے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ناحق گما ن کرتے تھے جو زمانہ جاہلیت کا گمان تھا یہ اللہ کے حکم کےبارے میں شک و شبہ کرنے والے لوگ تھے۔

«غَشِيَنَا النُّعَاسُ وَنَحْنُ فِي مَصَافِّنَا يَوْمَ بَدْرٍ»، ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ [ص:146] بْنِ الْمُنَادِي، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ

Hadith 7180

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7181

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، كَانَ يَرْمِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ خَلْفِهِ لَيَنْظُرَ أَيْنَ يَقَعُ نَبْلُهُ، فَيَتَطَاوَلُ أَبُو طَلْحَةَ بِصَدْرِهِ يَقِي بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ: هَكَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ «

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں : حضرت ابو طلحہ نبی اکرم ﷺ کے آگے کھڑے ہو کر تیز اندازی کر رہے تھے ان کے پیچھے سے جب بھی نبی اکرم ﷺ اپنا سر اوپر کرنے کی کوشش کرتے تا کہ اس بات کا جائزہ لیں کہ ان کا تیر کہاں گرا ہے تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اپنے سینے ک پھیلالیتے تا کہ اس کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کو بچائیں اور یہ عرض کرتے : اے اللہ کے نبی ! آپ اسی طرح ( میرے پیچھے محفوظ رہیں ) اللہ تعالیٰ مجھے آ پ پر فدا کرے اور میں آپ کے آگے رہوں

حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7181

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7182

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا، وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءُ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ [ص:149] الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} [آل عمران: 92]، قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} [آل عمران: 92]، وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءُ، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا، وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَخٍ ذَاكَ مَالٌ رَابِحٌ، بَخٍ ذَاكَ مَالٌ رَابِحٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهَا، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي [ص:150] الْأَقْرَبِينَ»، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ «

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں : حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی زمین مدینہ منورہ انصار میں سب سے زیادہ تھی اور ان کے نزدیک ان سب کی سب سے پسند یدہ زمین بیرحاء ( نامی باغ) تھا 'جو مسجد کے بالکل سامنے تھا ۔ نبی اکرمﷺ اس کے اندر تشریف لاتے تھے اس کا میٹھا پانی پیا کرتے تھے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ ''تم لوگ نیکی تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز کو خرچ نہیں کرتے جسے تم پسند کرتے ہو''۔ تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ ارشاد فرمایا ہے: ''تم لوگ نیکی تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز کو خرچ نہیں کرتے جسے تم پسند کرتے ہو''۔ میرے نزدیک میرا سب سے پسندیدہ ترین مال بیرحاء ہے یہ اللہ تعالیٰ کے لئے صدقہ ہے اور میں اس کے اجر و ثواب کا اللہ تعالی کی بارگاہ میں امیدوار ہوں ۔ یا رسول اللہ رضی اللہ عنہ آپ جہاں چاہیں اسے استعمال کریں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : بہت عمدہ یہ ایک نفع بخش مال ہے بہت عمدہ یہ ایک نفع بخش مال ہے تم نے اس کے بارے میں جو کچھ کہا وہ میں نے سن لیا میرا یہ خیال ہے اسے تم اپنے قریبی رشتے داروں کو دے دو اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی :یا رسو ل اللہ ﷺ ! میں ایسا ہی کروں گا ۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے قریبی رشتے داروں اور اپنے چچا زاد افراد میں اسے تقسیم کر دیا ۔

إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 7182

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7183

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} [آل عمران: 92]، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا، فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي وَقْفًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ»، فَقَسَمَهَا بَيْنَ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ.

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ ''تم لوگ نیکی تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز کوخرچ نہیں کرتے جسے تم پسند کرتے ہو''۔ توحضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے ہم سے ہمارے اموال کے بارے میں مطالبہ کیا ہے میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میں نے اپنی زمین کو وقف کیا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اسے تم اپنے قریبی رشتے داروں کو دے دو توحضرت ا بو طلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ زمین حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ میں تقسیم کر دی۔

أَبُو طَلْحَةَ ← لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآَيَةُ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7183

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7184

أخبرنا أَبُو يَعْلَى*، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، قَرَأَ سُورَةَ بَرَاءَةً، فَأَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ: {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا} [التوبة: 41]، فَقَالَ: «أَلَا أَرَى رَبِّي يَسْتَنفِرُنِي شَابًّا وَشَيْخًا، جَهِّزُونِي»، فَقَالَ لَهُ بَنُوهُ: قَدْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قُبِضَ، وَغَزَوْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى مَاتَ وَغَزَوْتُ مَعَ عُمَرَ، فَنَحْنُ نَغْزُو عَنْكَ، فَقَالَ: «جَهِّزُونِي»، فَجَهَّزُوهُ وَرَكِبَ الْبَحْرَ، فَمَاتَ، فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ جَزِيرَةً يَدْفِنُونَهُ فِيهَا إِلَّا بَعْدَ سَبْعَةِ أَيَّامٍ فَلَمْ يَتَغَيَّرْ «

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے سورۃ تو بہ کی تلاوت کی جب وہ اس آیت پر پہنچے ۔ ''تم لوگ (جہاد کے لیے ) نکل کھڑے ہو خواہ ہلکے ہو یا بوجھل ہو''۔ توحضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا میں یہ نہیں دیکھ رہا کہ میرے پروردگار نے مجھے نکلنے کے لئے کہا ہے خواہ میں جوان ہوں یا بوڑھا ہوں تم لوگ میرا سامان تیار کرو۔ ا ن کے بیٹوں نے ان سے کہا : آپ نے نبی اکرمﷺ کے ہمراہ غزوات میں شرکت کی ہے' یہاں تک کہ نبی اکرمﷺ کا وصال ہو گیا پھر آپ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جنگوں میں حصہ لیا ' یہاں تک کہ ان کا بھی انتقال ہو گیا پھر آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جنگ میں حصہ لیا اب ہم لوگ آپ کی جگہ جنگ میں شرکت کے لئے چلے جاتے ہیں ' تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ میرا سامان تیار کرو ۔ ان لوگوں نے ان کا سامان تیار کیا وہ سمندری سفر پر روانہ ہوئے اسی دورا ن ان کا انتقال ہو گیا ۔ ان کے ساتھیوں کو انہیں دفن کرنے کے لئے کوئی جزیرہ نہیں ملا ان کے انتقال کے سات دن بعد انہیں جزیرہ ملا (جہاں وہ انہیں دفن کرتے ) لیکن اس دوران ان کی (میت میں ) کوئی تبدیلی نہیں آئی (یعنی میت خراب نہیں ہوئی )

«أَلَا أَرَى رَبِّي يَسْتَنفِرُنِي شَابًّا وَشَيْخًا، جَهِّزُونِي»، ← أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، قَرَأَ سُورَةَ بَرَاءَةً، فَأَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ: ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَامٍ الْجُمَحِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 7184

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7185

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا [ص:153] حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمِ، خَرَجَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا خِنْجَرٌ، فَقَالَ لَهَا أَبُو طَلْحَةَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، مَا هَذَا؟ قَالَتِ: اتَّخَذْتُهُ وَاللَّهِ إِنْ دَنَا مِنِّي رَجُلٌ بَعَجْتُ بِهِ بَطْنَهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَمُّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئیں ان کے پاس ایک خنجر تھا ۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: اے ام سلیم یہ کس لیے ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے اسے اس لیے رکھا ہے اللہ کی قسم اگر کوئی شخص میرے قریب آیا تو میں اسے اس کے پیٹ میں گھونپ دوں گی ' تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : (یا رسول اللہ!) کیاآپ نے سنا کہ ام سلیم کیا کہہ رہی ہے 'اس نے یہ بات کہی ہے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے عرض کی :یا رسول اللہ! آپ ان لوگوں کو قتل کرو ا دیں 'جو لوگ بعد میں مسلمان ہوئے اور وہ آپ کو چھوڑ کے پسپاء ہوگئے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اے ام سلیم ! اللہ تعالیٰ نے کفایت کی اور اچھا (نتیجہ ظاہر کیا)

اتَّخَذْتُهُ وَاللَّهِ إِنْ دَنَا مِنِّي رَجُلٌ بَعَجْتُ بِهِ بَطْنَهُ، ← لَهَا أَبُو طَلْحَةَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، مَا هَذَا؟ ← أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمِ، خَرَجَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَعَ النَّبِيِّ وَمَعَهَا خِنْجَرٌ، ← ثَابِتٍ، ← [ص:1057] حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7185

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7186

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ، فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ، فَقَالَ: أَعِيدُوا سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ، وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ، فَإِنِّي صَائِمٌ، ثُمَّ قَامَ إِلَى نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَصَلَّى صَلَاةً غَيْرَ مَكْتُوبَةٍ، وَدَعَا لِأُمِّ سُلَيْمٍ، وَأَهْلِ بَيْتِهَا، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي خُوَيْصَةً، قَالَ: «مَا هِيَ؟ » قَالَتْ: خُوَيْدِمُكَ أَنَسٌ فَمَا تَرَكَ خَيْرَ آخِرَةٍ، وَلَا دُنْيَا إِلَّا دَعَا لِي بِهِ، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا وَوَلَدًا وَبَارِكْ لَهُ»، قَالَ: فَإِنِّي لَمِنْ أَكْثَرِ الْأَنْصَارِ مَالًا، قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي ابْنَتِي أُمَيْنَةُ، قَالَتْ: قَدْ دُفِنَ لِصُلْبِي إِلَى مَقْدَمِ الْحَجَّاجِ الْبَصْرَةَ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ وَمِائَةً «

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سیدہ ام سلیم ﷺ کے ہاں آئے تو انہوں نے کھجوریں اور گھی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں پیش کیا ۔نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا : اپنا گھی اس کے مشکیزے میں ڈال دو اور اپنی کھجوریں ان کی پوٹلی میں ڈال دو کیونکہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے پھر نبی اکرم ﷺ گھر کے کونے کی طرف گئے آپ نے وہاں نفل کی نماز ادا کی آپ نےسیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ او ر ان کے گھر میں موجود افراد کو بلایا ۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یارسول اللہ ! میری ایک خصوصی درخواست ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : وہ کیا ؟ انہوں نے عرض کی: آپ کا ادنیٰ خادم انس (آپ اس کے لئے دعا کیجئے ) حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرمﷺ نے دنیا اور آخرت سے متعلق ہر بھلائی کے بارے میں میرے حﷺ میں دعا کی اور پھر آپ نے فرمایا: ''اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطا کر اور اس کے لئے اس میں برکت رکھ دے''۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں : (یعنی زمینوں ) کےحساب سے میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار تھا ۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بتایا میری بیٹی امینہ نے یہ بات بتائی ہےکہ حجاج کے بصرہ آنے سے پہلے میری اولاد اور اولاد کی اولاد میں سے ایک سو بیس سے کچھ زیادہ لوگوں کا انتقال ہو چکا تھا ۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 7186

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7187

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَطَبَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَقَالَتْ لَهُ: مَا مِثْلُكَ يَا أَبَا طَلْحَةَ يُرَدُّ وَلَكِنِّي امْرَأَةٌ مَسْلِمَةٌ، وَأَنْتَ رَجُلٌ كَافِرٌ، وَلَا يَحِلُّ لِي أَنْ أَتَزَوَّجَكَ، فَإِنْ تُسْلِمْ فَذَلِكَ مَهْرِي لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، فَأَسْلَمَ، فَكَانَتْ لَهُ فَدَخَلَ بِهَا، فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا صَبِيحًا، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيدًا، فَعَاشَ حَتَّى تَحَرَّكَ فَمَرِضَ، فَحَزِنَ [ص:156] عَلَيْهِ أَبُو طَلْحَةَ حُزْنًا شَدِيدًا حَتَّى تَضَعْضَعَ، قَالَ: وَأَبُو طَلْحَةَ يَغْدُو عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَرُوحُ، فَرَاحَ رَوْحَةً وَمَاتَ الصَّبِيُّ، فَعَمَدَتْ إِلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَطَيَّبَتْهُ وَنَظَّفْتُهُ وَجَعَلَتْهُ فِي مِخْدَعِنَا، فَأَتَى أَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ: كَيْفَ أَمْسَى بُنَيَّ؟ قَالَتْ: بِخَيْرٍ مَا كَانَ مُنْذُ اشْتَكَى أَسْكَنَ مِنْهُ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ وَسُرَّ بِذَلِكَ، فَقَرَّبَتْ لَهُ عَشَاءَهُ، فَتَعَشَّى ثُمَّ مَسَّتْ شَيْئًا مِنْ طِيبٍ، فَتَعَرَّضَتْ لَهُ حَتَّى وَاقَعَ بِهَا، فَلَمَّا تَعَشَّى وَأَصَابَ مِنْ أَهْلِهِ، قَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ رَأَيْتَ لَوَ أَنَّ جَارًا لَكَ أَعَارَكَ عَارِيَّةً، فَاسْتَمْتَعْتَ بِهَا، ثُمَّ أَرَادَ أَخْذَهَا مِنْكَ أَكُنْتَ رَادَّهَا عَلَيْهِ؟ فَقَالَ: إِي وَاللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ لَرَادُّهَا عَلَيْهِ، قَالَتْ: طَيْبَةً بِهَا نَفْسُكَ؟ قَالَ: طَيْبَةً بِهَا نَفْسِي، قَالَتْ: فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعَارَكَ بُنَيَّ وَمَتَّعَكَ بِهِ مَا شَاءَ، ثُمَّ قُبِضَ إِلَيْهِ، فَاصْبِرْ وَاحْتَسَبَ، قَالَ: فَاسْتَرْجَعَ أَبُو طَلْحَةَ وَصَبَرَ، ثُمَّ أَصْبَحَ غَادِيًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَهُ حَدِيثَ أُمِّ سُلَيْمٍ كَيْفَ صَنَعَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا»، قَالَ: وَحَمَلَتْ تِلْكَ الْوَاقِعَةَ فَأَثْقَلَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ: «إِذَا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فَجِئْنِي بِوَلَدِهَا»، فَحَمَلَهُ أَبُو طَلْحَةَ فِي خِرْقَةٍ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَمَضَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرَةً، فَمَجَّهَا فِي فِيهِ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ: «حِبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ» فَحَنَّكَهُ وَسَمَّى عَلَيْهِ، وَدَعَا لَهُ، [ص:157] وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ابو طلحہ نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ کو شادی کا پیغام بھیجا تو انہوں نے جواب دیا :ابو طلحہ آپ جیسے شخص کے پیغام کو مسترد نہیں کیا جا سکتا لیکن میں ایک مسلمان عورت ہوں اور آپ ایک کافرشخص ہیں میرے لیے آپ کے ساتھ شادی کرنا جائز نہیں ہے اگر آپ اسلام قبول کر لیتے ہیں ' تو یہی میرا مہرہوگا میں اس کے علاوہ کسی چیز کا آپ سے مطالبہ نہیں کروں گی' تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ کی رخصتی ہو گئی وہ حاملہ ہو گئیں انہوں نے ایک خوبصورت بچے کو جنم دیا ۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اس بچے سے بہت محبت کرتے تھے کچھ عرصہ بعد وہ بچہ بیمار ہو گیا ۔حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو ا سکی وجہ ست انتہائی افسوس ہوا ' یہاں تک کہ وہ کمزور ہو گئے۔

لَهُ: مَا مِثْلُكَ يَا أَبَا طَلْحَةَ يُرَدُّ ← خَطَبَ أَبُو طَلْحَة أم سليم ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 7187

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7188

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، كَانَ لَهُ ابْنٌ يُكَنَّى أَبَا عُمَيْرٍ، قَالَ: فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟ » قَالَ: فَمَرِضَ وَأَبُو طَلْحَةَ غَائِبٌ فِي بَعْضِ حِيطَانِهِ، فَهَلَكَ الصَّبِيُّ، فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَغَسَّلَتْهُ، وَكَفَّنَتْهُ وَحَنَّطَتْهُ وَسَجَّتْ عَلَيْهِ ثَوْبًا، وَقَالَتْ: لَا يَكُونُ أَحَدٌ يُخْبِرُ أَبَا طَلْحَةَ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أُخْبِرُهُ، فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ كَالًّا، وَهُوَ صَائِمٌ، فَتَطَيَّبَتْ لَهُ وَتَصَنَّعَتْ لَهُ وَجَاءَتْ بِعَشَائِهِ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ أَبُو عُمَيْرٍ، فَقَالَتْ: تَعَشَّى وَقَدْ فَرَغَ، قَالَ: فَتَعَشَّى وَأَصَابَ مِنْهَا مَا يُصِيبُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ قَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ أَهْلَ بَيْتٍ أَعَارُوا أَهْلَ بَيْتٍ عَارِيَّةً، فَطَلَبَهَا أَصْحَابُهَا أَيَرُدُّونَهَا أَوْ يَحْبِسُونَهَا، فَقَالَ: بَلْ يَرُدُّونَهَا [ص:159] عَلَيْهِمْ، قَالَتْ: احْتَسِبْ أَبَا عُمَيْرٍ، قَالَ: فَغَضِبَ وَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِ أُمِّ سُلَيْمٍ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا»، قَالَ: فَحَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حَتَّى إِذَا وَضَعَتْ وَكَانَ يَوْمُ السَّابِعِ، قَالَتْ لِي أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا أَنَسُ اذْهَبْ بِهَذَا الصَّبِيِّ وَهَذَا الْمِكْتَلِ وَفِيهِ شَيْءٌ مِنْ عَجْوَةٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يُحَنِّكُهُ وَيُسَمِّيهِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَيْهِ وَأَضْجَعَهُ فِي حِجْرِهِ، وَأَخَذَ تَمْرَةً فَلَاكَهَا، ثُمَّ مَجَّهَا فِي فِيِّ الصَّبِيِّ، فَجَعَلَ يَتَلَمَّظُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبَتِ الْأَنْصَارُ إِلَّا حُبَّ التَّمْرِ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا تھا جس کی کنیت ابو عمیر تھی نبی اکرم ﷺ دریافت کیا کرتے تھے ' اے ابو عمر ! تمہاری چڑیا کا کیا حال ہے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: و ہ بیمار ہو گیا حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت اپنے کسی باغ میں گئے ہوئے تھے اس بچے کا انتقال ہو گیا ۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ اٹھیں انہوں نے اس بچے کو غسل دیا اسے کفن دیا اسے خوشبو لگائی اور اسے کپڑے میں ڈھانپ دیا ۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کوئی بھی شخص ابو طلحہ کو ا س بار ے میں اطلاع نہ دے میں خود انہیں اس بات کی اطلاع دوں گی پھر حضرت ابو طلحہ تھکے ہوئے آئے انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا ۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے خوشبو لگائی اور ان کے لیے تیار ہوگئیں وہ کھانا لے آئیں ۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : ابو عمیر کا کیا حال ہے ۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ شام کا کھانا کھا کر فارغ ہو چکا ہے ۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کھانا کھایا اس کے بعد انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ صحبت کی پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ابو طلحہ آپ کا کیا خیال ہے اگر کسی گھر انے کے لوگ کسی دوسرے گھر والوں کو عاریت کے طور پر کوئی چیز دیں اور پھر اس چیز کے مالکان دوسرے لوگوں سے اس کا مطالبہ کریں تو کیا وہ دوسرے لوگ اس چیز کو واپس کر دیں گے یا اپنے پاس رکھیں گے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بلکہ انہیں وہ چیز انہیں واپس کرنی چاہئے تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ابو عمیر کے حوالے سے ثواب کی امید رکھیے تو حضرت ابو طلحہ غصے میں آگئے و ہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے اور آپ کو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ کے قول کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ تم دونوں کی گزشتہ رات میں تم دونوں کو برکت نصیب کرے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے حاملہ ہو گئیں جب انہوں نے اس بچے کو جنم دیا تو اس کی پیدائش کے ساتویں دن سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : اے انس اس بچے کو لے جاؤ اور یہ برتن بھی لے جاؤ اس میں کچھ کھجوریں ہیں انہیں نبی اکر م ﷺ کے پاس لے جاؤ تا کہ نبی اکرمﷺ سے گھٹی دیں اور اس کا نام تجویز کریں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم ﷺ اس وقت پاؤں پھیلا کر بیٹھے ہوئے تھے آ پ نے اس بچے کو گود میں لٹایا آپ نے ایک کھجور لی اسے چبایا پھر وہ کھجور اس بچے کے منہ میں ڈال دی اس بچے نے اسے چوسنا شروع کر دیا ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : انصار واقعی کھجوروں سے محبت کرتے ہیں۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُمَارَةِ بْنِ زَاذَانَ ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7188

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7189

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، [ص:161] عَنْ أُمِّ حَرَامٍ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عِنْدَنَا، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، مَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ: «رَأَيْتُ قَوْمًا مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ»، ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ، قُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ»، فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، فَرَكِبَ وَرَكِبَتْ مَعَهُ، فَلَمَّا قُدِّمَتْ إِلَيْهَا بَغْلَةٌ؛ لِتَرْكَبَهَا انْدَقَّتْ عُنُقُهَا، فَمَاتَتْ «

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سیدہ ام حرام کے بارے میں یہ بیان نقل کرتے ہیں : انہوں نے یہ بات بتائی ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے آپ نے ہمارے ہاں قیلولہ کیا جب آپ بیدار ہوئے تو آپ ہنس رہے تھے ؟ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آ پ کس بات پر ہنس رہے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : میں اپنی امت کے کچھ لوگوں کو دیکھا جو سمندر پر یوں سوار تھے جس طرح بادشاہ اپنے تحت پر ہوتے ہیں پھر نبی اکرم ﷺ سو گئے جب آپ بیدار ہوئے تو آپ مسکرا رہے تھے ۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرمﷺ سے پھر یہی سوال کیا تو آپ نے مجھے اس کی مانند جواب دیا ۔ میں نے عرض کی : آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم پہلے والوں میں شامل ہو ۔ (راوی بیان کرتےہیں : ) پھر حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کے ساتھ شادی کر لی ۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ اور وہ خاتون سوار ہو کر(سمندر ی سفر پر روانبہ ہوئے ) پھر جب وہ سمندر ی سفر سے واپس آئے تو ایک خچر اس خاتون کے سامنے لایا گیا تا کہ وہ اس پر سوار ہوں ' تو وہ ( اس سے نیچے گر گئیں ) ان کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی اور ان کا انتقال ہو گیا ۔

قُلْتُ ← أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ عِنْدَنَا، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، ← أُمِّ حَرَامٍ، ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، [ص:161] ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ بِالْبَصْرَةِ،

Hadith 7189

chevron_left Previous
1…27282930
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr