Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7166

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي حَلْقَةٍ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فِيهَا شَيْخٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ، وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ حَدِيثًا حَسَنًا، فَلَمَّا قَامَ، قَالَ الْقَوْمُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا، قَالَ: قُلْتُ: وَاللَّهِ لَأَتْبَعَنَّهُ فَلَأَعْلَمَنَّ بَيْتَهُ، قَالَ: فَتَبِعْتُهُ فَانْطَلَقَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الْمَدِينَةِ دَخَلَ مَنْزِلَهُ، فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَأَذِنَ لِي، فَقَالَ: مَا حَاجَتُكَ يَا ابْنَ أَخِي؟ قُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ الْقَوْمَ يَقُولُونَ لَمَّا قُمْتَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا، فَأَعْجَبَنِي أَنْ أَكُونَ مَعَكَ، قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ، وَسَأُخْبِرُكَ مِمَّا قَالُوا ذَلِكَ إِنِّي بَيْنَا أَنَا [ص:124] نَائِمٌ أَتَانِي رَجُلٌ، فَقَالَ: قُمْ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَإِذَا أَنَا بِجَوَادٍ عَنْ شِمَالِي، فَأَخَذْتُ لِآخُذَ فِيهَا، فَقَالَ لِي: لَا تَأْخُذْ فِيهَا، فَإِنَّهَا طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ، قَالَ: وَإِذَا جَوَادٌ مَنْهَجٌ عَنْ يَمِينِي، قَالَ لِي: خُذْ هَاهُنَا فَأَتَى بِي جَبَلًا، فَقَالَ لِي: اصْعَدْ فَوْقَ هَذَا، فَجَعَلْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَصْعَدَ خَرَرْتُ عَلَى اسْتِي حَتَّى فَعَلْتُهُ مِرَارًا، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى أَتَى بِي عَمُودًا رَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ وَأَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ وَأَعْلَاهُ حَلْقَةٌ، فَقَالَ لِي: اصْعَدْ فَوْقَ هَذَا، فَقُلْتُ: كَيْفَ أَصْعَدُ فَوْقَ هَذَا وَرَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ؟ فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَحَلَ بِي، فَإِذَا أَنَا مُتَعَلِّقٌ بِالْحَلْقَةِ، ثُمَّ ضَرَبَ الْعَمُودَ فَخَرَّ وَبَقِيتُ مُتَعَلِّقًا بِالْحَلْقَةِ حَتَّى أَصْبَحْتُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: «أَمَّا الطَّرِيقُ الَّذِي رَأَيْتَ عَلَى يَسَارِكَ فَهِيَ طَرِيقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ، وَأَمَّا الطَّرِيقُ الَّذِي رَأَيْتَ عَنْ يَمِينِكَ فَهِيَ طَرِيقُ أَصْحَابِ الْيَمِينِ، وَالْجَبَلُ هُوَ مَنَازِلُ الشُّهَدَاءِ وَلَنْ تَنَالَهُ، وَأَمَّا الْعَمُودُ فَهُوَ عَمُودُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الْعُرْوَةُ فَهِيَ عُرْوَةُ الْإِسْلَامِ، وَلَنْ تَزَالَ مُسْتَمْسِكًا بِهَا حَتَّى تَمُوتَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الصَّوَابُ فَزَجَلَ، وَالسَّمَاعُ فَزَحَلَ بِالْحَاءِ»

خرشہ بن حربیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ کی مسجد میں ایک حلقے میں بیٹھا ہو ا تھا اس میں ایک عمر رسیدہ شخص موجود تھا ' جو خوبصورت تھا وہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنا شروع کی تو عمدہ گفتگو کی جب وہ اٹھ گئے تو لوگوں نے کہا : جو شخص کسی جنتی کو دیکھنا چاہتا ہو وہ ان صاحب کو دیکھ لے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے سوچا اللہ کی قسم میں ضرور ان کے پیچھے جاؤں گا اور ان کےگھر کے بارے میں جان لوں گا۔ راوی کہتے ہیں : میں ان کے پیچھے چل پڑا وہ روانہ ہوئے ' یہاں تک کہ وہ مدینہ منورہ کی آخری سرحد کے قریب اپنے گھر کے اندر تشریف لے گئے میں نے ان کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی انہوں نے مجھے اجازت دی۔ انہوں نے دریافت کیا : اے میرے بھتیجے تمہیں کیا کام ہے ۔میں نے کہا : جب آپ اٹھے تھے تو میں لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو شخص کسی جنتی کو دیکھنا چاہتا ہو وہ ان صاحب کو دیکھ لے ' تو مجھے یہ بات اچھی لگی کہ میں آپ کے ساتھ رہوں ۔انہوں نے فرمایا : اہل جنت کےبارے میں اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے لیکن میں تمہیں اس چیز کے بار ے میں بتاتا ہوں ' جو لوگوں نے کہی ہے ایک مرتبہ میں سویا ہو ا تھا ایک شخص میرے پاس آیا اور بولا : اٹھو اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں چل پڑا مجھے اپنے بائیں طرف ایک راستہ نظر آیا میں اس کی طرف جانے لگا ' تو اس شخص نے مجھ سے کہا: تم اس کی طرف نہ جاؤ کیونکہ وہ بائیں طرف والے لوگوں کا راستہ ہے۔حضرت عبداللہ کہتےہیں ' پھر مجھے اپنی دائیں طرف ایک راستہ نظر آیا اس شخص نے مجھ سے کہا : تم اس راستے کو اختیار کر لو پھر وہ مجھے لے کر ایک پہاڑ کے پاس آیا اور اس نے مجھ سے کہا: تم اس پر چڑھ جاؤ میں نے جب اس پرھ چڑھنے کا ارادہ کیا تو میں اپنی سرین کے بل گرپڑا میں نے کئی مرتبہ ایسا کیا پھر وہ شخص گیا اور میر ے لیے ایک سیڑھی لے کر آیا جس کا اوپر والا سرہ آسمان میں تھا اور نیچے والا حصہ زمین میں تھا اس کے بلندی والے حصے پر ایک حلقہ تھا اس نے مجھ سے کہا: تم اس پر چڑھ جاؤ میں کہا: میں اس پر کیسے چڑھ سکتا ہوں جب کہ اس کا سر اآسمان میں ہے اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اس پر چڑھا دیا ' تو مجھے لگا میں اس حلقے کے ساتھ متعلق ہوں پھر اس نےستون پر مارا تو وہ گر گیا اور میں اس حلقے کے ساتھ لٹکا رہ گیا جب صبح ہوئی تو میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کے سامنے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے ارشا د فرمایا : جہاں تک اس راستے کا تعلق ہے جو تم نے اپنی بائیں طرف والے لوگوں کا راستہ تھا اور جہاں تک اس راستے کا تعلق جس کو تم نے دائیں طرف دیکھا تھا تو و ہ دائیں طرف والے لوگوں کا راستہ تھا اور وہ پہاڑ شہدا کی جائے قیام تھی تم اس تک نہیں پہنچ سکتے تھے جہاں تک ستون کا تعلق ہے تو وہ اسلام کا ستون تھا جہاں تک رسی کا تعلق ہے تو وہ اسلام کی رسی تھی تم مرتے دم تک اس کو مضبوطی سے تھامے رہو گے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) درست لفظ ''فزجل'' البتہ راوی نے اس کو نقل کرتےہوئے فزحل نقل کیا ہے یعنی "ح'' کے ساتھ نقل کیا ہے۔

خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 7166

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7167

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ، قَالَ: «لِمَ؟ » قَالَ: قَدْ نَهَانَا اللَّهُ عَنْ أَنْ [ص:126] نُحِبَّ أَنْ نُحْمَدَ بِمَا لَمْ نَفْعَلْ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْحَمْدَ، وَنَهَى اللَّهُ عَنِ الْخُيَلَاءِ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْجَمَالَ، وَنَهَى اللَّهُ أَنْ نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا فَوْقَ صَوْتِكَ، وَأَنَا امْرُؤٌ جَهِيرُ الصَّوْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا ثَابِتُ، أَلَا تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا، وَتُقْتَلَ شَهِيدًا، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ؟ » قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَعَاشَ حَمِيدًا، وَقُتِلَ شَهِيدًا يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ

حضرت ثاقب بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے اسما عیل نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے عرض کی :یا رسول اللہ ﷺ اللہ کی قسم مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ میں ہلاکت کا شکار ہوجاؤں گا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیوں انہوں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم اس چیز کو پسند کریں جو ہم نے نہیں کیا اور اس پر ہماری تعریف کی جائے اور مجھے اپنے اندر یہ بات ملتی ہے کہ میں اپنی تعریف کو پسند کرتاہوں اس طرح اللہ نے اپنے اوپر اترانے سے منع کیا ہے اور مجھے اپنے اندر یہ چیز ملتی ہے کہ میں جمال کو پسند کرتا ہوں اللہ تعالیٰ نے اس بات سے بھی منع کیا ہے کہ ہم اپنی آوازیں آپ کی آواز سے بلند کریں اور میں ایک ایسا شخص ہوں جس کی آواز بلند ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اے ثابت کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم قابل تعریف زندگی بسر کرو اور شہید ہونے کے عالم میں مارے جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ میں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ ۔

إِسْمَاعِيلَ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7167

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7168

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمُ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ، وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ} [الحجرات: 2]، قَعَدَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ فِي بَيْتِهِ، [ص:129] وَقَالَ: أَنَا الَّذِي كُنْتُ أَرْفَعُ صَوْتِي، وَأَجْهَرُ لَهُ بِالْقَوْلِ، وَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: «بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ»، قَالَ أَنَسٌ: «فَكُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْيَمَامَةِ وَكَانَ ذَلِكَ الِانْكِشَافُ، لَبِسَ ثِيَابَهُ، وَتَحَنَّطَ وَتَقَدَّمَ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ''ا ے ایمان والو ! تم اپنی آوازوں کو نبی اکرمﷺ کی آواز سے اونچا نہ کرو اور آپ کے سامنے بلند آواز میں بات نہ کرو''۔ توحضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ اپنےگھر میں بیٹھ گئے انہوں نے کہا: میں وہ شخص ہوں کہ میں اپنی آواز بلند کرتاہوں نبی اکرم ﷺ نے سامنے اونچی آواز میں بات کرتا ہوں ' تو میں تو جہنمی ہو گیا ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں غیر موجود پایا ( اور ان کے بارےمیں دریافت کیا) تو نبی اکرم ﷺ کو ان کی صورت حال کے بارے میں بتایا گیا ۔ آپ نے ارشاد فرمایا: (جی نہیں ) بلکہ وہ اہل جنت میں سے ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم انہیں اپنبے درمیان چلتا پھر تا دیکھتے تھے تو ہمیں اس بات کا پتہ تھا یہ جنتی ہیں لیکن جب جنگ یمامہ کا موقع آیا تو یہ صورت حال کو واضح کرنے والا تھا انہوں نے اپنے کپڑے پہنے ' خوشبو لگائی آگے بڑھے جنگ میں حصہ لیا اور شہید ہو گئے۔

«بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ»، ← مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ فَأَخْبَرُوهُ، ← الَّذِي كُنْتُ أَرْفَعُ صَوْتِي، وَأَجْهَرُ لَهُ ← لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: قَعَدَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ فِي بَيْتِهِ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 7168

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7169

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمُ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} [الحجرات: 2]، قَالَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ: أَنَا وَاللَّهِ الَّذِي كُنْتُ أَرْفَعُ صَوْتِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَخْشَى أَنْ يَكُونَ اللَّهُ قَدْ غَضِبَ عَلَيَّ، فَحَزِنَ وَاصْفَرَّ، فَفَقَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقِيلَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهُ يَقُولُ: إِنِّي أَخْشَى أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، إِنِّي كُنْتُ أَرْفَعُ صَوْتِي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ»، فَكُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ «

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ ''اے ایمان والو ! تم اپنی آوازوں کو نبی اکرمﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو''۔ تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! وہ شخص ہوں کہ میری آواز نبی اکرمﷺ کے سامنے اونچی ہوتی ہے تو مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر غضب ناک ہو گا اس بات پر وہ غمگین ہو گئے اور ان کا رنگ زرد ہو گیا ۔ نبی اکرمﷺ نے ان کی غیر موجودگی محسوس کر کے ان کے بارے میں دریافت کیاتو آپ کو بتایا گیا : اے اللہ کے نبی ! وہیہ کہتے ہیں ' کہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں میں اہل جہنم میں سے نہ ہو جاؤں کیونکہ میری آواز نبی اکرم ﷺ کے سامنے بلندی ہو جاتی ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : (جی نہیں ) بلکہ وہ اہل جنت میں سے ہے ۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ) تو ہم انہیں ایک جتنی شخص کے طور پر اپنے درمیان چلتا پھرتا دیکھتے تھے۔

وَاللَّهِ الَّذِي كُنْتُ أَرْفَعُ صَوْتِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ← ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ ← لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآَيَةُ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 7169

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7170

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى* بِتُسْتَرَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي زَيْدِ بْنِ أَخْطَبَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا لَهُ بِالْجَمَالِ»

حضرت ابوزید بن اخطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ان کے لیےخوبصورتی کی دعا کی تھی۔

أَبِي زَيْدِ بْنِ أَخْطَبَ ← أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى* بِتُسْتَرَ،

Hadith 7170

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7171

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى*، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ وَجْهَهُ، وَدَعَا لَهُ بِالْجَمَالِ»

حضرت ابو زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ان کے چہرے پر ہاتھ پھیرا تھا اور ان کے لیے خوبصورتی کی دعا کی تھی

أَبِي زَيْدٍ ← عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، ← عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 7171

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7172

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الشَّرْقِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ*، وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو نَهِيكٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ، قَالَ: اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَفِيهِ شَعْرَةٌ فَرَفَعْتُهَا فَنَاوَلْتُهُ، فَنَظَرَ إِلَيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ جَمِّلْهُ»، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَتِسْعِينَ وَمَا فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ شَعْرَةٌ بَيْضَاءُ

حضرت عمرو بن اخطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ نے پانی طلب کیا میں ایک برتن لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا جس میں پانی موجود تھا اور اس میں بال بھی تھا میں نے اسے اٹھایا اور اسے پکڑ لیا نبی اکرمﷺ میری طرف دیکھ رہے تھے آپ نے ارشاد فرمایا : اے اللہ اسے جمال عطا کر ۔

عَمْرِو بْنِ أَخْطَبَ ← أَبُو نَهِيكٍ، ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← اَحْمَدُ بْنُ مَنْصْوْرٍ زَاجٌ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الشَّرْقِيِّ،

Hadith 7172

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7173

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجْتُ أَنَا وَرَبَاحٌ غُلَامُهُ أُنَدِّيهِ مَعَ الْ إِبِلِ، فَلَمَّا كَانَ بِغَلَسٍ أَغَارَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ عَلَى إِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَتْلَ رَاعِيَهَا، وَخَرَجَ يَطْرُدُ بِهَا، وَهُوَ فِي أُنَاسٍ مَعَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَبَاحُ اقْعُدْ عَلَى هَذَا الْفَرَسِ، وَأَلْحِقْهُ بِطَلْحَةَ، وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَدْ أُغِيرَ عَلَى سَرْحِهِ، قَالَ: وَقُمْتُ عَلَى تَلٍّ، فَجَعَلْتُ وَجْهِي قِبَلَ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ نَادَيْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: يَا صَبَاحَاهُ، ثُمَّ اتَّبَعْتُ الْقَوْمَ مَعِي سَيْفِي وَنَبْلِي، فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَرْتَجِزُهُمْ، وَذَلِكَ حِينَ كَثُرَ الشَّجَرُ، فَإِذَا رَجَعَ إِلَيَّ [ص:134] فَارِسٌ جَلَسْتُ لَهُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ، ثُمَّ رَمَيْتُهُ، وَلَا يُقْبِلُ عَلَيَّ فَارِسٌ، إِلَّا عَقَرْتُ بِهِ، فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِ وَأَقُولُ: أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ ... وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَأَلْحَقُ بِرَجُلٍ فَأَرْمِيهِ، وَهُوَ عَلَى رَحْلِهِ، فَيَقَعُ سَهْمِي فِي الرَّحْلِ حَتَّى انْتَظَمْتُ كَتِفَهُ، قُلْتُ: خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ ... وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَإِذَا كُنْتُ فِي الشَّجَرِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ، وَإِذَا تَضَايَقَتِ الثَّنَايَا عَلَوْتُ الْجَبَلَ وَرَدَّيْتُهُمْ بِالْحِجَارَةِ، فَمَا زَالَ ذَلِكَ شَأْنِي وَشَأْنَهُمُ أَتْبَعُهُمْ، وَأَرْتَجِزُ حَتَّى مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا مِنْ ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا خَلَّفْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي وَاسْتَنْقَذْتُهُ مِنْ أَيْدِيهِمْ، ثُمَّ لَمْ أَزَلْ أَرْمِيهِمْ حَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ رُمْحًا وَأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً يَسْتَخِفُّونَ بِهَا لَا يُلْقُونَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، إِلَّا جَمَعْتُ عَلَيْهِ الْحِجَارَةَ وَجَمَعْتُهُ عَلَى طَرِيقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا امْتَدَّ الضُّحَى أَتَاهُمْ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ مُمِدًّا لَهُمْ وَهُمْ فِي ثَنِيَّةٍ ضَيِّقَةٍ، ثُمَّ عَلَوْتُ الْجَبَلَ، قَالَ عُيَيْنَةَ: وَأَنَا فَوْقَهُمْ مَا هَذَا الَّذِي أَرَى؟ قَالُوا: [ص:135] لَقِينَا مِنْ هَذَا الْبَرْحَ، مَا فَارَقَنَا مُنْذُ سَحَرَ حَتَّى الْآنَ وَأَخَذَ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ أَيْدِينَا، وَجَعَلَهُ وَرَاءَهُ، فَقَالَ عُيَيْنَةُ: لَوْلَا أَنَّ هَذَا يَرَى وَرَاءَهُ طَلَبًا لَقَدْ تَرَكَكُمْ، فَلْيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْكُمْ، فَقَامَ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ، فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلِ، فَلَمَّا أَسْمَعْتُهُمُ الصَّوْتَ، قُلْتُ لَهُمْ: أَتَعْرِفُونِي، قَالُوا: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَطْلُبُنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ، فَيُدْرِكُنِي وَلَا أَطْلُبُهُ فَيَفُوتُنِي، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: أَظُنُّ، قَالَ: فَمَا بَرِحْتُ مَقْعَدِي حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى فَوَارِسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ، وَإِذَا أَوَّلُهُمُ الْأَخْرَمُ الْأَسَدِيُّ، وَعَلَى إِثْرِهِ أَبُو قَتَادَةَ، وَعَلَى إِثْرِهِ الْمِقْدَادُ الْكِنْدِيُّ، قَالَ: فَوَلَّى الْمُشْرِكُونَ مُدْبِرِينَ، فَأَنْزِلُ مِنَ الْجَبَلِ، فَأَعْتَرِضُ الْأَخْرَمَ، فَقُلْتُ: يَا أَخْرَمُ احْذَرْهُمْ، فَإِنِّي لَا آمَنُ أَنْ يَقْتَطِعُوكَ، فَاتَّئِدْ حَتَّى يَلْحَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، قَالَ: يَا سَلَمَةُ، إِنْ كُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ، وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ، فَلَا تَحُلْ بَيْنِي وَبَيْنَ الشَّهَادَةِ، قَالَ: فَخَلَّى عِنَانَ فَرَسِهِ، فَلَحِقَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَيَعْطِفُ عَلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَاخْتَلَفَا فِي طَعْنَتَيْنِ، فَعَقَرَ الْأَخْرَمُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَتَلَهُ وَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَى فَرَسِ الْأَخْرَمِ، فَلَحِقَ أَبُو [ص:136] قَتَادَةَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَاخْتَلَفَا فِي طَعْنَتَيْنِ، فَعَقَرَ بِأَبِي قَتَادَةَ، وَقَتْلَهُ أَبُو قَتَادَةَ، وَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى فَرَسِ الْأَخْرَمِ، ثُمَّ إِنِّي خَرَجْتُ أَعْدُو فِي إِثْرِ الْقَوْمِ حَتَّى مَا أَرَى مِنْ غُبَارِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَيُعْرِضُونَ قَبْلَ غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ إِلَى شِعْبٍ فِيهِ مَاءٌ يُقَالُ لَهُ: ذُو قَرَدٍ، فَأَرَادُوا أَنْ يَشْرَبُوا مِنْهُ، فَأَبْصَرُونِي أَعْدُو وَرَاءَهُمْ، فَعَطَفُوا عَنْهُ وَشُدُّوا فِي الثَّنِيَّةِ ثَنِيَّةِ ذِي ثَبِيرٍ وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَأَلْحَقُ رَجُلًا فَأَرْمِيهِ، قُلْتُ: خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ ... وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ: يَا ثَكِلَتْنِي أُمِّي أَأَكُوعُ بَكْرَةَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ أَيْ عَدُوَّ نَفْسِهِ، وَكَانَ الَّذِي رَمَيْتُهُ بَكْرَةَ، وَأَتْبَعْتُهُ بِسَهْمٍ آخَرَ، فَعَلِقَ فِيهِ سَهْمَانِ وَخَلَّفُوا فَرَسَيْنِ، فَجِئْتُ بِهِمَا أَسُوقُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ عَلَى الْمَاءِ الَّذِي عِنْدَ ذِي قَرَدٍ، فَإِذَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَمَاعَةٍ، وَإِذَا بِلَالٌ [ص:137] قَدْ نَحَرَ جَزُورًا مِمَّا خَلَّفْتُ وَهُوَ يَشْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَبِدِهَا وَسَنَامِهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَلِّنِي فَأَنْتَخِبَ مِنْ أَصْحَابِكَ مِائَةَ رَجُلٍ وَآخُذَ عَلَى الْكُفَّارِ، فَلَا أُبْقِي مِنْهُمْ مُخْبِرًا، إِلَّا قَتَلْتُهُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكُنْتَ فَاعِلًا ذَلِكَ يَا سَلَمَةُ؟ » قُلْتُ: نَعَمْ، وَالَّذِي أَكْرَمَ وَجْهَكَ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ فِي ضَوْءِ النَّارِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُمْ يُقْرَوْنَ الْآنَ إِلَى أَرْضِ غَطَفَانَ»، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ غَطَفَانَ، فَقَالَ: نَزَلُوا عَلَى فُلَانٍ الْغَطَفَانِيِّ، فَنَحَرَ لَهُمْ جَزُورًا، فَلَمَّا أَخَذُوا يَكْشِطُونَ جِلْدَهَا رَأَوْا غَبَرَةً، فَتَرَكُوهَا وَخَرَجُوا هُرَّابًا، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ، وَخَيْرُ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ»، فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ الرَّاجِلِ وَالْفَارِسِ جَمِيعًا، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَنِي وَرَاءَهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ قَرِيبٌ مِنْ ضَحْوَةٍ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَا يُسْبَقُ، فَجَعَلَ يُنَادِي: هَلْ مِنْ مُسَابِقٍ أَلَا [ص:138] رَجُلٌ يُسَابِقُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا وَأَنَا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، خَلِّنِي فَلِأُسَابِقَ الرَّجُلَ، قَالَ: «إِنْ شِئْتَ»، قُلْتُ: اذْهَبْ إِلَيْكَ فَطَفَرَ عَنْ رَاحِلَتِهِ وَثَنَيْتُ رِجْلِي، فَطَفَرْتُ عَنِ النَّاقَةِ، ثُمَّ إِنِّي رَبَطْتُ عَلَيْهِ شَرَفًا، أَوْ شَرَفَيْنِ - يَعْنِي اسْتَبْقَيْتُ نَفْسِي -، ثُمَّ عَدَوْتُ حَتَّى أَلْحَقَهُ، فَأَصُكُّ بَيْنَ كَتِفَيْهِ بِيَدِي، وَقُلْتُ: سُبِقْتَ وَاللَّهِ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ

ایاس بن سلمہ ' اپنے والد (حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حدیبیہ کے موقع پرمیں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ آیا میں اور نبی اکرم ﷺ کا غلام رباح اونٹو ں کے ساتھ لے کر نکلے جب کچھ اندھیر اچھا گیا تو عبدالرحمن بن عیینہ نے نبی اکرمﷺ کے اونٹوں پر حملہ کر کے ان کے چروا ہے کو قتل کر دیا اور وہ ان اونٹوں کے ساتھ لے کر روانہ ہو گیا اس کے ساتھ کچھ دوسرے لوگ بھی تھے میں نے کہا: اے رباح تم اس گھوڑے پر سوار ہو جاؤ اور اسے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ اور نبی اکرم ﷺ کو یہ بتاؤ کہ آپ کے اونٹوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ایک ٹیلے پر چڑھا میں نے اپنا چہرہ مدینہ منورہ کی طرف کیا اور پھر میں نے تین مرتبہ بلند آواز میں پکارا ''خطرہ ہے'' پھر ان لوگوں کے پیچھے چل پڑا میرے پاس تلوار بھی تھی اور نیزہ بھی تھا میں انہیں نیزہ مارتا اور انہیں رجز پڑھ کے سناتا یہاں تک کہ ہم ایک ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں درخت زیادہ تھے اسی دوران ایک گھڑ سورا پلٹ کر میری طرف آیا میں اس کا (مقابلہ کرنے کے لئے ) درخت کے تنے کے پا س بیٹھ گیا پھر میں نے اسے تیر مارا ' تو پھر کوئی گھڑ سوار میری طرف نہیں آیا مگر یہ کہ میں نے اس گھوڑے کے پاؤں کا ت دئیے میں تیر مارتا جاتا تھا اور یہ کہتا جاتا تھا میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے، میں ایک شخص کے پاس آیا اور میں نے اسے تیر مارا وہ اپنی سوار ی پر تھا میر تیراس سواری پر لگا یہاں تک کہ اس کےکندھے کے اندر جا کر لگ گیا تو میں نے کہا : لو سنبھال لو میں اکوع کا بیٹا ہوں اور اج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے جب میں درختوں میں ہوتا تو میں انہیں تیر مارتا اور جب گھاٹیاں تنگ ہو جاتیں تو میں پہاڑ پر چڑھ جاتا اور انہیں پتھر مارتا میرا اور ان کا معاملہ یوں ہی چلتا رہا میں ان کے پیچھے جاتا رہا انہیں رجز پڑھ کے سنا تا رہا یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کی ہر اونٹنی کو میں نے ان کے ہاتھوں سے چھین لیا میں پھر بھی مسلسل انہیں تیر مارتا رہا 'یہاں تک کہ میں ان سے تیس سے زیادہ نیزے اور تیس سے زیادہ چادریں بھی چین لیں وہ اپنا وزن ہلکا کر رہے تھے وہ جو بھی چیز ڈالتے تھے میں اس پر پتھر رکھ دیتا تھا اور میں اسے نبی اکرم ﷺ کے راستے کے لئے اکٹھا کر دیتا تھا یہاں تک کہ جب دن چڑھ آیا تو ان لوگوں کے پاس ان کی مدد کرنے کے لئے عیینہ بن بدر فزاری آگیا وہ لوگ اس وقت ایک تنگ گھاٹی میں تھے میں پہاڑ پر چڑھ گیا عیینہ نے کہا : یہ کون ہے میں اس وقت ان لوگوں کے اوپر تھا ان لوگوں نے بتایا : ہم بڑی دیر سے اس کے حوالے سے پریشان ہیں جب سے صبح ہوئی ہے اس نے ہماری جان نہیں چھوڑی اور یہ وقت ہو گیا ہے اس نے ہمارےپاس موجود ہر چیز حاصل کر لی ہے اور ان چیزوں کو انے پیچھے رکھ لیا ہے عیینہ نے کہا: اگر اسے اپنے پیچھے سے حملہ کرنے والے نظر آگئے تو یہ تمہیں چھوڑ دے گا ۔تم میں سے کچھ لوگ اٹھ کر اس کے پاس جائیں ان میں سے چار آدمی اٹھ کر ان کی طر ف گئے وہ لوگ پہاڑ پر چڑھ گئے جب میری آواز ان تک پہنچ گئی تو میں نے ان سے کہا : کیا تم لوگ مجھے جانتے ہو ۔ان لوگوں نے دریافت کیا : تم کون ہو؟ میں نے کہا : میں اکوع کا بیٹا ہوں اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد ﷺ کو اور ان کے چہرے کو عزت بخشی ہے تم میں سے جو شخص بھی میری تلاش میں آئے گا وہ مجھ تک پہنچ نہیں پائے گا اور جسے میں تلاش کروں گا وہ مجھ سے اوجھل نہیں رہ سکے گا ان میں سے ایک شخص نے کہا:میر خیال ہے (ایسا ہی ہے) حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تو میں اسی جگہ بیٹھا رہا یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے گھڑ سواروں کو دیکھ لیاجو درختوں کے درمیان میں سے گزرتے ہوئے آرہے تھے ان میں سب بسے آگے اخرام اسدی تھے ان کے پیچھے ابو قتادہ تھے ان کے پیچھے مقداد کندی تھے۔ راوی کہتے ہیں ' تو مشرکین پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے میں پہاڑ سے نیچے اتر ا میں اخرم کے سامنے آیا میں نے کہا : اے اخرم ان سے بچنے کی کوشش کرو کیو نکہ مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ تمہیں نقصا ن پہنچا سکتے ہیں تم ذرا ٹھہر جاؤ جب تک نبی اکرمﷺ اور آپ کے اصحاب تشریف نہیں لے آتے تواخرم نے کہا: اسے سلمہ اگر تم اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور یہ بات جانتے ہو کہ جنت حق اور جہنم حق ہے تو میرے اور شہادت کے درمیان رکاوٹ نہ بنو ۔ راوی کہتے ہیں تو حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ نے ان کےگھوڑے کی لگام چھوڑ فی وہ عبدالرحمن بن عیینہ کے پاس پہنچے ۔ عبدالرحمن نےا ن پر حملہ کیا ان دونوں کے نیزے ٹکڑائے تو اخرم نے عبدالرحمن کے جانور کے پاؤں کاٹ دئیے اور عبدالرحمن نے انہیں زخمی کر دیا اور انہیں شہید کر دیا پھر عبدالرحمن اخرم گھوڑے پر سوار ہو ا پھر حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ عبدالرحمن کے پاس پہنچے ان دونوں کے نیزے ایک دوسرے سے ٹکڑائے اس نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے جانور کے پاؤں کاٹ دئیے تو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اسے مار دیا ۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اخرم کے گھوڑے پر سوار ہو کر واپس آئے پھر میں ان لوگوں کے پیچھے چلتا ہوا روانہ ہو ا ' یہاں تک کہ مجھے نبی اکرمﷺ کےاصحاب کےغبارے میں سے کوئی چیز نظر نہیں آئی جب کہ دشمن سورج غروب ہونے سے کچھ پہلے گھاٹی میں پہنچا جہاں پانی موجود تھا اس جگہ کو ذوقرد کہتے تھے ۔ انہوں نے وہاں سے پانی پینے کا رادہ کیا جب انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے آرہا ہوں تو انہوں نے اس جگہ کو چھوڑ ا اور اس گھاٹی کی طرف آئے جو ذی سبیل کی گھاٹی تھی اسی دوران سورج غروب ہو گیا میں ایک شخص کے پاس پہنچا میں نے اسے تیر مارا میں نے کہا : لو اسے سنبھالو میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آ ج کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے تو اس نے کہا : میری ماں مجھے روئے کیا اکوع صبح والا؟ میں نے کہا : ہاں اے اپنی جان کے دشمن یہ وہی شخص تھا جسے میں نےصبح کے وقت تیر مارا تھا میں نے اسے دوسرا تیر مارا تو اسے دو تیر لگے تو اس نے دو گھوڑے چھوڑے ۔ میں ان دونوں کے لے کر ہا نک کر نبی اکرم ﷺ کی خد مت میں لے آیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس وقت ذی قرد پانی کے پاس موجود تھے ۔ نبی اکرم ﷺ کچھ ساتھیوں سمیت تھے وہاں حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے ان میں سے ایک اونٹ کو قربان کر دیا تھا جنہیں میں نے پیچھے چھوڑا تھا وہ نبی اکرم ﷺ کے یے اس کا کلیجہ اور ران بھون رہے تھے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کے اصحاب میں سے ایک سو آدمیوں کو منتخب کروں اور پھر کفار پر حملہ کردوں میں ان میں سے کسی بھی اطلاع دینے والے کو نہیں چھوڑوں گامگر یہ کہ اسے قتل کردوں گا ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اے سلمہ کیا تم نے ایسا کیاہے، میں نے عرض کی : جی ہاں اس ذات کی قسم جس نے آپ کے چہرے کو عزت بخشی ہے تو نبی اکرم ﷺ مسکرا دئیے یہاں تک کہ مجھے آگ کی روشنی میں آپ کے اطراف کے دانت نظر آئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ اب غطفان کی سر زمین پر پہنچ گئے ہوں گے غطفان سے ایک شخص آیا اس نے بتایا : ان لوگوں نے فلاں غطفانی کے ہاں پڑاؤ کیاہے ' اس نے ان لوگؤں کے لئے اونٹ قربان کیا ہے وہ لوگ ا سکی کھال اتارنے لگے ' تو انہوں نے غبارہ دیکھا انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور بھاگ کھڑے ہوئے ۔ اگلے دن صبح نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ہمارے گھڑسواروں میں آج سب سے بہتر ابو قتادہ ہے اور ہمارے پیدل لوگوں میں آج سب سے بہتر سلمہ ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھے پیادہ شخص اور گھڑ سوار دونوں کا حصہ عطا کیا۔ نبی اکرمﷺ نے مجھے اپنے پیچھے اپنی اونٹنی عضباء پر سوار کیا اور ہم لوگ مدینہ منورہ کی طرف واپس آگئے ابھی ہم مدینہ منورہ سے کچھ فاصلے پر تھے کہ حاضرین میں سے ایک صاحب جن کا تعلق انصار سے تھا اور کوئی بھی دوڑ میں ان سے آگے نہیں نکل سکتا تھا اس نے بلند آوازمیں کہنا شروع کیا کیا کوئی مقابلہ کرنے والا ہے کیا کوئی مدینہ منورہ تک دوڑ کا مقابلہ کرے گا ۔انہوں نے کئی مرتبہ یہ اعلان کیا میں اس وقت نبی اکرمﷺ کے پیچھے موجود تھا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس شخص کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کروں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اگر تم چاہو( تو کر لو) میں نے اس انصاری سے کہا: چل( میں تمہارا مقابلہ کرتا ہوں ) وہ اپنی سواری سے اترا میں نے اپنی ٹانگ موڑی اور اونٹنی سے اترآیا پھ میں نے اسے ایک یا دو ٹیلوں تک آگے نکلنے کا موقع دیا ( پوری قوت سے دوڑ لگائی ) اوراس تک پہنچ گیا ۔ میں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اس کے دونوں کندھوں کے درمیان مارا اور کہا: اللہ کی قسم ! تم ہار گئے ہو ' یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ آگئے۔

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← هاشم بن القاسم ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7173

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7174

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، أَنَّهُ قَالَ: «غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وَمَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ تِسْعَ غَزَوَاتٍ، أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا»

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ سات غزوات میں شرکت کی ہے اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نو غزوات میں شرکت کی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں ہمارا امیر مقرر کیا تھا

سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ أَنَّهُ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 7174

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7175

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُدَيْبِيَةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ، وَخَيْرُ رَجَّالَتِنَا الْيَوْمَ سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ»، ثُمَّ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ الْفَارِسِ، وَسَهْمَ الرَّاجِلِ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «كَانَ سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ فِي تِلْكِ الْغَزَاةِ رَاجِلًا، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ الرَّاجِلِ لِمَا اسْتَحَقَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ، وَسَهْمَ الْفَارِسِ مِنْ خُمُسِ خُمُسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ أَنْ يَكُونَ سَلَمَةُ أُعْطِيَ سَهْمَ الْفَارِسِ مِنْ سِهَامِ الْمُسْلِمِينَ»

ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ حدیبیہ آئے پھر ہم مدینہ منورہ کی طرف واپس جانے کے لئے روانہ ہوئے تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : آج ہمارا سب سے بہترین گھڑ سوار ابو قتادہ اور ہمارا سب سے بہترین پیادہ سلمہ بن اکوع ہے پھر نبی اکرمﷺ نے مجھے گھڑ سواراور پیادہ (دونوں طرح کے لوگوں ) کا حصہ عطا کیا۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ اس جنگ میں پیادہ کے طور پر شریک ہوئے تھے نبی اکرم ﷺ نے انہیں پیادہ کا حصہ دیا تھا جس کے وہ مال غنیمت میں سے مستحق تھے اور گھڑ سوار کا حصہ نبی اکرمﷺ نے انہیں خمس میں سے دیا تھا ایسا نہیں ہے کہ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کے حصے میں سے گھڑ سوار کا حصہ دیا گیا ۔

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 7175

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7176

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، [ص:142] عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ: «غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ عَشْرَةَ غَزْوَةً، أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ»

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :میں نے نبی اکرمﷺ کے ہمراہ پندہ غزوات میں شرکت کی ہے میں نے اورحضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ( ہم دونوں نے شرکت کی ہے)

وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ» ← «غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ خَمْسَ عَشْرَةَ غَزْوَةً، ← الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← إِسْرَائِيلَ، [ص:142] ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَکِ

Hadith 7176

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7177

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَزَّرَتْنِي بِخِمَارِهَا وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، [ص:143] هَذَا أَنَسٌ أَتَيْتُكَ بِهِ لَيَخْدُمَكَ، فَادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ: «اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ»، قَالَ أَنَسٌ: فَوَاللَّهِ إِنَّ مَالِي لَكَثِيرٌ، وَإِنَّ وَلَدِي وَوَلَدَ وَلَدِي يَتَعَاقَبُونَ عَلَى نَحْوِ الْمِائَةِ.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے اپنی چادر کے ایک حصے کو مجھے تہبند کے طور پر پہنا دیا اور ایک حصہ میرے جسم پر لپیٹ دیا تھا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ یہ انس ہے میں اسے لے کر آپ کی خدمت میں ا س لیے حاضر ہوئی ہوں تا کہ یہ آپ کی خدمت کیا کرے آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے دعا ئے خیر کیجئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دعا کی: اے اللہ اس کے مال اور اس کی اولاد میں کثرت کر دے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم میرا مال بہت زیادہ ہے اور میری اولاد ' اور اولاد کی اولاد کی تعداد ایک سو کے قریب ہے۔

جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ وَقَدْ أَزَّرَتْنِي بِخِمَارِهَا وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 7177

chevron_left Previous
1…2627282930
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr