صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7166
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي حَلْقَةٍ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فِيهَا شَيْخٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ، وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ حَدِيثًا حَسَنًا، فَلَمَّا قَامَ، قَالَ الْقَوْمُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا، قَالَ: قُلْتُ: وَاللَّهِ لَأَتْبَعَنَّهُ فَلَأَعْلَمَنَّ بَيْتَهُ، قَالَ: فَتَبِعْتُهُ فَانْطَلَقَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الْمَدِينَةِ دَخَلَ مَنْزِلَهُ، فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَأَذِنَ لِي، فَقَالَ: مَا حَاجَتُكَ يَا ابْنَ أَخِي؟ قُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ الْقَوْمَ يَقُولُونَ لَمَّا قُمْتَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا، فَأَعْجَبَنِي أَنْ أَكُونَ مَعَكَ، قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ، وَسَأُخْبِرُكَ مِمَّا قَالُوا ذَلِكَ إِنِّي بَيْنَا أَنَا [ص:124] نَائِمٌ أَتَانِي رَجُلٌ، فَقَالَ: قُمْ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَإِذَا أَنَا بِجَوَادٍ عَنْ شِمَالِي، فَأَخَذْتُ لِآخُذَ فِيهَا، فَقَالَ لِي: لَا تَأْخُذْ فِيهَا، فَإِنَّهَا طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ، قَالَ: وَإِذَا جَوَادٌ مَنْهَجٌ عَنْ يَمِينِي، قَالَ لِي: خُذْ هَاهُنَا فَأَتَى بِي جَبَلًا، فَقَالَ لِي: اصْعَدْ فَوْقَ هَذَا، فَجَعَلْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَصْعَدَ خَرَرْتُ عَلَى اسْتِي حَتَّى فَعَلْتُهُ مِرَارًا، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى أَتَى بِي عَمُودًا رَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ وَأَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ وَأَعْلَاهُ حَلْقَةٌ، فَقَالَ لِي: اصْعَدْ فَوْقَ هَذَا، فَقُلْتُ: كَيْفَ أَصْعَدُ فَوْقَ هَذَا وَرَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ؟ فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَحَلَ بِي، فَإِذَا أَنَا مُتَعَلِّقٌ بِالْحَلْقَةِ، ثُمَّ ضَرَبَ الْعَمُودَ فَخَرَّ وَبَقِيتُ مُتَعَلِّقًا بِالْحَلْقَةِ حَتَّى أَصْبَحْتُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: «أَمَّا الطَّرِيقُ الَّذِي رَأَيْتَ عَلَى يَسَارِكَ فَهِيَ طَرِيقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ، وَأَمَّا الطَّرِيقُ الَّذِي رَأَيْتَ عَنْ يَمِينِكَ فَهِيَ طَرِيقُ أَصْحَابِ الْيَمِينِ، وَالْجَبَلُ هُوَ مَنَازِلُ الشُّهَدَاءِ وَلَنْ تَنَالَهُ، وَأَمَّا الْعَمُودُ فَهُوَ عَمُودُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الْعُرْوَةُ فَهِيَ عُرْوَةُ الْإِسْلَامِ، وَلَنْ تَزَالَ مُسْتَمْسِكًا بِهَا حَتَّى تَمُوتَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الصَّوَابُ فَزَجَلَ، وَالسَّمَاعُ فَزَحَلَ بِالْحَاءِ»
خرشہ بن حربیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ کی مسجد میں ایک حلقے میں بیٹھا ہو ا تھا اس میں ایک عمر رسیدہ شخص موجود تھا ' جو خوبصورت تھا وہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنا شروع کی تو عمدہ گفتگو کی جب وہ اٹھ گئے تو لوگوں نے کہا : جو شخص کسی جنتی کو دیکھنا چاہتا ہو وہ ان صاحب کو دیکھ لے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے سوچا اللہ کی قسم میں ضرور ان کے پیچھے جاؤں گا اور ان کےگھر کے بارے میں جان لوں گا۔ راوی کہتے ہیں : میں ان کے پیچھے چل پڑا وہ روانہ ہوئے ' یہاں تک کہ وہ مدینہ منورہ کی آخری سرحد کے قریب اپنے گھر کے اندر تشریف لے گئے میں نے ان کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی انہوں نے مجھے اجازت دی۔ انہوں نے دریافت کیا : اے میرے بھتیجے تمہیں کیا کام ہے ۔میں نے کہا : جب آپ اٹھے تھے تو میں لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو شخص کسی جنتی کو دیکھنا چاہتا ہو وہ ان صاحب کو دیکھ لے ' تو مجھے یہ بات اچھی لگی کہ میں آپ کے ساتھ رہوں ۔انہوں نے فرمایا : اہل جنت کےبارے میں اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے لیکن میں تمہیں اس چیز کے بار ے میں بتاتا ہوں ' جو لوگوں نے کہی ہے ایک مرتبہ میں سویا ہو ا تھا ایک شخص میرے پاس آیا اور بولا : اٹھو اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں چل پڑا مجھے اپنے بائیں طرف ایک راستہ نظر آیا میں اس کی طرف جانے لگا ' تو اس شخص نے مجھ سے کہا: تم اس کی طرف نہ جاؤ کیونکہ وہ بائیں طرف والے لوگوں کا راستہ ہے۔حضرت عبداللہ کہتےہیں ' پھر مجھے اپنی دائیں طرف ایک راستہ نظر آیا اس شخص نے مجھ سے کہا : تم اس راستے کو اختیار کر لو پھر وہ مجھے لے کر ایک پہاڑ کے پاس آیا اور اس نے مجھ سے کہا: تم اس پر چڑھ جاؤ میں نے جب اس پرھ چڑھنے کا ارادہ کیا تو میں اپنی سرین کے بل گرپڑا میں نے کئی مرتبہ ایسا کیا پھر وہ شخص گیا اور میر ے لیے ایک سیڑھی لے کر آیا جس کا اوپر والا سرہ آسمان میں تھا اور نیچے والا حصہ زمین میں تھا اس کے بلندی والے حصے پر ایک حلقہ تھا اس نے مجھ سے کہا: تم اس پر چڑھ جاؤ میں کہا: میں اس پر کیسے چڑھ سکتا ہوں جب کہ اس کا سر اآسمان میں ہے اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اس پر چڑھا دیا ' تو مجھے لگا میں اس حلقے کے ساتھ متعلق ہوں پھر اس نےستون پر مارا تو وہ گر گیا اور میں اس حلقے کے ساتھ لٹکا رہ گیا جب صبح ہوئی تو میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کے سامنے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے ارشا د فرمایا : جہاں تک اس راستے کا تعلق ہے جو تم نے اپنی بائیں طرف والے لوگوں کا راستہ تھا اور جہاں تک اس راستے کا تعلق جس کو تم نے دائیں طرف دیکھا تھا تو و ہ دائیں طرف والے لوگوں کا راستہ تھا اور وہ پہاڑ شہدا کی جائے قیام تھی تم اس تک نہیں پہنچ سکتے تھے جہاں تک ستون کا تعلق ہے تو وہ اسلام کا ستون تھا جہاں تک رسی کا تعلق ہے تو وہ اسلام کی رسی تھی تم مرتے دم تک اس کو مضبوطی سے تھامے رہو گے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) درست لفظ ''فزجل'' البتہ راوی نے اس کو نقل کرتےہوئے فزحل نقل کیا ہے یعنی "ح'' کے ساتھ نقل کیا ہے۔
خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى
Hadith 7166
