صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7154
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ مَا خَلَقَ اللَّهُ مُؤْمِنًا يَسْمَعُ بِي، وَيَرَانِي إِلَّا أَحَبَّنِي، قُلْتُ: وَمَا عِلْمُكَ بِذَلِكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: إِنَّ أُمِّي كَانَتِ امْرَأَةً مُشْرِكَةً وَكُنْتُ أَدْعُوهَا إِلَى الْإِسْلَامِ، فَتَأْبَى عَلَيَّ، فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا، فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْرَهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الْإِسْلَامِ، فَتَأْبَى عَلَيَّ وَأَدْعُوهَا، فَأَسْمَعَتْنِي فِيكَ مَا أَكْرَهُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اهْدِهَا»، فَلَمَّا أَتَيْتُ الْبَابَ إِذَا هُوَ مُجَافٌ، فَسَمِعْتُ خَضْخَضَةَ الْمَاءِ، وَسَمِعْتُ خَشْفَ رَجُلٍ أَوْ رِجُلٍ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، كَمَا أَنْتَ وَفَتَحَتِ الْبَابَ وَلَبِسَتْ دِرْعَهَا وَعَجِلَتْ عَلَى خِمَارِهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَرَجَعْتُ إِلَى [ص:108] رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْكِي مِنَ الْفَرَحِ كَمَا بَكَيْتُ مِنَ الْحُزْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ، فَقَدِ اسْتَجَابَ اللَّهُ دَعَوْتَكَ، قَدْ هَدَى اللَّهُ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحَبِّبَنِي أَنَا وَأُمِّي إِلَى عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ وَيُحَبِّبَهُمْ إِلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ وَأُمَّهُ إِلَى عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ وَحَبِّبْهُمْ إِلَيْهِمَا» أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم اللہ تعالٰی نے جس بھی مومن کو پیدا کیا ہے اگر وہ میرے بارے میں سن لے یا مجھے دیکھ لے' تو مجھ سے محبت کرنے لگے گا ۔ میں نے کہا: اے ابو ہریرہ آپ کو اس بات کا پتہ کیسے چلا ؟ انہوں نے فرمایا : میری والدہ ایک مشرک خاتوں تھی میں انہیں اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا لیکن وہ میری بات نہیں مانتی تھی ایک مرتبہ میں نے انہیں دعوت دی تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں ایسی باتیں کیں جو مجھے اچھی نہیں لگیں ۔ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں اس وقت رو رہا تھا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میں اپنی والد ہ کو اسلام کی طرف دعوت دیتا ہوں لیکن وہ میری بات قبول نہیں کرتی ہیں میں انہیں دعوت دیتا رہتا ہوں اب انہوں نے آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہی ہیں جو مجھے اچھی نہیں لگی ہیں ' توآپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ابو ہریرہ کی والدہ کو ہدایت نصیب کرے ۔ نبی اکر م ﷺ نے فرمایا : اے اللہ'تو اس عورت کو ہدایت نصیب کر (حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) جب میں اپنے گھر کے دروازے پرآیا تو وہ بندتھا مجھے پانی گرنے کی آواز سنائی دی اور چلنے کی آواز بھی سنائی دی میری والدہ نے کہا: اے ابو ہریرہ تم جہاں ہو وہیں رہوپھر میری والدہ نے جلدی سے لباس پہنا چادر اوڑھی اور دروازہ کھول دیا ۔ انہوں نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو جس طرح میں پہلے روتا ہوا نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اسی خوشی کے عالم میں روتا ہو ا پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس آیا ۔ میں نے عرض کی: یار سول اللہ آپ کے لیے خوشخبری ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو مستجاب کر لیاہے۔ اللہ تعالیٰ نے ابو ہریرہ کی والدہ کو ہدایت نصیب کر دی ہے۔ حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہ کہتےہیں : میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ میری اور میری والدہ کی محبت اپنے مومن بندو ں کے دلوں میں ڈال دے اور میرے دل میں ان کی محبت ڈال دے پھر نبی اکرم ﷺ نے دعا کی: اے اللہ اپنے بندے اور اس کی والدہ کو اپنے مومن بندوں کے نزدیک محبوب کر دے اور ان مومنین کو ان دونوں کے نزدیک محبوب کر دے ۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) ابو کثیر سحیمی کا نام یزید بن عبدالرحمن ہے۔
أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ
Hadith 7154
