Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7154

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ مَا خَلَقَ اللَّهُ مُؤْمِنًا يَسْمَعُ بِي، وَيَرَانِي إِلَّا أَحَبَّنِي، قُلْتُ: وَمَا عِلْمُكَ بِذَلِكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: إِنَّ أُمِّي كَانَتِ امْرَأَةً مُشْرِكَةً وَكُنْتُ أَدْعُوهَا إِلَى الْإِسْلَامِ، فَتَأْبَى عَلَيَّ، فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا، فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْرَهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الْإِسْلَامِ، فَتَأْبَى عَلَيَّ وَأَدْعُوهَا، فَأَسْمَعَتْنِي فِيكَ مَا أَكْرَهُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اهْدِهَا»، فَلَمَّا أَتَيْتُ الْبَابَ إِذَا هُوَ مُجَافٌ، فَسَمِعْتُ خَضْخَضَةَ الْمَاءِ، وَسَمِعْتُ خَشْفَ رَجُلٍ أَوْ رِجُلٍ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، كَمَا أَنْتَ وَفَتَحَتِ الْبَابَ وَلَبِسَتْ دِرْعَهَا وَعَجِلَتْ عَلَى خِمَارِهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَرَجَعْتُ إِلَى [ص:108] رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْكِي مِنَ الْفَرَحِ كَمَا بَكَيْتُ مِنَ الْحُزْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ، فَقَدِ اسْتَجَابَ اللَّهُ دَعَوْتَكَ، قَدْ هَدَى اللَّهُ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحَبِّبَنِي أَنَا وَأُمِّي إِلَى عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ وَيُحَبِّبَهُمْ إِلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ وَأُمَّهُ إِلَى عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ وَحَبِّبْهُمْ إِلَيْهِمَا» أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم اللہ تعالٰی نے جس بھی مومن کو پیدا کیا ہے اگر وہ میرے بارے میں سن لے یا مجھے دیکھ لے' تو مجھ سے محبت کرنے لگے گا ۔ میں نے کہا: اے ابو ہریرہ آپ کو اس بات کا پتہ کیسے چلا ؟ انہوں نے فرمایا : میری والدہ ایک مشرک خاتوں تھی میں انہیں اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا لیکن وہ میری بات نہیں مانتی تھی ایک مرتبہ میں نے انہیں دعوت دی تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں ایسی باتیں کیں جو مجھے اچھی نہیں لگیں ۔ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں اس وقت رو رہا تھا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میں اپنی والد ہ کو اسلام کی طرف دعوت دیتا ہوں لیکن وہ میری بات قبول نہیں کرتی ہیں میں انہیں دعوت دیتا رہتا ہوں اب انہوں نے آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہی ہیں جو مجھے اچھی نہیں لگی ہیں ' توآپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ابو ہریرہ کی والدہ کو ہدایت نصیب کرے ۔ نبی اکر م ﷺ نے فرمایا : اے اللہ'تو اس عورت کو ہدایت نصیب کر (حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) جب میں اپنے گھر کے دروازے پرآیا تو وہ بندتھا مجھے پانی گرنے کی آواز سنائی دی اور چلنے کی آواز بھی سنائی دی میری والدہ نے کہا: اے ابو ہریرہ تم جہاں ہو وہیں رہوپھر میری والدہ نے جلدی سے لباس پہنا چادر اوڑھی اور دروازہ کھول دیا ۔ انہوں نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو جس طرح میں پہلے روتا ہوا نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اسی خوشی کے عالم میں روتا ہو ا پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس آیا ۔ میں نے عرض کی: یار سول اللہ آپ کے لیے خوشخبری ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو مستجاب کر لیاہے۔ اللہ تعالیٰ نے ابو ہریرہ کی والدہ کو ہدایت نصیب کر دی ہے۔ حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہ کہتےہیں : میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ میری اور میری والدہ کی محبت اپنے مومن بندو ں کے دلوں میں ڈال دے اور میرے دل میں ان کی محبت ڈال دے پھر نبی اکرم ﷺ نے دعا کی: اے اللہ اپنے بندے اور اس کی والدہ کو اپنے مومن بندوں کے نزدیک محبوب کر دے اور ان مومنین کو ان دونوں کے نزدیک محبوب کر دے ۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) ابو کثیر سحیمی کا نام یزید بن عبدالرحمن ہے۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 7154

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7155

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: «كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ جَرِيئًا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ لَا نَسْأَلَهُ عَنْهَا» *

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کی بارگاہ میں جرات کا مظاہرہ کرتے تھے وہ آپ سے ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت کرتے تھے جب کے بارے میں ہم نبی اکرم ﷺ سے دریافت نہیں کرتے تھے ۔

أَشْيَاءَ لَا نَسْأَلَهُ عَنْهَا» ← «كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ جَرِيئًا عَلَى النَّبِيِّ يَسْأَلُهُ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مُعَاذُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الثَّقَفِيُّ،

Hadith 7155

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7156

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ [ص:110] الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارَ يَؤُمُّهُمْ فِي الصُّبْحِ، فَقَرَأَ فِي الْأُولَى كهيعص، وَفِي الثَّانِيَةِ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ، وَكَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ لَهُ مِكْيَالَانِ، مِكْيَالٌ كَبِيرٌ وَمِكْيَالٌ صَغِيرٌ، يُعْطِي بِهَذَا وَيَأْخُذُ بِهَذَا»، فَقُلْتُ: «وَيْلٌ لِفُلَانٍ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میں مدینہ منورہ آیا ' نبی اکرمﷺ اس وقت خیبر میں موجود تھے بنو غفار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص صبح کی نماز میں لوگوں کی امامت کر رہا تھا اس نے پہلی رکعت میں سورت مریم کی تلاوت کی دوسری رکعت میں سورت مطففین کی تلاوت کی ہمارے ہاں ایک شخص ہوتا تھا جس کے پاس دو قسم کے پیمانے تھے ایک بڑا پیمانہ تھا اور ایک چھوٹا تھا وہ ایک کے ذریعے ماپ کر دیتا تھا اور دوسرے کے ذریعے وصول کیا کرتا تھا ( میرے ذہن میں ا سکا خیال آیا ) تو میں نے کہا: فلاں شخص تو برباد ہو گیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ [ص:218] الْعَلَاءِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 7156

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7157

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ أَبِي الدَّحْدَاحِ، فَلَمَّا صَلَّى عَلَيْهَا أُتِيَ بِفَرَسٍ فَرَكِبَهُ وَنَحْنُ نَسْعَى خَلْفَهُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَمْ مِنْ عِذْقٍ مُدَلًّى لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي [ص:112] الْجَنَّةِ»

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ابو دحداح کے جنازے میں شریک ہوئے جب آپ نے اس کی نماز ادا کر لی تو ایک گھوڑا لایا گیا آپ اس پر سوار ہوئے ہم آپ کے پیچھے تیزی سے چلتے ہوئے آئے ۔ نبی اکر م ﷺ نے فرمایا : ابو دحداح کے لیے جنت میں کتنے ہی کھجوروں کے گچھے ( پیش کیے گئے ہیں)

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 7157

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7158

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى [ص:113] أَبِي الدَّحْدَاحِ وَنَحْنُ شُهُودٌ، فَأُتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَرَسٍ فَرَكِبَهُ، فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ وَنَحْنُ نَسْعَى حَوْلَهُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَمْ مِنْ عِذْقٍ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ مُعَلَّقٍ فِي الْجَنَّةِ»

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابو دحداح کی نماز ادا کی ہم اس وقت وہاں موجود تھے نبی اکرم ﷺ کے لیے گھوڑا لایا گیا آپ اس پر سوار ہوئے آپ نے اسے تیز چلایا تو ہم آپ کے اردگرد دوڑنے لگے ۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابو دحداح کے لیے جنت میں کتنے ہی (پھلوں کے) خوشے لٹکائے گئے ہیں ۔

«كَمْ مِنْ عِذْقٍ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ مُعَلَّقٍ فِي الْجَنَّةِ» ← نَحْنُ شُهُودٌ، فَأُتِيَ النَّبِيَّ بِفَرَسٍ فَرَكِبَهُ، فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ وَنَحْنُ نَسْعَى حَوْلَهُ، ← صَلَّى النَّبِيُّ عَلَى أَبِي الدَّحْدَاحِ ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ،

Hadith 7158

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7159

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً، وَأَنَا أُقِيمُ حَائِطِي بِهَا، فَمُرْهُ يُعْطِينِي أُقِيمُ بِهَا حَائِطِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطِهِ إِيَّاهَا بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ»، فَأَبَى، فَأَتَاهُ أَبُو الدَّحْدَاحِ، فَقَالَ: بِعْنِي نَخْلَتَكَ بِحَائِطِي، فَفَعَلَ فَأَتَى أَبُو الدَّحْدَاحِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدِ ابْتَعْتُ النَّخْلَةَ بِحَائِطِي وَقَدْ أَعْطَيْتُكُهَا، فَاجْعَلْهَا لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَمْ مِنْ عِذْقٍ دَوَّاحٍ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ» مِرَارًا فَأَتَى [ص:114] أَبُو الدَّحْدَاحِ امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ اخْرُجِي مِنَ الْحَائِطِ، فَقَدْ بِعْتُهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ، فَقَالَتْ: رَبِحَ السِّعْرُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ فلاں شخص کا کھجور کا درخت ہے اس کے ذریعے میں اپنی دیوار کو کھڑا کرنا چاہتا ہوں آپ اسے ہدایت کیجئے کہ وہ مجھے دیدے تا کہ میں اس کے ذریعے اپنی دیوار کو کھڑا کر لوں ۔نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جنت میں تم کھجور کے درخت کے عوض میں یہ اسے دے دو اس نے یہ بات تسلیم نہیں کی ' تو ابو حداح اس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا تم اپنا کھجور کا درخت میرے باغ کےعوض میں مجھے فروخت کر دو اس نے ایسا کر لیا پھر حضرت ابودحداح رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں نے کھجور کا وہ درخت اپنے باغ کے عوض میں خرید لیا ہے وہ میں آپ کی نذر کرتا ہوں آپ وہ اسے دے دیں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ابو دحداح کے لیے جنت میں کتنے ہی کھجوروں کے خوشے ہوں گے موجود ہیں یہ بات آ پ نے کئی مرتبہ ارشاد فرمائی پھر ابو دحداح اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اے ام دحداح تم اپنے باٖغ سےنکل جاؤ کیوں کہ میں اسے جنت میں ایک درخت کے عوض میں فروخت کر دیا ہے تو اس خاتون نے کہا: یہ منافع کا سودا ہے۔

أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ فَقَالَ: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Hadith 7159

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7160

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّ ابْنَ سُفْيَانَ بْنَ نُبَيْحٍ الْهُذَلِيَّ جَمَعَ لِيَ النَّاسَ لِيَعْزُوَنِي، وَهُوَ بِنَخْلَةَ أَوْ بِعُرَنَةَ فَأْتِهِ»، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْعَتْهُ لِي حَتَّى أَعْرِفَهُ، قَالَ: «آيَةُ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ أَنَّكَ إِذَا رَأَيْتَهُ وَجَدْتَ لَهُ إِقْشَعْرِيَرَةً»، قَالَ: فَخَرَجْتُ مُتَوَشِّحًا بِسَيْفِي حَتَّى دُفِعْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ فِي ظُعُنٍ يَرْتَادُ لَهُنَّ مَنْزِلًا حِينَ كَانَ وَقْتُ الْعَصْرِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ وَجَدْتُ مَا وَصَفَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ [ص:115] الْإِقْشَعْرِيرَةِ، فَأَخَذْتُ نَحْوَهُ وَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مُحَاوَلَةٌ تَشْغَلُنِي عَنِ الصَّلَاةِ، فَصَلَّيْتُ وَأَنَا أَمْشِي نَحْوَهُ، وَأُومِئُ بِرَأْسِي، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، قَالَ: مِمَّنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ سَمِعَ بِكَ وَبِجَمْعِكَ لِهَذَا الرَّجُلِ، فَجَاءَ لِذَلِكَ، قَالَ: فَقَالَ: أَنَا فِي ذَلِكَ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ شَيْئًا حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي حَمَلْتُ عَلَيْهِ بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلْتُهُ، ثُمَّ خَرَجْتُ وَتَرَكْتُ ظَعَائِنَهُ مُنْكَبَّاتٍ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَآنِي، قَالَ: «قَدْ أَفْلَحَ الْوَجْهُ»، قُلْتُ: قَتَلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «صَدَقْتَ»، قَالَ: ثُمَّ قَامَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدْخَلَنِي بَيْتَهُ وَأَعْطَانِي عَصًا، فَقَالَ: «أَمْسِكْ هَذِهِ الْعَصَا عِنْدَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ»، قَالَ: فَخَرَجْتُ بِهَا عَلَى النَّاسِ: فَقَالُوا: مَا هَذِهِ الْعَصَا؟ قُلْتُ: أَعْطَانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُمْسِكَهَا، قَالُوا: أَفَلَا تَرْجِعُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَسْأَلَهُ لِمَ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمَ أَعْطَيْتَنِي هَذِهِ الْعَصَا، قَالَ: «آيَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّ أَقَلَّ النَّاسِ الْمُتَخَصِّرُونَ يَوْمَئِذٍ»، فَقَرَنَهَا عَبْدُ اللَّهِ بِسَيْفِهِ، فَلَمْ تَزَلْ مَعَهُ حَتَّى إِذَا مَاتَ أَمَرَ بِهَا، فَضُمَّتْ مَعَهُ فِي كَفَنِهِ، ثُمَّ دُفِنَا جَمِيعًا.

حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیانکرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے انہیں بلوایا اور ارشاد فرمایا : مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ سفیا ن بن نبیح ہذلی کےبیٹے نےمیرے لیے لوگوں کو اکٹھا کیا ہے تاکہ وہ میرے ساتھ لڑائی کر یں اس وقت (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کھجور کے درخت کے پاس موجود ہے یا عرینہ کے پاس موجود ہے تم اس کے پاس جاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ آپ اس کا حلیہ میرے سامنے بیان کر دیں تا کہ میں اسے پہچان لوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے اور اس کے درمیان مخصوص نشانی یہ ہے تم اسے دیکھو گے ' تو اسے دیکھ کر تم پر کپکپی طاری ہو گی، راوی کہتے ہیں : میں اپنی تلوار کھینچ کر روانہ ہو گیا ' یہاں تک کہ جب میں اس کے پاس پہنچا تو وہ اس وقت پڑاؤ کی جگہ پر اپنی عورتوں کے ساتھ تھا یہ عصر کے وقت کی بات ہے جب میں نے اسے دیکھا تو مجھے وہی چیز محسوس ہوئی جو نبی اکرم ﷺ نے میرے سامنے بیان کی تھی اور کپکپی طاری ہو گئی میں اس طرف بڑھا لیکن پھر مجھے اندیشہ ہو ا کہ کہیں میرے او ر اس کے درمیان ہونے والی لڑائی مجھے نماز سے مشغول نہ کر دے تو میں نے نماز ادا کر لی حالانکہ میں اس وقت اس کی طرف چل رہا تھا میں سر کے ذریعے اشارہ کرتا تھا میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے دریافت کیا : کون ہے؟ میں نے کہا: میں نے کہا میں ایک عرب ہوں 'میں نے کہا : میں نے تمہارے بارے میں سنا ہے ہے کہ تم نے ان صاحب کے لئے لوگوں کو اکٹھا کیا ہے تو میں بھی اسی لیے یہاں آیا ہوں ۔ راوی کہتےہیں ' تو اس نے کہا :میرا تو یہی مقصد تھا پھر میں اس کے ساتھ کچھ دیر چلتا رہا یہاں تک کہ جب مجھےموقع ملا تومیں نے اس تلوا ر کا وار کر کے اس کو قتل کر دیا ' پھر میں وہاں سے نکلا ' تو اس کی عورتیں اس پر جھکی ہوئی تھیں جب میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ااور آپ نے مجھے حظہ کیا تو ارشاد فرمایا : یہ چہرہ کامیاب ہو گیا ۔ میں نے عرض کی : میں نے اسے قتل کر دیاہے یا رسول اللہ ﷺ ۔ نبی اکرمﷺ فرمایا : تم نے سچ کہا ہے راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ میرے ساتھ کھڑے ہوئے آپ مجھے اپنے ساتھ پنے گھر میں لے گئے آپ نے مجھے عصا عطا کیا ۔ آپ نے فرمایا : اے عبداللہ بن انیس اس عصا کو اپنے پاس رکھنا ۔ راوی کہتے ہیں : میں وہ لے لوگوں کے پاس آیا تو لوگوں نے دریافت کیا : یہ عصا کس کا ہے ۔میں نے کہا: یہ نبی اکرم ﷺ کی طرف واپس جا کر آپ سے یہ دریافت نہیں کرتے کہ ایسا کیوں ہے ۔ راوی کہتے ہیں : میں واپس نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو امیں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ آپ نے یہ عصا مجھے کیوں عطا کیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : یہ قیامت کے دن میرے اور تمہارے درمیان مخصوص نشانی ہوگی اس دن بہت کم لوگ ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے۔ (راوی کہتے ہیں ) تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنی تلوار کے ساتھ ملا دیا اور وہ مسلسل ان کے پاس رہا ' یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے حکم کے تحت وہ عصا ان کے ساتھ ان کے کفن میں رکھ دیا گیا اور ان دونوں کو دفن کیا گیا ۔

دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 7160

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7161

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَّامٍ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ، فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلَاثِ خِصَالٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَلْ»، قَالَ: مَا أَوَّلُ أَمْرِ السَّاعَةِ، أَوْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ؟ وَمَا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ، وَمِمَّ يَنْزِعُ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ وَإِلَى أُمِّهِ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِهِنَّ آنِفًا»، قَالَ: جِبْرِيلُ، قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، أَوْ أَمْرِ السَّاعَةِ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْمَشْرِقِ تَحْشُرُ النَّاسَ إِلَى الْمَغْرِبِ، وَأَمَّا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ، وَأَمَّا مَا يَنْزِعُ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ وَإِلَى أُمِّهِ، فَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزَعَ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ نَزَعَ الْوَلَدُ إِلَى أُمِّهِ»، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: يَا [ص:118] رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتَةٌ اسْتَنْزِلْهُمْ، وَسَلْهُمْ أَيُّ رَجُلٍ أَنَا فِيهِمْ قَبْلَ أَنْ يَعْلَمُوا بِإِسْلَامِي، فَجَاءَ مِنْهُمْ رَهْطٌ، فَسَأَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَّامٍ؟ » قَالُوا: خَيْرُنَا، وَابْنُ خَيْرِنَا وَسَيِّدُنَا، وَابْنُ سَيِّدِنَا، وَأَعْلَمُنَا وَابْنُ أَعْلَمِنَا، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ؟ »، قَالُوا: أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَّامٍ، وَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالُوا: شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا، قَالَ: يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا الَّذِي كُنْتُ أَتَخَوَّفُ «

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے موقع پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : میں آپ سے تین چیزوں کے بارے میں دریافت کروں گا ان چیزوں کے بارے میں کسی نبی کو ہی علم ہو سکتا ہے ۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم دریافت کرو۔ انہوں نے عرض کی : قیامت کی پہلی نسانی کیا ہے( یہاں ایک لفظ کے بارےمیں راوی کو شک ہے) اہل جنت سب سے پہلے کیا چیز کھائیں گے اور وہ کون سی چیز ہے' جو بچے کو اس کے باپ یا س کی ماں کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے( جس کی وجہ سے بچہ ماں یا باپ سے مشابہت رکھتا ہے) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان چیزوں کے بارے میں ابھی جبرائیل نے مجھے بتایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : جبرائیل نے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ۔حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: فرشتوں میں سے و ہ تو یہودیوں کے نزدیک نا پسند یدہ شخصیت ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قیامت کی سب سے پہلی نشانی (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) وہ آگ ہو گی ' جو مشرق کی طرف سے نکلے گی اور لوگوں کو اکٹھا کر کے مغرب کی طرف لے جائے گی۔ اہل جنت سب سے پہلے جو چیز کھائیں گے وہ مچھلی کے جگر کا اضافی حصہ ہو گا ' اور جو چیز بچے کو اس کے باپ یا ماں کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے' تو جب مرد کا مادہ عورت کے مادے پر سبقت لے جائے تو بچہ باپ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ' جب عورت کا مادہ مرد کے مادے پر سبقت لے جائے تو بچہ ماں کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ۔حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ یہودی ایک ایسی قوم ہے ' جو بہتان تراشی کرتے ہیں آپ انہیں بلوائیں اور ان سے دریافت کیجئے میں ان کے درمیان کیساشخص ہوں اس سے پہلے کہ انہیں میرے اسلام قبول کرنے کا علم ہو جائے پھر یہودیوں سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔نبی اکرمﷺ نے ان سے دریافت کیا: عبداللہ بن سلام کیساتھ شخص ہےانہوں نے کہا: وہ ہمارے سب سے بہتر شخص اور ہمارے سب سے بہتر شخص کے صاحب زادے ہیں اور وہ ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے صاحب زادے ہیں وہ ہمارے سب سے بڑے عالم اور سب سے بڑے عالم کے صاحب زادے ہیں ۔نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا : اگر وہ اسلام قبول کر لے تو پھر تمہاری کیا رائے ہو گی انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ انہیں اس چیز سے بچائے ۔ راوی کہتےہیں توحضرت عبداللہ بن سلام نکل کر ان کے سامنے آئے اور بولے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے تو ان یہودیوں نے کہا: آپ ہمارے سب سے برے شخص اور سب سے زیادہ برے شخص کے صاحب زادے ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 7161

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7162

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَشِيطٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ النَّخَعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي [ص:119] عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، قَالَ: انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا كَنِيسَةَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ يَوْمَ عِيدِهِمْ، وَكَرِهُوا دُخُولَنَا عَلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ، أَرُونِي إِثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ يُحْبِطُ اللَّهُ عَنْ كُلِّ يَهُودِيٍّ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ الْغَضَبَ الَّذِي غَضِبَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَأَمْسَكُوا وَمَا أَجَابَهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِمْ، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ ثَلَّثَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَقَالَ: » أَبَيْتُمْ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَنَا الْحَاشِرُ، وَأَنَا الْعَاقِبُ، وَأَنَا الْمُقَفِّي آمَنْتُمْ أَوْ كَذَّبْتُمْ «، ثُمَّ انْصَرَفَ، وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى دَنَا أَنْ يَخْرُجَ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلْفِنَا يَقُولُ: كَمَا أَنْتَ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: فَقَالَ ذَلِكَ الرَّجُلُ: أَيُّ رَجُلٍ تَعْلَمُونِي فِيكُمْ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ؟ قَالُوا: مَا نَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ فِينَا رَجُلٌ أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللَّهِ، وَلَا أَفْقَهُ مِنْكَ، وَلَا مِنْ أَبِيكَ مِنْ قَبْلِكَ، وَلَا مِنْ جَدِّكَ قَبْلَ أَبِيكَ، قَالَ: فَإِنِّي أَشْهَدُ لَهُ بِاللَّهِ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ الَّذِي تَجِدُونَهُ فِي التَّوْرَاةِ، قَالُوا: كَذَبْتَ، ثُمَّ رُدُّوا عَلَيْهِ، وَقَالُوا لَهُ شَرًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » كَذَبْتُمْ، لَنْ يُقْبَلَ قَوْلُكُمْ، أَمَّا آنِفًا، فَتُثْنُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا أَثْنَيْتُمْ، وَأَمَّا إِذَا آمَنَ كَذَّبْتُمُوهُ، وَقُلْتُمْ [ص:120] مَا قُلْتُمْ، فَلَنْ يُقْبَلَ قَوْلُكُمْ «، قَالَ: فَخَرَجْنَا، وَنَحْنُ ثَلَاثَةٌ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَّامٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ: {قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ}» الْآيَةَ* [الأحقاف: 10]

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ روانہ ہوئے میں آپ کے ساتھ تھا یہاں تک کہ آپ مدینہ منورہ میں موجود یہودیوں کی عبادت گاہ میں داخل ہوئے یہ ان کے عید کے دن کی بات ہے انہیں ہمارا ان کے ہاں جانا اچھا نہیں لگا ۔نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا : اے یہودیوں کے گروہ مجھے ایسے بارہ آدمی دکھاؤ جو اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں تو اللہ تعالیٰ آسمان کے نیچے موجود یہودی پر کیے گئے غضب کو اٹھا لے گا 'جو غضب اس نے ان پر کیا ہے راوی کہتے ہیں تو وہ لوگ چپ رہے انہوں نے نبی اکرمﷺ کو کوئی جواب نہیں دیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دوباری ان کے سامنے یہ بات دوہرائی تو پھر کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے تیسری مرتبہ یہ بات دوہرائی تو پھر کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ بات نہیں مانتے اللہ کی قسم میں حاشر ہوں اور میں عاقب ہوں اور میں مقفی ہوں خواہ تم لوگ ایمان لاؤ یا جھٹلاؤ ' پھر نبی اکرم ﷺ واپس تشریف لے گئے میں آپ کے ساتھ تھا یہاں تک کہ ابھی آپ ان کی عبادت گاہ سے باہر نکلنے لگے تھے کہ اسی دوران ہما رے پیچھے سے ایک شخص نے کہا: اے حضرت محمد ﷺ رک جائیں ۔ راوی کہتےہیں : پھر اس شخص نے کہا: اے یہودیوں کے گروہ تم لوگ اپنےدرمیان مجھے کیسا جانتے ہو ان لوگوں نےکہا: ہمیں ایسے کسی شخص کا علم نہیں ہے جو ہمارے درمیان موجود ہو اور وہ اللہ کی کتاب کا آپ سے بڑا عالم ہو یا اس کے بارے میں آپ سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہو اور نہ ہی ہمیں کسی ایسے شخص کے بارے میں علم ہے جو اس سے پہلے آپ کے والد سے زیادہ بڑا عالم ہو اور آپ کے والد سے پہلے آپ کے دادا سے زیادہ بڑا عالم ہو ' تو اس شخص نے کہا: میں ا ن صاحب کے بارےمیں اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے وہی نبی ہیں جن کا ذکر تم رات میں پاتے ہو تو ان لوگوں نے کہا : تم جھوٹ کہہ رہے ہو پھر ان لوگوں نے ان صاحب کی بات کو مسترد کر دیا اور ان کے بارےمیں بری باتیں کہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشا د فرمایا : تم لوگ جھوٹ کہہ رہے ہو تمہاری بات کو قبول نہیں کیا جائے گا ابھی تھوڑی دیر پہلے تم نے بھلائی کے حوالے سے اس شخص کی تعریفیں بیان کی ہیں اور اب جب یہ ایمان لے آیا ہے تو تم نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے اور اس طرح کی باتیں کی ہیں تو تمہارے قول کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔ راوی کہتےہیں : جب ہم وہاں سے باہر نکلے تو ہم تین افراد تھے نبی اکرم ﷺ میں اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ''تم یہ فرما دو: تمہارا کیا خیال ہے ' اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کیا ہو''۔

انطلق النبي ← عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ ← أَبُو نَشِيطٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ النَّخَعِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 7162

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7163

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ذَكْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَحَدٍ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ: «إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ»، إِلَّا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ «*

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے اکرم ﷺ کو روئے زمین پر چلنے واے کسی بھی شخص کے بارے میں یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :''یہ جنتی ہے'' صرف عبداللہ بن سلام کے بارےمیں (نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے)

رَسُولِ اللَّهِ ← مَا ← أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← أَبُو النَّضْرِ، ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُسْهِرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ذَكْوَانَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 7163

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7164

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ*، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ، فَأَصَبْنَا مِنْهَا، فَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَطْلُعُ رَجُلٌ مِنْ هَذَا الْفَجِّ يَأْكُلُ هَذِهِ الْقَصْعَةَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ»، فَقَالَ سَعْدٌ: وَكُنْتُ تَرَكْتُ أَخِي عُمَيْرًا يَتَطَهَّرُ، فَقُلْتُ: هُوَ أَخِي فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَأَكَلَهَا

مصعب بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتےہیں : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک پیالہ لایا گیاہم نے اس میں سے کھا لیا پھر کچھ بچ گیا ۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس راستے سے تمہارے سامنے ایک شخص آئے گا ' جو اس پیالے میں سے کھا ئے گا اور وہ جنتی ہو گا ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اپنے بھائی عمیر کو وضو کرتا ہوا چھوڑ کے آیا تھا میں نے سوچا وہ میرا بھائی ہی ہو گا لیکن عبداللہ بن سلام تشریف لے آئے اور انہوں نے وہ کھانا کھایا ۔

أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 7164

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7165

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمِيرَةَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، قَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوْصِنَا، قَالَ: أَجْلِسُونِي، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الْعَمَلَ وَالْإِيمَانَ مَظَانَّهُمَا مَنِ الْتَمَسَهُمَا وَجَدَهُمَا، وَالْعِلْمُ وَالْإِيمَانُ مَكَانَهُمَا مَنِ الْتَمَسَهُمَا وَجَدَهُمَا، فَالْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَةٍ: عِنْدَ عُوَيْمِرٍ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَعِنْدَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ الَّذِي كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّهُ عَاشِرُ عَشْرَةٍ فِي الْجَنَّةِ»

یزید بن عمیر ہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا آخری وقت آیا تو لوگوں کہا : اے ابو عبدالرحمن آپ ہمیں تلقین کیجئے انہوں نے فرمایا : تم لوگ مجھے بٹھا دو پھر انہوں نے ارشاد فرمایا : عمل اور ایمان کا ماخذ ایک ہی ہے ' جو شخص ان دونوں کو تلاش کر ے گا وہ ان دونوں کو پا لے گا ۔ علم اور ایمان کا مخصوص مقام ہے۔ جو شخص ان دونوں کو طلب کرے گا وہ ان دونوں کو پالے گا تم لوگ علم کو چار آدمیوں کے پاس تلاش کرو ابودرداء کے پاس ، سلمان فارسی کے پاس ،عبداللہ بن مسعود کے پاس اور عبداللہ بن سلام کے پاس جو پہلے یہودی تھے پھر مسلمان ہوگئے ۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:

يَزِيدَ بْنِ عَمِيرَةَ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 7165

chevron_left Previous
1…252627…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr