Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7142

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «اسْتَغْفَرَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْبَعِيرِ خَمْسًا [ص:92] وَعِشْرِينَ مَرَّةً»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اونٹ کے واقعے والی رات نبی اکرمﷺ نے 25 مرتبہ میرے لیے دعائے مغفرت کی تھی۔

«اسْتَغْفَرَ لِي النَّبِيُّ لَيْلَةَ الْبَعِيرِ خَمْسًا [ص:92] وَعِشْرِينَ مَرَّةً» ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7142

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7143

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَأَبْطَأَ عَلَيَّ جَمَلِي، فَأَعْيَا عَلَيَّ، فَأَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: » يَا جَابِرُ «، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: » مَا شَأْنُكَ؟ «قُلْتُ: أَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا، فَتَخَلَّفْتُ، فَنَزَلْتُ فَحَجَنَهُ بِمِحْجَنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: » ارْكَبْ «، فَرَكِبْتُهُ، فَلَقَدْ [ص:93] رَأَيْتُنِي أَكُفُّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: » تَزَوَّجْتَ؟ «قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: » بِكْرًا أَوْ ثَيِّبًا؟ «قَالَ: قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: » فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ «قُلْتُ: إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ أَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ مَنْ تَجْمَعُهُنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ، قَالَ: » أَمَا إِنَّكَ قَادِمٌ، فَإِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ «، ثُمَّ قَالَ: » أَتَبِيعُ جَمَلَكَ؟ «قُلْتُ: نَعَمْ، فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِأُوقِيَّةٍ، ثُمَّ قَدِمَ الْمَسْجِدَ، فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: » الْآنَ قَدِمْتَ؟ «قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: » فَدَعْ جَمَلَكَ، وَادْخُلِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ «، فَدَخَلْتُ، فَصَلَّيْتُ، فَأَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَزِنَ لِي أُوقِيَّةً فَوَزَنَ لِي، قَالَ: » فَأَرْجَحَ فِي الْمِيزَانِ «، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ حَتَّى إِذَا وَلَّيْتُ، قَالَ: » ادْعُ لِي جَابِرًا «، قُلْتُ: الْآنَ يَرُدُّ عَلَيَّ الْجَمَلَ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْهُ، قَالَ: » خُذْ جَمَلَكَ وَلَكَ ثَمَنُهُ «

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتےہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک ہوا میرا اونٹ آہستہ چل رہاتھا اور وہ تھک چکا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائےآپ نے فرمایا: اے جابر ۔ میں نے عرض کی : جی ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا کیا معاملہ ہے ۔ میں نے عرض کی : میر اونٹ آہستہ چل رہاہے اور یہ تھک چکا ہے ا س لیے میں پیچھے چل رہاہوں پھر میں اونٹ سے نیچے اتر گیا ۔نبی اکرمﷺ نے اپنی چھڑی کے ذریعے اسے مارا آ پ نے فرمایا : اب تم سوار پو جاؤ ۔ میں سوار ہوا ' تو میں نے دیکھا میں اس اونٹ کو نبی اکرمﷺسے آگے نکلنے سے روک رہا تھا ۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم نے شادی کر لی ہے۔ میں نے عرض کی: جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا کنواری کے ساتھ یا ثیبہ کے ساتھ۔ میں نے عرض کی ثیبہ کے ساتھ آپ نے فرمایا : کنواری کے ساتھ کیوں نہیں کی تم اس کے ساتھ خوش فعلیاں کرتے وہ تمہارے ساتھ خوش فعلیاں کرتی۔ میں نے عرض کی میری کچھ بہنیں ہیں اس لیے میں نے یہ چاہا کہ میں کسی ایسی خاتون کے ساتھ شاد ی کروں جو ان کا خیال رکھے ان کی کنگھی کرے اور ان کی دیکھ بھال کرے نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم ( اپنے گھر ) واپس جانے لگے ہو اگر تم جاؤ تو سمجھ داری کا مظاہرہ کرنا پھر دریافت کیا: کیا تم اپنا اونٹ فروخت کرو گے۔میں نے عرض کی : جی ہاں ' تو نبی اکرم ﷺ نے ایک قیہ کے عوض میں اسے مجھ سے خرید لیا پھر آپ مسجد تشریف لائے میں نے آپ کو مسجد کے دروازے پر پایا آپ نے دریافت کیا : تم اب آئے ہو میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اپنا اونٹ چھوڑ دو اور تم مسجد میں جاؤ اور دو رکعت ادا کرو۔ میں مسجد کے اندر آیا میں نے نماز اد اکی پھر آپ نےحضرت بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ ایک اوقیہ وزن کر کے مجھے دے دے انہوں نے مجھے وزن کر دیا ' تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ترازو میں پلڑے کو بھاری رکھنا ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں وہاں سے روانہ ہوا میں وہاں سے مڑ گیا تو آپ نے فرمایا : جابر کو میرے پاس بلا کر لاؤ ۔ میں نے سوچا اب نبی اکرم ﷺ مجھے اونٹ بھی واپس کر دیں گے اور میرے نزدیک یہ بات انتہائی نا پسند تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنا اونٹ حاصل کر اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہوئی ۔

جَابِرٍ ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7143

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7144

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: «إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ»، فَقَالَ أُبَيٌّ: آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ؟ قَالَ: «اللَّهُ سَمَّاكَ لِي»، قَالَ: فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْكِي

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابی بن کعب سے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن کی تلاوت کروں ۔ حضرت ابی بن کعب نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سامنے میرا نام لیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے تمہارا نام لیا ہے۔ راوی کہتے ہیں' تو حضرت ابی رضی اللہ عنہ رونے لگے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7144

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7145

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ بِنَسَبِي؟ » قَالَ حَسَّانُ: لَأَسُلَنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَةُ مِنَ الْعَجِينِ «

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی اکر م ﷺ سے اجازت مانگی وہ مشرکین کی ہجو بیان کریں ' نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو میرے نسب کا کیا بنے گا ۔حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں آپ کا ان میں سے یوں نکال لوں گا ' جس طرح گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکالا جاتا ہے۔

حسان: لأَسلَّنك منهم كما تُسَلُّ الشعرة من العجين. ← رَسُولُ اللَّهِ «كَيْفَ بِنَسَبِي؟ ← اسْتَأَذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَسُولَ اللهِ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ، ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَزْدِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7145

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7146

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ: «إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ مَعَكَ مَا هَاجَيْتَهُمْ»

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا : بے شک روح القدس تمہارے ساتھ ہے جب تک تم ان کی ہجو بیان کرتے ہو

الْبَرَاءِ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَجَلِيُّ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← اَبُوْ یَحْیَی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7146

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7147

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ: «إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ لَا يَزَالُ يُؤَيِّدُكَ مَا نَافَحْتَ عَنِ اللَّهِ، وَعَنْ رَسُولِهِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرمﷺ کو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا روح القدس مسلسل تمہاری تائید کرتا رہے گا 'جب تک تم اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جواب دیتے رہو گے۔

اللَّهِ، وَعَنْ رَسُولِهِ» ← لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ: «إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ لَا يَزَالُ يُؤَيِّدُكَ مَا نَافَحْتَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ، ← مَرْوَانَ بْنِ عُثْمَانَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7147

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7148

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ مَرَّ بِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَالْتَفَتَ حَسَّانُ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ لَهُ: أُنْشِدُكَ اللَّهَ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَجِبْ عَنِّي اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ»، قَالَ: نَعَمْ.

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ،حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جو مسجد میں شعر سنا رہے تھے انہوں نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا تو حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور ان سے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے تم میری طر ف سے جواب دو: اے اللہ ! روح القدس کے ذریعے اس کی تائید کر دے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7148

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7149

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ [ص:99] خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الَّذِي جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ، أَنَّ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ أُرِيَ فِي النَّوْمِ أَنَّهُ سَجَدَ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى خُزَيْمَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَهُ، قَالَ: فَاضْطَجَعَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «صَدِّقْ رُؤْيَاكَ»، فَسَجَدَ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «

حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ جب کی گواہی کو نبی اکرم ﷺ نے دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا وہ بیان کرتے ہیں : انہیں خواب میں یہ بات دکھائی گئی کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی پیشانی مبارک پر سجدہ کیا ہے۔ حضرت خذیمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو یہ بات بیان کی۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ان کے لیے لیٹ گئے پھر آپ نے فرمایا: تم اپنے خواب کو سچا کر دو ' تو حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کی پیشانی پر سجدہ کیا ۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7149

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7150

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِي، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، يَعْنِي عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ مُضَارِبِ بْنِ حَزْنٍ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ مِنَ اللَّيْلِ إِذَا رَجُلٌ يُكَبِّرُ، فَأَلْحَقْتُهُ بَعِيرِي، قُلْتُ: مَنْ هَذَا الْمُكَبِّرُ؟ قَالَ: «أَبُو هُرَيْرَةَ»، قُلْتُ: مَا هَذَا التَّكْبِيرُ؟ قَالَ: «شُكْرًا»، قُلْتُ: عَلَى مَهْ؟ قَالَ: «عَلَى أَنِّي [ص:101] كُنْتُ أَجِيرًا لِبُسْرَةَ بِنْتِ غَزْوَانَ بعُقْبَةِ رِجْلِي، وَطَعَامِ بَطْنِي، فَكَانَ الْقَوْمُ إِذَا رَكِبُوا، سُقْتُ لَهُمْ، وَإِذَا نَزَلُوا خَدَمْتُهُمْ، فَزَوَّجَنِيهَا اللَّهُ فَهِيَ امْرَأَتِي الْيَوْمَ، فَأَنَا إِذَا رَكِبَ الْقَوْمُ رَكِبْتُ، وَإِذَا نَزَلُوا خُدِمْتُ» *

مضارب بن حزن بیان کرتےہیں : ایک مرتبہ میں رات کے وقت سفر کر رہا تھا اسی وران کسی شخص نے تکبیر کہنا شرو ع کی میں اپنے اونٹ پر اس تک پہنچا میں نے کہا : یہ تکبیر کہنے والا شخص کون ہے۔ اس نے جواب دیا : ابو ہریرہ ۔میں نے کہا: یہ تکبیر کیوں کہہ رہے ہیں ۔انہوں نے جواب دیا : شکر کے طور پر ۔ میں نے کہا : کس بات کا ؟ انہوں نے کہا : اس بات پر کہ میں بسرہ بنت غزوان نامی خاتون کا ملاز تھا اس شرط پر کہ وہ میرے پہننے اوڑھنے کا سامان فراہم کرے گی اور مجھے کھانا دے دیا کرے گی جب لوگ سوار ہو کر سفر کرتے تھے ' تو میں ان کے جانور لے کر پیدل چلتا تھ اور جب وہ پڑاؤ کیا کرتے تھے تو میں ان کی خدمت میں کیا کرتا تھا پھر اللہ تعالی نے اس عورت کے ساتھ میری شادی کر دی آج وہ میری بیوی ہے آج جب لوگ سوار ہوتے ہیں تو میں بھی اس وقت سوار ہوتا ہوں اور جب لوگ پڑاؤ کرتے ہیں تو میری خدمت کی جاتی ہے۔

مُضَارِبِ بْنِ حَزْنٍ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، يَعْنِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7150

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7151

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَصَابَنِي جَهْدٌ شَدِيدٌ، فَلَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَاسْتَقْرَأْتُهُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، فَدَخَلَ دَارَهُ وَفَتَحَهَا عَلَيَّ، قَالَ: فَمَشَيْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ، فَخَرَرْتُ لِوَجْهِي مِنَ الْجَهْدِ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي، فَقَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ»، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقَامَنِي وَعَرَفَ الَّذِي بِي، فَانْطَلَقَ إِلَى رَحْلِهِ، فَأَمَرَ لِي بِعُسٍّ مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ، ثُمَّ قَالَ: «عُدْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ»، فَعُدْتُ، فَشَرِبْتُ حَتَّى اسْتَوَى بَطْنِي وَصَارَ كَالْقِدْحِ، قَالَ: وَرَأَيْتُ عُمَرَ فَذَكَرْتُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِي، وَقُلْتُ لَهُ: مَنْ كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْكَ يَا عُمَرُ؟ وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَقْرَأْتُكَ الْآيَةَ وَلَأَنَا أَقْرَأُ لَهَا مِنْكَ، قَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ لَأَنْ أَكُونَ أَدْخَلْتُكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي حُمْرُ النَّعَمِ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مجھے شدید بھوک لگ گئی میری ملاقات حضرت عمر بن خطاب سے ہوئی میں نے ان سے اللہ تعالی کی کتاب کی ایک آیت کے بارے میں دریافت کیا : وہ اپنے گھر کے اندر تشریف لے گئے انہوں نے میرے لیے دروازہ کھولا میں ابھی تھوڑا ہی چلا تھا کہ میں بھوک کی شدت کی وجہ سے منہ کے بل گر پڑا ( میں نے سر اٹھا کر دیکھا ) تو نبی اکرم ﷺ میرے سر کے پاس کھڑے ہوئے تھے ۔آپ نے فرمایا : اے ابو ہریرہ ۔میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہوں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کھڑا کیا آپ کو میری صورت حال کا اندازہ ہو گیا آپ اپنی رہائش گاہ کیطرف تشریف لے گئے آپ نے میرےلیے دودھ کا پیالہ لانے کا حکم دیا میں نے اسے پی لیا پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابو ہریرہ اور پیو ۔ میں نے اور پیا پھر میں نے پیا' یہاں تک کی میرا پیٹ بھر گیا اور وہ ہنڈیا کی مانند ہو گیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتےہیں : بعد میں میری ملاقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے اپنی صورت حال کے بارے میں ان کے سامنے ذکر کیا میں نے ان سے کہا: اے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس بارے میں آپ سے زیادہ حق دار اور کو ن تھا اللہ کی قسم میں نے آپ سے آیت کا مفہوم دریافت کیا تھا : حالانکہ میں ا س آیت کا مفہوم آپ سے زیادہ بہتر طور پر جانتا تھا '' تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم اس وقت اگر میں تمہیں اپنے گھر لے جاتا تو یہ بات میرے لیے اس سے زیادہ محبوب تھی کہ مجھے سرخ اونٹ ملتے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← أَبِيهِ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7151

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7152

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: «مَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ حَدِيثًا مِنِّي إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ، وَكُنْتُ لَا أَكْتُبُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کوئی شخص مجھ سے زیادہ حدیثیں نہیں جانتا صرف حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے کیو نکہ وہ (احادیث کو ) نوٹ کیا کرتے تھے اور میں نوٹ نہیں کرتا تھا

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَخِيهِ ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7152

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7153

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَلَا يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ؟ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى بَابِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنِي ذَلِكَ وَكُنْتُ أُسَبِّحُ، فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي، وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ، إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: يَقُولُونَ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ، أَوْ قَالَ: أَكْثَرَ وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ، وَيَقُولُونَ: مَا بَالُ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ لَا يَتَحَدَّثُونَ بِمِثْلِ أَحَادِيثِهِ، وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ إِنَّ إِخْوَانِي مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ يَشْغَلُهُمْ عَمَلٌ أَرَضِيهِمْ، وَأَمَّا إِخْوَانِي مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، [ص:105] فَكَانَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ، وَكُنْتُ أَخْدِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي، فَأَشْهَدُ مَا غَابُوا، وَأَحْفَظُ إِذَا نَسُوا، وَلَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا: «أَيُّكُمْ يَبْسُطُ ثَوْبَهُ، فَيَأْخُذُ حَدِيثِي هَذَا ثُمَّ يَجْمَعُهُ إِلَى صَدْرِهِ، فَإِنَّهُ لَنْ يَنْسَى شَيْئًا يَسْمَعُهُ»، فَبَسَطْتُ بُرْدَةً عَلَيَّ حَتَّى جَمَعْتُهَا إِلَى صَدْرِي، فَمَا نَسِيتُ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ شَيْئًا حَدَّثَنِي بِهِ، وَلَوْلَا آيَتَانِ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حُدِّثْتُ شَيْئًا أَبَدًا: {إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى} [البقرة: 159] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ « قَالَ أَبُو حَاتِمٍ:: قَوْلُ عَائِشَةَ وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ أَرَادَتْ بِهِ [ص:107] سَرْدَ الْحَدِيثِ لَا الْحَدِيثَ نَفْسَهُ، وَالدَّلِيلُ عَلَى هَذَا تَعْقِيبُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کیا تم لوگوں کو ابو ہریرہ پر حیرت نہیں ہوتی، وہ آتے ہیں میرے حجرے کے دروازے کے پاس آکر بیٹھ جاتے ہیں نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے احادیث بیان کرنا شروع کرتےہوئے ان کی آواز مجھ تک آرہی ہوتی ہے میں اس وقت تسبیح پڑھ رہی ہوتی ہوں اور میں نے بھی اپنی تسبیح مکمل نہیں کی ہوتی کہ اس سے پہلے ہی و ہ اٹھ جاتے ہیں اگر میرا ان سے سامنا ہوتا تو میں انہیں اس بات پر ٹوکتی نبی اکرمﷺ تم لوگوں کی طرح اتنی تیزی سے بات چیت نہیں کرتے تھے۔

أَلَا يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ؟ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى بَابِ حُجْرَتِي ← عُرْوَةُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَائِشَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7153

chevron_left Previous
1…242526…30
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr