Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7130

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: «جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ كُلُّهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ: مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو زَيْدٍ رَحِمَهُمُ اللَّهُ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کےزمانہ اقدس میں چار لوگوں نےقرآن کو جمع کیا (یعنی تحریری صورت میں مخفوظ کیا ) وہ سب انصار سے تعلق رکھتے تھے ( وہ یہ حضرات ہیں ) حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ او رحضرت ابوزید رضی اللہ عنہ اللہ تعالی ان لوگوں پررحم کرے

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7130

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7131

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِي، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي اللَّهِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذِهِ أَلْفَاظٌ أُطْلِقَتْ بِحَذْفِ الْـ - مِنْ - مِنْهَا يُرِيدُ بِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » أَرْحَمُ أَمَّتِي «أَيْ مِنْ أَرْحَمِ أُمَّتِي وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ «يُرِيدُ مِنْ أَشَدِّهِمْ وَمِنْ أَصْدَقِهِمْ حَيَاءً، وَمِنْ أَقْرئِهِمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، وَمِنْ أَفْرَضِهِمْ، وَمِنْ أَعْلَمِهِمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ يُرِيدُ أَنَّ هَؤُلَاءِ مِنْ جَمَاعَةٍ فِيهِمْ تِلْكَ الْفَضِيلَةُ وَهَذَا كَقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ: » أَنْتُمْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ يُرِيدُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ مِنْ جَمَاعَةٍ أُحِبُّهُمْ وَهُمْ فِيهِمْ «

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں 'نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ''میری امت کے بارے میں 'میری امت میں سب سے زیاد ہ رحم دل ابو بکر ہے اور اللہ تعالی کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت عمر ہے اور حیا کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچا عثمان ہے اور اللہ کی کتاب کا سب سے بڑا عالم ابی بن کعب ہے علم وراثت کا سب سے بڑا عالم زید بن ثابت ہے ۔حلال اور حرام کا سب سے بڑا عالم معاذ بن جبل ہے خبر دار ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جرا ح ہے''۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں ) اس حدیث میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ان میں حروف''من " کو حذف کیا گیا ہے یرنی نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا ارحم امتی ا س سے مراد من ارحم امتی اسی طرح نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان : وَاَشَدُّ ھُمْ فِی اَمْرِ اللِہِ یُرِ یْدُ مَنْ اَشَدِّ ھَمْ وَ مِن اَ صْدَقِھِمْ حَیَاءً وَ مِنْ اَقْریْھِمْ لِکِتَابِ اللہِ ، وَمِنْ اَفْرَضِھِمْ ، وَ مِنْ اَعْلَمِھِمْ بِالْحَلالِ وَالْحَرَامِ۔ نبی اکرم ﷺ کی مرا د یہ ہے کہ یہ جماعت ایسی ہے جس میں یہ فضیلت پائی جاتی ہے' اس کی مثال نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کے مطابق ہو گی جو آپ نے انصار سے فرمایا تھا : تم لو گ میرے نزدیک تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ تھی کہ لوگوں میں سے میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے ایک ہوا ور اس جماعت سے تعلق رکھتے ہو ' جن سے میں محبت کرتا ہوں او وہ لوگ اس میں شامل تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7131

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7132

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالْأُبُلَّةِ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ، وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ عَلَى ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ مِنْكَ يَا أَبَا ذَرٍّ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ هَذَا خِطَابًا خَرَجَ عَلَى حَسَبِ الْحَالِ فِي شَيْءٍ بِعَيْنِهِ إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْخَطَّابُ عَلَى عُمُومِهِ، وَتَحْتَ الْخَضْرَاءِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالصِّدِّيقُ، وَالْفَارُوقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا»

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکر م ﷺ نے مجھ سے فرمایا : آسمان نے ایسے کسی شخص پر سایہ نہیں کیا اور زمین نے ایسے کسی شخس کا وزن نہیں اٹھایا جو اے ابوذر! تم سے زیادہ سچا ہو ۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں ) اس میں اس بات کا احتمال موجود ہے کہ یہ فرمان کسی مخصوص متعین صورت حال کے مطابق ارشاد فرمایا گیا ہو کیونکہ یہ بات نا ممکن ہے کہ یہ الفاظ عمومی طور پر استعمال کئے گئے ہوں کیو نکہ آسمان کے نیچے تو نبی اکرم ﷺ بھی موجود تھے ، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی تھے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ ← أَبِي زُمَيْلٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7132

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7133

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، وَعِدَّةٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: [ص:78] قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَرَجْنَا فِي قَوْمِنَا غِفَارٍ، وَكَانُوا يَحِلُّونَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ، فَخَرَجْتُ أَنَا وَأَخِي أُنَيْسٌ وَأُمُّنَّا، فَنَزَلْنَا عَلَى خَالٍ لَنَا، فَأَكْرَمَنَا خَالُنَا، وَأَحْسَنَ إِلَيْنَا، فَحَسَدَنَا قَوْمُهُ، فَقَالُوا: إِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ عَنْ أَهْلِكَ خَالَفَكَ إِلَيْهِمْ أُنَيْسٌ، فَجَاءَ خَالُنَا فَذَكَرَ الَّذِي قِيلَ لَهُ، فَقُلْتُ: أَمَّا مَا مَضَى مِنْ مَعْرُوفِكَ، فَقَدْ كَدَّرْتَهُ وَلَا حَاجَةَ لَنَا فِيمَا بَعْدُ، قَالَ: فَقَدَّمْنَا صِرْمَتَنَا فَاحْتَمَلْنَا عَلَيْهَا، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ مَكَّةَ، قَالَ: وَقَدْ صَلَّيْتُ يَا ابْنَ أَخِي قَبْلَ أَنْ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ لِمَنْ؟ قَالَ: لِلَّهِ، قُلْتُ: فَأَيْنَ تَوَجَّهُ؟ قَالَ: أَتَوَجَّهُ حَيْثُ يُوَجِّهُنِي رَبِّي أُصَلِّي عَشِيًّا حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أُلْقِيتُ حَتَّى تَعْلُوَنِي الشَّمْسُ، قَالَ أُنَيْسٌ: إِنَّ لِيَ حَاجَةً بِمَكَّةَ، فَانْطَلَقَ أُنَيْسٌ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ، فَقُلْتُ: مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا بِمَكَّةَ عَلَى دِينِكَ يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا يَقُولُ النَّاسُ؟ قَالَ: يَقُولُونَ شَاعِرٌ كَاهِنٌ سَاحِرٌ، قَالَ: فَكَانَ أُنَيْسٌ أَحَدَ الشُّعَرَاءِ، قَالَ أُنَيْسُ: لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ، وَمَا هُوَ بِقَوْلِهِمْ، وَلَقَدْ [ص:79] وَضَعْتُ قَوْلَهُ عَلَى أَقْرَاءِ الشَّعْرِ، فَمَا يَلْتَئِمُ عَلَى لِسَانِ أَحَدٍ بَعْدِي أَنَّهُ شِعْرٌ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ، وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ، قَالَ: قُلْتُ: فَاكْفِنِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأَنْظُرَ، فَأَتَيْتُ مَكَّةَ، فَتَضَيَّفْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ، فَقُلْتُ: أَيْنَ هَذَا الَّذِي تَدْعُونَهُ الصَّابِئَ؟ قَالَ: فَأَشَارَ إِلَيَّ، وَقَالَ: الصَّابِئَ، قَالَ: فَمَالَ عَلَيَّ أَهْلُ الْوَادِي بِكُلِّ مَدَرَةٍ، وَعَظْمٍ حَتَّى خَرَرْتُ مَغْشِيًّا عَلَيَّ، فَارْتَفَعْتُ حِينَ ارْتَفَعْتُ كَأَنِّي نَصْبٌ أَحْمَرٌ، فَأَتَيْتُ زَمْزَمَ، فَغَسَلْتُ عَنِّي الدِّمَاءَ وَشَرِبْتُ مِنْ مَائِهَا، وَقَدْ لَبِثْتُ مَا بَيْنَ ثَلَاثِينَ مِنْ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ مَالِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ، فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي، وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ، [ص:80] قَالَ: فَبَيْنَا أَهْلُ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ قَمْرَاءَ إِضْحِيَانَ إِذْ ضُرِبَ عَلَى أَسْمِخَتِهِمْ، فَمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَحَدٌ وَامْرَأَتَانِ مِنْهُمْ تَدْعُوَانِ إِسَافًا، وَنَائِلَةَ، قَالَ: فَأَتَتَا عَلَيَّ فِي طَوَافِهِمَا، فَقُلْتُ: أَنْكِحَا أَحَدَهُمَا الْآخَرَ، قَالَ: فَمَا تَنَاهَتَا عَنْ قَوْلِهِمَا فَأَتَتَا عَلَيَّ، فَقُلْتُ: هُنَّ مِثْلُ الْخَشَبَةِ، فَرَجَعَتَا تَقُولَانِ لَوْ كَانَ هَاهُنَا أَحَدٌ، فَاسْتَقْبَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا هَابِطَانِ، فَقَالَ: «مَا لَكُمَا؟ » قَالَتَا: الصَّابِئُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا، قَالَا: «مَا قَالَ لَكُمَا؟ » قَالَتَا: إِنَّهُ قَالَ لَنَا كَلِمَةً تَمْلَأُ الْفَمَ، [ص:81] قَالَ: وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ هُوَ وَصَاحِبُهُ، ثُمَّ صَلَّى، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ، قَالَ: «وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ»، ثُمَّ قَالَ: «مِمَّنْ أَنْتَ؟ »، فَقُلْتُ: مِنْ غِفَارٍ، قَالَ: فَأَهْوَى بِيَدِهِ، وَوَضَعَ أَصَابِعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: كَرِهَ أَنِّي انْتَمَيْتُ إِلَى غِفَارٍ، قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، وَقَالَ: «مُذْ مَتَى كُنْتَ هَاهُنَا؟ »، قَالَ: كُنْتُ هَاهُنَا مِنْ ثَلَاثِينَ بَيْنَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، قَالَ: «فَمَنْ كَانَ يُطْعِمُكَ؟ » قُلْتُ: مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ، فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ»، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي طَعَامِهِ اللَّيْلَةَ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا، فَفَتَحَ أَبُو بَكْرٍ بَابًا، فَجَعَلَ يَقْبِضُ لَنَا مِنْ زَبِيبِ الطَّائِفِ، فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلُ طَعَامٍ أَكَلْتُهُ بِهَا، ثُمَّ غَبَرْتُ مَا غَبَرْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّهُ قَدْ وُجِّهَتْ لِي أَرْضٌ ذَاتُ نَخْلٍ مَا أُرَاهَا إِلَّا يَثْرِبَ، فَهَلْ أَنْتَ مُبَلَّغٍ عَنِّي قَوْمَكَ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمُ بِكَ وَيَأْجُرَكَ فِيهِمْ»، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَلَقِيتُ أُنَيْسًا، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟ قُلْتُ: صَنَعْتُ أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ، قَالَ: مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكِ، فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ، قَالَ: فَأَتَيْنَا أُمَّنَا، فَقَالَتْ: مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ [ص:82] دِينِكُمَا، فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ، فَاحْتَمَلْنَا حَتَّى أَتَيْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمْ وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ إِيمَاءُ بْنُ رَحَضَةَ وَكَانَ سَيِّدَهُمْ، وَقَالَ نِصْفُهُمْ: إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَسْلَمْنَا، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَسْلَمَ نِصْفُهُمُ الْبَاقِي وَجَاءَتْ أَسْلَمُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِخْوَانُنَا نُسَلِّمُ عَلَى الَّذِي أَسْلَمُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ»

عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں : حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم لوگ اپنی قوم بنو غفار کے ساتھ تھے وہ لوگ حرمت والے مہینوں کو حلال قرار دیتے تھے ایک مرتبہ میں میرا بھائی انیس اور ہماری والدہ روانہ ہوئے ہم نے اپنے ماموں کے ہاں پڑاؤکیا ہمارے ماموں نے ہماری عزت افزائی کی انہوں نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا ' تو ان کی قوم کے افراد کو ہم سے حسد ہوا نہوں نے کہا: جب تم اپنی بیوی کو چھوڑ کر جاتے ہو تو تمہارے پیچھے انیس ان کے پاس چلا جاتا ہے۔ ہمارے ماموں آئے انہوں نے وہ بات ذکر کی جو ان سے کہی گئی تھی تو میں نے کہا: آپ نے پہلے جو اچھائی کی تھی وہ آ پ نے خود ہی گدلی کتر دی ہے اب اس کے بعد ہمیں اس کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ اپنے سواری کے پالان کے پاس آئے ان پر سامان لادا اور روانہ ہو گئے ' یہاں تک کہ ہم مکہ آگئے ۔ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بتایا : اے میرے بھتیجے میں نے نبی اکرم ﷺ سے ملاقات سے پہلے بھی نماز ادا کی ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا: کس کے لیے انہوں نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ کے لئے ۔ میں نے دریافت کیا: آپ کس طرف رخ کرتے تھے ۔ انہوں نے فرمایا : میں اسی طرف رخ کرلیتا تھا ' جس طرف میرا پروردگار میرارخ پھیر دیتا تھا میں شام کے وقت نماز ادا کرتا تھا پھر جب رات کا آخری حصہ ہوتا تھا تو میں پھر نماز پڑھنے لگتا تھا یہاں تک کہ سورج مجھ پر غالب آجاتا تھا۔ انیس نے کہا : مجھے مکہ میں ایک کام ہے انیس چلا گیا وہ مکہ آیا پھروہ واپس آیا ' تو میں نے کہا " تم نے کیا کیا ۔ اس نے کہا : مکہ میں میری ملاقات ایک شخص سے ہوئی جو تمہارے دین کی طرح کے نظریات رکھتا ہے وہ اس بات کا دعوے دار ہے کہ اللہ تعالی نے اسے مبعوث کیا ہے میں نے دریافت کیا : تو لوگ کیا کہتے ہیں ۔ اس نے جواب دیا : لوگ یہ کہتے ہیں ' کہ یہ شاعر کاہن ہے اور جادو گر ہے۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انیس بھی شاعر تھا ۔ انیس نے کہا: میں نے کاہنوں کا قول سنا ہے لیکن اس شخص کا کلام کاہنوں کے قول کی طرح نہیں ہے میں نے اس کے کلام کو پڑھے لکھے شاعروں کے کلام پر پیش کیا لیکن کوئی بھی شخص یہ نہیں ' کہہ سکتا کہ وہ شعر ہے اللہ کی قسم وہ شخص ( اپنے دعوے میں ) سچا ہے اور لوگ ( اس کے بارے میں ) جھوٹ بولتے ہیں ۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا : میری جگہ تم کفالت کرو میں خود جا کر اس کا جائز لیتا ہوں پھر میں مکہ آیا میں وہاں ایک شخص کے ہاں مہمان ٹھہرا ۔ میں نے دریافت کیا : وہ شخص کہاں ہوتا ہے جس کے بارے میں تم لوگ کہہ رہے ہو کہ وہ بے دین ہے۔ حضرت ابوذر غفاری کہتے ہیں : اس شخص نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ بھی بے دین ہے ۔حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتےہیں تو وہاں کے سارے لوگ اینٹیں اور ہڈیاں لے کر مجھ پر حملہ آور ہوئے ' یہاں تک کہ میں گر گیا اور مجھ پر بے ہوشی طار ی ہو گئی پھر میں اٹھا جب میں اٹھا تو یوں لگتا تھا جیسے میں سرخ رنگ کا بت ہوں پھر میں زم زم کے پاس آیا میں نے اپنے خون کو دھویا اور زم زم کا پانی پیا پھر میں نے تیس دن ایسی حالت میں گزار دئیے میری خوراک صرف آب زم زم تھا ۔ میں اتناموٹا ہو گیا کہ میرے پیٹ پر سلوٹیں بننے لگیں اور مجھے اپنے جگر پر بھوک کی پریشانی محسوس نہیں ہوتی تھی ۔حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک چاندنی رات میں جب کہ اہل مکہ سو چکے تھے اور کوئی شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کر رہا تھا مکہ کی دو عورتیں ( طواف کرتے ہوئے ) اساف اور نائلہ(نامی بتوں ) کو پکار رہی تھیں ۔ وہ اپنے طواف کےدرمیان جب میرے پاس آئیں تو میں نے کہا : ان دونوں (بتوں ) کی شادی کروا دو لیکن وہ پھر بھی اپنی پکار سے باز نہیں آئیں پھر جب وہ (طواف کرتے ہوئے ) میرے پاس پہنچیں تو میں نے کہا یہ تو لکڑیوں کی مانند ہیں تو وہ دونوں یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئیں کہ کاش یہاں کوئی ہاتا (تو پھر ہم تمہاری خبرلیتے ) ان دونوں کا سامنا نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ہوا یہ دونوں حضرات بالائی علاقے سے نیچے کی طرف آرہے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تم دونوں کا کیا معاملہ ہے ان دونوں نے کہا: ایک بے دین شخص خانہ کعبہ او اس کے پردوں کے درمیان موجود ہے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : اس نے تم دونوں کو کیا کہا ہے۔ ان دونوں عورتوں نے جواب دیا اس نے ہم سے ایسا کلمہ کہا ہے جو منہ کو بھر دیتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ نے حجرا اسود کا استلام کیا پھر آپ نے اور آپ کے ساتھی نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر نماز ادا کی۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں وہ پہلا شخص تھا جس نے اسلامی طریقے کے مطابق نبی اکرمﷺ کو سلام کیا تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم پر بھی ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بھی نازل ہوں پھر آپ نےدریافت کیا : تمہارا تعلق کون سے قبیلے سے ہے۔ میں نے کہا: غفار قبیلے سے پھر نبی ا کرم ﷺ نے اپنا دست مبارک بڑھایا اور اپنی انگلیاں اپنی پیشانی پر رکھ لیں میں نے دل میں سوچا شاید انہیں یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میری نسبت غفار قبیلے سے ہے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور دریافت کیا : تم کب سے یہاں ہو ' حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں تیس دن اور راتوں سے یہاں ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہیں کھانا کون دیتا ہے ۔ میں نے کہا: میری خوراک صرف آب زم زم ہے اسی کی وجہ سے میں موٹا ہو گیا ہوں یہاں تک کہ میرے پیٹ پر سلوٹیں پڑنے لگی ہیں ۔ راوی کہتے ہیں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ برکت والا ہے اور کھانے کا کھانا ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ آپ مجھے اجازت دیجئےکہ آج رات کا کھاناانہیں میں کھلاتا ہوں پھر نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے ان دونوں حضرات کے ساتھ میں بھی چل پڑا ۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دروازہ کھولا انہوں نے طائف کی کشمش مٹھی بھر کر ہمیں دی یہ وہ پہلا کھانا تھا جو میں نے وہاں (یعنی مکہ میں ) کھایا پھر کچھ عرصہ گزر گیا میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا' تو آپ نے ارشاد فرمایا: مجھے کھجوروں والی سر زمین کی طرف (ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے) میرا خیال ہے وہ یثرب ہی ہو گا تو کیا تم میری طرف سے اپنی قوم کو تبلیغ کرو گے ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے ان لوگوں کو ہدایت نصیب کر دے اور ان کے حوالے سے تمہیں اجر عطا کرے۔حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں : میں وہاں سے روانہ ہوا میری ملاقات انیس سے ہوی اس نے دریافت کیا : تم نے کیا کیا ۔ میں نے کہا : میں نے یہ کیا کہ اسلام قبول کر لیا اور تصدیق کر دی تو اس نے کہا : مجھے بھی تمہارے دین سے بے رغبتی نہیں ہے میں بھی اسلام قبول کرتا ہوں اور میں بھی تصدیق کرتا ہوں ۔راوی کہتے ہیں : پھر ہم اپنی والدہ کے پاس آئے (انہیں اسلا م کی پیشکش کی) تو انہوں نے کہا: مجھے بھے تمہارے دین سے بے رغبتی نہیں ہے میں بھی اسلام قبول کرتی ہوں اور تصدیق کرتی ہوں پھر ہم وہاں سے سوار ہو کر اپنی قوم بنو غفار میں آئے تو ان کے نصف حصے نے اسلام قبول کر لیا ۔ حضرت ایماءبن رحضہرضی اللہ عنہ ان کی امانت کیا کرتے تھے وہ اس قبیلے کے سردار تھے جبکہ نصف لوگوں نے یہ کہا : نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے آئیں گے' تو ہم اسلام قبول کر لیں گے ' تو جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو باقی وہ جانے والے نصف حصے نے بھی اسلام قبول کر لیا پھر اسلم قبیلے کے لوگ (نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں مدینہ منورہ) حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ (بنو غفار قبیلے لے لوگ ) ہمارے بھائی ہیں' جس طرح انہوں نے اسلام قبول کیا ہے اسی طرح ہم بھی اسلام قبول کرتے ہیں ' تو نبی اکرم ﷺ نے (اس موقع پر) یہ فرمایا : غفار قبیلے کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے اور اسلم قبیلے کو اللہ تعالی سلامت رکھے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، وَعِدَّةٌ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7133

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7134

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ*، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: كُنْتُ رُبُعَ الْإِسْلَامِ أَسْلَمَ قَبْلِي ثَلَاثَةٌ وَأَنَا الرَّابِعُ أَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَرَأَيْتُ الِاسْتِبْشَارَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَنْ أَنْتَ؟ » فَقُلْتُ: إِنِّي «جُنْدُبٌ رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ» قَالَ الشَّيْخُ: «قَوْلُ أَبِي ذَرٍّ: » كُنْتُ رَابِعَ الْإِسْلَامِ أَرَادَ مِنْ قَوْمِهِ لِأَنَّ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ أَسْلَمَ الْخَلْقُ مِنْ قُرَيْشٍ وَغَيْرِهِمْ «

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اسلام قبول کرنے والا چوتھا شخص تھا مجھ سے پہلے تین لوگوں نےاسلام قبول کیا تھا میں چوتھا تھا ۔ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ آپ پر سلام ہو میں اس با ت کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمداس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ' تو مجھے نبی اکرم ﷺ کے چہرے مبارک پر خوشی کے اثرات نظر آئے آپ نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ میں نے عرض کی: میرانام جندب ہے اور میں بنو غفار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہوں ۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا : میں اسلام قبول کرنے والا چوتھا فرد تھا اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ ان کی قوم سے تعلق رکھنے والا چوتھا فرد تھا کیونکہ اس وقت میں قریش اور دیگر قبیلوں سے تعلق رکھنے والے کئی لوگ مسلمان ہو چکے تھے ۔

الرَّابِعُ أَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ فَقُلْتُ لَهُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ ← كُنْتُ رُبُعَ الْإِسْلَامِ أَسْلَمَ قَبْلِي ثَلَاثَةٌ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ ← أَبُو زُمَيْلٍ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7134

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7135

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ نَوْفَلٍ بِمَرْوَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّنْجِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تُقِلُّ الْغَبْرَاءُ، وَلَا تُظِلُّ الْخَضْرَاءُ عَلَى ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ، وَأَوْفَى مِنْ أَبِي ذَرٍّ شَبِيهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ السَّلَامُ»، قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَفَنَعْرِفُ ذَلِكَ لَهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، فَاعْرِفُوا لَهُ

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں : نبی اکرمﷺ نے مجھ سے فرمایا : زمین نے ایسے کسی شخص کو اٹھایا نہیں ہے اور آسمان نے ایسے کسی شخص پر سایہ نہیں کیا جو ابوذرغفاری سے زیادہ سچا اور (عہد کو) پورا کرنے والا ہو یہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی کیا ہم ا سطرح ان کا تعارف کرادیا کریں ' تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں تم اس کا تعارف کروا دیا کرو۔

أَبِيهِ ← مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ ← أَبُو زُمَيْلٍ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو دَاوُدَ السِّنْجِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ نَوْفَلٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7135

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7136

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُحْسِنُ السُّرْيَانِيَّةَ؟ » قُلْتُ: لَا قَالَ: فَتَعَلَّمْهَا فَإِنَّهُ تَأْتِينَا كُتُبٌ، قَالَ: فَتَعَلَّمْتُهَا فِي سَبْعَةِ عَشَرَ يَوْمًا [ص:85] قَالَ الْأَعْمَشُ: كَانَتْ تَأْتِيهِ كُتُبٌ لَا يَشْتَهِي أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهَا إِلَّا مَنْ يَثِقُ بِهِ «

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم سریانی زبان جانتے ہو میں نے عرض کی : جی نہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر تم اسے سیکھ لو ہمارے پاس (غیر مسلم حکمرانوں کے) خطوط آتے ہیں حضرت زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے یہ زبان سترہ دن میں سیکھ لی۔ اعمش نامی راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس جو مکتوبات آتے تھے آپ کی یہ خواہش تھی کہ ان مکتوبات کے مضمون پر وہی شخص مطلع ہو جو قابل اعتماد ہو ۔

لَا يَشْتَهِي أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهَا إِلَّا مَنْ يَثِقُ بِهِ ← الْأَعْمَشُ: كَانَتْ تَأْتِيهِ ← فَتَعَلَّمْتُهَا فِي سَبْعَةِ عَشَرَ يَوْمًا [ص:85] ← فَتَعَلَّمْهَا فَإِنَّهُ تَأْتِينَا ← لِي رَسُولُ اللَّهِ «أَتُحْسِنُ السُّرْيَانِيَّةَ؟ قُلْتُ: لَا ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7136

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7137

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ [ص:86] الْمُقَدَّمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو مُوسَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدَّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ، وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ، وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ''میری امت کے بارے میں میری امت میں سب سے زیادہ رحم دل ابو بکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے معاملے کے بارے میں سب سے زیادہ سخت عمر ہے۔ حیا کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچا عثمان ہے ۔ اللہ کی کتاب کا سب سے بڑا عالم ابی بن کعب ہے ۔ علم واثت کا سب سے بڑا عالم زید بن ثابت ہے۔ حلال اور حرام کا سب سے بڑا عالم معا ز بن جبل ہے ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے''۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← أَبُو مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7137

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7138

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ أَبَاهُ هَلَكَ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ أَوْ سَبْعَ بَنَاتٍ، قَالَ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: «تَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ؟ » قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «[ص:87] بِكْرًا أَوْ ثَيِّبًا؟ » قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ: «فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ»، فَقُلْتُ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ مَاتَ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ أَوْ سَبْعَ بَنَاتٍ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ وَأَرَدْتُ امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ، فَقَالَ لِي: «بَارِكَ اللَّهُ لَكَ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان کے والد کا انتقال ہو گیا انہوں نے نو بیٹیاں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) سات بیٹیاں ( پسماندگان ) میں چھوڑیں ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے مجھ سے دریافت کیا : جابر تم نے شادی کر لی ہے۔ میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کنواری کے ساتھ یا ثیبہ کے ساتھ ۔ میں نے عرض کی: ثیبہ کے ساتھ ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے کسی لڑکی کے ساتھ شادی کیوں نہیں کی تا کہ تم اس کے ساتھ خوش فعلیاں کرتے اور وہ تمہارے ساتھ خوش فعلیاں کرتی تم اسے ہنساتے اور وہ تمہیں ہنساتی ۔ میں نے عرض کی: ( میرے والد ) حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا انہوں نے نو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) سات بیٹیاں چھوڑی ہیں مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں ان پر ان کے جیسی ( کم عمر ) بیوی لے آؤں اس لیے میں نے ایسی عورت کے ساتھ شادی کی ہے' جو ان کا خیال رکھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا کرے۔

جَابِرٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7138

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7139

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، [ص:89] عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: تُوُفِّيَ أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَعَرَضْتُ عَلَى غُرَمَائِهِ، أَنْ يَأْخُذُوا التَّمْرَ بِمَا عَلَيْهِ فَأَبَوْا، وَلَمْ يُعْرَفُوا أَنَّ فِيهِ وَفَاءً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «إِذَا جَدَدْتَهُ وَوَضَعْتَهُ فَآذِنْ لِي»، فَلَمَّا جَدَدْتُ وَوَضَعْتُهُ فِي الْمَسْجِدِ آذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَجَلَسَ فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ، وَقَالَ: «ادْعُ غُرَمَاءَكَ وَأَوْفِهِمْ»، فَمَا تَرَكْتُ أَحَدًا لَهُ عَلَى أَبِي دَيْنٌ إِلَّا قَضَيْتُهُ، وَفَضَلَ لِي ثَلَاثَةَ عَشَرَ وَسْقًا عَجْوَةً، قَالَ: فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَضَحِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «ائْتِ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَأَخْبِرْهُمَا»، فَقَالَا: قَدْ عَلِمْنَا إِذْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد کا انتقال ہو گیا ان کے ذمے قرض تھا میں نے قرض خواہوں کے سامنے یہ پیش کش رکھی کہ میرے والد کے ذمے جو ادائیگی تھی اس کے بدلے میں وہ کھجوریں حاصل کر لیں ' تو انہوں نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ان کا یہ خیال تھا اس طرح پوری ادائیگی نہیں ہو سکے گی۔ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ ' کیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم کھجوریں ' توڑ لو اور انہیں رکھ لو ' تو مجھے اطلاع کر دینا جب میں نے کھجوریں ' تو ڑ لیں اور انہیں مسجد میں رکھ لیا تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بار ے میں اطلاع دی۔ نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے نبی اکرمﷺ تشریف فرما ہوئے آپ نے ان کے لیے دعائے برکت کی پھر آپ نے فرمایا : اپنے قرض خواہوں کو بلاؤ انہیں پوری ادائیگی کرو(حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) تو جس بھی شخص نے میرے والد سے قرض لینا تھا میں نےا سے مکمل ادائیگی کر دی پھر بھی میرے پاس عجوہ کھجوروں کے تیرہ وسق بچ گئے ۔ راوی کہتے ہیں : میں مغرب کی نماز میں نبی اکر م ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو امیں نے آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم ﷺ ہنس پڑے آپ نے ارشاد فرمایا : ابو بکر اور عمر کے پاس جاؤ اور ان دونوں کو اس بارے میں بتاؤ تو ان دونوں نے کہا: جب نبی اکرم ﷺ نے وہ عمل کیا تھا ہمیں اسی وقت پتہ ل گیا تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔

تُوُفِّيَ أَبِي ← جَابِرٍ ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7139

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7140

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَسِيرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى نَاضِحٍ، إِنَّمَا هُوَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ، فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ كَانَ مَعَهُ، فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَقَدَّمُ النَّاسَ يُسَارِعُنِي حَتَّى إِنِّي لَأَكُفُّهُ، [ص:90] فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَبِيعُنِي بِكَذَا وَكَذَا؟ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ»، قَالَ: قُلْتُ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ لَكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک سفر میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھا میں ایسے اونٹ پر سوار تھا 'جو لوگوں میں سب سے پیچھے چل رہا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے کسی چیز سے اسے مارا جو آپ کے پاس موجود تھی اس کے بعد وہ لوگوں سے آگے نکلنے لگا ' یہاں تک کہ مجھے اسے روکنا پڑ رہا تھا ۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم یہ (اونٹ ) مجھے اتنی اتنی رقم کے عوض میں فروخت کردو گے اللہ تعالی تمہاری مغفرت کرے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتےہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ یہ ویسے ہی آپ کا ہوا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اتنی اتنی رقم کے عوض میں اسے فروخت کر دو گے۔ اللہ تعالیٰ مغفرت کرے۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ یہ آپ کا ہوا۔

جَابِرٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← أَبِي ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7140

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7141

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْعَبْدِيُّ بِمَرْوَ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي نَضْرَةَ، يَعْنِي عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: «نَاضِحَكَ تَبِيعُنِيهِ، إِذَا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِدِينَارٍ؟ وَاللَّهُ [ص:91] يَغْفِرُ لَكَ»، قَالَ: قُلْتُ: هُوَ نَاضِحُكُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «تَبِيعُنِيهِ إِذَا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِدِينَارَيْنِ»، قَالَ: قُلْتُ: نَاضِحُكُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَازَالَ يَقُولُ حَتَّى بَلَغَ عِشْرِينَ دِينَارًا كُلُّ ذَلِكَ، يَقُولُ: «وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ»، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ جِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ، قُلْتُ: دُونَكُمْ نَاضِحَكُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «يَا بِلَالُ أَعْطِهِ مِنَ الْغَنِيمَةِ عِشْرِينَ دِينَارًا، وَارْجِعْ بِنَاضِحِكَ إِلَى أَهْلِكَ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے آ پ نے ارشاد فرمایا : کیا تم اپنا اونٹ ایک دینار کے عوض میں فروخت کر دو گے جب ہم مدینہ منورہ آئیں گے تو میں (انشا ء اللہ اس کی قیمت ادا کردوں گا ) اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ یہ آپ کا ہی اونٹ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تم مجھے یہ فروخت کرو گے ( اس شرط پر ) جب ہم مدینہ آئیں گے اللہ نے چاہا تا میں تمہیں دو دینار (ادا کردوں گا ) حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ یہ آ پ کا اونٹ ہے اس کےبعد نبی اکرمﷺ مسلسل یہ ارشاد فرماتے رہے ' یہاں تک کہ آپ نے 20 دینار قیمت مقرر کر دی ہر مرتبہ یہی فرماتے رہے اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے جب ہم مدینہ منورہ آئے اور میں اس اونٹ کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہو اتو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ یہ آپ کا اونٹ ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے بلال اسے مال غنیمت میں سے 20 دینار دے دو اور ( مجھ سے فرمایا ) تم اپنا اونٹ اپنے گھر واپس لے جاؤ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي نَضْرَةَ، يَعْنِي ← جَدِّي، ← أَبِي ← خَلَفُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ الْعَتَكِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْعَبْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7141

chevron_left Previous
1…232425…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr