سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم ﷺ نے ان کے ساتھ شادی کی ا س وقت ان کی عمر چھ سال تھی جب ان کی رخصتی ہوئی اس وقت ان کی عمر نو سال اور وہ نو سال نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہیں ۔
(امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) یہاں تک قریش سے تعلق رکھنے والے مہاجر ین کا تذکرہ تھا ' اب ہم اس کے بعد قریش کے حلیف لوگوں کا تذکرہ کریں گے اگر اللہ تعالی نےاسے آسان کیا اور اسے سہل کیا۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7118
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7119
ابو عبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرم ﷺ نے مجھے اور ابو مرثد سلمی کو بھیجا ہم دونوں گھوڑوں پر سوار تھے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ جاؤ اور تم خاخ کے باغ میں پہنچو گے وہاں ایک عورت ہوگی ' جس کے پاس ایک خط ہو گا وہ حاطب بن ابو بلتعہ کی طرف سےمشرکین کے نام لکھا گیا ہو گا تم اسے میرے پاس لے آنا (حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) ہم اس عورت تک پہنچ گئے وہ اپنے اونٹ پر سوار تھی اسی جگہ پر موجود تھی ' جہاں نبی اکرم ﷺ نے ہمیں بتایا تھا میں نے کہا: وہ خط کہاں ہے جو تمہارے پاس ہے' اس نے کہا : میرے پاس ' تو کوئی خط نہیں ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھا لیا اور اس کے پالان کی تلاشی لی میرے ساتھی نے کہا : میرا خیال ہے اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے میں نے اس سے کہا : تم یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمارے ساتھ غلط بیانی نہیں کی اس ذات کی قسم جس کے نام کی قسم آٹھائی جاتی ہے (اے عورت) یا تو تم اسے نکال دو گی یا پھر میں تلوار سے تمہارے ٹکڑے کر دوںگا ۔ جباس نے یہ سختی دیکھی تو اس نے تہبند کے ڈب کی طرف ہاتھ بڑھایا اس نے اونی تہبند باندھا ہوا تھا اس نے وہ خط نکالا میں اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے حاطب کس چیز نے تمہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ میں کس بنیاد پر اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والا نہ رہوں (یعنی میں نے اللہ اور اسکے رسول پر ایمان کو ترک کرتے ہوئے ایسا نہیں کیا ) بلکہ میں چاہتا تھا میرا ان لوگوں پر کوئی احسان ہو جائے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ میرے اہل خانہ اور میرے اہل خانہ اور میرے اموال کو محفوظ رکھے ' تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس نےسچ کہا ہے تم اس کے بارے میں صرف بھلائی کی بات کرو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ اس نے اللہ اور اس
کے رسول اور اہل ایمان کے ساتھ خیانت کی ہے آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ اہل بدر میں سے
نہیں ہے؟ اے عمر ! تمہیں کیا پتہ اللہ تعالی نے اہل بدر کی طرف جھانک کر یہ ارشاد فرمایا : تم جو چاہ عمل کرو جنت تمہارے لیے لازم ہو چکی ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7119
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7120
حضرت جابررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت حاطب بن ابو بلتعہ رضی اللہ عنہ کا غلام نبی اکرم کے پا س آیا اس نے کہا:
یا رسول اللہ ﷺ حاطب ضرور جہنم میں داخل ہوں گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : تم نے جھوٹ کہا ہے وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا کیونکہ وہ غزوہ بدراورصلح حدیبیہ میں شریک ہوا ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7120
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7121
خالد بن عمیر بیان کرتے ہیں : حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالی کی حمد و ثنا ء بیان کی پھر وہ بولے: اما بعد ! دنیا اس میں سے اب ول تلچھٹ باقی رہ گئی ہے' جو کسی برتن میں رہ جاتی ہے اور تم میں سے کوئی ایک شخص اسے انڈیل دیتا ہے تم لوگ اس دنیا سے ایک ایسے جہاں کی طرف منتقل ہا گے جو زائل نہیں ہو گا تو جو کچھ تمہارے پاس موجود ہے اسے منتقل ان کی مراد بھلائی تھی کیونکہ مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ایک پتھر اگر جہنم کے کنارے سے پھینکا جائے تو وہ اس کی گہرائی تک ستر سال تک بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ اللہ کی قسم وہ جہنم ضرور بھری جائے گی۔کیا تمہیں اس بات پر حیرانگی ہو رہی ہے میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے' جنت کے دو کواڑوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت کا فاصلہ ہے اور اس پر ایک ایسا د ن آئے گا کہ جب وہاں لوگوں کا ہجوم ہو گا مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ہم سات افراد تھے ہماری خوراک صرف درخت کے پتے ہوتے تھے ' یہاں تک کہ ہماری باچھیں چر گئی تھیں ایک مرتبہ مجھے ایک چادر پڑی ہوئی ملی تو میں نے اسے چیر کر اپنے اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے درمیان تقسیم کر لیا میں نے اس کے نصف حصے کو تہبند بنا لیا اور نصف حصے کو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے تہبند بنا لیا آج ہم میں سے ہر شخص جو زندہ ہے وہ کسی نہ کسی شہر کا گورنر ہے میں اللہ سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں خود کو بڑا سمجھتا ہوں اور اللہ تعالی کی بار گاہ میں چھوٹا ہوں ۔ نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے اور اس کے بعد بادشاہی آئے گی ' تو ہمارے بعد تم لوگ حکمرانوں کے حوالے سےآزمائے جاؤ گے۔
شیخ بیان کرتے ہیں : ابو یعلیٰ نے حمید بن ہلال سے خالد بن عمیر کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے حالانکہ راوی کا نام خالد بن سمیر ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7121
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7122
مسروق بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث کا ذکر کیا ' تو انہوں نے فرمایا : وہ ایک ایسے شخص ہیں جب سے میں اس دن سے محبت رکھتا ہوں جس دن سے میں نے نبی اکرم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7122
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7123
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7123
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7124
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میر ے والد سردار ( یا سرکاری اہلکار) تھے میں درس گا ہ میں جا یا کرتا تھا میرے ساتھ دو لڑکے بھی تھے وہ درس گاہ واپس جاتے ہوئے ایک گرجے میں داخل ہوئے ان کے ساتھ میں بھی اندر چلا گیا ' تو راہب نے ان سے کہا: کیا میں نے تم کو منع نہیں کیا تھا تم میرے پاس کسی کو نہ لے کر آنا ۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اس کے پاس آتا جاتا رہا ' یہاں تک کہ میں اس کے نزدیک ان دونوں لڑکوں سے زیادہ محبوب ہو گیا ۔ اس اہب نے مجھ سے کہا : اسے سلمان گھر والے تم سے پوچھیں گے تمہیں کس نے روک لیا تھا ' تو تم کہنا میرے استاد نے اورجب تمہارا استاد تم سے پوچھے تمہیں کس نے روک لیا تھا ' تم کہنا میرے گھر والوں نے ۔ اس نے مجھ سے کہا : اے سلمان میں یہ چاہتا ہوں کہ یہاں سے کہیں اور منتقل ہو جاؤ ں ۔ میں نے کہا میں آپ کے ساتھ رہوں گا ۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ وہاں سے منتقل ہوا اور ایک بستی میں آگیا اس نے وہاں پڑاؤ کیا وہاں ایک عورت اس کے پاس آنے جانے لگی جب اس کا آخری وقت قریب آیا ' تو وہ بولا : اے سلمان تم زمین کھودو ۔ میں نے زمین کھودی اور اس میں سے درہموں کا ایک تھیلا نکالا ۔ اس نے کہا : یہ میرے سینے کے اوپر ڈال دو ۔ میں نے وہ اس کے سینے پر ڈال دئیے تو اس نے اپنا ہاتھ میرے سینے کے اوپر مارنا شروع کیا اور بولا : راہب کے لئے بربادی ہے پھر وہ مر گیا ۔ میں نے ان کے باجے میں پھونک مار کر ( اس کے مرنے کا ) اعلان کیا ' تو بہت سے عبادت گزار اور راہب لوگ وہاں آگئے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں
نے اس مال کے بارے میں ارادہ کیا کہ اسے میں اٹھا کر لے جاتا ہوں لیکن پھر اللہ تعالی نے میری توجہ اسکی طرف سے ہٹا دی جب وہ عبادت گزار اور
راہب لوگ اکٹھے ہوگئے میں نے کہا :اس نے کچھ مال چھوڑا ہے تو اس بستی کے کچھ نوجوان آگئے انہوں نے کہا : یہ ہمارے باپ کا مال ی اس کی کنیز اس کے پاس آتی تھی ان لوگوں نے وہ مال حاصل کر لیا جب اس راہب کو دفن کر دیا گیا ' تو میں نے کہا: اے عبادت گزاروں کے گروہ تم کسی ایسے عالم کی طرف میری رہنمائی کرو جس کے ساتھ میں رہوں تو ان لوگوں نے کہا: ہمیں روئے زمین پر کسی ایسے عالم کے بارے میں پتہ نہیں ہے جو اس شخص سے زیادہ علم رکھتا ہو جو بیت المقدس آیا کرتا تھا جب وہ اگلی مرتبہ آیا تو میں نے کہا : آپ نے پھر میرے بارے میں کیا سوچا اس نے دریافت کیا تم اس وقت ست لے کر اب تک یہیں ہو ۔ میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ اس نے کہا : مجھے روئے زمین میں کسی ایسے شخص کے بارے میں علم ہے جو اس یتیم سے زیادہ بڑا عالم ہو جس کا ظہور تہامہ کی سر زمین پر ہو گا اگ تم اب وہاں چلے جاتے ہو تو تم ان ست مل لو گے ان میں تین خصوصیات ہوں گی وہ تحفے کے طور پر دی جانے والی چیز کھا لیتے ہوں گے لیکن صدقہ کے طور پر دی جانے والی چیز نہیں کھاتے ہوں گے اور ان کے دائیں کندھے کے ابھار کے قریب مہر نبوت ہو گی ' جو انڈے جتنی ہوگی اور اس کا رنگ ان کی جلد کی طرح کا ہو گا اگر تم اب چلے جاتے ہو تو ان تک پہنچ جاؤ گے۔
میں منزلوں پر منزلیں مارتا ہوا روانہ ہو گیا یہاں تک کہ کچھ دیہاتیوں نے مجھے پکڑا انہوں نے مجھے اجنبی سمجھ کر فروخت کر دیا ' یہاں تک کہ میں مدینہ منورہ پہنچ گیا میں نے ان لوگوں کو نبی اکرم ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے سنا زندگی مشکل تھی میں نے اپنے مالکان سے کہا : مجھے کوئی چیز ہبہ کے طور پر دیں انہوں نے مجھے کوئی چیز دے دی میں روانہ ہوا میں نے کوشش کی ' میں نے انہیں تھوڑی قیمت کے عوض میں فروخت کیا پھر میں وہ چیز لے کر آیا اور نبی اکرم ﷺ کے سامنے رکھ دی نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ کیا چیز ہے۔میں نے عرض کی : یہ صدقہ ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا اسے کھالو آپ ﷺ نے خود اسے کھانے سے انکار کر دیا ۔ میں نے سوچا یہ ایک نشانی مل گئی پھر جتنا اللہ کو منظور تھا اتنا عرصہ گزر گیا پھر میں نے اپنے مالک سے کوئی چیز ہبہ کرنے کے لئے کہا ' تو ان لوگوں نے مجھے ایک چیز ہبہ کے طور پر دی میں روانہ ہوا میں نے کوشش کی پھر میں نے اسے پہلے زیادہ قیمت پر فروخت کیا میں نے کھانا تیار کیا میں وہ لے کر آیا اور اسے نبی اکرمﷺ کے سامنے رکھ دیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کیا ہے ۔ میں نے عرض کی : یہ تحفہ ہے ۔نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے کہا للہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو ۔ نبی اکرم ﷺ نے بھی اسے کھایا اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی اسے کھایا پھر میں اٹھ کرآپ کے پیچھے آیا میں نے آپ کی چادر کو ہٹایا تو وہاں انڈے کی طرح کی مہر نبوت موجود تھی میں نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیسے تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو سارا وقعہ سنایا اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا وہ عبادت گزار شخص جنت میں داخل ہو گا جس نے یہ بات بیا ن کی تھی کہ آ پ نبی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا ۔میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ اس نے مجھے یہ بتایا تھا کہ آپ نبی ہیں تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنت میں صرف مسلمان شخص داخل ہو گا ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7124
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7125
ابرا ہیم تیمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ایک شخص بولا اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کا پایا ہوتا تو میں آپ کے ساتھ لڑائی میں حصہ لیتا ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے ایسا کرنا تا ؟ مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے ہم لوگ غزوہ ا حزاب کے موقع پر صبح کے وقت نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے تیز آندھی چل پڑی ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : کیا کوئی شخص دمن کی اطلاع ہمارے پاس لے کا آئے گا ۔ اللہ تعالی قیامت کے دن اسے میرے ساتھ رکھے گا۔ راوی کہتے ہیں ' تو ہم لوگ خاموش رہے ہم میں سے کسی نے بھی آپ کو جواب نہیں دیا ۔ وہ کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا کوئی شخص ہمارے پاس دشمن کی اطلاع لے کر آئے گا اللہ تعالی قیامت کے دن اسے میرے ساتھ رکھے گا ۔راوی کہتے ہیں : ہم لوگ خاموش رہے ہم میں سے کسی نے بھی آپ کو جواب نہیں دیا پھر ہم خاموش رہے تو نبی اکر م ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے حذیفہ تم اٹھو اور ہمارے پاس دشمن کی اطلاع لے کر آؤاور تم بھڑکانا نہیں ( یا ان سے مقابلہ نہ کرنا ) جب میں نبی اکر م ﷺ کے پاس سے اٹھ کر روابہ ہوا ' تو یوں لگ رہا تھا جیسے ( تیز ہوا میں نہیں ) بلکہ حمام میں چل رہاہوں ' یہاں تک کہ میں دشمن کے پاس آیا میں نے ابو سفیان کو دیکھا کہ وہ اپنی پشت کو آگ کے ذریعے گرم کرنے کی کوشش کر رہا تھا میں نے اپنا تیر کمان میں رکھا پہلے میں نے ارادہ کیا کہ میں اسے تیر مارتا ہوں پھر مجھے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان یاد آیا کہ تم نے ان کے ساتھ جھگڑنا نہیں ہے اگر میں اسے تیر مار دیتا ' تو وہ تیرا اسے لگ جانا تھا لیکن میں واپس آ گیا یوں جیسے میں حمام میں چل رہاہوں جب میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو ان لوگوں کے حالات کے بارے میں بتایا ' تو آپ نے اپنے جسم پر موجود اضافی عبا مجھے پہنا دی جس میں آپ نماز ادا کیا کرتے تھے اس کے بعد میں سویا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی جب صبح ہو گئی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے سوئے ہوئے تم بیدار ہو جاؤ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7125
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7126
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری والدہ نے مجھ سے کہا : نبی اکرم ﷺ سے تمہاری آخری ملاقات کب ہوئی تھی ؟ میں نے کہا : اتنے اتنے عرصے سے نبی اکرم ﷺ سے میری ملاقات نہیں ہوئی تو میری والدہ نے مجھے برا کہنا شروع کر دیا میں نے کہا : میں نبی اکرمﷺ کے پاس جاؤں گا ان کے ساتھ نماز ادا کروں گا وہ میرے لیے اور آپ کے لیے دعائے مغفرت کریں گے پھر میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مغرب کی نماز ادا کی تو نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں نمازوں کے ہمراہ نوافل ادا کیے پھر آپ روانہ ہوئے تو میں آ پ کے پیچھے آیا آپ نے مجھ سے دریافت کیا : کون ہے میں نے عرض کی: حذیفہ بن یمان ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کیوں آئے ہو؟ میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا : جو میری والدہ نے مجھ سے کہا تھا '' تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہاری اور تمہاری والدہ کی مغفرت کرے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7126
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7127
ابرا ہیم بیان کرتے ہیں : علقمہ شام گئے انہوں نے وہاں نماز دا کی پھر وہ ایک حلقے کی طرف بڑھ گئے اور اس میں بیٹھ گئے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص آیا اور میرے پہلو میں بیٹھ گیا میں نے کہا: الحمد اللہ مجھے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا کو مستجاب کر لیا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں : وہ شخص حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ تھے ۔ انہوں نے دریافت کیا : وہ کیسے ۔ علقمہ نے جواب دیا : میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ وہ مجھے کوئی نیک ہم نشین عطا کرےتو مجھے یہ امید ہے ک وہ آپ ہی ہوں گے ۔ اس نے دریافت کیا : تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں اہل کوفہ(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اہل عراق سے تعلق رکھتا ہوں اور پھر اہل کوفہ سے تعلق رکھتا ہوں توحضرت ابو درداء نے فرمایا : کیا تمہارے درمیان نبی اکرم کے وہ خاص راز دار نہیں ہیں ' کہ اس راز کو ان کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا تھا ان کی مراد حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے پھر انہوں نے دریافت کیا : کیا تمہیں یہ بات یاد ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کس طرح تلاوت کرتے تھے میں نے جواب دیا : جی ہاں پھر انہوں نے پڑھا (یعنی یہ سورۃ پڑھی)
''وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشیٰ وَالنَّھارِ اِذَا تَجَلّٰی''
علقمہ کہتے ہیں تو می نےپڑھا ''الذکر و الانثیٰ'' تو حضرت ابو دردا ء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے نبی اکرم ﷺ نے بھی مجھے اپنی زبانی یہ سورۃ انہی الفاظ میں سے سیکھائی تھی لیکن یہ لوگ مسلسل میری اس بات کو مسترد کرتے ہیں ۔
(امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) یہاں تک قریش کے خلیفوں کا ذکر تھا اب ہم اس کےبعد انصار کا ذکر کریں گے ان میں سے جن لوگوں نے ہجرت کی اور جنہوں نے ہجرت نہیں کی ( سب کاذکر ہو گا ) اگر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ دیا اور یہ چاہا۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7127
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7128
مسروق بیان کرتے ہیں : لوگوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ' تو انہوں نے فرمایا : وہ ایک ایسے شخص ہیں ' کہ جن سے میں اس وقت سے مسلسل محبت کرتا ہوں کہ جب سے میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشا د فرماتے ہوئے سنا ہے:
''قرآن کی تلاوت چار لوگوں سے سیکھو ابن مسعود سے ، ابو حذیفہ کے غلام سالم سے ، ابی بن کعب سے اور معاذ بن جبل سے''۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7128
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7129
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکر م ﷺ نے ارشاد فرمایا :
''ابو بکر اچھا آدمی ہے ، عمر اچھا آدمی ہے، معاذ بن جبل اچھا آدمی ہے اور ابو عبیدہ بن جراح اچھا آدمی ہے اور فلاں شخص برا آدمی ہے ' یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے سات لوگوں کے نام گنوائے ( کہ وہ برے ہیں )''
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7129