Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7106

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «عَائِشَةُ»، فَقُلْتُ: إِنِّي لَسْتُ أَعْنِي النِّسَاءَ إِنَّمَا أَعْنَى الرِّجَالَ، فَقَالَ: «أَبُو بَكْرٍ»، أَوْ قَالَ: «أَبُوهَا».

حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عائشہ ۔ میں نے عرض کی : میں آپ کی ازواجی مراد نہیں لے رہا ' میری مرادمرد ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابو بکر (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کا والد ۔

قُلْتُ ← عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7106

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7107

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ*، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ؟ [ص:41] قَالَ: «عَائِشَةُ»، قِيلَ لَهُ: لَيْسَ عَنْ أَهْلِكِ نَسْأَلُكَ، قَالَ: «فَأَبُوهَا»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا عائشہ ۔ عرض کی گئی : ہم نے آپ سے آپ کی ازواج کے بارے میں دریافت نہیں کیا : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کا والد ۔

«فَأَبُوهَا» ← أَهْلِكِ نَسْأَلُكَ، ← «عَائِشَةُ»، قِيلَ لَهُ: لَيْسَ ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ؟ [ص:41] ← أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← حُمَيْدٍ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7107

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7108

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِي، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: جَاءَ عَائِشَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا، قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي بِهِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ صَالِحِي بَنِيكَ جَاءَكِ يَعُودُكِ، قَالَتْ: فَأْذَنْ لَهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: «يَا أُمَّاهُ أَبْشِرِي فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَكِ وَبَيْنَ أَنْ تَلْقِي مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْأَحِبَّةَ إِلَّا أَنْ تُفَارِقَ رُوحُكِ جَسَدَكِ، كُنْتِ أَحَبَّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، وَلَمْ [ص:42] يَكُنْ يُحِبُّ رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا طَيْبَةً، قَالَتْ: وَأَيْضًا؟ قَالَ: » هَلَكَتْ قِلَادَتُكِ بِالْأَبْوَاءِ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَجِدُوا مَاءً، فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا، فَكَانَ ذَلِكَ بِسَبَبِكِ وَبَرَكَتِكِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ مِنَ الرُّخْصَةِ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِ مِسْطَحٍ مَا كَانَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَرَاءَتَكِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ، فَلَيْسَ مَسْجِدٌ يُذْكَرُ فِيهِ اللَّهُ إِلَّا وَشَأْنُكِ يُتْلَى فِيهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ «، فَقَالَتْ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ دَعْنِي مِنْكَ وَمِنْ تَزْكِيَتِكَ فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا»

ابن ابو ملیکہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی حدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے ان سے ملاقات کی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت عبدالرحمن ٰ بن ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ابن عباس ! آپ کے نیک بیٹوں میں سے ایک ہیں وہ آپ کی عیادت کرنے کے لئے آپ کے پاس آئے ہیں 'تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دے دی وہ اندر آئے انہوں نے کہا : اے امی جان آپ کے لئے خوشخبری ہے اللہ تعالی کی قسم آپ کی نبی اکرم ﷺ سے ملاقات اور دیگر محبوب لوگوں سے آپ کی ملاقات کے درمیان صرف اتنا فاصلہ رہ گیا ہے کہ آپ کی روح آپ کے جسم سے جد ا ہو جائے آپ نبی اکرمﷺ کی ازواج میں سے نبی اکرمﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھیں اور نبی اکرم ﷺ صرف کسی پاکیزہ چیز سے ہی محبت کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ( اور بھی میرے اندر کوئی خوبی ہے؟ ) تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ابو اء کے مقام پر آپ کا ہارا گم ہو گیا نبی اکرم ﷺ نے صبح کی تو لوگوں کا پانی نہیں ملا تو انہوں نے پاکیزہ مٹی کے ذریعے تمیم کر لیا یہ آپ کے سبب اور آ پ کی برکت کی وجہ سے تھا اللہ تعالی نے اس امت کے لئے یہ رحصت نازل کی پھر مسطح کا جو معاملہ تھا وہ بھی تھا اللہ تعالی نے سات آسمانوں کے اوپر سے آپ کی برات کا حکم نازل کیا کوئی بھی مسجد ایسی نہیں ہے جس میں اللہ تعالی کا ذکر کیا جاتا ہو اس میں آپ کے معاملے سےمتعلق آیات کی تلاوت بھی رات دن کی جائے گی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابن عباس ! تم میری اتنی تعریفیں نہ کرو اللہ کی قسم میری تو یہ خواہش ہے کہ کاش میں کوئی بھولی بسری چیز ہوتی ۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ ← لَا حَاجَةَ لِي بِهِ، ← جَاءَ عَائِشَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِي، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7108

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7109

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ، عَنْ رُمَيْثَةَ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَلَّمْنَنِي صَوَاحِبِي أَنْ أُكَلِّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْمُرَ النَّاسَ فَيُهْدُوا لَهُ حَيْثُ كَانَ، فَإِنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ [ص:44] بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ، وَإِنَّا نُحِبُّ الْخَيْرَ كَمَا تُحِبُّ عَائِشَةَ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُرَاجِعْنِي، فَجَاءَنِي صَوَاحِبِي، فَأَخْبَرْتُهُنَّ أَنَّهُ لَمْ يُكَلِّمْنِي، فَقُلْنَ وَاللَّهِ لَا نَدَعُهُ، قَالَتْ: فَكَلَّمْتُهُ مِثْلَ الْمَقَالَةِ الْأُولَى مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَسْكُتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «يَا أُمَّ سَلَمَةَ لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ، فَإِنِّي وَاللَّهِ مَا نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَيَّ وَأَنَا فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِي غَيْرَ عَائِشَةَ»، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَسُوءَكَ فِي عَائِشَةَ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میری ساتھی خواتین (یعنی دیگر ازواج مطہرات ) نے میرے ساتھ یہ بت چیت کی کہ نبی اکرم ﷺ سے یہ بات کروں کہ آپ لوگوں کو یہ ہدایت کریں کہ نبی اکرمﷺ جہاں کہیں بھی ہوں ' تو وہ آ پ کی خدمت میں تحائف پیش کر دیا کریں کیونکہ لوگ تحائف پیش کرنے کے لئے صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے مخصوص دن کا اہتمام سے انتظار کرتے ہیں جبکہ ہم بھی بھلائی کو اسی طرح پسند کرتی ہیں ' جس طرح عائشہ اسے پسند کرتی ہے' تو نبی اکرم ﷺ خاموش رہے نبی ارکرم ﷺ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا میری ساتھی خواتین میرے پاس آئیں میں نے انہیں بتایا : نبی اکرمﷺ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا تو ان خواتین نے کہا : اللہ کی قسم ہم نبی اکرم ﷺ کو ایسے نہیں رہنے دیں گے(یعنی آپ سے یہ بات ضرور کریں گے) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں پھر میں نے دو یا شاید تین مرتبہ نبی اکرم ﷺ سے اسی کی مانند بات کی ہر مرتبہ نبی اکرم ﷺ خاموش رہے پھر آپ نے فرمایا: اے ام سلمہ ! عائشہ کے بارے میں مجھے تکلیف نہ پہنچاؤ اللہ کی قسم میری ازواج میں سے عائشہ کےعلاوہ اور کسی خاتون کے گھر میں مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی ۔ سیدہ ام سلمہ ﷺ بیان کرتی ہیں میں نے کہا : میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں کہ میں عائشہ کے بارے میں آپ کے ساتھ کوئی برائی کروں ( یعنی آپ کو تکلیف پہنچاؤں )۔

كَلَّمْنَنِي صَوَاحِبِي ← أُمِّ سَلَمَةَ ← رُمَيْثَةَ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ← عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7109

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7110

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَّارُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْنَا: بَلَى، قَالَتْ: لَمَّا كَانَ لَيْلَتِي انْقَلَبَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عَنْ رِجْلَيْهِ وَوَضَعَ رِدَاءَهُ، وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ، ثُمَّ انْتَعَلَ رُوَيْدًا وَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا، ثُمَّ فَتْحَ الْبَابَ، فَخَرَجَ وَأَجَافَهُ رُوَيْدًا، فَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي، ثُمَّ تَقَنَّعْتُ بِإِزَارِي، فَانْطَلَقْتُ فِي إِثْرِهِ حَتَّى أَتَى الْبَقِيعَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ، فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ، فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ، فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ، فَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ فَلَيْسَ إِلَّا أَنِ اضْطَجَعْتَ دَخَلَ، فَقَالَ: «مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ؟ »، قُلْتُ: لَا شَيْءَ، قَالَ: «لَتُخْبِرِنِّي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، قَالَ: «أَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي؟ » قُلْتُ: [ص:46] نَعَمْ، قَالَتْ: فَلَهَزَ فِي صَدْرِي لَهْزَةً أَوْجَعَتْنِي، ثُمَّ قَالَ: «أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ»، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ فَقَدْ عَلِمَهُ اللَّهُ، قَالَ: «فَإِنَّ جِبْرِيلَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ، فَنَادَانِي فَأَخْفَى مِنْكِ، فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ، وَظَنَنْتُ أَنَّكِ قَدْ رَقَدْتِ، وَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ، وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِيَ، فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَأَسْتَغْفِرَ لَهُمْ»، قُلْتُ: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: قُولِي السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ الْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ «

محمد بن قیس بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا انہوں نے فرمایا : کیا میں تمہیں اپنے اور نبی اکرم ﷺ کے ایک واقعہ کے بارے میں بتاؤں ہم نے عرض کی : جی ہاں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میری مخصوص رات تھی نبی اکرم ﷺ اٹھے آپ نے اپنے دونوں جوتے اپنے پاؤں کے پاس رکھے آپ نے اپنی چادر رکھی اور اپنے تہبند کے کنارے کو بستر پر بجھا دیا تھوڑی دیر گزرنے کے بعد جب آپ کو یہ اندازہ ہو اکہ میں سو چکی ہوں ' تو آپ نے آرام سے جوتے پہنے آرام سے اپنی چادر لی اور دروازہ کھول دیا پھر آپ باہر تشریف لے گئے اور آرام سے ایک طرف چل پڑے میں نے اپنی چادر اپنے سر پر لی اور آپ کے پیچھے چل پڑی نبی اکرمﷺ جنت بقیع تشریف لائے آپ نے تین مرتبہ اپنے دنوں ہاتھ بلند کیے آپ نے طویل قیام کیا جب آپ واپس مڑے تو میں بھی واپس مڑ گئی آپ تیزی سے چلے تو میں نے بھی رفتار تیز کی ۔ آپ نے اور زیادہ تیز کی ' تو میں نے بھی اور زیادہ تیز کر لی آ پ واپس آئے تو میں بھی واپس آگئی میں آپ سے پہلے آگئی اور گھر کے اندر آئی ابھی میں لیٹی ہی تھی کہ آپ بھی گھر کے اندر آگئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : عائشہ تمہیں کیا ہوا ہے میں نے کہا : کچھ نہیں ۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا یا تو تم مجھے پتا دو یا پھر لطف کرنے والی اور خبررکھنے والی ذات مجھے بتا دے گی ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں پھر میں نے آپ کو پورا واقعہ سنایا پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ہی وہ ہیولی ٰ تھی جو میں نے اپنے آگے دیکھا تھا میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اس کی تکلیف مجھے محسوس ہوئی میں نے عرض کی: بہت سی چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ چھپا لیتے ہیں لیکن اللہ تعالی ٰ ان سے واقف ہوتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جبرائیل میرے پاس اس وقت آئے جب تم نے دیکھا وہ اندر اس لیے نہیں آئے کیونکہ تم اپنی چادر اتار چکی تھی انہوں نے مجھےپکارا میں نے اس بات کو تم سے پوشیدہ رکھا اور میں نے انہیں ' جوابدیا : میں نے تم سے پوشیدہ رکھتے ہوئے انہیں جواب دیا : میں نے یہ گمان کیا کہ تم سو چکی ہو میں نے تمہیں بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں تم مجھ سے وحشت محسوس نہ کرو (یعنی ڈر نہ جاؤ) جبرائیل نے مجھے کہا کہ میں اہل بقیع کے پاس جاؤں اور ان کے لیے دعائے مغفرت کروں (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : ) میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ وہ کیسے ' تو نبی اکرم ﷺ فرمایا : تم یہ پڑھو۔ ''اے مومنوں اور مسلمانوں کی بستی والو تم پر سلام ہو اللہ تعالی ہم میں سے پہلے گز ر جانے والے لوگوں اور بعد میں آنےوالوں پر ڑحم کرے اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی تم سے آملیں گے''۔

ألا أحدثكم عني ← عَائِشَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ كَثِيرٍ أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَّارُ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7110

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7111

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ [ص:48] عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا رَأَيْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طِيبَ نَفْسٍ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ لِي، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَائِشَةَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنَبِهَا وَمَا تَأَخَّرَ، مَا أَسَرَّتْ وَمَا أَعْلَنَتْ»، فَضَحِكَتْ عَائِشَةُ حَتَّى سَقَطَ رَأْسُهَا فِي حِجْرِهَا مِنَ الضَّحِكِ، قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيَسُرُّكِ دُعَائِي؟ »، فَقَالَتْ: وَمَا لِي لَا يَسُرُّنِي دُعَاؤُكَ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ إِنَّهَا لَدُعَائِي لِأُمَّتِي فِي كُلِّ صَلَاةٍ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ایک دن میں نے نبی اکرم ﷺ کا مزاج خوشگوار دیکھا ' تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ آ پ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے دعاکیجئے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اے اللہ تو عائشہ کی مغفرت کر دے اس کے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کی ' جو کچھ ا س نے پوشیدہ طور پر کیا اور جو کچھ اعلانیہ طور پر کیا ان سب کی مغفرت کر دے ' اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ ہنس پڑیں حتی کہ ان کا سر ہنسنے کی وجہ سے گود میں آگیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : کیا میری دعا تمہیں پسند آئی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : آپ کی دعا مجھے کیوں نہ اچھی لگے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کی قسم یہ دعا میں ہر نماز میں اپنی امت کے لئے کرتا ہوں ۔

لَمَّا رَأَيْتُ مِنَ النَّبِيِّ طِيبَ نَفْسٍ، قُلْتُ: ← [ص:48] عَائِشَةَ، أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← ابْنِ قُسَيْطٍ، ← أَبُو صَخْرٍ، ← حَيْوَةُ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7111

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7112

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى»، قَالَتْ: وَبِمَ تَعْرِفُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً، فَحَلَفْتِ، قُلْتِ: لَا وَرَبُّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى، قُلْتِ: لَا وَرَبُّ إِبْرَاهِيمَ»، قُلْتُ: أَجَلْ مَا أَهْجُرُ إِلَّا اسْمَكَ

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : مجھے پتہ چل جاتا ہے ' جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب مجھ سے ناراض ہوتی ہو ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ﷺ آپ کو یہ کیسے پتہ چلتا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو تم قسم اٹھاتے ہوئے یہ کہتی ہو حضرت محمد ﷺ کے پروردگار کی قسم ! جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو یہ کہتی ہو حضرت ابراہیم ؑ کے پروردگار کی قسم تو میں نے عرض کی: جی ہاں لیکن میں صرف آپ کا نام لینا چھوڑتی ہوں ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7112

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7113

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى الطَّعَامِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ''عائشہ کو تمام عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے ' جو ثرید کو تمام کھانوں پر حاصل ہے''۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7113

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7114

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَفَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى الطَّعَامِ»

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ''مردوں میں بہت سے لوگ کامل ہوئے ہیں 'عورتوں میں کامل صرف مریم بنت عمران ' فرعون کی بیوی آسیہ ہے اور عائشہ کو تمام عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے ' جو ثرید کو تمام کھانوں پر حاصل ہے''۔

النَّبِيِّ ← أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7114

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7115

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: عائشہ کو تمام عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے 'جو ثرید کو تمام کھانوں پر حاصل ہے۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7115

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7116

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَهُ سِوَاكٌ رَطْبٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ فِيهِ حَاجَةً، فَأَخَذْتُهُ فَلَقَطْتُهُ وَمَضَغْتُهُ وَطَيَّبْتُهُ، ثُمَّ دَفَعْتُهُ إِلَيْهِ فَاسْتَنَّ كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهُ مُسْتَنًّا قَطُّ، ثُمَّ ذَهَبَ يَرْفَعُهُ إِلَيَّ، فَسَقَطَ مِنْ يَدِهِ، فَأَخَذْتُ أَدْعُو بِدُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرِضَ، فَلَمْ يَدْعُ بِهِ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ، فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: » الرَّفِيقَ الْأَعْلَى، الرَّفِيقَ الْأَعْلَى «، فَفَاضَتْ نَفْسُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ کا وصال میرے گھر میں میری باری کے مخصوص دن میں میرے سینے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے ہوا (آپ کے وصا ل سے کچھ دیر پہلے) عبدالرحمن بن ابو بکر اندر آئے ان کے پاس تر مسواک تھی نبی اکرم ﷺ نے ان کی طرف دیکھا تو مجھے اندازہ ہو گیا نبی اکر م ﷺ وہ استعمال کرنا چاہتے ہیں میں نے اسے لیا اسے کاٹا اسے چبایا اور صاف کر لیا پھر وہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی طرف بڑھائی آپ نے اچھے طریقے سے مسواک کی میں نے آپ کو کبھی اس طرح مسواک کرتے ہوئے نہیں دیکھا پھرآپ میری طرف آٹھنے لگے تو وہ آپ کے ہاتھ سے گر گئی میں نے وہی دعا کرنا شروع کی جو نبی اکرم ﷺ اس وقت مانگا کرتے تھے لیکن آپ نے اپنی اس بیماری کے دوران وہ دعا نہیں مانگی تھی پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور بولے : (میں ) رفیق اعلیٰ کو اختیار کرتا ہوں '(میں ) رفیق اعلی کو اختیار کرتا ہوں ۔ یوں آپ کی جان رخصت ہو گئی ہر طرح کی حمد اللہ تعالی کے لئے مخصوص ہے جس نے نبی اکرم ﷺ کے دنیا کےآخری دن میں 'میرے لعاب دہن اور آپ کے لعاب دہن کو اکٹھا کیا ۔

عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7116

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7117

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:55] عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا وُلِدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَفَلَ فِي فِيهِ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ، وَقَالَ: «هُوَ عَبْدُ اللَّهِ، وَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ، فَمَا زِلْتُ أُكَنَّى بِهَا وَمَا وَلَدْتُ قَطُّ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب عبداللہ بن زبیر پید اہوا ' تو میں اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی نبی اکرم ﷺ نے اس کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا یہ وہ پہلی چیز تھی جو اس کے منہ میں داخل ہوئی ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ عبداللہ ہے اورتم ام عبداللہ ہو اس کے بعد میری مسلسل یہی کنیت رہی حالانکہ میری کوئی اولاد نہیں ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← بُكَيْرٍ، ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7117

chevron_left Previous
1…212223…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr