Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7094

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ الْمَكِّيُّ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَ بِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خِرْقَةِ حَرِيرٍ، فَقَالَ: «هَذِهِ زَوْجَتُكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں حضرت جبرائیل مجھے (یعنی میری تصویر کو ) لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے ( وہ تصویر ) ایک ریشمی کپڑے میں تھی حضرت جبرائیل نے کہا : یہ دنیا اور آخرت میں آپ کی زوجہ محترمہ ہیں۔

«هَذِهِ زَوْجَتُكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ← جَاءَ بِي جِبْرِيلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فِي خِرْقَةِ حَرِيرٍ، ← عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ الْمَكِّيُّ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7094

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7095

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي أَبُو الْعَنْبَسِ سَعِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ فَاطِمَةَ، قَالَتْ: فَتَكَلَّمْتُ أَنَا، فَقَالُ: «أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي زَوْجَتِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟ »، قُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ، قَالَ: «فَأَنْتِ زَوْجَتِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ». «أَبُو الْعَنْبَسِ كُوفِيٌّ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرمﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میں نے گفتگو کرنا شروع کی' تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم ا س بات سے راضی نہیں ہو کہ تم دنیا اور آخر ت میں میری زوجہ ہو ۔ میں نے عرض ی : جی ہاں اللہ کی قسم ( میں اس بات سے راضی ہوں ) تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم دنیا اور آخرت میں میری زوجہ ہو ۔

حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ، ← أَبِيهِ ← أَبُو الْعَنْبَسِ سَعِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7095

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7096

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ الْمَاجِشُونِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَزْوَاجُكَ فِي الْجَنَّةِ؟ قَالَ: «أَمَا إِنَّكِ مِنْهُنَّ»، قَالَتْ: فَخُيِّلَ إِلَيَّ أَنَّ ذَاكَ أَنَّهُ لَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرِي

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتی ہیں انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ آپ کی کون سی ازواج جنت میں ہوں گی؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جہاں تک تمہارا تعلق ہے تو تم ان میں سے ہو ( جو جنت میں ہوں گی) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں مجھے اس بات کا علم تھا کہ اسی وجہ سے نبی اکرمﷺ نے میرے علاوہ کسی اور کنواری خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِيهِ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ الْمَاجِشُونِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7096

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7097

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسِتِّ سِنِينَ وَبَنَى بِي، وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ وَوُعِكْتُ، فَوَفَى شَعْرِي جُمَيْمَةً، فَأَتَتْنِي أُمُّ رُومَانَ، وَأَنَا عَلَى أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبُ لِي، فَصَرَخَتْ بِي، فَأَتَيْتُهَا مَا أَدْرِي مَاذَا تُرِيدُ، فَأَخَذَتْ بِيَدِي، وَأَوْقَفَتْنِي عَلَى الْبَابِ، فَقُلْتُ: هَهْ هَهْ، شِبْهَ الْمُنْبَهِرَةِ، فَأَدْخَلَتْنِي بَيْتًا، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقُلْنَ: عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ، فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى، فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے جب میرے ساتھ شادی کی تو میری عمر چھ سال تھی جب میری رخصت ہوئی تو میری عمر نو سال تھی جب نبی اکرمﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو مجھے بخار ہو گیا جس کے نتیجے میں میرے بال جھڑ گئے ۔ سیدہ ام رومان میرے پاس آئیں میں اس وقت کھلونوں کے ساتھ کھیل رہی تھی میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی تھیں سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں مجھےبلایا میں ان کے پا س آئی مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا چاہتی ہیں انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا مجھے دروازے پر لا کر کھڑا کیا میں نے کہا : ٹھہر جائیں یو ں جیسے سانس پھولا ہو ا ہو پھر انہوں نے مجھے گھر کے اندر داخل کیا تو وہاں کچھ انصاری خواتین موجود تھیں انہوں نے کہا : بھلائی اور برکت کے ساتھ اور انے والی بھلائی کے ساتھ(آپ کی شادی ہو) پھر سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہ نے مجھے ان خواتین کے سپرد کر دیا انہوں نے میرے سر کو دھویا اور مجھے تیار کیا پھر چاشت کے وقت نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے ا ن خواتین نے مجھے نبی اکرم ﷺ کے حوالے کر دیا ۔

بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ وَوُعِكْتُ، فَوَفَى شَعْرِي جُمَيْمَةً، فَأَتَتْنِي أُمُّ رُومَانَ، ← «تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ لِسِتِّ سِنِينَ وَبَنَى بِي، ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7097

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7098

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ»، فَقُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ [ص:12] وَبَرَكَاتُهُ، تَرَى مَا لَا نَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہا ہے میں نے کہا : ان پر سلام ہو اللہ تعالی کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ناز ل ہوں ' یا رسول اللہ ﷺ ! آپ جو دیکھتے ہیں ہم وہ نہیں دیکھ سکتے ۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7098

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7099

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَعِدَّةٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، [ص:14] عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِنْهُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ، وَكُلُّهُمْ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ حَدِيثِهَا وَبَعْضُهُمْ أَوْعَى مِنْ بَعْضٍ، وَأَثْبَتُ لَهُ اقْتِصَاصًا، وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ عَائِشَةَ، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا زَعَمُوا أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ أَزْوَاجِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ، فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزَاةٍ غَزَاهَا، فَخَرَجَ سَهْمِي، فَخَرَجْتُ مَعَهُ بَعْدَمَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ، وَأَنَا أُحْمَلُ فِي هَوْدَجِي، وَأَنْزِلَ فِيهِ، فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَتِهِ تِلْكَ قَفَلَ، وَدَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ، فَآذَنَ لَيْلَةً بِالرَّحِيلِ، فَقُمْتُ فَمَشَيْتُ حَتَّى جَاوَزْتُ الْجَيْشَ، فَلَمَّا قَضَيْتُ شَأْنِي أَقْبَلْتُ إِلَى الرَّحْلِ فَلَمَسْتُ صَدْرِي، فَإِذَا عِقْدٌ لِي مِنْ جِزْعِ أَظْفَارٍ قَدِ انْقَطَعَ فَرَجَعْتُ فَالْتَمَسْتُ عِقْدِي، فَحَبَسَنِي ابْتِغَاؤُهُ، فَأَقْبَلَ الَّذِينَ يَرْحَلُونَ بِي، فَاحْتَمَلُوا هَوْدَجِي، فَرَحَلُوهُ عَلَى بَعِيرِي الَّذِي كُنْتُ أَرْكَبُ، وَهُمْ يَحْسِبُونَ أَنِّي فِيهِ، وَكَانَ النِّسَاءُ إِذْ ذَاكَ خِفَافًا لَمْ يَثْقُلْنَ، وَلَمْ يَغْشَهُنَّ اللَّحْمُ، وَإِنَّمَا يَأْكُلْنَ الْعُلْقَةَ مِنَ الطَّعَامِ، فَلَمْ يَسْتَنْكِرِ الْقَوْمُ حِينَ رَفَعُوهُ ثِقَلَ الْهَوْدَجِ، فَاحْتَمَلُوهُ وَكُنْتُ جَارِيَةً حَدِيثَةَ السِّنِّ، فَبَعَثُوا الْجَمَلَ وَسَارُوا، فَوَجَدْتُ عِقْدِي بَعْدَمَا اسْتَمَرَّ الْجَيْشُ، فَجِئْتُ مَنْزِلَهُمْ وَلَيْسَ فِيهِ أَحَدٌ، فَأَقَمْتُ مَنْزِلِي الَّذِي كُنْتُ [ص:15] بِهِ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ سَيَفْقِدُونِي، فَيَرْجِعُونَ إِلَيَّ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسَةٌ غَلَبَتْنِي عَيْنَايَ فَنِمْتُ، وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ ثُمَّ الذَّكْوَانِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْجَيْشِ، فَأَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِي، فَرَأَى سَوَادَ إِنْسَانٍ نَائِمٍ، وَكَانَ يَرَانِي قَبْلَ الْحِجَابِ، فَاسْتَيْقَظْتُ بِاسْتِرْجَاعِهِ حِينَ عَرَفَنِي، فَخَمَّرْتُ وَجْهِي بِجِلْبَابِي وَاللَّهِ مَا تَكَلَّمْتُ بِكَلِمَةٍ، وَلَا سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً غَيْرَ اسْتِرْجَاعِهِ حَتَّى أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، فَوَطِئَ يَدَهَا، فَرَكِبْتُهَا، فَانْطَلَقَ يَقُودُ بِيَ الرَّاحِلَةَ حَتَّى أَتَيْنَا الْجَيْشَ بَعْدَمَا نَزَلُوا مُعَرِّسِينَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ فَهَلَكَ مَنْ هَلَكَ وَكَانَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَ الْإِفْكِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَاشْتَكَيْتُ بِهَا شَهْرًا وَالنَّاسُ يُفِيضُونَ فِي قَوْلِ أَصْحَابِ الْإِفْكِ وَيُرِيبُنِي فِي وَجَعِي إِنِّي لَا أَرَى مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللُّطْفَ الَّذِي كُنْتُ أَرَى مِنْهُ حِينَ أَمْرَضُ إِنَّمَا يَدْخُلُ، فَيُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُولُ: «كَيْفَ تِيكُمْ»، وَلَا أَشْعُرُ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ حَتَّى نَقَهْتُ، فَخَرَجْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ بِنْتُ أَبِي رُهْمٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ، وَكَانَ مُتَبَرَّزَنَا لَا نُخْرُجُ إِلَّا لَيْلًا إِلَى لَيْلٍ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ نَتَّخِذَ الْكُنُفَ قَرِيبًا مِنْ بُيُوتِنَا، وَأَمَرُنَا أَمَرُ الْعَرَبِ الْأُوَلِ فِي الْبَرِيَّةِ أَوْ فِي التَّبَرُّزِ، فَأَقْبَلْتُ أَنَا وَأُمُّ [ص:16] مِسْطَحٍ بِنْتُ أَبِي رُهْمٍ نَمْشِي، فَعَثَرَتْ فِي مِرْطِهَا، فَقَالَتْ: تَعِسَ مِسْطَحٌ، فَقُلْتُ لَهَا: بِئْسَ مَا قُلْتِ أَتَسُبِّينَ رَجُلًا شَهِدَ بَدْرًا، فَقَالَتْ: يَا هَنَتَاهُ، أَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالُوا، فَأَخْبَرَتْنِي بِمَا يَقُولُ أَهْلُ الْإِفْكِ، فَازْدَدْتُ مَرَضًا عَلَى مَرَضٍ، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «كَيْفَ تِيكُمْ»، فَقُلْتُ: ائْذَنْ لِي آتَى أَبَوَيَّ، قَالَتْ: وَأَنَا حِينَئِذٍ أُرِيدُ أَنْ أَسْتَيْقِنَ الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِهِمَا، فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ أَبَوَيَّ، فَقُلْتُ لِأُمِّي مَا يَتَحَدَّثُ بِهِ النَّاسُ، فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّةُ، هَوِّنِي عَلَى نَفْسِكِ الشَّأْنَ فَوَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ قَطُّ وَضِيئَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا وَلَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا أَكْثَرْنَ عَلَيْهَا، فَقُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ لَقَدْ تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهَذَا؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَبِتُّ تِلْكَ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَصْبَحْتُ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ، وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ، ثُمَّ أَصْبَحْتُ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ يَسْتَشِيرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ، فَأَمَّا أُسَامَةُ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ بِالَّذِي يَعْلَمُ فِي نَفْسِهِ مِنَ الْوُدِّ لَهُمْ، فَقَالَ: أَهْلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا نَعْلَمُ وَاللَّهِ إِلَّا خَيْرًا، وَأَمَّا عَلِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ يُضَيِّقِ اللَّهُ عَلَيْكَ وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِيرٌ وَسَلِ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْكَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِيرَةَ، فَقَالَ: «يَا بَرِيرَةُ هَلْ رَأَيْتِ فِيهَا شَيْئًا مَا يَرِيبُكِ؟ »، فَقَالَتْ: لَا، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ رَأَيْتُ مِنْهَا أَمْرًا [ص:17] أَغْمِصُهُ عَلَيْهَا أَكْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنِ الْعَجِينِ، فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ، فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ، فَقَالَ: مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ بَلَغَ أَذَاهُ فِي أَهْلِي، وَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا وَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا وَمَا كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا مَعِي، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَنَا وَاللَّهِ أَعْذِرُكَ مِنْهُ إِنْ كَانَ مِنَ الْأَوْسِ ضَرَبْنَا عُنُقَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا مِنَ الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا، فَفَعَلْنَا فِيهِ أَمْرَكَ، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ رَجُلًا صَالِحًا، وَلَكِنِ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ، فَقَالَ: كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَا تَقْتُلُهُ، وَلَا تَقْدِرُ عَلَى ذَلِكَ، فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، فَقَالَ: كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ، فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِينَ، فَثَارَ الْحَيَّانِ الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَتَّى هَمُّوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَجَعَلَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا، وَمَكَثْتُ يَوْمِي لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ، وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ، فَأَصْبَحَ عِنْدِي أَبَوَايَ وَقَدْ بَكَيْتُ لَيْلَتِي وَيَوْمِي حَتَّى أَظُنُّ أَنَّ الْبُكَاءَ فَالِقٌ كَبِدِي، قَالَتْ: فَبَيْنَا هُمَا جَالِسَانِ عِنْدِي وَأَنَا أَبْكِي إِذِ اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَذِنْتُ لَهَا فَجَلَسَتْ تَبْكِي مَعِي، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ وَلَمْ يَجْلِسْ عِنْدِي مِنْ يَوْمِ قِيلَ لِي مَا قِيلَ قَبْلَهَا، وَقَدْ مَكَثَ شَهْرًا لَا يُوحَى إِلَيْهِ فِي شَأْنِي شَيْءٌ، قَالَتْ: [ص:18] فَتَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ: «يَا عَائِشَةُ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي عَنْكِ كَذَا وَكَذَا فَإِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ، فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ، فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ بِذَنْبِهِ ثُمَّ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ»، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَتَهُ قَلَصَ دَمْعِي حَتَّى مَا أُحِسُّ مِنْهُ بِقَطْرَةٍ، وَقُلْتُ لِأَبِي: أَجِبْ عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لِأُمِّي: أَجِيبِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا قَالَ، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ لَا أَقْرَأُ كَثِيرًا مِنَ الْقُرْآنِ، فَقُلْتُ: إِي وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ سَمِعْتُمْ مَا تَحَدَّثَ النَّاسُ، وَوَقَرَ فِي أَنْفُسِكُمْ، وَصَدَّقْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي بَرِيئَةٌ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي بَرِيئَةٌ لَا تُصَدِّقُونِي بِذَلِكَ، وَإِنِ اعْتَرَفَتْ لَكُمْ بِأَمْرٍ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ لَتُصَدِّقُنِّي، وَاللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلًا إِلَّا أَبَا يُوسُفَ إِذْ قَالَ: {فَصَبَرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ} [يوسف: 18]، ثُمَّ تَحَوَّلْتُ عَلَى فِرَاشِي وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يُبَرِّئَنِيَ اللَّهُ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ مَا ظَنَنْتُ أَنْ يَنْزِلَ فِي شَأْنِي وَحْيٌ وَلَأَنَا أَحْقَرُ فِي نَفْسِي مِنْ أَنْ يُتَكَلَّمَ بِالْقُرْآنِ فِي أَمْرِي، وَلَكِنِّي كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ رُؤْيَا تُبَرِّئُنِي، فَوَاللَّهِ مَا رَامَ فِي مَجْلِسِهِ، وَلَا خَرَجَ أَحَدٌ مِنَ الْبَيْتِ حَتَّى أُنْزِلَ عَلَيْهِ، فَأَخَذَهُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ مِنَ الْبُرَحَاءِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَنْحَدِرُ مِنْهُ مِثْلُ الْجُمَانِ مِنَ الْعَرَقِ فِي يَوْمٍ شَاتٍ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، [ص:19] وَهُوَ يَضْحَكُ، فَكَانَ أَوَّلُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا أَنْ قَالَ: «يَا عَائِشَةُ، احْمَدِي اللَّهَ فَقَدْ بَرَّأَكِ اللَّهُ»، فَقَالَتْ لِي أُمِّي: قَوْمِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ لَا أَقُومُ إِلَيْهِ وَلَا أَحْمَدُ إِلَّا اللَّهَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: «{إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عَصَبَةٌ مِنْكُمْ}، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ هَذَا فِي بَرَاءَتِي، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ: وَاللَّهِ لَا أُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَمَا قَالَ لِعَائِشَةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ} إِلَى قَوْلِهِ: {وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [البقرة: 218]، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي، فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ بِالَّذِي كَانَ يُجْرِي عَلَيْهِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ عَنْ أَمْرِي، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْمِي سَمْعِي وَبَصْرِي، وَكَانَتْ تُسَامِينِي، فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِالْوَرَعِ

عروہ بن زبیر ، سعید بن مسیب ، علقمہ بن وقاص، عبید اللہ بن عبداللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے واقعہ افک کے بارےمیں روایت نقل کی ہے جس سے اللہ تعالی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کو بری قرار دیا تھا ۔ زہری بیان کرتے ہیں : اس گروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت مجھے بیا ن کی ہے ان میں بعض نے اس واقعہ کو زیادہ بہتر طور پر یاد رکھا لیکن میں اسے ایک واقعہ ے طور پر نقل کروں گا میں ان میں سے ہر ایک کے الفاط کو یاد رکھا جو اس نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کئے ان میں سے بعض کی روایت ' بعض کی تصدیق کرتی ہے ان تمام حضرات نے یہ بات بیان کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی۔ نبی اکرمﷺ جب کسی سفر پر روانہ ہونے لگتے تو آپ اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تھے ان میں سے جس کا نام قرعہ نکل آتا تھا اسے اپنے ساتھ لے جاتے تھے ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے ایک جنگ پر جانے سے پہلے ہمارے درمیان قرعہ اندازی کی تو میرے نام کا قرعہ نکل آیا تو میں آپ کے ساتھ روانہ ہو گئی یہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد کی بات ہے مجھے میرے ہودج میں سوار کیا جاتا تھا میں اسی میں پڑاؤ کرتی تھی ہم لوگ سفر کررہے تھے یہاں تک کے نبی اکرم ﷺ اس غزوہ سے فارغ ہو کر واپسی کے لئے روانہ ہوگئے جب ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے ( تو پڑاؤ کے دوران ) نبی اکرم ﷺ نے رات کے وقت روانگی کا اعلان کر دیا میں اٹھی اور چلتی ہوئی لشکر سے دور چلی گئی میں نے اپنی ضرورت کو پورا کیا پھر میں اپنے پالان کی طرف واپس آئی میں نے اپنے سینہ پر ہاتھ پھیرا تو وہاں میرا پتھروں کا ہار موجود نہیں تھا میں واپس آئی اور اپنا ہا ر تلاش کرنے لگی اس کی تلاش نے مجھے روک لیا وہ لوگ آئے جو میرے ہودج کو اٹھا کر اونٹ پر رکھتے تے انہوں نے میرے ہودج کو اٹھایا اور اونٹ کے اوپر رکھ دیا جس پر میں سوار ہوتی تھی وہ یہ سمجھے کہ میں ہودج کےاندر ہوں گی اس زمانے میں خواتین ہلکی پھلکی ہوتی تھیں وہ بھاری بھرکم نہیں ہوتی تھیں ان پر گوشت نہیں چڑھا ہوتا تھا وہ تھوڑا سا کھانا کھایا کرتی تھیں اس لیے جب ان لوگوں نے ہودج کو اٹھا یا تو انہیں ا سکے وزن میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں ہوئی ان لوگوں نے اسے اٹھا لیا میں ایک لڑکی تھی جس کی عمر کم تھی ان لوگوں نے اونٹ کو اٹھایا اور روانہ ہو گئے ۔ لشکر کے روانہ ہونے کے بعد مجھے اپنا ہار مل گیا میں پڑاؤ کی جگہ پر آئی تو وہاں کوئی موجود نہیں تھا میں اپنے پڑاؤ کی جگہ پر ہی ٹھہر گئی جہاں میں پہلے تھی میں نے یہ گمان کیا کہ عنقریب وہ مجھے غیر موجو پائیں گے تو میری طرف واپس آجائیں گے ۔ا بھی میں وہاں بیٹھی ہوئی تھی کہ میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گئی صفوان بن معطل سلمی لشکر کے پیچھے آرہے تھے جب وہ صبح کے وقت میری رہائشی جگہ کے قریب پہنچے انہوں نے کسی سوئے ہوئے شخص کا ہیولیٰ دیکھا وی حجاب سے پہلے مجھےدیکھ چکے تھےانہوں نے مجھے پہچان کر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا تو میں بیدار ہو گئی میں نے اپنی چادر کے ذریعے اپنے چہرے کو ڈھانپ لیا اللہ کی قسم نہ تو انہو ں نے کوئی بات کی اور نہ ہی میں ان کے انا للہ ونا الیہ راجعون پڑھنے کے علاوہ کوئی اور کلمہ ان کی زبانی سنا ۔ انہوں نے اپنی سواری کو بٹھایا اور میں اس پر سوار ہو گئی وہ میری سواری کو لے کر روانہ ہو گئے یہاں تک کہ ہم لشکر کے پا س پہنچ گئے جنہوں نے دوپہر کے وقت پڑاؤ کیا ہوا تھا '' ت ( اس واقعہ کے حوالے سے ) جس نے ہلاکت کا شکار ہونا تھا وہ ہلاکت کا شکار ہوا اور اس جھوٹے الزام میں جس نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیاوہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا ۔ ہم لوگ مدینہ منورہ آئے میں ایک ماہ تک بیمار رہی۔ لوگوں کے درمیان جھوٹا الزام لگانے والوں میں بات پھیل چکی تھی میری اس بیماری کے دوران ایک چیز مجھے شک میں مبتلا کرتی تھی وہ یہ کہ مجھے نبی اکرمﷺ کی طرف وہ مہربانی محسوس نہیں ہو رہی تھی جو پہلے میری بیماری کے دوران مجھے آپ کی طرف سےنظر آتی تھی۔ نبی اکرم ﷺ گھر تشریف لاتے سلام کرتے پھر دریافت کرتے تمہارا کیا حال ہے؟ لیکن مجھے اس جھوٹے الزام کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا میں کمزور ہو چکی تھی ایک دن میں اور ام مسطح ''مناصع'' کی طرف (قضائے حاجت کے لئے ) نکلیں وہ ہماری قضائے حاجت کرنے کی جگہ تھی ہم صرف رات کے وقت اس طرف جایا کرتی تھیں اس زمانے میں گھروں کے قریب بیت الخلا نہیں ہوتے تھے یہ اس سے پہلے کی بات ہے ہمارا معاملہ پہلے زمانے کے عربوں کی طرح تھا (یعنی ہم کھلی جگہ پر قضائے حاجت کرتے تھے) میں اور ام مسطح چلتے ہوئے آرہے تھے اس کا پاؤں اپنی چادر میں الجھا تو اس نے کہا : مسطح برباد ہو جائے میں نے اس سے کہا : تم نے بہت بری بات کہی ہے تم نے ایک ایسے شخص کو برا کہا ہے جو غزوہ بدر میں شریک ہو چکا ہے۔ اس نے کہا: اے بھولی عورت کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو لوگوں نے بیان کی ہے پھر اس عور نے مجھے بتایا: جھوٹا الزام لگانے والوں نے کیا بات کہی ہے اس کے نتیجے میں میری بیماری میں اضافہ ہو گیا جب میں اپنے گھر واپس آئی تو نبی اکرم ﷺ میرے ہاں تشریف لائے آپ نے دریافت کیا: تمہارا کیا حال ہے۔ میں نے عرض کی: آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاؤں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں اس وقت میں دونوں کی طرف سے یقینی خبر حاصل کرنا چاہتی تھی۔ نبی اکرمﷺنے مجھے اجازت دے دی میں ماں باپ کے گھر آئی اور اپنی والدہ سے کہا : لوگ کیا بات چیت کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا : اے میری بیٹی تم پر سکون رہو! اللہ کی قسم جو عورت اپنے شوہر اس سے محبت کرتا ہو اوع اس کی سوکنیں بھی ہوں ' تو وہ اس سے زیادہ زیادتی کیا کرتی ہیں : میں نے کہا : سبحان اللہ کیا لوگ یہ بات کر رہے ہیں انہوں نے جواب دیا : جی ہاں وہ ساری رات میں یوں گزاری میرے آنسو تھمتے ہی نہیں تھے اور مجھے ذرا سئ دیر کے لئے نیند نہیں آئی پھر صبح ہوئی جب (چند تک اس بارے میں) وحی کا سلسلہ منقطع ہوا ' تو نبی اکرم ﷺنے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ اور تو اس بات کی طرف اشارہ کیا جو وہ جانتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی اہلیہ سے کتنی محبت کرتے ہیں انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ آپ کی اہلیہ کے بارے میں اللہ کی قسم ہمیں صرف بھلائی کا علم ہے البتہ علی نے یہ کہا : یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کسی تنگی کا شکار نہیں کیا ان کے علاوہ بھی بہت سی خواتین ہیں تا ہم آپ کنیز سے سوال کریں و ہ آپ کے ساتھ سچ بیانی کرے گی تو نبی اکرم ﷺ نے بریرہ کو بلوایا ۔ آپ نےفرمایا: اے بریرہ کیا تم نے اس میں کوئی ایسی چیز دیکھی جو تمہیں شک کا شکار کرے تو اس نے کہا : جی نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں ان میں اگر کوئی چیز دیکھی ہے جس کے حوالے سے مجھے ان پر اعتراض ہو تو وہ یہ ہے کہ وہ لڑکی ہیں ان کی عمر کم ہے آٹا گوندھ کر سو جاتی ہیں بکری آتی ہے اور اسے کھا لیتی ہے۔ اس دن نبی اکرمﷺ ( لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کے لئے ) کھڑے ہوئے آپ نے عبداللہ بن ابی کی شکاہت کرتے ہوئے کہا اس حوالے سے کون مجھے معذور قرار دے گا ' جس کی پہنچائی ہوئی اذیت میری بیوی تک پہنچ گئی ہے اللہ کی قسم مجھے اپنی بیوی کے بارے میں صرف بھلائی کا علم ہے اور ا ن لوگوں نے جس شخص کا ذکر کیا ہے اس کے بارے میں بھی مجھے صرف بھلائی کا علم ہے وہ میری بیوی کے گھر میں صرف میرے ساتھ ہی داخل ہوا اس پر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ اللہ کی قسم میں آپ کو اس کی طرف سے بدلہ دلاؤں گا اگر وہ شخص اوس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے' تو ہم اس کی گردن اڑا دیں دیں گے اگر وہ ہمارے بھائی خزرج قبیلے سے تعلق رکھتا ہے تو آپ ہمیں حکم دیں ہم اس بارے میں اپ کے حکم کی فرمانبردار کریں گے ' تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے وہ ایک نیک آدمی تھے لیکن اس وقت قبائلی حمیت ان پر غالب آگئی انہوں نے کہا: اللہ کی قسم تم غلط کہہ رہے ہو تم اسے قتل نہیں کرو گے اور نہ ہی تم ایسا کر سکتے ہو ۔ اس پر اسید بن حضیر کھڑے ہوئے : اور بولے تم جھوٹ کہہ رہے ہو اللہ کی قسم ہم اس شخص کو ضرور قتل کریں گے تم ایک منافق ہوا اور منافقوں کی طرف سے جھگڑا کرہے ہو تو اوس اور خزرج قبیلے کے درمیان جھگڑا ہو گیا ' یہاں تک کہ انہوں نے (ہاتھاپائی ) کا ارادہ کیا ۔ نبی اکرم ﷺ اس وقت منبر پر موجود تھے اپ نے ان کو خاموش کروانے کی کوشش کی یہاں تک کہ وہ لوگ خاموش ہو گئے ۔ میں نے وہ دن اس طرح گزارا کہ میرے آنسو تھمتے نہیں تھے مجھے ذرا سی دیر کے لئے نیند نہیں آئی صبح کے وقت میں اپنے ماں باپ کے ہاں موجود تھی مں رات بھر اور اس کے بعد اگلا پورا دن روتی رہی ' یہاں تک کہ مجھے یوں لگتاتھا جیسے رونا میرے جگر کو چیر دے گا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میرے والدین میرے والدین میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے میں رو رہی تھی کہ اسی دوران ایک انصاری خاتون نے اندر آنے کی اجازت مانگی میں اسے اجازت دی ' تو وہ بھی بیٹھ کر میرے ساتھ رونے لگی ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ نبی اکرم ﷺ گھر تشریف لائے آپ تشریف فرما ہوئے جب سے میرے بارے میں یہ بات کی گئی اس کے بعد سے آپ اس دن سے پہلے کبھی میرے پاس اس طرح نہیں بیٹھے تھے ایک مہینہ گزر چکا تھا اس دوران میرے معاملے میں آپ کی طرف کوئی وحی نازل نہیں ہوئی تھی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے کلمہ شہادت پڑھا اور فرمایا: اے عائشہ امابعد تمہارے بارے میں مجھ تک اس اس طرح کی بات پہنچی ہے اگر تم بری ذمہ ہو تو اللہ تعالی تمہاری برأت کا اظہار کر دے گا اور اگر تم نے برائی کا ارادہ کیا تھا تو تم اللہ تعالی سے مغفرت کرواس کی بارگاہ میں توبہ کرو کیونکہ جب بندہ اپنے گنا ہ کا اعتراف کر لے اور تو بہ کے لے ' تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے 'جب نبی اکرم ﷺ نے اپنی بات مکمل کی ' تو میرے آنسو تھم گئے یہاں تک کہ مجھے آنسوؤں میں سے ایک قطرہ بھی محسوس نہیں ہوا میں نے اپنے والد سے کہا : میری طرف سے نبی اکرم ﷺ کو جواب دیجئے انہوں نے کہا : اللہ کی قسم مجھے نہیں آرہی کہ میں نبی اکرمﷺ سے کہا کہوں ۔ میں نے اپنی والدہ سے کہا: میری طرف سے نبی اکرم ﷺ کو جواب دیجئےانہوں نے کہا :اللہ کی قسم مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں نبی اکرم ﷺ سےکیا کہوں ' تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ایک لڑکی ہوں میری عمر زیادہ نہیں ہے مجھے قرآ ن بہت زیادہ نہیں آتا لیکن میں یہ کہتی ہوں کہ اللہ کی قسم مجھے اس بات کا پتہ ہے کہ آپ لوگوں نے وہ بات سنی جو لوگ کرتے ہیں اور وہ بات آپ کے ذہن میں پختہ ہو گئی ہے اور آپ نے اس کی تصدیق کر دی ہے میں آپ سے یہ کہوں کہ میں اس سے بری ذمہ ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں بری ہوں تو آپ میری اس بات کو سچ نہیں سمجھیں گے اور اگر میں آپ کے سامنے ایک ایسی چیز کے بارے میں اعتراف کو لوں ' جو بات اللہ تعالی جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ اس بارے میں سچا سمجھیں گے اللہ کی قسم اس بارے میں مجھے اپنے اور آپ کے بارے میں اس کے علاوہ اور کوئی مثال نہیں سوجھ رہی جو حضڑت یوسف ؑ کے والد نے کہا تھا : '' اب صبر ہی بہتر ہے اور اللہ تعالی سے ہی مدد مانگی جا سکتی ہے اس چیز کے بارے میں ' جو تم بیان کررہے ہو''۔ پھر میں اپنے بستر پر لیٹ گئی مجھے یہ امید تھی کہ اللہ تعالیٰ میری مدد کے بارے میں (حکم) نازل کر دے گا لیکن اللہ تعالیٰ کی قسم اس بات کا گما ن نہیں تھا کہ میرے معاملے کے بارے میں وحی نازل ہو گی میرے خیال میں میں اس بارے میں بہت حقیر ہوں کہ قرآن میں میرے معاملے میں کلام کیا جائے مجھے صرف یہ امید تھی کہ نبی اکرم ﷺ خواب میں کوئی ایسی چیز دیکھیں ' جق میری برأت کا اظہار کر دے گی اللہ کی قسم ابھی نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی اس وقت آپ پر وہی کیفیت طاری ہوئی جو وحی کے نزول کے وقت ہوتی ہے' یہاں تک کہ سخت سردی کے دن بھی آپ کی پیشانی سے موتیوں کی طرح (پسینے کے قطرے) پھوٹ پڑتے تھے جب نبی اکرم ﷺ کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ مسکرارہے تھے ۔ سب سے پہلی بات آپ نے یہ کہی اے عائشہ تم اللہ تعالی کی حمدبیان کرو کیونکہ اس نے تمہیں بری قرار دے دیا ہے ۔ میری والدہ نے مجھ سے کہا : ت اٹھ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس جاؤ میں نے کہا : نہیں اللہ کی قسم میں اٹھ کر ان کی طرف نہیں جاؤں گی اور میں صرف اللہ تعالیٰ کی حمدبیان کروں گی' تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی۔ ''بے شک تم میں سے ایک گروہ نے جو جھوٹا الزام لگایا ''۔ جب اللہ تعالی نے میری برات کے بارے میں یہ حکم نازل کر دیا ' تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جو مسطح کے ساتھ اپنی رشتے داری کی وجہ سے اسے خرچ دیا کرتے تھے انہوں نے یہ کہا: اللہ کی قسم ! مسطح نے عائشہ کے بارے میں جو کچھ کہا ہے اس کے بعد اب میں کبھی اس پر کچھ خرچ نہیں کروں گا تو اللہ تعالہٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی۔ ''تم میں سے فضیلت اور گنجائش رکھنے والے لوگ یہ قسم نہ اٹھائیں ''۔ یہ آیت ' یہاں تک ہے ''اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا اوررحم کرنے والا ہے''۔ تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم میں اس بات کو پسند کرتا ہو ں کہ اللہ تعالی میری مغفرت کرے ' تو پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ مسطح کی اسی طرح مدد کرنا شروع کر دی جس طرح پہلے کیا کرتے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے سیدہ زینب بنت حجش رضی اللہ عنہ سے میرے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ میں اپنی سماعت اور بصارت کو مخفوظ قرار دیتی ہوں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : وہ میر ے مقابلے کی وعوے دار تھیں ' لیکن اللہ تعالی نے ان کی پرہیز گاری کی وجہ سے انہیں (جھوٹا الزام لگانے سے ) محفوظ رکھا ۔

عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ حِينَ ← قَّاصٍ وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ بْنِ. ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَعِدَّةٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7099

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7100

قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ، وَحَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، مِثْلَهُ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقو ل ہے۔

عَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، مِثْلَهُ ← عُرْوَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو الرَّبِيعِ، وَحَدَّثَنَا فُلَيْحٌ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7100

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7101

قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، مِثْلَهُ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقو ل ہے

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، مِثْلَهُ ← رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ← فُلَيْحٌ، ← أَبُو الرَّبِيعِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7101

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7102

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ الْقُطَيْعِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا أُنْزِلَ عُذْرِي مِنَ السَّمَاءِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْشِرِي فَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَكِ»، قُلْتُ: بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِكَ

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میرے بری ذمہ ہونے کے بارے میں آسمان سے حکم نازل ہوا' تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تمہارے لیے خوشخبری ہے اللہ تعالی نے تمہارے بری ذمہ ہونے کے بارے میں حکم نازل کر دیا ہے' تو میں نے کہا: میں اللہ کی حمد بیان کرتی ہو ں آپ کی حمد بیان نہیں کرتی۔

لَمَّا أُنْزِلَ عُذْرِي مِنَ السَّمَاءِ، ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← هُشَيْمٌ ← أَبُو مَعْمَرٍ الْقُطَيْعِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7102

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7103

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ رُومَانَ وَهِيَ أُمُّ عَائِشَةَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ قِيلَ لَهَا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَهَا - يَعْنِي عَائِشَةَ -، قَالَتْ: بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ عَائِشَةَ إِذْ دَخَلَتْ عَلَيْنَا امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَإِذَا هِيَ تَقُولُ: فَعَلَ اللَّهُ بِفُلَانٍ كَذَا، فَقَالَتْ: لِمَ قَالَتْ: لِأَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ حَدَّثَ الْحَدِيثَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَيُّ حَدِيثٍ؟ فَأَخْبَرْتُهَا، قَالَتْ: فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَتْ: نَعَمْ، فَخَرَّتْ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا، فَمَا أَفَاقَتْ إِلَّا وَعَلَيْهَا حُمَّى نَافِضٌ، قَالَتْ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟ » قَالَتْ: فَقُلْنَا: [ص:23] حُمَّى أَخَذَتْهَا، قَالَ: «فَلَعَلَّهُ مِنْ أَجْلِ حَدِيثٍ تُحَدِّثَ بِهِ»، قَالَتْ: فَقَعَدَتْ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَئِنْ حَلَفْتُ لَا تُصَدِّقُونِي وَلَئِنِ اعْتَذَرْتُ لَا تَعْذِرُونِي، فَمَثَلِي وَمَثَلُكُمْ مِثْلُ يَعْقُوبَ وَبَنِيهِ: {وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ} [يوسف: 18]، قَالَتْ: وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ مَا أَنْزَلَ فَأَخْبَرَهَا، فَقَالَتْ: بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِ أَحَدٍ

مسروق بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس خاتون سے دریافت کیا گیا : اللہ تعالی نے ان کے یعنی سید عائشہ رضی اللہ عنہ کے بری ذمہ ہونے کے بارے میں کیا نازل کیا ' تو سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں عائشہ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی اسی دوران ایک انصاری عورت ہمارے پاس آئی وہ کہہ رہی تھی : اللہ تعالیٰ فلاں کے ساتھ اس طرح کرے (یعنی اس کو بددعا دے رہی تھی ) تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم نے یہ کیوں کہا ہے' اس نے جواب دیا اس کی وجہ یہ ہے اس نے وہ بات کہی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کون سی بات تومیں نے عائشہ کو اس بارے میں بتایا اس نے دریافت کیا : کیا نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی ہے؟ سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں تو عائشہ گر پڑی اور اس پر بے ہوشی طاری ہو گئی جب اسے ہوش آیا تو اسے انتہائی تیز بخار تھا سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرمﷺ تشریف لائے آپ نے دریافر کیا : اسے کیا ہوا ہے؟ ہم نے عرض کی : اسے بخار ہو گیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : شاید یہ اس بات کی وجہ سے ہوا ہے جو اس کے بارے میں کی جارہی ہے سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں تو عائشہ بیٹھ گئی اس نے کہا : اللہ کی قسم اگر میں قسم اٹھا لوں ( کہ میں بری ذمہ ہوں ) تو آپ مجھے سچا قرار نہیں دیں گےوراگر میں بری ذمہ ہونے کا اظہار کروں تو آپ میرا عذر قبول نہیں کریں گے میری اور آپ کی مثال اسی طرح ہے جو حضرت یعقوب ؑ اور ان کے بیٹوں کی تھی ۔ ''اللہ تعالی سے ہی مدد لی جا سکتی ہے' اس بارے میں جو تم بیان کر رہے ہو''۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں تو اللہ تعالی نے نبی اکرم ﷺ پر جو کچھ نازل کرنا تھا نازل کیا نبی اکرم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اللہ کی حمد بیان کروں گی کسی دوسرے کی حمد بیان نہیں کروں گی۔

مَسْرُوقٍ ← شَقِيقٍ، ← حُصَيْنٍ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7103

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7104

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «جَلَسَ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً، فَتَعَاهَدْنَ وَتَعَاقَدْنَ أَنْ لَا يَكْتُمْنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا»، [ص:26] قَالَتِ الْأُولَى: زَوْجِي لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ، لَا سَهْلٌ فَيُرْتَقَى، وَلَا سَمِينٌ فَيُنْتَقَلُ، وَقَالَتِ الثَّانِيَةُ: زَوْجِي لَا أَبُثُّ خَبَرَهُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا أَذَرَهُ إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ، [ص:27] وَقَالَتِ الثَّالِثَةُ: زَوْجِيَ الْعَشَنَّقُ إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ، وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ، وَقَالَتِ الرَّابِعَةُ: زَوْجِي كَلَيْلِ تِهَامَةَ لَا حَرٌّ، وَلَا قُرٌّ، وَلَا مَخَافَةَ، وَلَا سَآمَةَ، وَقَالَتِ الْخَامِسَةُ: زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ، وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ، وَلَا يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ، وَقَالَتِ السَّادِسَةُ: زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ، وَإِنْ شَرِبَ اشْتَفَّ، وَإِنِ [ص:28] اضْطَجَعَ الْتَفَّ، وَلَا يُولِجُ الْكَفَّ لِيَعْلَمَ الْبَثَّ، وَقَالَتِ السَّابِعَةُ: زَوْجِي غَيَايَاءُ أَوْ عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ شَجَّكِ، أَوْ فَلَّكِ، أَوْ جَمَعَ كَلًّا لَكِ، [ص:29] وَقَالَتِ الثَّامِنَةُ: زَوْجِي الْ مَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ، وَالرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ، قَالَتِ التَّاسِعَةُ: زَوْجِي رُفَيْعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ النِّجَادِ عَظِيمُ الرَّمَادِ قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِ، [ص:30] قَالَتِ الْعَاشِرَةُ: زَوْجِي مَالِكٌ، فَمَا مَالِكٌ؟ مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ الْمَبَارِكِ قَلِيلَاتُ الْمَسَارِحِ، إِذَا سَمِعْنَ أَصْوَاتَ الْمَزَاهِرِ، أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ، قَالَتِ الْحَادِيَةُ عَشْرَةَ: زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ، وَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيِّ أُذُنِي، وَمَلَأَ مِنْ شَحْمِ عَضُدَيَّ فَبَجَّحَنِي فَبَجِحَتْ إِلَيَّ نَفْسِي وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشَقٍّ، فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ وَأَطِيطٍ وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ، فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلَا أُقَبَّحُ، وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُ، [ص:31] وَأَشْرَبُ فَأَتَقَمَّحُ، [ص:32] أُمُّ أَبِي زَرْعٍ، فَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ عُكُومُهَا رَدَاحٌ، وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ، ابْنُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ؟ مَضْجَعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ وَابْنَةُ أَبَى زَرْعٍ، فَمَا ابْنَةُ أَبِي زَرْعٍ؟ طَوْعُ أَبِيهَا وَطَوْعُ أُمِّهَا وَمِلْءُ كِسَائِهَا وَغَيْظُ جَارَتِهَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ، فَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ؟ لَا تَبُثُّ حَدِيثَنَا [ص:33] تَبْثِيثًا، وَلَا تُنَقِّثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا، وَلَا تَمْلَأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا، قَالَتْ: خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ، وَالْأَوْطَابُ تُمْخَضُ، فَلَقِيَ امْرَأَةً مَعَهَا وَلَدَانِ لَهَا كَالْفَهْدَيْنِ يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ، [ص:34] فَطَلَّقَنِي وَنَكَحَهَا، فَنَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلًا سَرِيًّا، رَكِبَ شَرِيًّا، وَأَخَذَ خَطِّيًّا، وَأَرَاحَ عَلَيَّ نَعَمًا ثَرِيًّا، وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا، وَقَالَ: [ص:35] كُلِي أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَكِ، فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ شَيْءٍ أَعْطَانِيهِ مَا بَلَغَ أَصْغَرَ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ»، قَالَ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، سَأَلْتُ عِيسَى بْنَ يُونُسَ، عَنِ الدَّائِسِ، فَقَالَ: هُوَ الْأَنْدَرُ، وَالْمُنَقِّ: الْغِرْبَالُ «

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں گیارہ عورتیں بیٹھیں انہوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ وہ اپنے شوہر وں کی باتوں کے بارے میں کچھ نہیں چھپائیں گی۔ ''پہلی عورت نے کہا: میرا شوہر دشورار گزار پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہوا اونٹ کا گوشت ہے نہ' تو وہ پہاڑ اتنا آسان ہے کہ اس پر چڑھا جا سکے اور نہ گوشت اتناموٹا تازہ ہے کہ است منتقل کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ دوسری عورت نے کہا: میرا شوہر ایسا ہے کہ میں اس کے بارے میں اطلاع کو پھیلا نہیں سکتی کیو نکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اگر میں اس کا ذکر کروں گی ' تو اس کی کوئی بھی بات نہیں چھوڑوں گی اس کی ہر خوبی خامی بیان کروں گی ۔ تیسری عورت نے کہا: میرا شوہر بیوقوف ہے' اگر میں بات کروں تو مجھے طلاق دے دی جائے اور اگر خاموش رہوں تو میں لٹکی رہوں ۔ چوتھی نے کہا: میرا شوہر تمہامہ کی رات کی طرح ہے نہ گرم ہے نہ ہی ٹھنڈا ہے نہ ہی خوف زدہ کرنے والا ہے اور نہ ہی افسو کرنے والا ہے۔ پانچویں نے کہا : میرا شوہر اگر اندر آئے تو چیتا ہے اگر باہر جائے تو شیر ہے وہ اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرتا جو اس نے عہد لیا (یعنی جو ہدایت کی تھی یا کام کہا تھا ) چھٹی نے کہا : میرا شوہر ایسا ہے اگر کھائے تو سب کھا جاتا ہے ' اگر پئے تو سب پی جاتا ہت اگر لیٹے تو سویا رہتا ہے اور وہ اپنا ہاتھ (لحاف کے اند ر ) داخل نہیں کرتا تاکہ اسےمیری بے چینی کا احسا س ہو۔ ساتویں نے کہا : میرا شوہر صحبت نہیں کر سکتا اور بے وقوف ہے ہر طرح کی بیماری اسے لاحق ہے وہ تمہیں زخمی بھی کر سکتا ہے اور تمہارا (کوئی عضو) توڑ بھی سکتا ہے اور تمہیں دونوں طرح سے تکلیف بھی پہنچا سکتا ہے۔آٹھویں نے کہا : میرا شوہر چھوے میں (خرگوش کی طرح نرم ہے) اور اس کی خوشبو زرنب کی طرح عمد ہ ہے ۔ نویں عورت نے کہا میرا شوہر بلند ستونوں والا ہے طویل محفل والا ہے زیادہ راگ والا ہے اس کا گھر چوپال کے قریب ہے ۔ دسویں عورت نے ہا: میرہر مالک ہے مالک کی کیا بات کروں مالک اس ست زیادہ بہتر ہے (یعنی اس کے بارے میں جو بھی کہوں اس سے زیادہ بہتر ہے) اس کے پاس بہت سے اونٹ ہیں ' جو باڑے میں بیٹھے رہتے ہیں وہ چراہ گاہ کی طرف کم جاتے ہیں جب وہ باجوں کی آواز سنتے ہیں تو انہیں یقین ہو جاتا ہے اب ان کی موت کا وقت آگیا ہے۔ گیارہوں عورت نے کہا: میرا شوہر ابو زرع ہے ابو زرع کی کیا بات کہوں اس نے زیورات سے میرے کام لٹکا دئیے ہیں اور میرے بازو چربی ے بھر دئیے ہیں اس نے مجھے اتنا خوش کیا اور اتنی خوشیاں دیں کہ میں یہ بھول گئی کہ اس نے مجھے چند بکریوں والوں کے پاس پایا تھا اور پھر مجھے ایک ایسے گھر میں لے آیا جہاں گھوڑے، اونٹ ، بیل اور کسان موجود تھے اس کے گھر میں اگر میں کچھ کہتی تو مجھے برا نہیں کپا جاتا اگر میں سوتی تو صبح کر دیتی اور اگر پیتی تو سیر ہا جاتی۔ ابو زرع کی ماں ' ابو زرع کی ماں کے کیا کہنے اس کے بڑے برتن بھرے رہتے ہیں اور اس کا گھر کشادہ ہے ابو زرع کا بیٹا ابو زرع کے بیٹے کے کہا کہنے اس کا بستر نرم اور نازک ہے اور وہ دبلا پتلا سا ہے بکری کے بچے کی دستی اس کا پیٹ بھر دیتی ہے ابو زرع کی بیٹی ابو زرع کی بیٹی کے کیا کہنے اپنے باپ کی فرمابنردار اپنی ماں کی فرمانبردار بھاری بھرکم جسم کی مالک اور اپنی پڑوسن کے لئے تاؤ دلانے والی شخصیت ۔ ابو زرع کی کنیز ابو زرع کی کنیز کےکیا کہنے وہ ہماری باتیں بیان نہیں کرتی اور ہماری اجازت کے بغیر کھانے کی کوئی چیز نہیں کھاتی اور ہمارے گھر میں گندگی کی اکٹھی نہیں ہونے دیتی۔ اس عورت نے بتایا : ایک دن ابو زرع باہر نکلا اس وقت برتنوں میں دودھ دوہا جا رہا تھا ابو زرع کی ملاقات ایک عورت سے ہوئی جس کے ساتھ اس کے دو بچے بھی تھے جو دو چیتوں کی مانند تھے وہ اس پہلو کے نیچے دواناروں کے ساتھ کھیل رہے تھے تو ابو زرع نے مجھے طلاق دے دی اور اس عورت کے ساتھ شادی کر لی۔ ابو زرع کے بعد میں نے ایک ایسے شخص کے ساتھ شادی کی جو سردار تھا ۔ شہسوار تھا ' سپاہی تھا اس نے مجھ بہت سی نعمتیں عطا کیں اس نے مجھے ہر طرح کی نعمت کا جوڑا دیا اور کہا : ام زرع تم کھاؤ اور اپنے میکے والوں کو بھی بھیجو اس نے مجھے جو کچھ دیا اگر میں اس سب کو جمع کروں تو پھر بھی یہ ابو زرع کے چھوٹے برتن تک نہیں پہنچتا ۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : میں تمہارے لیے اسی طرح ہوں ' جس طرح ابو زرع ام زرع کے لئے تھا ۔ ہشام بن عمار کہتے ہیں : میں نے عیسیٰ بن یونس سے دریافت کیا: ( اس روایت میں استعمال ہونے والے لفظ ) أس سے کیا مراد ہے انہوں نے کہا : ''وائش''سے مراد ''اندر'' ہے اور ''منق'' سے مراد چھلنی ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7104

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7105

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ: اجْتَمَعَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلْنَ فَاطِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَ لَهَا: قُولِي لَهُ: إِنَّ نِسَاءَكَ قَدِ اجْتَمَعْنَ إِلَيَّ وَهُنَّ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي بِنْتِ أَبِي قُحَافَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَعِي فِي مِرْطٍ، فَقَالَتْ لَهُ: إِنَّ نِسَاءَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ وَقَدِ اجْتَمَعْنَ وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي بِنْتِ أَبِي قُحَافَةَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُحِبِّينِي؟ »، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «فَأَحِبِّيهَا»، فَرَجَعَتْ إِلَيْهِنَّ فَأَخْبَرَتْهُنَّ بِمَا قَالَ لَهَا، فَقُلْنَ: إِنَّكِ لَمْ تَصْنَعِي شَيْئًا، فَارْجِعِي إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: لَا، وَاللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبَدًا وَكَانَتْ بِنْتُ أَبِيهَا حَقًّا، فَأَرْسَلْنَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ بَيْنَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي بِنْتِ أَبِي قُحَافَةَ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيَّ [ص:39] فَشَتَمَتْنِي، فَسَكَتُّ أُرَاقِبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْظُرُ إِلَى طَرْفِهِ هَلْ يَأْذَنُ لِي أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ فَشَتَمَتْنِي حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا، فَاسْتَقْبَلْتُهَا فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ أَفْحَمْتُهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ»، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَلَمْ أَرَ «امْرَأَةً قَطُّ أَكْثَرَ خَيْرًا، وَأَكْثَرَ صَدَقَةً، وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ، وَأَبْذَلَ لِنَفْسِهَا فِي شَيْءٍ تَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا مِنْ زَيْنَبَ مَا عَدَا سُورَةً مِنْ غَرْبِ حِدَّةٍ كَانَ فِيهَا يُوشِكُ مِنْهَا الْفَيْئَةَ» *

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان ن کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ کی ازواج اکٹھی ہوئیں اور انہوں نے سیدہ فاطمہ کو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھیجا ان خواتین نے سیدہ فاطمہ سے یہ کہا: تم نبی اکرم ﷺ کا یہ کہنا : آپ کی بیویاں میرے پاس اکٹھی ہو کر آئیں وہ آپ سے یہ مطالبہ کر رہی تھیں کہ آپ ابو قحافہ کی صاحب زادی (یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ) کے بارے میں انصاف سے کا م لیجئے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں نبی اکرم ﷺ میرے ساتھ لحاف میں موجود تھے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو یہ گزارش کی کہ آپ کی ازواج نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے وہ اکٹھی ہوئی تھیں اور انہوں نے آپ کو یہ واسطہ دیا ہے کہ آپ ابو قحافہ کی صاحب زادی کے بارے میں انصاف سے کام لیجئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : پھر تم اس سے(یعنی عائشہ سے) محبت کرو' تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ ان خواتین کے پاس واپس گئیں نبی اکرمﷺ نے ان سے جو فرمایا تھا اس کے بارے میں انہیں بتایا تو ان خواتین نے کہا: آپ نے کچھ نہیں کیا آپ دوبارہ نبی اکرمﷺ کے پاس جائیں تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں اللہ کی قسم اب میں اس بارے میں کبھی نبی اکرمﷺ کے پاس نہیں جاؤں گی۔

اجْتَمَعَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ فَأَرْسَلْنَ فَاطِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ فَقُلْنَ لَهَا: قُولِي لَهُ: ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7105

chevron_left Previous
1…202122…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr