ابو عثمان نہدی بیان کرتے ہیں : حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ کیا' تو کفار قریش نے ان سے کہا : تم ہمارے پاس مفلوک ہونے کے عالم میں آئے تھے ہمارے پاس تمہارا مال زیادہ ہو گیا اور تم اس مرتبے تک پہنچ گئے جو تمہارا ہے اب تم اپنی جان اور مال کو لے کر نکلنا چاہتے ہو اللہ کی قسم ایسا نہیں ہو گا ۔ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : تمہارا کیا خیال ہے ' اگر میں تم لوگوں کو اپنا مال دے دوں ' تو کیا تم میرا راستہ چھوڑ دو گے۔ انہوں نے کہا: ہاں توحضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں میں نے اپنا مال تمہیں دیا ۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم ﷺ کو ملی ' تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : صہیب نے فائدہ حاصل کر لیا صہیب نے فائدہ حاصل کر لیا ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7082
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7083
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سب سے پہلے سات افراد نے اسلام کا اظہار کیا ۔ نبی اکرم ﷺ ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ،حضرت عمار رضی اللہ عنہ ان کی والدہ سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہ ، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہ جہاں تک نبی اکرم ﷺ کا تعلق ہے' تو اللہ تعالی نے آپ کے چچاجناب ابوطالب کی وجہ سے آپ کو (کفار مکہ کے) شر سے محفوظ رکھا جہاں تک حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے ' تو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی وجہ سے انہیں محفوظ رکھا لیکن جہاں تک باقی لوگوں کا تعلق ہے ' تق مشرکین نے انہیں پکڑلیا انہیں لوہے کی زر ہیں پہنائی گئیں اور انہیں سورج کی گرمی میں چھوڑ دیا گیا ان لوگوں میں سے ہر ایک نے وہ کیا جو وہ لوگ چاہتے تھے صرف حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف تھا کیونکہ اللہ کی راہ میں انہوں نے اپنی ذات کو بے حیثیت کر دیا تھا اور اپنی قوم کے لئے اپنی ذات کو بے حیثیت کر دیا تھا ۔ ان لوگوں نے انہیں پکڑا اور بچوں کے سپرد کر دیا ' تو مکہ کی گھاٹیوں میں وہ بچے ان کے اردگرد چکر لگاتے تھے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ یہ کہتے تھے (اللہ) ایک ہے (اللہ ) ایک ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7083
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7084
حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
''مجھے جنت میں داخل کیا گیا ' تو میں نے اپنے آگے کےقدموں کی آہت سنی میں نے دریافت کیا : یہ کون ہے' تو جبرائیل نے بتایا : یہ بلال
ہے''۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7084
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7085
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فجر کی نماز کے وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : اے بلال تم مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتاؤ جو تم نے مسلمان ہونے کے بعد کیا اور تم نے اس کے حوالے سے (زیادہ ثواب کی) امید کی ہو کیونکہ میں نے گزشتہ رات جنت میں اپنےسے آگے تمہارے قدموں کی آہٹ سنی ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس کے بارے میں مجھے زیادہ امید ہو البتہ یہ ہے کہ جب میں وضو کرتا ہوں ' تو مکمل وضو کرتا ہوں خواہ رات یا دن کا کوئی بھی حصہ ہو اور پھر اس کے بعد جتنا میرے نصیب میں ہوا اتنے نوافل ادا کرتا ہوں ۔
ابو اسامہ نامی راوی نے اس روایت کا اقرار کرتے ہوئے کہا جی ہاں ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7085
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7086
ابن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جب میں جنت میں داخل ہوا ' تو میں نے قدموں کی آہٹ سنی میں نے دریافت کیا : یہ کون ہے؟ فرشتوں نے بتایا : یہ بلال ہے پھر میں ایک محل کے پاس سے گزرا جو بہت خوبصورت بنا ہوا تھا میں نے دریافت کیا : یہ کس کا ہے تو فرشتوں نے بتایا : یہ حضرت محمد ﷺ کی امت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا ہے۔ میں نے کہا: میں محمد ہوں' یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے جواب دیا : یہ عربوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا ہے۔ میں نے کہا : میں بھی عرب ہوں یہ محل کس کا ہے۔ فرشتوں نے بتایا : یہ عمر بن خطاب کا ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : تم کس وجہ سے مجھ سے جنت میں آگے ہو۔ انہوں نے عرض کی : میں جب بھی بے وضو ہوتا ہوں وضو ہوتا ہوں وضو کر لیتا ہوں اور جب بھی وضو کرتا ہوں دو نواف ادا کرتا ہوں ۔
نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اگر مجھے تمہارے مزاج کی تیزی کا خیال نہ ہوتا تو میں محل کے اند چلا جاتا ۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ رضی اللہ عنہ میں آپ کے خلاف مزاج کی تیزی نہیں دکھا سکتا ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7086
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7087
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أبيه أَنّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ خَشْخَشَةً أَمَامَهُ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالُوا بِلالٌ فَأَخْبَرَهُ وَقَالَ بِمَ سَبَقْتَنِي إِِلَى الْجَنَّةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَحْدَثْتُ إِِلا تَوَضَّأْتُ، وَلاَ تَوَضَّأْتُ إِِلا رَأَيْتُ أَنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ رَكْعَتَيْنِ أُصَلِّيهُمَا قَالَ صلى الله عليه وسلم «بِهَا».
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے (جواب میں ) اپنے آگے کسی کے قدموں کی آہٹ سنی ' تو دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ فرشتوں نے بتایا : بلال ہے۔
نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال کو اس بارے میں بتایا اور فرمایا تم کس وجہ سے جنت میں مجھ سے آگے ہو۔ انہوں نے عرض کی :یا رسول اللہ رضی اللہ عنہ میں جب بھی بے وضو ہوتا ہوں ' تو وضو کر لیتا ہوں اور جب بھی وضو کرتا ہوں ' تو مجھے یوں لگتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے لئے دو رکعات (تحیۃ الوضو) ادا کرنی چاہئیں ' نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسی کی وجہ سے ہو گا ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7087
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7088
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی نبی اکرم ﷺ نے (بدر کے کفار سے تعلق رکھنے والے ) مقتولین کے بارے میں حکم دیا ' تو انہیں ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آ پ ان کے پاس ٹھہرے آپ نے فرمایا : اے گڑھے والو! تمہارے پروردگار نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا کیا تم اسے حق پا لیا ہے؟ میرے پرورگار نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا میں نے تو اسے حق پا لیا ہے۔ ہم لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ آپ ایسی قوم کے ساتھ گفتگو کررہے ہیں جو مر چکے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : یہ لوگ یہ بات جانتے ہیں' کہ میں نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ حق ہے۔ جب حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ان کے والد ایک سردار تھا اور بردبارشخص تھا مجھے یہ امید تھی کہ اللہ تعالیٰ اسلام کی طرف اس کی رہنمائی کر دے گا لیکن جب اسے اس طرحڈالا جا رہاہے' اس چیز نے مجھے غمگین کر دیا ہے' تو نبی اکرمﷺ نے حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے لئے دعا خیر کی۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7088
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7089
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7089
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7090
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے یہ غزوہ حنین کے موقع کی بات ہے وہ نبی اکرمﷺ کے گھڑ سواروں کے امیر تھے۔ ابن اظہر بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا کہ آ یہ فرما رہےتھے : خالد بن ولید کی رہائشی جگہ کے بارے کون بتائے گا' ابن ازہر کہتے ہیں ' تو میں چل پڑامیں نبی اکرم ﷺ کے آگےچلتا ہو ا آیا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) دوڑتا ہوا آیا میں ان دنوں قریب بلوغ تھا میں نے کہا : کون شخص خالد بن ولید کی رہائشی جگہ تک رہنمائی کرے گا ' یہاں تک کہ ہماری رہنمائی ان کی رہائشی جگہ تک کی گئی تو وہ وہاں بیٹھے ہوئے تھے انہوں نےاپنی پالان کے پچھلے حصے کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی۔ نبی اکرمم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے آپ نے ان کے زخم کا جائزہ لیا ۔
كان عبد الرحمن بن أزهر ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7090
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7091
حضرت عبداللہ بن ابو اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن ٰ بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی شکایت لگائی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اے خالد ! تم نے اہل بدر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو کیوں تکلیف پہنچائی ہے؟ اگر تم احد پہاڑ جتنا سونا ( اللہ کی راہ میں )خرچ کرو ۔ تو تم پھر بھی اس کے عمل تک نہیں پہنچ سکتے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ یہ میرے خلاف باتیں کر ہےتھے ' تو میں نے انہیں ' جواب دیا ہے: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ خالد کو تکلیف نہ پہنچاؤ کیو نکہ وہ اللہ کی تلوار ہے جسے اللہ تعالی نے کفار پر سونت رکھا ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7091
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7092
حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گھبراہٹ کا شکا ر ہو گئے ' تو وہ ادھر ادھر تقسیم ہو گئے میں نے حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سالم کو دیکھا کہ اس نے تلوار نکال لی ہے اور مسجد میں بیٹھا ہے ' جب میں نےاسے دیکھا تو میں نے بھی ویسا ہی کیا جیسا اس نے کیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺتشریف لائے آپ نے مجھے اور سالم کو دیکھا پھر لوگ بھی آگئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے لوگو ! کیا وجہ ہے کہ تم گھبرا کر اللہ اور اس کے رسول کی طرف نہیں آئے اور کیا وجہ ہے کہ تم نے وہ کیوں نہیں کیا جو ان دو مومن آدمیوں نے کیا ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7092
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7093
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرمﷺ نے مجھ سے فرمایا : میں نے تمہیں خواب میں دو مرتبہ دیکھا ایک شخص (یعنی فرشتہ) ریشمی کپڑے میں تمہیں اٹھا کر لایا اور بولا یہ آپ کی اہلیہ ہیں میں نے اس کپڑے کو ہٹایا تو اندر تم تھیں ۔ میں نے کہا: اگر یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے تو اللہ تعالی اسے پوا کرے گا ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7093