Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7082

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، وَرَوْحٌ، وَأَبُو أُسَامَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، أَنَّ صُهَيْبًا حِينَ أَرَادَ الْهِجْرَةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ لَهُ كُفَّارُ قُرَيْشٍ: أَتَيْتَنَا صُعْلُوكًا، فَكَثُرَ مَالُكَ عِنْدَنَا، وَبَلَغْتَ مَا بَلَغْتَ ثُمَّ تُرِيدُ أَنْ [ص:558] تَخْرُجَ بِنَفْسِكَ وَمَالِكَ، وَاللَّهِ لَا يَكُونُ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُمْ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَعْطَيْتُكُمْ مَالِي أَتُخَلُّونَ سَبِيلِي؟ فَقَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ لَهُمْ مَالِي، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «رَبِحَ صُهَيْبٌ، رَبِحَ صُهَيْبٌ»

ابو عثمان نہدی بیان کرتے ہیں : حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ کیا' تو کفار قریش نے ان سے کہا : تم ہمارے پاس مفلوک ہونے کے عالم میں آئے تھے ہمارے پاس تمہارا مال زیادہ ہو گیا اور تم اس مرتبے تک پہنچ گئے جو تمہارا ہے اب تم اپنی جان اور مال کو لے کر نکلنا چاہتے ہو اللہ کی قسم ایسا نہیں ہو گا ۔ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : تمہارا کیا خیال ہے ' اگر میں تم لوگوں کو اپنا مال دے دوں ' تو کیا تم میرا راستہ چھوڑ دو گے۔ انہوں نے کہا: ہاں توحضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں میں نے اپنا مال تمہیں دیا ۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم ﷺ کو ملی ' تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : صہیب نے فائدہ حاصل کر لیا صہیب نے فائدہ حاصل کر لیا ۔

أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ← النَّضْرُ، وَرَوْحٌ، وَأَبُو أُسَامَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7082

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7083

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «كَانَ أَوَّلُ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةً: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعَمَّارٌ، وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ، وَصُهَيْبٌ، وَبِلَالٌ، وَالْمِقْدَادُ فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِعَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِقَوْمِهِ، وَأَمَّا سَائِرُهُمْ فَأَخَذَهُمُ الْمُشْرِكُونَ وَأُلْبِسُوا أَدْرَاعَ الْحَدِيدِ، [ص:559] وَصَهَرُوهُمْ فِي الشَّمْسِ، فَمَا مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا وَآتَاهُمْ عَلَى مَا أَرَادُوا، إِلَّا بِلَالٌ، فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللَّهِ، وَهَانَ عَلَى قَوْمِهِ، فَأَخَذُوهُ، فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ، فَجَعَلُوا يَطُوفُونَ بِهِ فِي شِعَابِ مَكَّةَ وَهُوَ يَقُولُ: أَحَدٌ أَحَدٌ»

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سب سے پہلے سات افراد نے اسلام کا اظہار کیا ۔ نبی اکرم ﷺ ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ،حضرت عمار رضی اللہ عنہ ان کی والدہ سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہ ، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہ جہاں تک نبی اکرم ﷺ کا تعلق ہے' تو اللہ تعالی نے آپ کے چچاجناب ابوطالب کی وجہ سے آپ کو (کفار مکہ کے) شر سے محفوظ رکھا جہاں تک حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے ' تو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی وجہ سے انہیں محفوظ رکھا لیکن جہاں تک باقی لوگوں کا تعلق ہے ' تق مشرکین نے انہیں پکڑلیا انہیں لوہے کی زر ہیں پہنائی گئیں اور انہیں سورج کی گرمی میں چھوڑ دیا گیا ان لوگوں میں سے ہر ایک نے وہ کیا جو وہ لوگ چاہتے تھے صرف حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف تھا کیونکہ اللہ کی راہ میں انہوں نے اپنی ذات کو بے حیثیت کر دیا تھا اور اپنی قوم کے لئے اپنی ذات کو بے حیثیت کر دیا تھا ۔ ان لوگوں نے انہیں پکڑا اور بچوں کے سپرد کر دیا ' تو مکہ کی گھاٹیوں میں وہ بچے ان کے اردگرد چکر لگاتے تھے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ یہ کہتے تھے (اللہ) ایک ہے (اللہ ) ایک ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← زَائِدَۃَ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7083

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7084

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، فَسَمِعْتُ خَشْفَةً أَمَامِي، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: هَذَا بِلَالٌ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ''مجھے جنت میں داخل کیا گیا ' تو میں نے اپنے آگے کےقدموں کی آہت سنی میں نے دریافت کیا : یہ کون ہے' تو جبرائیل نے بتایا : یہ بلال ہے''۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← قَبِيصَةُ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7084

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7085

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ: أَحَدَّثَكُمْ أَبُو حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ: «يَا بِلَالُ، حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمِلٍ عَمِلْتَهُ عِنْدَكَ فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَةَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيِ الْجَنَّةِ»، فَقَالَ: مَا عَمَلٌ عَمِلْتُهُ أَرْجَى عِنْدِي أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طَهُورًا تَامًّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ لِرَبِّي مَا قُدِّرَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ. فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ وَقَالَ: نَعَمْ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فجر کی نماز کے وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : اے بلال تم مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتاؤ جو تم نے مسلمان ہونے کے بعد کیا اور تم نے اس کے حوالے سے (زیادہ ثواب کی) امید کی ہو کیونکہ میں نے گزشتہ رات جنت میں اپنےسے آگے تمہارے قدموں کی آہٹ سنی ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس کے بارے میں مجھے زیادہ امید ہو البتہ یہ ہے کہ جب میں وضو کرتا ہوں ' تو مکمل وضو کرتا ہوں خواہ رات یا دن کا کوئی بھی حصہ ہو اور پھر اس کے بعد جتنا میرے نصیب میں ہوا اتنے نوافل ادا کرتا ہوں ۔ ابو اسامہ نامی راوی نے اس روایت کا اقرار کرتے ہوئے کہا جی ہاں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ: أَحَدَّثَكُمْ أَبُو حَيَّانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7085

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7086

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَةً»، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: بِلَالٌ، ثُمَّ مَرَرْتُ بِقَصْرٍ مُشَيَّدٍ بَدِيعٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَنَا مُحَمَّدٌ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ، فَقُلْتُ: أَنَا عَرَبِيٌّ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «، فَقَالَ لِبِلَالٍ: » بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ «؟ قَالَ: مَا أَحْدَثْتُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ، وَمَا تَوَضَّأْتُ إِلَّا صَلَّيْتُ، وَقَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: » لَوْلَا غَيْرَتُكَ لَدَخَلْتُ الْقَصْرَ «، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَكُنْ لِأَغَارَ عَلَيْكَ

ابن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جب میں جنت میں داخل ہوا ' تو میں نے قدموں کی آہٹ سنی میں نے دریافت کیا : یہ کون ہے؟ فرشتوں نے بتایا : یہ بلال ہے پھر میں ایک محل کے پاس سے گزرا جو بہت خوبصورت بنا ہوا تھا میں نے دریافت کیا : یہ کس کا ہے تو فرشتوں نے بتایا : یہ حضرت محمد ﷺ کی امت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا ہے۔ میں نے کہا: میں محمد ہوں' یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے جواب دیا : یہ عربوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا ہے۔ میں نے کہا : میں بھی عرب ہوں یہ محل کس کا ہے۔ فرشتوں نے بتایا : یہ عمر بن خطاب کا ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : تم کس وجہ سے مجھ سے جنت میں آگے ہو۔ انہوں نے عرض کی : میں جب بھی بے وضو ہوتا ہوں وضو ہوتا ہوں وضو کر لیتا ہوں اور جب بھی وضو کرتا ہوں دو نواف ادا کرتا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اگر مجھے تمہارے مزاج کی تیزی کا خیال نہ ہوتا تو میں محل کے اند چلا جاتا ۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ رضی اللہ عنہ میں آپ کے خلاف مزاج کی تیزی نہیں دکھا سکتا ۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7086

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7087

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أبيه أَنّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعَ خَشْخَشَةً أَمَامَهُ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالُوا بِلالٌ فَأَخْبَرَهُ وَقَالَ بِمَ سَبَقْتَنِي إِِلَى الْجَنَّةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَحْدَثْتُ إِِلا تَوَضَّأْتُ، وَلاَ تَوَضَّأْتُ إِِلا رَأَيْتُ أَنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ رَكْعَتَيْنِ أُصَلِّيهُمَا قَالَ صلى الله عليه وسلم «بِهَا».

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے (جواب میں ) اپنے آگے کسی کے قدموں کی آہٹ سنی ' تو دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ فرشتوں نے بتایا : بلال ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال کو اس بارے میں بتایا اور فرمایا تم کس وجہ سے جنت میں مجھ سے آگے ہو۔ انہوں نے عرض کی :یا رسول اللہ رضی اللہ عنہ میں جب بھی بے وضو ہوتا ہوں ' تو وضو کر لیتا ہوں اور جب بھی وضو کرتا ہوں ' تو مجھے یوں لگتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے لئے دو رکعات (تحیۃ الوضو) ادا کرنی چاہئیں ' نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسی کی وجہ سے ہو گا ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7087

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7088

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ*، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِقَتْلَى بَدْرٍ فَسُحِبُوا إِِلَى الْقَلِيبِ فَطُرِحُوا فِيهِ، ثُمَّ جَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي [ص:563] رَبِّي حَقًّا قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ تُكَلِّمُ قَوْمًا مَوْتَى قَالَ لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ مَا وَعَدْتُهُمْ حَقًّا فَلَمَّا رَأَى أَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ أَبَاهُ يُسْحَبُ إِِلَى الْقَلِيبِ عَرَفَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ كَأَنَّكَ كَارِهٌ لِمَا تَرَى فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِِنَّ أَبِي كَانَ رَجُلا سَيِّدًا حَلِيمًا فَرَجَوْتُ أَنْ يَهْدِيَهُ اللَّهُ إِِلَى الإِِسْلامِ فَلَمَّا وَقَعَ بِالْمَوْقِعِ الَّذِي وَقَعَ بِهِ أَحْزَنَنِي ذَلِكَ فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم لأَبِي حُذَيْفَةَ بِخَيْرٍ.

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی نبی اکرم ﷺ نے (بدر کے کفار سے تعلق رکھنے والے ) مقتولین کے بارے میں حکم دیا ' تو انہیں ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آ پ ان کے پاس ٹھہرے آپ نے فرمایا : اے گڑھے والو! تمہارے پروردگار نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا کیا تم اسے حق پا لیا ہے؟ میرے پرورگار نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا میں نے تو اسے حق پا لیا ہے۔ ہم لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ آپ ایسی قوم کے ساتھ گفتگو کررہے ہیں جو مر چکے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : یہ لوگ یہ بات جانتے ہیں' کہ میں نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ حق ہے۔ جب حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ان کے والد ایک سردار تھا اور بردبارشخص تھا مجھے یہ امید تھی کہ اللہ تعالیٰ اسلام کی طرف اس کی رہنمائی کر دے گا لیکن جب اسے اس طرحڈالا جا رہاہے' اس چیز نے مجھے غمگین کر دیا ہے' تو نبی اکرمﷺ نے حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے لئے دعا خیر کی۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7088

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7089

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ الْجَرْجَرَائِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ: قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ لَقَدِ انْدَقَّ فِي يَدِي يَوْمَ مُؤْتَةَ تِسْعَةُ [ص:564] أَسْيَافٍ مَا بَقِيَتْ فِي يَدِي إِِلا صَفِيحَةٌ لِي يَمَانِيَةٌ

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: غزوہ موتہ کے دن میرے ہاتھوں تو تلواریں ٹوٹی تھیں اور میرے ہاتھ میں صرف میری یمنی تلوار باقی رہ گئی تھی۔

قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدٌ الْجَرْجَرَائِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7089

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7090

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ*، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ، يُحَدِّثُ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَكَانَ عَلَى خَيْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ الْأَزْهَرِ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: «مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ؟ »، قَالَ ابْنُ الْأَزْهَرِ: فَمَشَيْتُ - أَوْ قَالَ: سَعَيْتُ - بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنَا مُحْتَلِمٌ أَقُولُ: مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ؟ حَتَّى دُلِلْنَا [ص:565] عَلَى رَحْلِهِ، فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ مُسْتَنِدٌ إِلَى مُؤَخَّرِ رَحْلِهِ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى جُرْحِهِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَحَسَبْتُ أَنَّهُ قَالَ: وَنَفَثَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے یہ غزوہ حنین کے موقع کی بات ہے وہ نبی اکرمﷺ کے گھڑ سواروں کے امیر تھے۔ ابن اظہر بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا کہ آ یہ فرما رہےتھے : خالد بن ولید کی رہائشی جگہ کے بارے کون بتائے گا' ابن ازہر کہتے ہیں ' تو میں چل پڑامیں نبی اکرم ﷺ کے آگےچلتا ہو ا آیا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) دوڑتا ہوا آیا میں ان دنوں قریب بلوغ تھا میں نے کہا : کون شخص خالد بن ولید کی رہائشی جگہ تک رہنمائی کرے گا ' یہاں تک کہ ہماری رہنمائی ان کی رہائشی جگہ تک کی گئی تو وہ وہاں بیٹھے ہوئے تھے انہوں نےاپنی پالان کے پچھلے حصے کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی۔ نبی اکرمم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے آپ نے ان کے زخم کا جائزہ لیا ۔

كان عبد الرحمن بن أزهر ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7090

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7091

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْخَرَّارُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: شَكَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا خَالِدُ، لِمَ تُؤْذِي رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ؟ لَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا لَمْ تُدْرِكْ [ص:566] عَمَلَهُ»، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَقَعُونَ فِيَّ، فَأَرُدُّ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُؤْذُوا خَالِدًا، فَإِنَّهُ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ صَبَّهُ اللَّهُ عَلَى الْكُفَّارِ»

حضرت عبداللہ بن ابو اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن ٰ بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی شکایت لگائی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اے خالد ! تم نے اہل بدر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو کیوں تکلیف پہنچائی ہے؟ اگر تم احد پہاڑ جتنا سونا ( اللہ کی راہ میں )خرچ کرو ۔ تو تم پھر بھی اس کے عمل تک نہیں پہنچ سکتے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ یہ میرے خلاف باتیں کر ہےتھے ' تو میں نے انہیں ' جواب دیا ہے: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ خالد کو تکلیف نہ پہنچاؤ کیو نکہ وہ اللہ کی تلوار ہے جسے اللہ تعالی نے کفار پر سونت رکھا ہے۔

شَكَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْخَرَّارُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7091

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7092

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، يَقُولُ: فَزِعَ النَّاسُ بِالْمَدِينَةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَفَرَّقُوا، فَرَأَيْتُ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ احْتَبَى بِسَيْفِهِ، وَجَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ، فَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي فَعَلَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآنِي وَسَالِمًا، وَأَتَى النَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا كَانَ مَفْزَعُكُمْ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ؟ أَلَا فَعَلْتُمْ كَمَا فَعَلَ هَذَانِ الرَّجُلَانِ الْمُؤْمِنَانِ»

حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گھبراہٹ کا شکا ر ہو گئے ' تو وہ ادھر ادھر تقسیم ہو گئے میں نے حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سالم کو دیکھا کہ اس نے تلوار نکال لی ہے اور مسجد میں بیٹھا ہے ' جب میں نےاسے دیکھا تو میں نے بھی ویسا ہی کیا جیسا اس نے کیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺتشریف لائے آپ نے مجھے اور سالم کو دیکھا پھر لوگ بھی آگئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے لوگو ! کیا وجہ ہے کہ تم گھبرا کر اللہ اور اس کے رسول کی طرف نہیں آئے اور کیا وجہ ہے کہ تم نے وہ کیوں نہیں کیا جو ان دو مومن آدمیوں نے کیا ۔

عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي ← مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7092

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7093

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ إِذَا رَجُلٌ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةِ حَرِيرٍ، فَيَقُولُ: هَذِهِ امْرَأَتُكَ فَأَكْشِفُهَا، فَإِذَا هِيَ أَنْتِ، فَأَقُولُ: إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرمﷺ نے مجھ سے فرمایا : میں نے تمہیں خواب میں دو مرتبہ دیکھا ایک شخص (یعنی فرشتہ) ریشمی کپڑے میں تمہیں اٹھا کر لایا اور بولا یہ آپ کی اہلیہ ہیں میں نے اس کپڑے کو ہٹایا تو اندر تم تھیں ۔ میں نے کہا: اگر یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے تو اللہ تعالی اسے پوا کرے گا ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7093

chevron_left Previous
1…192021…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr