Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6866
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6867
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتےہیں 'نبی اکر م ﷺ نے ارشاد فرمایا :
''ایک شخص جنت میں داخل ہو گا ' تو ہر گھر اور ہر بالا خانے کے لوگ یہ کہیں گے خوش آمدید خوش آمدید ہماری طرف آئیے ہماری طرف آئیے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ ! اس دن میں اس شخص کے بارے میں آپﷺ کی کیا رائے ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! اے ابو بکر وہ تم ہوگے۔''
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6867
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6868
سیدعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتی ہیں : جب سے میں نے ہوش سنبھالا میں نے اپنے والدین کو دین (اسلام) پر عمل پیرا دیکھا روزانہ ہمارے ہاں نبی اکرم ﷺ صبح اور شام کے وقت تشریف لایا کرتے تھے جب مسلمانوں کو آزمائش میں مبتلا کیا گیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہجرت کے ارادے سے حبشہ کی سر زمین کی طرف جانے کےلیے روانہ ہوئے یہاں تک جب وہ''برک غماد'' پہنچے تو ان کی ملاقات ابن دغنہ سے ہوئی جو قارہ قبیلے کا سردار تھا اس نے دریافت کیا: ا ے ابو بکر تم کہاں جارہے ہو۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری قوم نے مجھے نکلنے پر مجبور کر دیا ہے اب میر ا یہ ارادہ ہے کہ میں زمین میں سفر کروں گا اور اپنے پروردگار کی عبادت کروں گا ۔ ابن دغنہ نے کہا: اے ابو بکر تمہارے جیسا شخص (اپنے علاقے سے) نہ تو نکل سکتا ہے اور نہ ہی اسے نکالا جا سکتا ہےتم ضرورت مندکو کما کر دیتے ہو، صلہ رحمی کرتے ہو، بوجھ برداشت کرتے ہو، مہمان نوازی کرتے ہو، حق کے کاموں میں مدد کرتے ہو میں تمہیں امان دیتا ہوں ، تم واپس جاؤ اور اپنے شہر میں اپنے پروردگار کی عبادت کرو پھر ابن دغنہ وہاں سے روزنہ ہو ا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ واپس آ گیا۔
ابن دغنہ کفار قریش کے پاس گیا اور بولا : ابو بکر جیسے شخص کونکالا نہیں جا سکتا تم لوگ ایک ایسے شخص کو نکال رہے ہو جو اس شخص کو کما کر دیتا ہے'جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا ، رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھتا ہے، وہ (دوسروں کا) بوجھ اٹھاتا ہے، مہمان نوازی کرتا ہے اور حق کے کاموں میں مدد کرتا ہے ، تو قریش نے ابن دغنہ کی دی گئی پناہ کو تسلیم کیا اور انہوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو امان دیدی انہوں نے ابن دغنہ سے کہا : تم ابو بکر سے کہو وہ اپنے گھر میں جتنی چاہے اپنے پروردگار کی عبادت کر ے جیسے چاہے نماز ادا کرے جیسے چاہے قرأت کرے لیکن اپنے گھر سے باہر اعلانیہ طور پر نماز پڑھ کر یا تلاوت کرکے ہمیں اذیت نہ پہنچائے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا بعد میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کومناسب محسوس ہوا تو انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنا لی اور وہاں نماز ادا کیا کرتے تھے مشرکین کی خواتین اور بچے ان کے پا س آ کر ٹھہر جاتے تھے اور ان پر حیران ہوتے تھے وہ ان کی طرف دیکھتے رہتے تھے، کیونکہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ایک ایسے شخص تھے جو روتے بہت زیادہ تھے جب و ہ قرآن کی تلاوت کرتے تھے ، تو ان کے آنسو تھمتے نہیں تھے اس بات نے قریش کے معززین کو خوفزدہ کر دیا نہوں نے ابن دغنہ کو پیغام بھیجا وہ ان کے پاس آیا تو ان لوگوں نے کہا : ہم تمہاری وجہ سے ابو بکر کو ا س شرط پر پناہ د ی تھی کہ وہ اپنے گھر میں اللہ کی عبادت کرے اس نے اس چیز کی خلاف ورزی کی اور اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنا ئی ہے اور اعلانیہ طور پر نماز پرھتا ہے اور تلاوت کرتا ہے ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ ہماری خواتین اور بچوں کو آزمائش کا شکار نہ کر دے اگر وہ یہ بات پسند کرے کہ وہ اپنے گھر کے اند ر اپنے پروردگار کی عبادت کرنے پرا کتفاء کرے تو ٹھیک ہے، اگر وہ نہیں مانتا اور اعلانیہ طور پر ایسا کرتا ہے، تو پھر تم اس سے کہو گے کہ وہ تمہاری دی ہوئی پناہ کو واپس کر دے ، کیونکہ ہمیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ ہم تمہارئی دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کریں اور ہم ابو بکر کو اعلانیہ طور پر ایسا کرنےبھی نہیں دے سکتے۔
ابن دغنہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا وہ بولا : اے ابو بکر تم یہ بات جانتے ہو کہ میں نے کس شرط پر تمہیں پناہ دی تھی یا تو تم اس پر اکتفاء کر و یا پھر تم میری دی ہوئی پناہ کو واپس کردو، کیونکہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ عرب یہ بات سنیں کہ میں نے کسی شخص کو پناہ دینے کے بعد اس پناہ کو ختم کر دیا ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں تمہاری دی ہوئی پناہ تمہیں لوٹا تا ہوں اور اللہ اور اس کےرسول کی پناہ پر راضی رہتا ہوں ۔
(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ) نبی اکرم ﷺ ان دنوں مکہ میں قیام پذیر تھے نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں سے فرمایا : تمہاری ہجرت کی سر زمین مجھے (خواب میں) دکھا دی گئی ہے میں نے دیکھا ہے کہ وہ شور زدہ زمین ہے جہاں کھجوروں کے درخت ہیں اور اس کے دونوں کناروں کی طرف پتھریلی سر زمین ہے۔
(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ) جب نبی اکرمﷺ نے یہ بات ذکر کی تو جن لوگوں نے ہجرت کرنی تھی وہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر گئے اور جو مسلمان پہلےھ حبشہ کی سر زمین کی طرف ہجرت کر چکے تھے ان میں سے بھی کچھ لوگ مدینہ منورہ کی طرف آ گئے ۔ حضرت ابو بکر (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ) نے بھی ہجرت کے لیے سازو سامان تیار کر لیا تو نبی اکر م ﷺ نے ان سے فرمایا تم ابھی ٹھہرے رہو، کیونکہ مجھے یہ امید ہے کہ مجھے بھی (ہجرت کرنے کی) اجازت مل جائے گی ۔ حضرت ابوبکر (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ) نے دریافت کیا : کیا آپ ﷺ کواس بات کی امید ہے میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ، تو حضرت ابو بکر (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ) نے خود کو نبی اکرم ﷺ کے لیے روک لیا وہ اپنے پاس موجود اونٹینوں کا چار ماہ تک ببول کے پتے چارے کے طور پر کھلاتے رہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ ہم دوپہر کے وقت اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران کسی نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہا : نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے منہ ڈھانپا ہوا تھا اور یہ ایک ایسی گھڑی تھی جس میں آپ ﷺ ہمارے ہاں تشریف نہیں لاتے تھے۔ حضرت ابو بکر ﷺ نے فرمایا میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں آپ ﷺ اس وقت کسی ضروری معاملے کی وجہ سے تشریف لائے ہوں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ ﷺ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، پھر آپ ﷺ اندر تشریف لے آئے جب آپ ﷺ اندر تشریف لائے تو آپ ﷺ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا اپنے آس پاس موجود لوگوں کو گھر سے باہر نکال دو۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ میرے والد آپ پر قربان ہوں یہ آپ کے اہل خانہ ہی ہیں (کوئی دوسرا شخص نہیں ہے) نبی اکر م ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے روانگی کا حکم مل گیا ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یارسول اللہ ! میرے والد آپ ﷺ پر قربان ہوں میں آپ ﷺ کا ساتھ دوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :جی ہاں ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نےئ عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد آپ پر قربان ہوں آپ ﷺ ان دو اونٹینوں میں سے ایک لے لیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قیمت کے عوض میں لوں گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتی ہیں : پھر ہم نے ان دونوں کےلیے زاد سفر تیا ر کیا ہم نے اسے چمڑے کے ایک تھیلے میں رکھا ۔ سیدہ اسما ء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے کمر بند کوکاٹ کر اس تھیلے کا منہ بند کر دیا اسی لیے انہیں ذات نطاق کہا جاتا ہے' پھر نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ پہاڑ میں موجود غار میں چلے گئے جس کا نام ثورہے وہ وہاں تین دن تک مقیم رہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6868
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6869
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی: اگر ان (مشرکین ) میں سے کوئی شخص اپنے پاؤں کے نیچے دیکھے تو اپنے پاؤں کے نیچے ہمیں دیکھ لے گا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایسے دو لوگوں کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6869
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6870
حضرت برا ء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ(نے (میرے والد ) حضرت عازب رضی اللہ عنہ سےایک پالان تیرہ درہم کے عوض میں خریدا ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عازب رضی اللہ عنہ سےکہا:آپ (اپنے بیٹے) براء سے کہیے وہ اسے اٹھا کرمیرے گھر تک پہنچا دے تو حضرت عازب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : ایسا اس وقت نہیں ہو گا ' جب تک آپ ہمیں نہیں بتائیں گے کہ جب آپ اور نبی اکرم ﷺ مکہ سے نکلے اور مشرکین آپ کی تلاش میں تھے اس وقت آپ نے اور نبی اکرمﷺ نے کیاکیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بتایا : ہم لوگ مکہ سے روانہ ہوئے ہم لوگ رات بھر سفر کرتے رہے یہاں تک صبح ہوگئی اور دن چڑھ گیا میں نے آپ کی نگاہ دوڑائی کہ کیامجھے کوئی ایسی جگہ نظر آتی ہے 'جو سایہ دار ہو اور ہم وہاں جا سکیں ' تو وہ وہاں ایک چٹان موجود تھی میں اس کی طرف آگیا وہاں تھوڑا سایہ باقی تھا میں نے اس جگہ کو صاف کیا پھر نبی اکرم ﷺ کے لیے بستر بچھادیا۔پھرمیں نے عرض کی آپ ﷺ لیٹ جائیے نبی اکرم ﷺ لی ٹ گئے میں نے نظر دوڑائی کہ تلا ش کرنے والوں میں سے کوئی نظر اتا ہے' تو وہاں بکریوں کو ایک چرواہا نظر آیا جو اپنی بکریوں کو چٹان کی طرف لے کے آرہا تھا وہ بھی چٹھان سے ہی کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا جو میں حاصل کرنا چاہتا تھا یعنی سایہ' میں نے اس سے دریافت کیا : میں نے کہا : اے لڑکے ! تم کس کے غلام ہو ؟ اس لڑکے نے کہا فلاں شخص کا ۔ اس نے قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا نام لیا جس سے میں واقف تھا میں نے دریافت کیا : کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے۔ اس نے جواد دیا : جی ہاں۔ میں نے دریافت کیا : کیا تم ہمارے لیے اسے دوہ کے دیدو گے اس نے کہا : جی ہاں میں نے اسےہدایت کی اس نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری الگ کی میں نے اسے ہدایت کی کہ وہ اس سے غبار صاف کر ے پھر میں نے اسے ہدایت دی کی کہ وہ اپنے ہاتھوں کو بھی جھاڑلے ' تو اس نے اس طرح کیا یعنی ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ میں مارا پھر اس نے برتن میں دودھ دوہ دیا میں اپنے ساتھہ نبی اکرم ﷺ کےلیے ایک برتن رکھا تھا ' جس کے منہ پر کپڑا تھا میں نے اس دودھ پر پانی انڈیلا یہاں تک کہ اسکا نیچے والا حصہ ٹھنڈا ہو گیا ( یعنی وہ پانی اچھی طرح دودھ میں حل ہو گیا )پھرمیں نبی اکرم کے پا س آیا 'تو میں نےآپ ﷺ کو پایا کہ آپ ﷺ بیدار ہو چکے تھے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اسے پی لیجئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے پی لیا ۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ اب روانگی کا وقت ہے ' تو ہم لوگ روانہ ہو گئے لوگ ہمیں تلاش کر رہے تھے ان میں سے کوئی بھی ہم تک نہیں پہنچ سکاصرف سراقہ بن مالک اپنے گھوڑے پر ( ہم تک پہنچ گیا ) میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! تلاش کرنے والا شخص ہم تک پہنچ گیا۔حضر ت ابو بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رو پڑا تو نبی اکرمﷺ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نہ ڈرو۔ بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ جب وہ ہمارے قریب ہوا اور ہمار ے اور اس کے درمیان دو یا تین نیزوں جتنا فاضلہ رہ گیا تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! یہ تلاش کرنے والا شخص ہم تک پہنچ گیاہے تو میں ا س بات پر رو پڑا ، نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہے ہو ؟ میں نے عرض کی اللہ کی قسم ! میں اپنی ذات کے حوالے سے نہیں رو رہا بلکہ آپ ﷺ کی وجہ سے رو ررہا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کے لیے دعائےضر کی آپ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ﷺ تو اس کے مقابلے میں ہمارے لیے جیسے چاہے کافی ہو جا ۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ' تو اس شخص کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا وہ اس سے نہچے گر گیا پھر اس نے کہا : اے حضرت محمد ﷺ مجھے پتہ ہے کہ یہ آپﷺ کے عمل کی وجہ سے ہوا ہے آپ ﷺ اللہ تعالی سے دعا کیجئے میں جس صورت حال کا شکار ہوںوہ اس سے مجھے نجات عطاء کر دےاللہ کی قسم ! میں اپنے پیچھے آپ ﷺ کی تلاش میں آنے والوں کو گمراہ کر دوں گا یہ میر ترکش ہے آپ ﷺ اس میں سے ایک تیر لے لیجئے آپ ﷺ کا گز ر میرے اونٹوں اور بکریوں کے پاس سے فلاں مقام پر ہوگا آپ ﷺ ان میں سے اپنی ضروریات کے مطابق چیزیں حاصل کر لیجئے گا ۔نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہمیں تمہارے اونٹوں کی ضرورت نہیں ہے ' پھر نبی اکرم ﷺ نے اس کےلیے دعا کی تو وہ شخص اپنے ساتھیوں کی طرف واپس چلا گیا ۔ نبی اکرم ﷺ سفر کرتے رہے 'یہاں تک کہ ہم رات کے وقت مدینہ منورہ پہنچے تو لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلا ف ہو گیا کہ نبی اکرمﷺ کس کے ہاں پڑاؤکریں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : آج رات میں بنو نجارے کے ہاں پڑاؤ کروں گا ۔ جو جناب عبدالمطلب کے ننھیال ہیں میں اس حوالے سے ان کی عزت افزائی کروں گا' جب ہم مدینہ منورہ آئے ' تو لوگ راستوں میں نکل آئے گھروں کے اوپر بچے موجود تھے غلام موجود تھے وہ یہ کہہ رہے تھے : حضرت محمد ﷺ تشریف لے آئے ہیں اللہ کے رسو ل ﷺ تشریف لے آئے ہیں جب صبح ہوئی تو نبی اکرم ﷺ روانہ ہوئے آپ ﷺ نے اسی جگہ پڑاؤ کیا جہا ں آپﷺ کو حکم دیا گیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ تقریباً سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے تھے۔ نبی اکرم ﷺ کی یہ خواہش تھی کہ آپ ﷺ کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کیا جائے' تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔
''ہم آسمان کی طرف تمہارے چہرے کا بار بار اٹھنا دیکھ رہے ہیں ہم عنقریب تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے ' جس تم راضی ہو گے تو تم اپنے چہرے کو مسجد حرام کی سمت میں پھیر لو۔''
راوی کہتے ہیں : تو کچھ بیوقوف لوگوں نے جو یہودی تھے یہ انہوں نے یہ کہا ۔
''ان لوگوں کو ان کے اس قبلے سے کس چیز نے پھیر دیا ہے جس پر یہ پہلے تھے۔''
تو اللہ تعالی نے یہ آیت ناز ل کی۔
''تم یہ فرما دو! مشرق اور مغرب اللہ تعالی ہی کی ملکیت ہیں وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیدیتا ہے۔''
راوی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے ہا ں نماز اد کی نماز ادا کرنے کے بعد وہ روانہ ہوااس کا گزر کچھ انصاریوں کے پاس سے ہوا جو عصر کی نماز میں رکوع کی حالت میں تھے اور بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر رہے تھے اس شخص نے بتایا کہ وہ اس با ت کی گواہی دیتا ہے کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے نبی اکرم ﷺ کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا ہے۔ تو وہ لوگ پلٹ گئے اور انہوں نے اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف کرلیا۔
حضرت بر إء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مہاجرین میں سے سب سے پہلے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں آئے تھے جن کا تعل بنو عبدالدار بن قیس سے تھا ہم نے ان سے دریافت کیا : نبی اکرمﷺ کا کیا حال ہے ۔انہوں نے بتایا : نبی اکرمﷺ اپنی جگہ پر ہی ہیں اورآپ ﷺ کے کچھ اصحاب میرے پیچھے آرہے ہیں پھر ان کے بعد حضرت عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا ہمارے پاس تشریف لے آئے جن کا تعلق بنو فہر سے ہے ہم نے ان سے دریافت کیا : آپ کے پیچھےنبی اکرم ﷺ کا کیاحال ہے اور آپ ﷺ کےاصحاب کا کیا حال ہے۔ انہوں نے بتایا: وہ میرے پیچھے پیچھے آرہے ہیں پھر ان کے بعد حضرت عما بن یاسر رضی اللہ عنہ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آگئے پھر حضرت عمر بن خطا ب رضی اللہ عنہ بھی سواروں کے سمیت ہمارے پاس آئے پھر ان کے بعد نبی اکرم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لے آئے آپ ﷺ کے ساتھ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے ' تومیں اس پہلے مفصل سورتوں سے تعلق رکھنے والی بیس سورتوں کی تلاوت سیکھ چکا تھا ۔
پھر ہم لوگ نکلے تا کہ (ابو سفیان کے) قافلے کو پکڑ لیں لیکن ہم نے انہیں پایا کہ وہ لوگ بچ کے جا چکے تھے(یعنی یہ غزوہ بدر کے موقع کی بات ہے)
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6870
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6871
محمد بن جیبر اپنے والد (حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے نبی اکرم ﷺ سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا : (یا آپﷺ سے کچھ مانگا ) نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا تم واپس چلی جاؤ بعد میں میرے پاس آنا اس نے آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں پھر آؤں اور آپ ﷺ کو نہ پاؤں ؟ اس عورت کی مراد یہ تھی کہ اگر آپ ﷺ کا وصال ہو چکا ہو' تو میں کیا کروں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مل لینا ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6871
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6872
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے کسی چیز کے بارے میں آپ ﷺ کے ساتھ بات چیت کی تو نبی اکرم ﷺ نے اسے ہدایت کی کہ وہ دوبارہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا س نے عرض کی: یار سول اللہ ! آپ ﷺ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں پھر آئی اور میں نےآپ ﷺ کو نہ پایا تو؟ وہ عورت یہ مراد لے رہی تھی کہ اگر آپ ﷺ کا انتقال ہو گیا ( تو میں کیا کروں ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر کے پاس آجانا ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6872
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6873
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کی بیماری شدید ہوگئی تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کونماز کے لئے بلانے کے لئے آئے آپ ﷺ نے فرمایا : ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں جب وہ آپ ﷺ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو وہ لوگوں کو(تلاوت کی آواز ) نہیں سنا سکیں گے اگر آپ ﷺ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں (تو یہ مناسب ہو گا) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے ۔ میں نے حفصہ سے کہا : تم نبی اکرم ﷺ سے یہ گزارش کرو انہوں نے عرض کی: یا رسول ! حضر ت ابو بکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں جب وہ آپ ﷺ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو (لوگوں کو تلاوت کی آواز نہیں )سنا سکیں گے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ حضرت یوسف ؑ کے واقعہ والی خواتین کی طرح ہو ۔ ابو بکر سے کہوکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کی تو نبی اکرم ﷺ کو اپنی طبعیت میں بہتری محسوس ہوئی آپ ﷺ دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر کھڑے ہوئے آپ ﷺ کے دونوں پاؤں زمین پر گھسیٹ رہے تھے' یہاں تک کہ آپ ﷺ مسجد میں تشریف لائے جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ے آپ ﷺ کی آہٹ سنی تو وہ پیچھے ہٹنے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اشارہ کیا تم جس طرح ہو ویسے ہی رہو یہاں تک نبی اکرم ﷺ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بائیں طرف بیٹھ گئے ؛ تو نبی اکرم ﷺ بیٹھ کر لوگوں کانماز پڑھا رہے تھے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے۔
(امام ابن حبان ؒفرماتے ہیں :) درست لفظ یہ ہے ''صواحب یوسف '' البتہ روایت نقل کرنے والے نے لفظ صواحبات نقل کیا ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6873
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6874
حمزہ بن عبداللہ اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کی تکلیف زیادہ ہو گئی تو آپ ﷺ نے کہا : ابو بکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھادے ۔ سید عائشہرضی اللہ عنہ نے آپﷺ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ ! حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں جب وہ آپ ﷺ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو (تلاوت کی آواز ) نہیں سنا سکیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا ئے۔ سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بات دہرائی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم حضرت یوسف ؑ کے واقعہ والی خواتین کی طرح ہو'ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔
ابن شہاب بیان کرتے ہیں : عبداللہ بن عبداللہ نے سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا جب میں نے نبی اکر م ﷺ کے سامنے یہ بات دہرائی تو میں نے یہ بات دوبارہ آپ ﷺ کے سامنے اس لیے دہرائی تھی 'کیونکہ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ لوگ اس حوالے سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے الجھن محسوس کریں گے' کیونکہ مجھے اس بات کا پتہ تھا کہجو بھی شخص نبی اکرم ﷺ کی جگہ پر کھڑا ہوگا لوگ اس سے نحوست(الجھن) کا تاثر لیں گے اس لیے میری یہ خواہش ہوئی کہ نبی اکرم ﷺ اس بارے میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ہٹادیں۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6874
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6875
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب پیر کا دن آیا ' تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے حجرے کا پردہ ہٹایا آپ ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیقرضی اللہ عنہ کو دیکھا' جو لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے راوی کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہ قرآن کے صفحے کی طرح تھا آپ ﷺ مسکرارہے تھے قریب تھا کہ ہم نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی خوشی میں اپنی نمازوں کے بارے میں آزمائش کا شکار ہو جائیں (یعنی نمازیں ' توڑ دیں) حضر ت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس با ت کا ارادہ کیا کہ نبی اکرم ﷺ تشریف لا رہے ہیں ' تو وہ پیچھے ہٹ جائیں لیکن نبی اکرم ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ تم اسی طرح رہو جیسے ہو پھر نبی اکرم ﷺ نے پردہ گرادیا اس دن نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ﷺ کا انتقا ل نہیں ہوا بلکہ انہیں اس طرح بلوایا گیا ہے' جس طرح حضرت عیسی ٰؑ کو بلوایا گیا تھا تو وہ چالیس دن تک اپنی قوم سے دور رہے تھے اللہ کی قسم ! مجھے یہ امید ہے کہ نبی اکرم ﷺ اس وقت تک زندہ رہیں گے ' جب تک آپ ﷺ منافقین کے کچھ افراد کے ہاتھ نہیں کا ٹ دیتے اور ان کی زبانیں نہیں کاٹ دیتے' وہ منافقین جو یہ سمجھتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا وصا ل ہو گیا ہے۔
زہری بیان کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بتایا کہ انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دوسرے خطبے میں
انہیں سنا جب وہ نبی اکرم ﷺ کے منبر پر بیٹھے ' یہ نبی اکرم ﷺ کے وصال سے اگلے دن کی با ت ہے ۔راوی باےن کرتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ
عنہ نے کلمہ شہادت پڑھاحضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خاموش تھے انہوں نے کوئی بات نہیں کی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اما بعد! میں نے
ایک بات کہی تھی ویسا نہیں ہے ' جس طرح میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے جو بات کہی تھی میں نے وہ بات اللہ کی کتاب میں نہیں پائی کہ جسے اللہ
نے نازل کیا ہو اور نہ ہی اس کے بار ے میں نبی اکرم ﷺ نے ہمیں کا ئی تلقین کی لیکن مجھے یہ امید تھی کہ نبی اکرم ﷺ اتنے عرصے تک زندہ رہیں
گے کہ آپ ﷺ کا وصا ل ہم سب کے بعد ہوگا(راوی کہتے ہیں :) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مراد یہ تھی نبی اکرم ﷺ کا وصال ان میں سب سے آخر میں ہو گا۔
(حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :) اگر چہ حضرت محمد ﷺ کا وصال ہو چکا ہے 'لیکن اللہ تعالی نے تمہارے درمیان ایک نور رکھا ہے'جس کے
ذریعے تم ہدایت حاصل کر سکتے ہو تم اسے مضبوطی سے تھام کر رکھو تم ہدایت پالو گے یہ وہ چیز ہے' جس کے ذریعے اللہ تعالی نے حضرت محمد ﷺ کو
ہدایت عطا کی تھی ' پھر بے شک حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھی ہیں وہ دو افراد میں سے دوسرے شخص ہیں (جو ہجرت کے وقت غار میں موجود تھے) اور وہ تمہارے امور (یعنی خلیفہ ہونے) کے بارے میں سب لوگوں سے زیادہ حق دار ہیں 'تو تم لوگ اٹھو اور ان کی بیعت کر لو۔
(راوی کہتے ہیں :) ان لوگوں میں سے کچھ لوگ اس سے پہلے بنو ساعدہ کے سقیفہ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر چکے تھے لیکن ان کی عا م بیعت منبر پر ہوئی ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6875
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6876
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے اسی دوران ایک قافلہ (یعنی سازوسامان
کا قافلہ) مدینہ منورہ آیا ' تو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب تیزی سے اس کی طرف گئے یہاں تک کہ وہاں صرف بارہ افراد رہ گئے جن میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی (یعنی جو سورۃ جمعہ کی آخری آیات ہیں)
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6876
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6877
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے اسی دوران (سازو سامان کا ) ایک
قافلہ مدینہ منورہ آگیا تو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب تیزی سے اس کی طرف چکے گئے 'یہاں تک نبی اکرم ﷺ کے ساتھ صرف بارہ افراد رہ گئے ۔ نبی
اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے' اگر تم لوگ بھی ان کے پیچھے چلے جاتے یہاں تک تم میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا تو تمہارے لیے یہ تمام وادی آگ سے بھر جاتی (راوی کہتے ہیں :) اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
''اور جب انہوں نے تجارت اور دلچسپی کی چیز دیکھی تو تیزی سے اس کی طرف چلے گئے اور تمہیں (خطبہ دیتے ہوئے) کھڑا چھوڑ گئے۔''
راوی نے بتایا : وہ دوبارہ افراد جو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ وہاں رہے تھے ان میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6877