Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7058

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْسَحَ مُخَاطَ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: دَعْنِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَفْعَلُهُ، قَالَ: «يَا عَائِشَةُ، أَحِبِّيهِ فَإِنِّي أُحِبُّهُ»

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکر م ﷺ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی ناک صاف کرنے کا رادہ کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا : آ پ مجھے موقع دیجئے تا کہ میں ایسا کر لوں ' تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اے عائشہ ! ا س سے محبت رکھنا کیو نکہ میں اسے سے محبت کرتاہوں۔

يَا عَائِشَةُ أَحِبِّيهِ فَإِنِّي أُحِبُّهُ ← الَّذِي أَفْعَلُهُ، ← عَائِشَةُ دَعْنِي حَتَّی أَکُونَ ← أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ أَنْ يَمْسَحَ مُخَاطَ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، ← عَائِشَةَ ← عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7058

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7059

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ عَلَى قَوْمٍ، فَطَعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ، فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَأَيْمُ اللَّهِ لَقَدْ كَانَ خَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ مِنْ بَعْدِهِ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو کچھ لوگوں کا امیر مقرر کیا ان لوگوں نے ان کے امیر ہونے کے بارے میں الجھن کا اظہار کیا ' تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم اس کے امیر ہونے کے بارے میں الجھن کا اظہار کر رہے ہو تو اس سے پہلے تم نے اس کے باپ کے امیر ہونے کے بارے میں بھی الجھن کا اطہار کیا تھا اللہ کی قسم وہ امیر ہونےکے لائق تھا اور میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھا اور اس کے بعد یہ میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے

أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ عَلَى قَوْمٍ، فَطَعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ، ← ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7059

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7060

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ عَلِيًّا خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ فَوَعَدَ [ص:536] النِّكَاحَ، فَأَتَتْ فَاطِمَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، وَإِنَّ عَلِيًّا خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي وَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسُوءَهَا»، وَذَكَرَ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَأَحْسَنَ عَلَيْهِ الثَّنَاءَ وَقَالَ: «لَا يُجْمَعُ بَيْنَ بِنْتِ نَبِيِّ اللَّهِ وَبَيْنَ بِنْتِ عَدُوِّ اللَّهِ»

امام زین العابدین ' حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی بیٹی کے لئے شادی کا پیغام بھیجا اور نکاح کاوعدہ کرلیا ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئیں اور انہوں نے عرض کی : آپ کی قوم کے لوگ یہ بات کر رہے ہیں ' کہ آپ اپنی صاحب زادیوں کی وجہ سے غصہ نہیں کرتے ' حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی بیٹی کے لئے شادی کا پیغام بھیجا ہے ۔ نبیا اکرم ﷺ نے فرمایا : فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے مجھےو ہ بات نا پسند ہو گی جو اسے برے لگے ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضر ت ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کاذکر کیا اور ان کی اچھے لفظوں میں تعریف کی آپ نے فرمایا : اللہ کے نبی کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی (کسی شخص کے نکاح میں ) جمع نہیں ہو سکتی ہیں

الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7060

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7061

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنْتُ أَرْعَى غَنَمًا لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ فَقَالَ لِي: «يَا غُلَامُ، هَلْ مِنْ لَبَنٍ»؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَلَكِنِّي مُؤْتَمَنٌ، قَالَ: «فَهَلْ مِنْ شَاةٍ لَمْ يَنْزُ عَلَيْهَا الْفَحْلُ»؟ قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَمَسَحَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرْعَهَا، فَنَزَلَ اللَّبَنُ فَحَلَبَهُ فِي إِنَاءٍ، فَشَرِبَ وَسَقَى أَبَا بَكْرٍ، ثُمَّ، قَالَ لِلضَّرْعِ: «انْقَلِصِي» فَانْقَلَصَتْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقَوْلِ، فَمَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ: «يَرْحَمُكَ اللَّهُ إِنَّكَ [ص:537] غُلَامٌ مُعَلَّمٌ»

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں عقبہ بن ابو معیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ میرے پاس سے گزرے میں ایک لڑکا تھا ۔ نبی اکر م ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : اے لڑکے کیا دودھ ہے ۔ میں نے جواب دیا : جی ہاں لیکن مجھے امین بنایا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا کوئی ایسی بکری ہے جس کےساتھ کسی بکرے نے صحبت نہ کہ ہو (یعنی جس کا ابھی دودھ نہ اترا ہو ) راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس ایسی بکری لایا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیر ا' تو اس میں دودھ اتر آیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے وہ ایک برتن میں دوہ لیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے پیا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بھی پلایا پھر آپ نے تھن سے فرمایا : تم دوبارہ سمٹ جاؤ تو وہ سمٹ گیا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ آپ یہ عمل مجھے بھی سکھا دیجئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا اللہ تعالی تم پر رحم کرے تم ایک تعلیم یافتہ لڑکے ہو ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7061

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7062

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى*، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَادِسَ سِتَّةٍ مَا عَلَى الْأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرُنَا»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہےکہ میں چھٹا مسلمان تھا ' روئے زمین پر ہمارے علاوہ اور کوئی مسلمان نہیں تھا ۔

أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ مَعْنٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7062

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7063

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ*، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، قَالَ: قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ: أَنْبِئْنَا بِرَجُلٍ قَرِيبِ الْهَدْيِ وَالسَّمْتِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْخُذُ عَنْهُ؟ فَقَالَ: «مَا أَعْرِفُ أَقْرَبَ سَمْتًا، وَهَدْيًا وَدَلًّا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ حَتَّى يُوَارِيهِ جِدَارُ بَيْتِهِ، وَلَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ مِنْ أَقْرَبِهِمْ إِلَى اللَّهِ وَسِيلَةً»

عبدالرحمن ٰ بن یزید بیان کرتے ہیں : ہم نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ہمیں کسی ایسے شخص کے بارے میں بتائیں ' جو نبی اکرم ﷺ کی ہدایت اور آپ کے طور طریقے سے سب سے زیادہ قریب ہوتا کہ ہم اس سے وہ چیز حاصل کر لیں ' تو انہوں نے فرمایا : میں ایسے کسی شخص سے واقف نہیں ہو ں ' جو ابن ام عبد سے زیادہ نبی اکرم ﷺ کے طور طریقوں اور آپ کی رہنمائی اور آ پ کی دلالت سے زیادہ قریب ہو ' یہاں تک کہ ان کے گھر کی دیوار نہیں چھپا لے (یعنی گھر کے باہر کے معاملات میں سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ) نبی اکرم ﷺ کے اصحا ب میں سے محفوظ لوگ یہ بات جانتے ہیں ' کہ ابن ام عبداللہ تعالی کی بار گاہ میں وسیلہ ہونے کے اعتبار سے سب سے زیادہ قریب ہیں ۔

عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7063

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7064

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعَةً وَسَبْعِينَ سُورَةً، وَإِنَّ زَيْدًا لَهُ ذُؤَابَتَانِ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے اس وقت ستر سورتوں سے زیادہ تلاوت کر لی تھی (یعنی سیکھ لی تھیں ) جبکہ زید بن ثابت کے لمبے بال تھے اور وہ بچوں کے ساتھ کھیلتے تھے ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7064

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7065

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ عَلَيَّ سُورَةَ النِّسَاءِ»، فَقَرَأْتُ حَتَّى بَلَغْتُ: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا} [النساء: 41]، قَالَ: إِمَّا غَمَزَنِي وَإِمَّا الْتَفَتُّ، فَإِذَا عَيْنَاهُ تَسِيلَانِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم میرے سامنے سورہ نساء کی تلاوت کرو میں نے تلاوت شروع کی' یہاں تک جب میں اس مقام پر پہنچا ۔ ''تو اس وقت کیا عالم ہو گا ' جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور تمہیں ان سب پر گواہ بنا کر لے آئیں گے ''۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھے ٹہوکا دیا ' میں نے توجہ کی ' تو نبی اکرم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

إِمَّا غَمَزَنِي وَإِمَّا الْتَفَتُّ، فَإِذَا عَيْنَاهُ تَسِيلَانِ ← حَتَّى بَلَغْتُ: ← لي رسول الله اقرأ علي سورة النساء ← عَبْدُ اللَّهِ ← عُبَيْدَةُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7065

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7066

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا، بَشَّرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ»

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں : حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں خوش خبری دی نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:

عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا، بَشَّرَاهُ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7066

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7067

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَعَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي، فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ النِّسَاءِ، فَسَحَلَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا، كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ»، ثُمَّ قَعَدَ، ثُمَّ سَأَلَ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «سَلْ تُعْطَهْ، سَلْ تُعْطَهْ»، فَقَالَ: فِيمَا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ، وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَمُرَافَقَةَ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ، فَأَتَى عُمَرُ عَبْدَ اللَّهِ لِيُبَشِّرَهُ، فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ قَدْ سَبَقَهُ، قَالَ: إِنَّكَ إِنْ [ص:544] فَعَلْتَ، إِنَّكَ لَسَابِقٌ بِالْخَيْرِ.

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ گزرے حضر ت عبداللہ رضی اللہ عنہ اس وقت نماز ادا کررہے تھے انہوں نے سورہ نساء کی تلاوت شروع کی' اور اسے مکمل تلاوت کیا' جو شخص قرآن کو اسی طرح پڑھنا چاہتا ہو ' جس طرح وہ نازل ہوا ہے ' تو وہ ابن ام عبد کی قرأت کے مطابق اس کی تلاوت کرے پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیٹھے انہوں نے دعا مانگنا شروع کی۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ کہنا شروع کیا : تم مانگو تمہیں دیا جائے گا تم مانگو تمہیں دیا جائے گا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جو دعا مانگی اس میں یہ الفاظ بھی تھے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7067

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7068

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، [ص:545] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ يُرْفَعَ الْحِجَابُ، وَأَنْ تَسْمَعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تمہارا مجھ سے (اندر آنے کی) اجازت مانگنے کے لئے یہی کافی ہے کہ جب پردہ اٹھا ہو ا ہو ( تو تم اندر آسکتے ہو) اورمیری گفتگو سن سکتے ہو' جب تک میں تمہیں منع نہیں کرتا ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، [ص:545] ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ← الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7068

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7069

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يَحْتَزُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِوَاكًا مِنْ أَرَاكٍ، وَكَانَ فِي سَاقَيْهِ دِقَّةٌ، فَضَحِكَ الْقَوْمُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يُضْحِكُكُمْ مِنْ دِقَّةِ سَاقَيْهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمَا أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ أُحُدٍ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارےمیں یہ بات منقول ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے لیے پہلو کے درخت کی مسواک توڑرہے تھے ان کی پنڈلیاں پتلی تھیں ' تو لوگ ہنس پڑے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس کی پتلی پنڈلیوں پر ہنس رہے ہو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے وہ دونوں ( قیامت کے دن ) میزان میں احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوں گی۔

زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7069

chevron_left Previous
1…171819…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr