حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ان کی قبر میں ' یعنی حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی قبر میں داخل ہوئے ' آپ تھوڑی دیر وہاں ٹھہرے رہے ' جب آپ باہر آئے تو عرض کی گئی یا رسول اللہ ﷺ آپ کیوں ٹھہرے رہے تھے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : سعد کو قبر میں بھینچا گیا میں نے اللہ تعالی سے دعا کی' تو اس نے انہیں کشادگی عطا کی ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7034
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7035
7035 حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ریشم کا بنا ہوا کپڑا پہنا لوگوں نے اسے چھو کر اسے پسند کرنا شروع کیا ' تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے پسند کر رہے ہو جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ بہتر ہیں ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7035
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7036
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ریشمی کپڑا لا یا گیا لوگ اسے چھونے لگے اور اس کی نرمی پر حیران ہونے لگے ' تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ نرم ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس سے زیادہ بہتر ہیں
شعبہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے یہی روایت قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے ا سی کی مانند نقل کی ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7036
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7037
واقد بن عمرو بیان کرتے ہیں : میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تم کون ہو میں نے کہا: میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں ' تو انہوں نے فرمایا : تمہاری حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ مشابہت ہے پھر وہ رونے لگے اور بہت زیادہ روئے انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ حضرت سعد رضی اللہ عنہ پر رحمت کر ے وہ بڑے بھاری بھرکم اور طویل قامت تھے پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے دومہ( کے حکمران ) اکید کی طرف لشکر روانہ کیا ' تو اس نے نبی اکرم ﷺ کی طرف ریشم سے بنا ہو ا ایک جبہ بھیجا جس میں سونا بھرا ہوا تھا نبی اکرم ﷺ نے اسے پہنا آپ منبر پر کھڑے ہوئے (راوی کو شک ہے شاہد یہ الفاظ ہیں : ) منبر پر بیٹھے آپ نے کوئی بات چیت نہیں کی پھر آپ منبر سے نیچے اترے لوگ اس جبے کو چھوٹے لگے اور اس کی طرف دیکھنے لگے ' تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تمہیں یہ اچھا لگ رہا ہے لوگوں نے کہا: ہم نے اس سے زیادہ عمدہ کپڑا کبھی نہیں دیکھا ' تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ خوبصورت ہیں ' جو تم دیکھ رہے ہو ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7037
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7038
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دومہ ( کے حکمران ) اکید ر نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ریشم سے بنا ہوا جبہ بھیجا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے پہنا یہ ریشم کے حرام قرار دئیے جانے سے پہلے کی بات ہے ۔ لوگ اس کی خوبصورتی سے حیران ہوئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ خوبصورت ہیں ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7038
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7039
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک مہم جاسوسی کے لیے روانہ لہ آپ نے ان کا امیر عاصم بن ثابت کو مقرر کیا وہ لوگ روانہ ہوئے ' یہاں تک کہ عسفان اور مکہ کے درمیان انہوں نے پڑاؤ کیا ۔ ہذیل قبیلے کی ایک شاخ بنو لحیان کو ان کا پتہ چل گیا وہ لوگ ایک سو تیرا ندازوں کے ساتھ ان کے پیچھے آئے اور ان کے قدموں کے نشانات پر آتے رہے ' یہاں تک کہ انہوں نے بھی اسی جگہ پڑاؤ کیا جہاں انہوں نے پڑاؤ کیا تھا وہاں انہیں مدینہ منورہ کی کھجوروں کی گٹھلیاں ملیں ' تو کہا گیا یہ تو اہ یثر ب کی کھجوریں ہیں پھر وہ لوگ ان کے قدموں کے نشانات پر پیچھے آتے گئے ' یہاں تک کہ ان تک پہنچ گئے جب حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا ان کا احساس ہوا ' تو انہوں نے ایک پہاڑ کی آڑلی وہ لوگ آئے اور انہوں نے ان حضرات کو گھیر لیا اور ان لوگوں نے کہا : آپ لوگوں کے ساتھ یہ پختہ عہد اور وعدہ ہے کہ اگر آپ اتر کر ہماری طرف آجاتے ہیں تو ہم آپ میں سے کسی بھی شخص کو قتل نہیں کریں گے ' تو حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا : میں کافر قوم کی دی ہوئی پناہ کی وجہ سے نیچے نہیں اتروں گا : اے اللہ ' ہمارے بارے میں اپنے رسول کو اطلاع دیدے کہ ان لوگوں نے اپنی رہائشی جگہ پر رہتے ہوئے ان کے ساتھ لڑائی کی یہاں تک کہ ان لوگوں نے حضرت عاصم رضی اللہ عنہ سمیت سات افراد کو قتل کر دیا صرف حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ باقی وہ گئے اور ایک اور شخص باقی وہ گیا ان لوگوں نے ان حضرات کو یہ عہد دیا کہ اگر اتر کر ان کی طرف آگئے تو (انہیں کچھ نہیں کیا جائے گا ) لیکن جب ان لوگوں نے ان حضرات پر قابو پالیا تو انہوں نے ان کی کمانوں کے تار کھول دئیے اور اس کے ذریعے ان حضرا ت کو باند ھ دیا ' تو ان دو کے ساتھ موجود تیسرے شخص نے کہا : یہ سب سے پہلی وعدہ خلافی ہے اس نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ان لوگوں نے انہیں کھینچا ت اس شخص نے ان کے پیچھے جانے سے انکار کر دیا اور بولا : میرے لیے (ان مقتولین ) کے طریقہ کا ر میں بہترین نمونہ ہے ' تو ان لوگوں نے اس شخص کی بھی گردن اڑادی وہ لوگ حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ اور ؟حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے اورمکہ میں ان دونوں کو فروخت کا دیا ۔حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو حارث بن عامر کے بیٹوں نے خرید لیا کیونکہ حارث غزوہ بدر کے دن مارا گیا تھا وہ ان لوگوں کے ہاں قیدی کے طور پر رہے ' یہاں تک کہ جب ان لوگوں نے انہیں قتل کرنے کے بارے میں طے کر لیا ' تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے حارث کی ایک بیٹی سے ایک استرا عارضی استعمال کے لئے مانگا ' تا کہ اس کے ذریعے اضافی بال صاف کر لیں اس عورت نے انہیں وہ استرا دے دیا وہ عورت بیان کرتی ہے میں اپنے بچے سے غافل ہوئی ' یہاں تک کہ وہ بچہ ان کے پاس چلا گیا انہوں نے اس بچے کو پکڑا اور اپنی زانوں پر بٹھا لیا استرا ان کے ہاتھ میں تھا جب میں نے اس بچے کو دیکھا ' تو میں بہت گبھرا گئی انہوں دریافت کیا : کیا تمہیں اندیشہ ہے میں اسے قتل کردوں گا اگر اللہ نے چاہا ' تو میں نے ایسا نہیں کروں گا وہ عورت بیان کرتی ہے میں نے ایسا کوئی قید کبھی نہیں دیکھا ' جو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر ہو میں نے انہیں انگور کھاتے ہوئے دیکھا ہے حالانکہ ان دنوں مکہ میں یہ پھل نہیں تھا اور اس وقت لوہے میں جکڑے ہوئے تھے یہ وہ رزق تھا ' جواللہ تعالی نے انہیں عطا کرتا تھا پھر وہ لوگ (یعنی بنو حارث ) انہیں حرم کی حدود سے باہر لے گئے تا کہ انہں قتل کر دیں ' تو حضرت خبیبرضی اللہ عنہ نےکہا : مجھے موقع دو تا کہ میں دورکعات ادا کر لوں پھر انہوں نے دو رکعات ادا کی اور بولے : اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم یہ سمجھو گے کہ میں موت کے خوف کی وجہ سے (ایسا کر رہا ہوں ) تو میں مزید رکعات ادا کرتا ۔
(راوی کہتے ہیں ) تو وہ پہلے فرد تھے جنہوں نے قتل ہونے کے وقت دو رکعات ادا کرنے کا طریقہ ایجاد کیا پھر انہوں نے فرمایا :
''اگر میں مسلمان ہونے کے عالم میں قتل کیا جاتا ہوں ' تو پھر میں اس بات کی پروا نہیں کروں گا کہ اللہ تعالی کی بارگا ہ میں مجھے کون سے پہلو کے بل گرایا جاتا ہے۔''
پھر عقبہ بن حارث اٹھ کر ان کی طرف گیا اور اس نے انہیں شہید کر دیا ۔ قریش نے عاصم کے مقام کی طرف کسی کو بھیجا تا کہ ان کے جسم کا کوئی حصہ حاصل کر لیں اور اس کے ذریعے انہیں پہچان لیں کیونکہ عاصم نے غزوہ بدر کے موقع پر ان کے بڑے فرد کو قتل کیا تھا ' تو اللہ تعالی نے ان پر سایہ بھیجا ' تو وہ لوگ ان کےجسم سے کچھ حاصل نہیں کر سکے۔
یہ روایت ابن قتیبہ نے اپنی تحریر میں سے ہمیں بیان کی تھی جس میں یہ الفاظ ہیں
''تو انہوں نے اپنے گھروں میں رہتے ہوئے ان کے ساتھ لڑائی کی ''حالانکہ الفاظ یہ ہیں : ''انہوں نے اپنی جگہ پر رہتے ہوئے ان کے ساتھ لڑائی کی ''۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7039
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7040
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے ' تا ہم اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں
''اللہ تعالی نے ان پر بادل کی طرح مکھیوں کا جتھہ بھیجا تو وہ لوگ ان کے جسم کی کسی بھی چیز پر قادر نہ ہو سکے''۔
(امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) لفظ دبل سے مراد شہد کی مکھیوں کا جتھہ ہے
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7040
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7041
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اس وقت ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں (یعنی انتقا ہو چکا تھا ) نبی اکرم ﷺ نے ان کی آنکھوں کو بند کیا اور فرمایا : تم لوگ اپنے بارے میں صرف بھلائی کی دعا کرو کیونکہ تم لوگ جو کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے اللہ ابو سلمہ کی مغفرت کر دے اور مقرب لوگوں میں اس کے درجے بلند کر دے اور پیچھے رہنے والوں میں اس کا اچھا جانشین بنا دے اس کی اور ہماری مغفرت کر دے اے تمام جہانوں کے پروردگار ! اے اللہ ! اس کی قبر کو اس کے لئے کشادہ کر دے اور اس کی قبر کو اس کے لیے روشن کر دے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7041
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7042
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ انہیں حضرت زید بن محمد کہا کرتے تھے ' یہاں تک کہ قرآن کا یہ حکم نازل
ہوا۔
''ان لوگوں کو ان کے (حقیقی ) باپوں کی نسبت سے بلاؤ یہ اللہ تعالی ٰ کی بارگاہ میں انصاف کے زیادہ قریب ہے۔''
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7042
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7043
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے لئے مجھ سے زیادہ ادائیگی مقرر کی ' تو میں نے کہا : میری ہجرت اور اسامہ کی ہجرت ایک ساتھ ہوئی ہے ' تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کا والد نبی اکرم ﷺ کے نزدیک تمہارے باپ سے زیادہ محبوب تھا اور وہ نبی اکرم ﷺ کے نزدیک تم سے زیادہ محبوب تھا ' تمہیں تمہارے ماں باپ نے ہجرت کروائی تھی ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7043
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7044
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ایک مہم روانہ کی اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا بعض لوگوں نے ان کی امارت کے بارے میں الجھن کا اظہار کیا ' تو نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تم اسکےامیر ہونے کے بارے میں الجھن کااظہار کر رہے ہو تو اس سے پہلے تم نے اس کے باپ کے حوالے سے بھی الجھن کااظہار کیا تھا اللہ کی قسم وہ امیر ہونے کے قابل تھا اور میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھا اور اسکے بعد یہ میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7044
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7045
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے(اپنی اہلیہ ) سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کی شکایت نبی اکر م ﷺ سے کی ' تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو(یعنی اسے طلاق نہ دو ) تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
''تم اپنے من میں وہ بات چھپار رہے تھے جسے اللہ تعالی ظاہر کرنے والا تھا ۔''
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7045