Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7034

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَهُ - يَعْنِي سَعْدَ بْنَ [ص:507] مُعَاذٍ - فَاحْتَبَسَ، فَلَمَّا خَرَجَ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا حَبَسَكَ؟ قَالَ: «ضُمَّ سَعْدٌ فِي الْقَبْرِ ضَمَّةً، فَدَعَوْتُ اللَّهَ فَكَشَفَ عَنْهُ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ان کی قبر میں ' یعنی حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی قبر میں داخل ہوئے ' آپ تھوڑی دیر وہاں ٹھہرے رہے ' جب آپ باہر آئے تو عرض کی گئی یا رسول اللہ ﷺ آپ کیوں ٹھہرے رہے تھے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : سعد کو قبر میں بھینچا گیا میں نے اللہ تعالی سے دعا کی' تو اس نے انہیں کشادگی عطا کی ۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7034

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7035

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، [ص:508] عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: لَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبًا مِنْ حَرِيرٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمَسُونَهُ وَيَعْجَبُونَ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَتَعَجَّبُونَ مِنْهُ مَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهُ»

7035 حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ریشم کا بنا ہوا کپڑا پہنا لوگوں نے اسے چھو کر اسے پسند کرنا شروع کیا ' تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے پسند کر رہے ہو جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ بہتر ہیں ۔

لَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ ثَوْبًا مِنْ حَرِيرٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمَسُونَهُ وَيَعْجَبُونَ مِنْهُ، ← الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ، [ص:143] ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7035

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7036

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا [ص:509] يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِ حَرِيرٍ، فَجَعَلُوا يَلْمَسُونَهُ وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْ لِينِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَلْيَنُ مِنْ هَذَا أَوْ خَيْرٌ مِنْ هَذَا». قَالَ شُعْبَةُ: وَحَدَّثَنِي قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ریشمی کپڑا لا یا گیا لوگ اسے چھونے لگے اور اس کی نرمی پر حیران ہونے لگے ' تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ نرم ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس سے زیادہ بہتر ہیں شعبہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے یہی روایت قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے ا سی کی مانند نقل کی ہے۔

أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ بِثَوْبِ حَرِيرٍ، فَجَعَلُوا يَلْمَسُونَهُ وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْ لِينِهِ، ← الْبَرَاءِ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← [ص:509] يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7036

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7037

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ [ص:510] بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ لِي: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: إِنَّكَ بِسَعْدٍ لَشَبِيهٌ، ثُمَّ بَكَى فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ، قَالَ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى سَعْدٍ، كَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ، ثُمَّ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى أُكَيْدِرِ دُومَةَ، فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ مَنْسُوجٌ فِيهَا الذَّهَبُ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ، أَوْ جَلَسَ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ، ثُمَّ نَزَلَ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمَسُونَ الْجُبَّةَ، وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَعْجَبُونَ مِنْهَا»؟ قَالُوا: مَا رَأَيْنَا ثَوْبًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ»

واقد بن عمرو بیان کرتے ہیں : میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تم کون ہو میں نے کہا: میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں ' تو انہوں نے فرمایا : تمہاری حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ مشابہت ہے پھر وہ رونے لگے اور بہت زیادہ روئے انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ حضرت سعد رضی اللہ عنہ پر رحمت کر ے وہ بڑے بھاری بھرکم اور طویل قامت تھے پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے دومہ( کے حکمران ) اکید کی طرف لشکر روانہ کیا ' تو اس نے نبی اکرم ﷺ کی طرف ریشم سے بنا ہو ا ایک جبہ بھیجا جس میں سونا بھرا ہوا تھا نبی اکرم ﷺ نے اسے پہنا آپ منبر پر کھڑے ہوئے (راوی کو شک ہے شاہد یہ الفاظ ہیں : ) منبر پر بیٹھے آپ نے کوئی بات چیت نہیں کی پھر آپ منبر سے نیچے اترے لوگ اس جبے کو چھوٹے لگے اور اس کی طرف دیکھنے لگے ' تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تمہیں یہ اچھا لگ رہا ہے لوگوں نے کہا: ہم نے اس سے زیادہ عمدہ کپڑا کبھی نہیں دیکھا ' تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ خوبصورت ہیں ' جو تم دیکھ رہے ہو ۔

وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ← لِي: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: ← دَخَلْتُ عَلٰی اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ← وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبِي ← جَعْفَرُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7037

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7038

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةَ سُنْدُسٍ، فَلَبِسَهَا وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُحَرَّمَ الْحَرِيرُ، فَتَعَجَّبَ النَّاسُ مِنْ حُسْنِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ أَحْسَنُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دومہ ( کے حکمران ) اکید ر نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ریشم سے بنا ہوا جبہ بھیجا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے پہنا یہ ریشم کے حرام قرار دئیے جانے سے پہلے کی بات ہے ۔ لوگ اس کی خوبصورتی سے حیران ہوئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ خوبصورت ہیں ۔

قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَمِّيَ مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7038

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7039

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً عَيْنًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ نُزُولًا، فَذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو لِحْيَانَ، فَاتَّبَعُوهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ، فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ، حَتَّى نَزَلُوا مَنْزِلًا نَزَلُوهُ، فَوَجَدُوا فِيهِ نَوَى تَمْرٍ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ، فَقِيلَ: هَذَا مِنْ تَمْرِ أَهْلِ يَثْرِبَ فَاتَّبَعُوا آثَارَهُمْ، حَتَّى لَحِقُوهُمْ، فَلَمَّا آنَسَهُمْ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَصْحَابُهُ، لَجَؤُوا إِلَى فَدْفَدٍ، وَجَاءَ الْقَوْمُ فَأَحَاطُوا بِهِمْ، فَقَالُوا: لَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ إِنْ نَزَلْتُمْ إِلَيْنَا أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْكُمْ رَجُلًا، فَقَالَ عَاصِمٌ: أَمَّا أَنَا فَلَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ قَوْمٍ كَافِرِينَ، اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا رَسُولَكَ، فَقَاتَلُوهُمْ فِي بُيُوتِهِمْ حَتَّى قَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةِ نَفَرٍ، وَبَقِيَ خُبَيْبُ بْنُ عَدِيٍّ وَزَيْدُ بْنُ الدَّثِنَةِ، وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَعْطَوْهُمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ يَنْزِلُوا إِلَيْهِمْ، فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ حَلُّوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ، فَرَبَطُوهُمْ بِهَا، فَنَادَى الرَّجُلُ الثَّالِثُ الَّذِي مَعَهُمَا، هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ، فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ، فَجَرُّوهُ، فَأَبَى أَنْ يَتَّبِعَهُمْ، وَقَالَ: لِي فِي هَؤُلَاءِ أُسْوَةٌ، فَضَرَبُوا عُنُقَهُ، [ص:513] وَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبِ بْنِ عَدِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ الدَّثِنَةِ حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ فَاشْتَرَى خُبَيْبًا بَنُو الْحَارِثِ بْنُ عَامِرٍ، وَكَانَ الْحَارِثُ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ، فَمَكَثَ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا، حَتَّى إِذَا اجْتَمَعُوا عَلَى قَتْلِهِ اسْتَعَارَ مُوسًى مِنْ إِحْدَى بَنَاتِ الْحَارِثِ يَسْتَحِدُّ بِهِ، فَأَعَارَتْهُ، قَالَتْ: فَغَفَلْتُ عَنْ صَبِيٍّ لِي حَتَّى أَتَاهُ، فَأَخَذَهُ فَأَضْجَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ، وَالْمُوسَى فِي يَدِهِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ، فَزِعْتُ فَزَعًا شَدِيدًا، فَقَالَ: خَشِيتِ أَنْ أَقْتُلَهُ؟ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: فَكَانَتْ تَقُولُ: مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ مِنْ قِطْفِ عِنَبٍ وَمَا بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ ثَمَرَةٌ وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ، وَمَا كَانَ إِلَّا رِزْقًا رَزَقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ، ثُمَّ خَرَجُوا بِهِ مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ، فقَالَ: دَعُونِي أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنْ تَرَوْا أَنَّ مَا بِي جَزْعٌ مِنَ الْمَوْتِ، لَزِدْتُ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْقَتْلِ، ثُمَّ قَالَ: وَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا ... عَلَى أَيِّ شَقٍّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلَهُ، وَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ إِلَى مَوْضِعِ عَاصِمٍ تُرِيدُ الشَّيْءَ مِنْ جَسَدِهِ لِيَعْرِفُوهُ، وَكَانَ قَتَلَ عَظِيمًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ، فَبَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِثْلَ الظُّلَّةِ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى شَيْءٍ مِنْهُ»، [ص:514] هَكَذَا حَدَّثَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ مِنْ كِتَابِهِ، فَقَاتَلُوهُمْ فِي بُيُوتِهِمْ، وَإِنَّمَا هُوَ: فَقَاتَلُوهُمْ مِنْ ثُبُوتِهِمْ «

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک مہم جاسوسی کے لیے روانہ لہ آپ نے ان کا امیر عاصم بن ثابت کو مقرر کیا وہ لوگ روانہ ہوئے ' یہاں تک کہ عسفان اور مکہ کے درمیان انہوں نے پڑاؤ کیا ۔ ہذیل قبیلے کی ایک شاخ بنو لحیان کو ان کا پتہ چل گیا وہ لوگ ایک سو تیرا ندازوں کے ساتھ ان کے پیچھے آئے اور ان کے قدموں کے نشانات پر آتے رہے ' یہاں تک کہ انہوں نے بھی اسی جگہ پڑاؤ کیا جہاں انہوں نے پڑاؤ کیا تھا وہاں انہیں مدینہ منورہ کی کھجوروں کی گٹھلیاں ملیں ' تو کہا گیا یہ تو اہ یثر ب کی کھجوریں ہیں پھر وہ لوگ ان کے قدموں کے نشانات پر پیچھے آتے گئے ' یہاں تک کہ ان تک پہنچ گئے جب حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا ان کا احساس ہوا ' تو انہوں نے ایک پہاڑ کی آڑلی وہ لوگ آئے اور انہوں نے ان حضرات کو گھیر لیا اور ان لوگوں نے کہا : آپ لوگوں کے ساتھ یہ پختہ عہد اور وعدہ ہے کہ اگر آپ اتر کر ہماری طرف آجاتے ہیں تو ہم آپ میں سے کسی بھی شخص کو قتل نہیں کریں گے ' تو حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا : میں کافر قوم کی دی ہوئی پناہ کی وجہ سے نیچے نہیں اتروں گا : اے اللہ ' ہمارے بارے میں اپنے رسول کو اطلاع دیدے کہ ان لوگوں نے اپنی رہائشی جگہ پر رہتے ہوئے ان کے ساتھ لڑائی کی یہاں تک کہ ان لوگوں نے حضرت عاصم رضی اللہ عنہ سمیت سات افراد کو قتل کر دیا صرف حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ باقی وہ گئے اور ایک اور شخص باقی وہ گیا ان لوگوں نے ان حضرات کو یہ عہد دیا کہ اگر اتر کر ان کی طرف آگئے تو (انہیں کچھ نہیں کیا جائے گا ) لیکن جب ان لوگوں نے ان حضرات پر قابو پالیا تو انہوں نے ان کی کمانوں کے تار کھول دئیے اور اس کے ذریعے ان حضرا ت کو باند ھ دیا ' تو ان دو کے ساتھ موجود تیسرے شخص نے کہا : یہ سب سے پہلی وعدہ خلافی ہے اس نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ان لوگوں نے انہیں کھینچا ت اس شخص نے ان کے پیچھے جانے سے انکار کر دیا اور بولا : میرے لیے (ان مقتولین ) کے طریقہ کا ر میں بہترین نمونہ ہے ' تو ان لوگوں نے اس شخص کی بھی گردن اڑادی وہ لوگ حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ اور ؟حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے اورمکہ میں ان دونوں کو فروخت کا دیا ۔حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو حارث بن عامر کے بیٹوں نے خرید لیا کیونکہ حارث غزوہ بدر کے دن مارا گیا تھا وہ ان لوگوں کے ہاں قیدی کے طور پر رہے ' یہاں تک کہ جب ان لوگوں نے انہیں قتل کرنے کے بارے میں طے کر لیا ' تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے حارث کی ایک بیٹی سے ایک استرا عارضی استعمال کے لئے مانگا ' تا کہ اس کے ذریعے اضافی بال صاف کر لیں اس عورت نے انہیں وہ استرا دے دیا وہ عورت بیان کرتی ہے میں اپنے بچے سے غافل ہوئی ' یہاں تک کہ وہ بچہ ان کے پاس چلا گیا انہوں نے اس بچے کو پکڑا اور اپنی زانوں پر بٹھا لیا استرا ان کے ہاتھ میں تھا جب میں نے اس بچے کو دیکھا ' تو میں بہت گبھرا گئی انہوں دریافت کیا : کیا تمہیں اندیشہ ہے میں اسے قتل کردوں گا اگر اللہ نے چاہا ' تو میں نے ایسا نہیں کروں گا وہ عورت بیان کرتی ہے میں نے ایسا کوئی قید کبھی نہیں دیکھا ' جو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر ہو میں نے انہیں انگور کھاتے ہوئے دیکھا ہے حالانکہ ان دنوں مکہ میں یہ پھل نہیں تھا اور اس وقت لوہے میں جکڑے ہوئے تھے یہ وہ رزق تھا ' جواللہ تعالی نے انہیں عطا کرتا تھا پھر وہ لوگ (یعنی بنو حارث ) انہیں حرم کی حدود سے باہر لے گئے تا کہ انہں قتل کر دیں ' تو حضرت خبیبرضی اللہ عنہ نےکہا : مجھے موقع دو تا کہ میں دورکعات ادا کر لوں پھر انہوں نے دو رکعات ادا کی اور بولے : اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم یہ سمجھو گے کہ میں موت کے خوف کی وجہ سے (ایسا کر رہا ہوں ) تو میں مزید رکعات ادا کرتا ۔ (راوی کہتے ہیں ) تو وہ پہلے فرد تھے جنہوں نے قتل ہونے کے وقت دو رکعات ادا کرنے کا طریقہ ایجاد کیا پھر انہوں نے فرمایا : ''اگر میں مسلمان ہونے کے عالم میں قتل کیا جاتا ہوں ' تو پھر میں اس بات کی پروا نہیں کروں گا کہ اللہ تعالی کی بارگا ہ میں مجھے کون سے پہلو کے بل گرایا جاتا ہے۔'' پھر عقبہ بن حارث اٹھ کر ان کی طرف گیا اور اس نے انہیں شہید کر دیا ۔ قریش نے عاصم کے مقام کی طرف کسی کو بھیجا تا کہ ان کے جسم کا کوئی حصہ حاصل کر لیں اور اس کے ذریعے انہیں پہچان لیں کیونکہ عاصم نے غزوہ بدر کے موقع پر ان کے بڑے فرد کو قتل کیا تھا ' تو اللہ تعالی نے ان پر سایہ بھیجا ' تو وہ لوگ ان کےجسم سے کچھ حاصل نہیں کر سکے۔ یہ روایت ابن قتیبہ نے اپنی تحریر میں سے ہمیں بیان کی تھی جس میں یہ الفاظ ہیں ''تو انہوں نے اپنے گھروں میں رہتے ہوئے ان کے ساتھ لڑائی کی ''حالانکہ الفاظ یہ ہیں : ''انہوں نے اپنی جگہ پر رہتے ہوئے ان کے ساتھ لڑائی کی ''۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ الثَّقَفِيُّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7039

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7040

أَخْبَرَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ [ص:515] الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَبَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى شَيْءٍ. وَالدَّبْرُ الزَّنَابِيرُ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے ' تا ہم اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں ''اللہ تعالی نے ان پر بادل کی طرح مکھیوں کا جتھہ بھیجا تو وہ لوگ ان کے جسم کی کسی بھی چیز پر قادر نہ ہو سکے''۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) لفظ دبل سے مراد شہد کی مکھیوں کا جتھہ ہے

عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ [ص:227] الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7040

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7041

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ وَقَالَ: «إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ، تَبِعَهُ الْبَصَرُ»، فَصَاحَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ، فَقَالَ: «لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا تَقُولُونَ»، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمُقَرَّبِينَ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ، [ص:516] وَاغْفِرْ لَهُ وَلَنَا يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ افْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ»

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اس وقت ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں (یعنی انتقا ہو چکا تھا ) نبی اکرم ﷺ نے ان کی آنکھوں کو بند کیا اور فرمایا : تم لوگ اپنے بارے میں صرف بھلائی کی دعا کرو کیونکہ تم لوگ جو کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے اللہ ابو سلمہ کی مغفرت کر دے اور مقرب لوگوں میں اس کے درجے بلند کر دے اور پیچھے رہنے والوں میں اس کا اچھا جانشین بنا دے اس کی اور ہماری مغفرت کر دے اے تمام جہانوں کے پروردگار ! اے اللہ ! اس کی قبر کو اس کے لئے کشادہ کر دے اور اس کی قبر کو اس کے لیے روشن کر دے۔

دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ ← أُمِّ سَلَمَةَ ← قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ: ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7041

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7042

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: «مَا كُنَّا نَدْعُوهُ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ، حَتَّى نَزَلَ [ص:517] الْقُرْآنُ {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} [الأحزاب: 5]»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ انہیں حضرت زید بن محمد کہا کرتے تھے ' یہاں تک کہ قرآن کا یہ حکم نازل ہوا۔ ''ان لوگوں کو ان کے (حقیقی ) باپوں کی نسبت سے بلاؤ یہ اللہ تعالی ٰ کی بارگاہ میں انصاف کے زیادہ قریب ہے۔''

سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7042

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7043

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «فَرَضَ عُمَرُ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَكْثَرَ مِمَّا فَرَضَ لِي»، فَقُلْتُ: «إِنَّمَا هِجْرَتِي وَهِجْرَةُ أُسَامَةَ وَاحِدَةٌ»، قَالَ: «إِنَّ أَبَاهُ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبِيكَ، وَإِنَّهُ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ، وَإِنَّمَا هَاجَرَ بِكَ أَبَوَاكَ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے لئے مجھ سے زیادہ ادائیگی مقرر کی ' تو میں نے کہا : میری ہجرت اور اسامہ کی ہجرت ایک ساتھ ہوئی ہے ' تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کا والد نبی اکرم ﷺ کے نزدیک تمہارے باپ سے زیادہ محبوب تھا اور وہ نبی اکرم ﷺ کے نزدیک تم سے زیادہ محبوب تھا ' تمہیں تمہارے ماں باپ نے ہجرت کروائی تھی ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7043

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7044

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمْرَتِهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمْرَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمْرَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَأَيْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ خَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ایک مہم روانہ کی اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا بعض لوگوں نے ان کی امارت کے بارے میں الجھن کا اظہار کیا ' تو نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تم اسکےامیر ہونے کے بارے میں الجھن کااظہار کر رہے ہو تو اس سے پہلے تم نے اس کے باپ کے حوالے سے بھی الجھن کااظہار کیا تھا اللہ کی قسم وہ امیر ہونے کے قابل تھا اور میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھا اور اسکے بعد یہ میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بن دينار أنه ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7044

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7045

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: جَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَشْكُو زَيْنَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمْسِكْ عَلَيْكَ أَهْلَكَ» فَنَزَلَتْ: {وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ} [الأحزاب: 37] «

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے(اپنی اہلیہ ) سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کی شکایت نبی اکر م ﷺ سے کی ' تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو(یعنی اسے طلاق نہ دو ) تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ ''تم اپنے من میں وہ بات چھپار رہے تھے جسے اللہ تعالی ظاہر کرنے والا تھا ۔''

جَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَشْكُو زَيْنَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَفَّانُ، ← اَبُوْ یَحْیَی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7045

chevron_left Previous
1…151617…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr