Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7022

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِ الصِّلْحِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: لَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: «يَا جَابِرُ، مَا لِي أَرَاكَ مُنْكَسِرًا»؟ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتُشْهِدَ أَبِي، وَتَرَكَ عِيَالًا وَدَيْنًا، فَقَالَ: «أَلَا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِيَ اللَّهُ بِهِ أَبَاكَ»؟ قُلْتُ: بَلَى، يَا رَسُولَ [ص:491] اللَّهِ، قَالَ: «مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَإِنَّ اللَّهَ أَحْيَا أَبَاكَ فَكَلَّمَهُ كِفَاحًا، فَقَالَ: يَا عَبْدِي، تَمَنَّ أُعْطِكَ، قَالَ: تُحْيِينِي فَأُقْتَلَ قَتْلَةً ثَانِيَةً، قَالَ اللَّهُ: إِنِّي قَضَيْتُ أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ»، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ} [آل عمران: 169]

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کی مجھ سے ملاقات ہوئی آپ نے مجھ سے فرمایا: اے جابر کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں پریشان دیکھ رہا ہوں ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ میرے والد شہید ہوگئے ہیں انہوں نے بال بچے اور قرض چھوڑا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں خوشخبری نہ دوں جس کے ہمراہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد سے ملاقات کی ہے ۔میں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہﷺ ۔ نبی اکرمﷺ نےفرمایا: اللہ تعالیٰ نےہر کسی کے ساتھ حجاب کے پیچھے سے بات کی ہے لیکن جب اس نے تمہارے باپ کو زندہ کیا ،تو اس کے ساتھ براہ راست کلا م کیا اس نے کہا: اےمیرے بندے ، تو آرزو کر میں تمہیں وہ عطا کروں گا ، تو اس نے کہا: ( اے میرے پروردگار ) مجھے دوبارہ زندہ کر دے حتی ٰ کہ مجھے دوسری مرتبہ تیری راہ میں شہید کیا جائے ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ لو گ ( دنیا کی طرف) واپس نہیں جائیں گے ۔

لَقِيَنِي النَّبِيُّ فَقَالَ لِي: «يَا جَابِرُ، مَا لِي أَرَاكَ مُنْكَسِرًا»؟ فَقُلْتُ: ← جَابِرًا ← طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، ← مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِ الصِّلْحِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7022

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7023

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، [ص:492] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ عَمِّي أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: - سُمِّيتُ بِهِ وَلَمْ يَشْهَدْ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبُرَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: - «أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيَّبَتُ عَنْهُ، أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ أَرَانِي مَشْهَدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَعْدُ لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ، قَالَ: فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا، فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَاسْتَقْبَلَهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَمْرٍو أَيْنَ؟ قَالَ: وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ، أَجِدُهَا دُونَ أُحُدٍ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتلَ فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ بَيْنَ ضَرْبَةٍ وَطَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ، فَقَالَتْ عَمَّتِي أُخْتُهُ: فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِبَنَانِهِ، قَالَ: وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مِنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا} [الأحزاب: 23]

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے چچا حضرت انس بن نضررضی اللہ عنہ کے نام پر میرا نام رکھا گیا و ہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک نہیں سکے تھ یہ بات ان پر بہیں گراں گزری تھی ۔ انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ نے جو سب سے پہلی جنگ کی تھی اس میں شریک نہیں ہوا اللہ کی قسم اب اگر اللہ تعالہ نے مجھے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کسی جنگ میں شریک ہونے کا موقع دیا ' تو اللہ تعالی اس چیز کو ظاہر کر دے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے اس کے علاوہ کچھ کہنے کی کوشش نہیں کی پھر وہ اگلے سال غزوہ احد کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئے ۔ حضرت سعد بن ماذ رضی اللہ عنہ ان کے سامنے آئے تو انہوں نے کیا : اے ابو عمر و کہا ں کا ارادہ ہے ۔ انہوں نے فرمایا : جنت کی خوشبو مجھے احد کے دوسری طرف محسوس ہو رہی ہے پھر انہوں نے جنگ میں حصہ لیا' یہاں تک ک شہید ہو گئے ان کے جسم پر تلوار ، نیزے اور تیر کے زخموں کے اسی (80 ) سے زیادہ نشانات تھے ۔میری پھوپھی نے کہا : میں نے اپنے بھائی کو صرف ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچانا ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7023

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7024

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبَرْتِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ فَاكِهٍ السُّلَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: جَاءَ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ قُتِلَ الْيَوْمَ دَخَلَ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا أَرْجِعُ إِلَى أَهْلِي حَتَّى أَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا عَمْرُو، لَا تَألَّ عَلَى اللَّهِ، فَقَالَ [ص:494] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْلًا يَا عُمَرُ، فَإِنَّ مِنْهُمْ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ: مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ، يَخُوضُ فِي الْجَنَّةِ بِعَرْجَتِهِ»

حضرت جابررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں غزوہ احد کے دن حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ آج جو شخص شہید ہو جائے وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ۔ انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں اپنے گھر والوں کی طرف واپس نہیں جاؤں گا بلکہ جنت میں داخل ہو ں گا ' تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے عمر و تم اس پر اللہ کے نام کی قسم نہ اٹھاؤ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عمر رہنے دو کیونکہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں اگر وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا لیں ' تو اللہ تعالی وہ کام پورا کروا دیتا ہے اور ان میں سے ایک عمرو بن جموح ہے ( بعد میں نبی اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا ) وہ جنت کے تالاب میں غوطے لگا رہا ہے ۔

جَاءَ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ: ← جَابِرًا ← طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، ← مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ فَاكِهٍ السُّلَمِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7024

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7025

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: وَقَدْ كَانَ النَّاسُ انْهَزَمُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَى بَعْضُهُمْ إِلَى دُونِ الْأَعْرَاضِ عَلَى جَبَلٍ بِنَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَانَ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ الْتَقَى هُوَ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، [ص:496] فَلَمَّا اسْتَعْلَاهُ حَنْظَلَةُ رَآهُ شَدَّادُ بْنُ الْأَسْوَدِ، فَعَلَاهُ شَدَّادٌ بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهُ، وَقَدْ كَادَ يَقْتُلُ أَبَا سُفْيَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ صَاحِبَكُمْ حَنْظَلَةَ تُغَسِّلُهُ الْمَلَائِكَةُ، فَسَلُوا صَاحِبَتَهُ»، فَقَالَتْ: خَرَجَ وَهُوَ جُنُبٌ لَمَّا سَمِعَ الْهَائِعَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَذَاكَ قَدْ غَسَّلَتْهُ الْمَلَائِكَةُ»

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشا د فرماتے ہوئے سنا ہے: یہ اس وقر کی بات ہے جب لوگ نبی اکرم ﷺ کو چھوڑ کر پسپا ء ہو چکے تھے ' یہاں تک کہ ان میں سے بعض لوگ پہاڑ کی دوسری طرف مدینہ منورہ والے حصے کی طرف چلے گئے (یعنی میدان جنگ سے پیچھے ہٹ چکے تھے ) پھروہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی طرف اس وقت واپس آئے جب حضرت حنظلہ بن ابو عامر رضی اللہ عنہ اور سفیان بن حرب کے درمیان مقابلہ ہو رہا تھا جب حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ اس پر غالب آنے لگے ' تو شداد ابن اسود نے انہیں دیکھ لیا شداد تلوار لے کر ان کے اوپر آیا ' یہاں تک کہ انہیں شہید کر دیا حالانکہ اس وقت ابو سفیا ن کر قتل کرنے ہی والے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے ساتھی خنظلہ کو فرشتوں نے غسل دیا ہے تم اس کی بیوی سے دریافت کرو' تو اس خاتون نے بتایا : جب وہ نکلے تھے ' تو جنابت کی حالت میں تھے کیونکہ انہوں نے جنگ کی پکار سن لی تھی ( اس لیے غسل کیے بغیر چلے گئے ) تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسی وجہ سے فرشتوں نے اسے غسل دیا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7025

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7026

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا [ص:497] عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ بَنِي قُرَيْظَةَ، نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ، فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا إِلَى خَيْرِكُمْ أَوْ إِلَى سَيِّدِكُمْ»، قَالَ: «إِنَّ هَؤُلَاءِ قَدْ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ»، قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ، وَتُسْبَى ذَرِّيَّتُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ»، وَقَالَ مَرَّةً: «لَقَدْ حَكَمْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنو قریظہ نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث تسلیم کیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو پیغام بھجوایا وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنے سب سے بہتر شخص ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اپنے سردار کے لیے کھڑے ہو جاؤ ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں نے تمہیں ثالث تسلیم کیا ہے ' تو حضرت سعد رضی اللہ عنہنے کہا : میں ان کے بارے میں فیصلہ دیتا ہوں کہ ان کے جنگ جو افرا کو قتل کر دیا جائے ' بچوں کو قیدی بنا لیا جائے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ان کے بارے میں اللہ تعالی کے فیصلے کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔ ایک مرتبہ راوی نے یہ الفاظ نقل کئے تم نے ان کے بارے میں بادشاہ کی طرح کا فیصلہ دیا ہے۔

أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ، ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7026

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7027

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ [ص:498] الْقَارِئُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ عَلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں خیمہ لگوایا تھا تا کہ قریب سے ہی ان کی عیادت کر لیا کریں ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ [ص:498] الْقَارِئُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7027

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7028

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْتُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ أَقْفُو أَثَرَ النَّاسِ، فَسَمِعْتُ وَئِيدَ الْأَرْضِ مِنْ وَرَائِي، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَمَعَهُ ابْنُ أَخِيهِ الْحَارِثُ بْنُ أَوْسٍ يَحْمِلُ مِجَنَّهُ، فَجَلَسْتُ إِلَى [ص:499] الْأَرْضِ، فَمَرَّ سَعْدٌ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ قَدْ خَرَجَتْ مِنْهَا أَطْرَافُهُ، فَأَنَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أَطْرَافِ سَعْدٍ، وَكَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ، قَالَتْ: فَمَرَّ وَهُوَ يَرْتَجِزُ وَيَقُولُ: لَبِّثْ قَلِيلًا يُدْرِكِ الْهَيْجَا حَمَلْ ... مَا أَحْسَنَ الْمَوْتَ إِذَا حَانَ الْأَجَلْ قَالَتْ: فَقُمْتُ فَاقْتَحَمَتُ حَدِيقَةً، فَإِذَا فِيهَا نَفَرٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ: وَيْحَكِ مَا جَاءَ بِكِ لَعَمْرِي وَاللَّهِ إِنَّكِ لَجَرِيئَةٌ، مَا يُؤْمِنُكِ أَنْ يَكُونَ تَحَوُّزٌ أَوْ بَلَاءٌ، قَالَتْ: فَمَا زَالَ يَلُومُنِي حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنَّ الْأَرْضَ قَدِ انْشَقَّتْ فَدَخَلْتُ فِيهَا، وَفِيهِمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ نَصِيفَةٌ لَهُ، فَرَفَعَ الرَّجُلُ النَّصِيفَ عَنْ وَجْهِهِ، فَإِذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: وَيْحَكَ يَا عُمَرُ، إِنَّكَ قَدْ أَكْثَرْتَ مُنْذُ الْيَوْمَ، وَأَيْنَ الْفِرَارُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ؟، قَالَتْ: وَرَمَى سَعْدًا رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ الْعَرِقَةِ، بِسَهْمٍ قَالَ: خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْعَرِقَةَ فَأَصَابَ أَكْحَلَهُ فَقَطَعَهَا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ قُرَيْظَةَ، وَكَانُوا حُلَفَاءَهُ وَمَوَالِيهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَبَرَأَ كَلْمُهُ، وَبَعَثَ اللَّهُ الرِّيحَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ، فَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ، وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا، فَلَحِقَ أَبُو سُفْيَانَ بِتِهَامَةَ، وَلَحِقَ عُيَيْنَةَ وَمَنْ مَعَهُ بِنَجْدٍ، وَرَجَعَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ، فَتَحَصَّنُوا [ص:500] بِصَيَاصِيهِمْ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَضُرِبَتْ عَلَى سَعْدٍ فِي الْمَسْجِدِ وَوَضَعَ السِّلَاحَ. ، قَالَتْ: فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: أَوَقَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ، فَوَاللَّهِ مَا وَضَعَتِ الْمَلَائِكَةُ السِّلَاحَ، اخْرُجْ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَاتِلْهُمْ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّحِيلِ، وَلَبِسَ لَأْمَتَهُ، فَخَرَجَ فَمَرَّ عَلَى بَنِي غَنْمٍ وَكَانُوا جِيرَانَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: «مَنْ مَرِّ بِكُمْ»؟ قَالُوا: مَرَّ بِنَا دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ، فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَاصَرَهُمْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ يَوْمًا، فَلَمَّا اشْتَدَّ حَصْرُهُمْ، وَاشْتَدَّ الْبَلَاءُ عَلَيْهِمْ قِيلَ لَهُمُ انْزِلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَشَارُوا أَبَا لُبَابَةَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنَّهُ الذَّبْحُ، فَقَالُوا: نَنْزِلُ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَنَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ، وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ، فَحَمَلَ عَلَى حِمَارٍ وَعَلَيْهِ إِكَافٌ مِنْ لِيفٍ وَحَفَّ بِهِ قَوْمُهُ، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: يَا أَبَا عَمْرٍو، حُلَفَاؤُكَ وَمَوَالِيكَ وَأَهْلُ النِّكَايَةِ وَمَنْ قَدْ عَلِمْتَ، فَلَا يُرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا، حَتَّى إِذَا دَنَا مِنْ ذَرَارِيِّهِمُ الْتَفَتَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: قَدْ آنَ لِسَعْدٍ أَنْ لَا يُبَالِي فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، فَلَمَّا طَلَعَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ فَأَنْزِلُوهُ»، قَالَ عُمَرُ: سَيِّدُنَا اللَّهُ، قَالَ: «أَنْزِلُوهُ»، فَأَنْزَلُوهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْكُمْ فِيهِمْ»، قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ، وَتُسْبَى ذَرَارِيِّهِمْ، وَتُقْسَمُ أَمْوَالُهُمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ» [ص:501] ثُمَّ دَعَا اللَّهَ سَعْدٌ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ أَبْقَيْتَ عَلَى نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْئًا، فَأَبْقِنِي لَهَا، وَإِنْ كُنْتَ قَطَعْتَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ، فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ، فَانْفَجَرَ كَلْمُهُ، وَكَانَ قَدْ بَرَأَ مِنْهُ حَتَّى مَا بَقِيَ مِنْهُ إِلَّا مِثْلَ الْحِمَّصِ، قَالَتْ: فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَجَعَ سَعْدٌ إِلَى بَيْتِهِ الَّذِي ضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَحَضَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، قَالَتْ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَعْرِفُ بُكَاءَ أَبِي بَكْرٍ مِنْ بُكَاءِ عُمَرَ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي، وَكَانُوا كَمَا، قَالَ اللَّهُ: {رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ} [الفتح: 29]، قَالَ عَلْقَمَةُ: فَقُلْتُ أَيْ أُمَّهْ، فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ؟ قَالَتْ: كَانَ عَيْنَاهُ لَا تَدْمَعُ عَلَى أَحَدٍ، وَلَكِنَّهُ إِذَا وَجَدَ إِنَّمَا هُوَ آخِذٌ بِلِحْيَتِهِ

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں غزوہ خندق کے موقع پر میں لوگوں کے پیچھے پیچھے جانے کے لیے نکلی میں نے اپنے پیچھے زمین پر چلنے کی آواز سنی میں نے مڑ کا دیکھا ' تو وہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے ان کے ساتھ ان کے بھتیجے حارث بن اوس تھے جنہوں نے ان کی ڈھال اٹھائی ہوئی تھی میں زمین پر بیٹھ گئی حضرت سعد رضی اللہ عنہ گزرے تو ان کے جسم پر ایک زرہ تھی جس کے کنارے باہر کی طرف نکلے ہوئے تھے مجھے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے باہر نکلے ہوئے کناروں سے اندیشہ ہوا وہ لمبے تڑنگے آدمی تھے ۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب وہ گزرے تو یہ رجز پڑھ رہے تھے ۔ ''تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ تم موت تک پہنچ جاؤ گے اور وہ کتنی اچھی موت ہے ' جب آدمی کا وقت پورا ہا جائے ۔'' سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میں اٹھی اور میں ایک باغ کے اندر آگئی وہاں کچھ مسلمان موجود تھے ان میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہارا ستیا ناس ہو 'تم کیوں آئی ہو؟ اللہ کی قسم ! تم نے بڑی جرأت کا مظاہرہ کیا ہے کس چیز نے تمہیں اس بات سے مامون رکھا کہ کوئی مصیبت یا آزمائش آسکتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں وہ مسلسل مجھے ملامت کرتے رہے ' یہاں تک کہ میں یہ آرزو کی کہ زمین شق ہو جائے اور میں اس میں داخل ہو جاؤں ۔ ان لوگوں میں ایک شخص تھا جس نے اپنے چہرے پر کپڑا ڈالا ہوا تھا انہوں نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا ' تو وہ حضرت طلحہ بن عبیدا للہ رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے کہا : اے عمر ! تمہارا ستیا ناس ہو آج آپ نے انتہا کر دی اللہ تعالی کے علاوہ اور کہاں جایا جا سکتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص عرقہ نے حضرت سعد (معاذ رضی اللہ عنہ ) کو تیر مارا اور بولا : اسے سنبھالو میں ابن عرقہ ہوں ' تو وہ تیران کی مخصوص رگ پر لگا اور اس نے اس رگ کو کاٹ دیا ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ ' تو مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک بنو قریظہ کے حوالے سے میری آنکھوں کو ٹھندا نہیں ک دیتا ۔ وہ لوگ اورا ن کے موالی زمانہ جاہلیت میں ان کے حلیف رہے تھے ' تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا زخم ٹھیک ہو گیا پھر اللہ تعالی نے مشرکین پر آندھی بھیجی ۔اللہ تعالی ٰ اہل ایمان کے لئے جنگ کی جگہ کافی ہو گیا اور اللہ تعالیٰ قوت والا اور غالب ہے ۔ ابو سفیان تہامہ گیا اس نے عیینہ اور نجد میں موجود اس کے ساتھیوں سے ملاقات کی بنو قریظہ واپس آگئے وہ اپنے علاقے میں قلعہ بند ہو گئے ۔نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ کی طرف تشریف لائے ' تو آپ نے حضرت سعد کے لئے مسجد میں چمڑے سے بنے ہوئے خیمے کو لگانے کا حکم دیا آپ نے ہرہتھیار اتارے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں حتی کہ جبرائیل آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے کہا : کیا آپ نے ہتھیار اتار دئیے ہیں اللہ کی قسم فرشتوں نے ' تو ابھی ہتھار اتارے آپ بنو قریظہ کی طرف تشریف لے جائیں اور ان کے ساتھ جنگ کریں ' تو نبی اکرم ﷺ نے روانگی کا حکم دیا آپ نے جنگی لباس پہن لیا اپ گھر سے باہر نکلے اور بنو غنم کے پاس سے گزرے ' جو مسجد کے پڑوسی تھے آپ نے دریافت کیا : ابھی تمہارے پاس سے کون گزرا ہے ان لوگوں نے جواب دیا : دحیہ کلبی ہمارے پا س سے گزرے ہیں (یعنی حضرت جبرائیل دحیہ کلبی کی شکل میں آئے تھے ) نبی اکرم ﷺ بنو قریظہ کے پاس تشریف لائے آپ نے 25 دن تک ان کا محاصرہ کیا جب ان کا محاصرہ شدید ہو گیا اور ان پر آزمائش سخت ہو گئی تو ان سے یہ کہا گیا : نبی اکرم ﷺ کو ثالث مان لو ان لوگوں نے ابو لبابہ سے مشورہ کیا ' تو انہوں نے انہیں اشارہ کر کے بتایا : انہیں ذبح کر دیا جائے گا ' تو ان لوگوں نے کہا : ہم حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث تسلیم کر تے ہیں ' تو ان لوگوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا ثالثی فیصلے پر محاصرہ ختم کروایا ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو بلوایا انہیں ایک گدھے پر سوار کر کے لایا گیا جس پر کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی چادر موجود تھی ان کی قوم کے افراد نے انہیں گھیر ا ہوا تھا اور وہ یہ کہہ رہے تھے اے ابو عمر و یہ تمہارے حلیف اور موالی ہیں اور لڑائیوں کے ساتھی ہیں اور وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں آپ جانتے ہیں لیکن حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو کوئی جواب نہیں دیا ' یہاں تک کہ جب وہ ان کے بچوں کے قریب ہوئے تو وہ اپنی قوم ہوئے اور بولے اب سعد کے لئے وہ وقت آگیا ہے کہ وہ اللہ تعالی کے لئے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرے جب وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے آئے ' تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنے سردار کے لئے کھڑے ہو جاؤ اور اسے نیچے اتارو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہمارا سردار ' اللہ تعالی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے نیچے اتار و ۔ انہوں نے اسے نیچے اتارا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تم ان کے درمیان فیصلہ کر و۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگ جو لوگوں کو قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں کو قیدی بنا لیا جائے ان کے اموال تقسیم کر دئیے جائیں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ان کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے مطابق فیصلہ دیا ہے پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی انہوں نے کہا : اے اللہ ! اگر تو نے نبی کے لئے قریش سے جنگ کو باقی رکھنا ہے ' تو مجھے بھی اس کے لیے باقی رکھ اور اگر ' تو نے اپنے نبی اور ان کے درمیان جنگ کو منقطع کر دیا ہے تو مجھے اپنی طرف قبض کر لے تو ان کے زخم سے خون جاری ہو گیا حالانکہ وہ اس سے پہلے ٹھیک ہو چکے تھے ' یہاں تک کہ صرف معمولی شا زخم رہ گیا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ واپش تشریف لائے حضرت سعد رضی اللہ عنہ اپنے گھر واپس چلے گئے وہ خیمہ جو نبی اکرم ﷺ نے ان کے لیے لگوایا تھا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھ ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں اپنے حجرے میں ہی موجود تھی کہ مجھے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کے رونے کی آواز صاف سنائی دی ' تو اسی طرح ہوا تھا ' جس طرح اللہ تعالی یہ فرماتا ہے: ''آپس میں ایک دوسرے کے لئے رحم دل ہیں ''۔ راوی علقمہ نےکہا : اے امیر المومنین نبی اکرم ﷺ کیا کرتےتھے (یعنی رونے کے وقت کیا کرتے تھے ) تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکر م ﷺ کسی پر آنسو نہیں بہاتے تھے البتہ یہ ہے کہ آپ (غم کی شدت کی وجہ سے ) اپنی داڑھی مبارک پکڑ لیتے تھے۔

عَائِشَةَ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7028

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7029

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السِّخْتِيَانِيُّ، حَدَّثَنَا مَحْفُوظُ بْنُ أَبِي تَوْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَّارُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، [ص:502] أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجِنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ: «اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ» يُرِيدُ بِهِ: اسْتَبْشَرَ وَارْتَاحَ، كَقَوْلِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا: {فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ} [الحج: 5] يُرِيدُ بِهِ: ارْتَاحَتْ وَاخْضَرَّتْ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حالانکہ اس وقت حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ لوگوں کے سامنے رکھا ہوا تھا آپ نے فرمایا : اس کے لیے رحمان کا عرش جھوم اٹھا ہے۔ (اما م ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان : اس کے لئے رحمان کا عرش جھوم اٹھا ہے ' اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے کہ اس نے خوش خبری حاصل کی ہے اور راحت حاصل کی ہے ' اس کی مثال اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے۔ ''جب ہم اس پر اپنی رحمت نازل کرتے ہیں ' تو وہ جھوم اٹھتا ہے اور پھلتا پھولتا ہے''۔ اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ وہ راحت حاصل کرتا ہے اور سر سبز ہو جاتا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، [ص:502] أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مَحْفُوظُ بْنُ أَبِي تَوْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَّارُ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7029

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7030

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ [ص:504] رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِوَفَاةِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ»

محمد بن عمر و اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : میں نے حضرت اسید بن خضیر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ''سعد بن معاذ کے انتقال پر عرش جھوم اٹھا ''۔

«اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِوَفَاةِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ» ← [ص:504] رَسُولَ اللَّهِ ← أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ، ← عَائِشَةَ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7030

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7031

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَعْنٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَأَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اهْتَزَّ عَرْشُ الرَّحْمَنِ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :

جَابِرٍ ← أَبِي صَالِحٍ، وَأَبِي سُفْيَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ مَعْنٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7031

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7032

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَلَّافُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَجِنَازَةُ سَعْدٍ مَوْضُوعَةٌ: «اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ» فَطَفِقَ الْمُنَافِقُونَ فِي جِنَازَتِهِ وَقَالُوا: مَا أَخَفَّهَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّمَا كَانَتْ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ مَعَهُمْ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا جنازہ رکھا ہوا تا (آپ نے فرمایا) اس کے لیے رحمن ٰ کا عرش جھوم اٹھا ہے منافقین نے ان کے جنازے کے بارے میں یہ کہنا شروع کیا : یہ کتنا ہلکا ہے ' اس بات کی اطلاع نبی اکرم ﷺ کو ملی ' تو آپ نے فرمایا : لوگوں کے ساتھ اسے فرشتوں نے اٹھایا ہو اہے

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَلَّافُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7032

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7033

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ، بِدِمَشْقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ [ص:506] سَعِيدٍ، وَيَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَعْدٍ: «هَذَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ الَّذِي فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ شُدِّدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ فُرِّجَ عَنْهُ»

حضر ت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: یہ وہ نیک شخص ہے جس کے لیے آسما ن کے دروازے کھول دئیے گئے اس پر ( قبر میں ) تنگی کی گئی لیکن پھر اس کو کشادگی عطا کر دی گئی ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← يَحْيَى بْنِ [ص:506] سَعِيدٍ، وَيَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ، بِدِمَشْقَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7033

chevron_left Previous
1…141516…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr