حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کی مجھ سے ملاقات ہوئی آپ نے مجھ سے فرمایا: اے جابر کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں پریشان دیکھ رہا ہوں ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ میرے والد شہید ہوگئے ہیں انہوں نے بال بچے اور قرض چھوڑا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں خوشخبری نہ دوں جس کے ہمراہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد سے ملاقات کی ہے ۔میں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہﷺ ۔ نبی اکرمﷺ نےفرمایا: اللہ تعالیٰ نےہر کسی کے ساتھ حجاب کے پیچھے سے بات کی ہے لیکن جب اس نے تمہارے باپ کو زندہ کیا ،تو اس کے ساتھ براہ راست کلا م کیا اس نے کہا: اےمیرے بندے ، تو آرزو کر میں تمہیں وہ عطا کروں گا ، تو اس نے کہا: ( اے میرے پروردگار ) مجھے دوبارہ زندہ کر دے حتی ٰ کہ مجھے دوسری مرتبہ تیری راہ میں شہید کیا جائے ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ لو گ ( دنیا کی طرف) واپس نہیں جائیں گے ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7022
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7023
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے چچا حضرت انس بن نضررضی اللہ عنہ کے نام پر میرا نام رکھا گیا و ہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک نہیں سکے تھ یہ بات ان پر بہیں گراں گزری تھی ۔ انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ نے جو سب سے پہلی جنگ کی تھی اس میں شریک نہیں ہوا اللہ کی قسم اب اگر اللہ تعالہ نے مجھے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کسی جنگ میں شریک ہونے کا موقع دیا ' تو اللہ تعالی اس چیز کو ظاہر کر دے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے اس کے علاوہ کچھ کہنے کی کوشش نہیں کی پھر وہ اگلے سال غزوہ احد کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئے ۔ حضرت سعد بن ماذ رضی اللہ عنہ ان کے سامنے آئے تو انہوں نے کیا : اے ابو عمر و کہا ں کا ارادہ ہے ۔ انہوں نے فرمایا : جنت کی خوشبو مجھے احد کے دوسری طرف محسوس ہو رہی ہے پھر انہوں نے جنگ میں حصہ لیا' یہاں تک ک شہید ہو گئے ان کے جسم پر تلوار ، نیزے اور تیر کے زخموں کے اسی (80 ) سے زیادہ نشانات تھے ۔میری پھوپھی نے کہا : میں نے اپنے بھائی کو صرف ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچانا ہے ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7023
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7024
حضرت جابررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں غزوہ احد کے دن حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ آج جو شخص شہید ہو جائے وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ۔ انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں اپنے گھر والوں کی طرف واپس نہیں جاؤں گا بلکہ جنت میں داخل ہو ں گا ' تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے عمر و تم اس پر اللہ کے نام کی قسم نہ اٹھاؤ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عمر رہنے دو کیونکہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں اگر وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا لیں ' تو اللہ تعالی وہ کام پورا کروا دیتا ہے اور ان میں سے ایک عمرو بن جموح ہے ( بعد میں نبی اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا ) وہ جنت کے تالاب میں غوطے لگا رہا ہے ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7024
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7025
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشا د فرماتے ہوئے سنا ہے: یہ اس وقر کی بات ہے جب لوگ نبی اکرم ﷺ کو چھوڑ کر پسپا ء ہو چکے تھے ' یہاں تک کہ ان میں سے بعض لوگ پہاڑ کی دوسری طرف مدینہ منورہ والے حصے کی طرف چلے گئے (یعنی میدان جنگ سے پیچھے ہٹ چکے تھے ) پھروہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی طرف اس وقت واپس آئے جب حضرت حنظلہ بن ابو عامر رضی اللہ عنہ اور سفیان بن حرب کے درمیان مقابلہ ہو رہا تھا جب حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ اس پر غالب آنے لگے ' تو شداد ابن اسود نے انہیں دیکھ لیا شداد تلوار لے کر ان کے اوپر آیا ' یہاں تک کہ انہیں شہید کر دیا حالانکہ اس وقت ابو سفیا ن کر قتل کرنے ہی والے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے ساتھی خنظلہ کو فرشتوں نے غسل دیا ہے تم اس کی بیوی سے دریافت کرو' تو اس خاتون نے بتایا : جب وہ نکلے تھے ' تو جنابت کی حالت میں تھے کیونکہ انہوں نے جنگ کی پکار سن لی تھی ( اس لیے غسل کیے بغیر چلے گئے ) تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسی وجہ سے فرشتوں نے اسے غسل دیا ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7025
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7026
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنو قریظہ نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث تسلیم کیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو پیغام بھجوایا وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنے سب سے بہتر شخص ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اپنے سردار کے لیے کھڑے ہو جاؤ ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں نے تمہیں ثالث تسلیم کیا ہے ' تو حضرت سعد رضی اللہ عنہنے کہا : میں ان کے بارے میں فیصلہ دیتا ہوں کہ ان کے جنگ جو افرا کو قتل کر دیا جائے ' بچوں کو قیدی بنا لیا جائے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ان کے بارے میں اللہ تعالی کے فیصلے کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔
ایک مرتبہ راوی نے یہ الفاظ نقل کئے تم نے ان کے بارے میں بادشاہ کی طرح کا فیصلہ دیا ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7026
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7027
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں خیمہ لگوایا تھا تا کہ قریب سے ہی ان کی عیادت کر لیا کریں ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7027
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7028
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں غزوہ خندق کے موقع پر میں لوگوں کے پیچھے پیچھے جانے کے لیے نکلی میں نے اپنے پیچھے زمین پر چلنے کی آواز سنی میں نے مڑ کا دیکھا ' تو وہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے ان کے ساتھ ان کے بھتیجے حارث بن اوس تھے جنہوں نے ان کی ڈھال اٹھائی ہوئی تھی میں زمین پر بیٹھ گئی حضرت سعد رضی اللہ عنہ گزرے تو ان کے جسم پر ایک زرہ تھی جس کے کنارے باہر کی طرف نکلے ہوئے تھے مجھے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے باہر نکلے ہوئے کناروں سے اندیشہ ہوا وہ لمبے تڑنگے آدمی تھے ۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب وہ گزرے تو یہ رجز پڑھ رہے تھے ۔
''تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ تم موت تک پہنچ جاؤ گے اور وہ کتنی اچھی موت ہے ' جب آدمی کا وقت پورا ہا جائے ۔''
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میں اٹھی اور میں ایک باغ کے اندر آگئی وہاں کچھ مسلمان موجود تھے ان میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہارا ستیا ناس ہو 'تم کیوں آئی ہو؟ اللہ کی قسم ! تم نے بڑی جرأت کا مظاہرہ کیا ہے کس چیز نے تمہیں اس بات سے مامون رکھا کہ کوئی مصیبت یا آزمائش آسکتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں وہ مسلسل مجھے ملامت کرتے رہے ' یہاں تک کہ میں یہ آرزو کی کہ زمین شق ہو جائے اور میں اس میں داخل ہو جاؤں ۔ ان لوگوں میں ایک شخص تھا جس نے اپنے چہرے پر کپڑا ڈالا ہوا تھا انہوں نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا ' تو وہ حضرت طلحہ بن عبیدا للہ رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے کہا : اے عمر ! تمہارا ستیا ناس ہو آج آپ نے انتہا کر دی اللہ تعالی کے علاوہ اور کہاں جایا جا سکتا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص عرقہ نے حضرت سعد (معاذ رضی اللہ عنہ ) کو تیر مارا اور بولا : اسے سنبھالو میں ابن عرقہ ہوں ' تو وہ تیران کی مخصوص رگ پر لگا اور اس نے اس رگ کو کاٹ دیا ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ ' تو مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک بنو قریظہ کے حوالے سے میری آنکھوں کو ٹھندا نہیں ک دیتا ۔ وہ لوگ اورا ن کے موالی زمانہ جاہلیت میں ان کے حلیف رہے تھے ' تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا زخم ٹھیک ہو گیا پھر اللہ تعالی نے مشرکین پر آندھی بھیجی ۔اللہ تعالی ٰ اہل ایمان کے لئے جنگ کی جگہ کافی ہو گیا اور اللہ تعالیٰ قوت والا اور غالب ہے ۔ ابو سفیان تہامہ گیا اس نے عیینہ اور نجد میں موجود اس کے ساتھیوں سے ملاقات کی بنو قریظہ واپس آگئے وہ اپنے علاقے میں قلعہ بند ہو گئے ۔نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ کی طرف تشریف لائے ' تو آپ نے حضرت سعد کے لئے مسجد میں چمڑے سے بنے ہوئے خیمے کو لگانے کا حکم دیا آپ نے ہرہتھیار اتارے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں حتی کہ جبرائیل آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے کہا : کیا آپ نے ہتھیار اتار دئیے ہیں اللہ کی قسم فرشتوں نے ' تو ابھی ہتھار اتارے آپ بنو قریظہ کی طرف تشریف لے جائیں اور ان کے ساتھ جنگ کریں ' تو نبی اکرم ﷺ نے روانگی کا حکم دیا آپ نے جنگی لباس پہن لیا اپ گھر سے باہر نکلے اور بنو غنم کے پاس سے گزرے ' جو مسجد کے پڑوسی تھے آپ نے دریافت کیا : ابھی تمہارے پاس سے کون گزرا ہے ان لوگوں نے جواب دیا : دحیہ کلبی ہمارے پا س سے گزرے ہیں (یعنی حضرت جبرائیل دحیہ کلبی کی شکل میں آئے تھے ) نبی اکرم ﷺ بنو قریظہ کے پاس تشریف لائے آپ نے 25 دن تک ان کا محاصرہ کیا جب ان کا محاصرہ شدید ہو گیا اور ان پر آزمائش سخت ہو گئی تو ان سے یہ کہا گیا : نبی اکرم ﷺ کو ثالث مان لو ان لوگوں نے ابو لبابہ سے مشورہ کیا ' تو انہوں نے انہیں اشارہ کر کے بتایا : انہیں ذبح کر دیا جائے گا ' تو ان لوگوں نے کہا : ہم حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث تسلیم کر تے ہیں ' تو ان لوگوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا ثالثی فیصلے پر محاصرہ ختم کروایا ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو بلوایا انہیں ایک گدھے پر سوار کر کے لایا گیا جس پر کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی چادر موجود تھی ان کی قوم کے افراد نے انہیں گھیر ا ہوا تھا اور وہ یہ کہہ رہے تھے اے ابو عمر و یہ تمہارے حلیف اور موالی ہیں اور لڑائیوں کے ساتھی ہیں اور وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں آپ جانتے ہیں لیکن حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو کوئی جواب نہیں دیا ' یہاں تک کہ جب وہ ان کے بچوں کے قریب ہوئے تو وہ اپنی قوم ہوئے اور بولے اب سعد کے لئے وہ وقت آگیا ہے کہ وہ اللہ تعالی کے لئے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرے جب وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے آئے ' تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اپنے سردار کے لئے کھڑے ہو جاؤ اور اسے نیچے اتارو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہمارا سردار ' اللہ تعالی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے نیچے اتار و ۔ انہوں نے اسے نیچے اتارا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تم ان کے درمیان فیصلہ کر و۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگ جو لوگوں کو قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں کو قیدی بنا لیا جائے ان کے اموال تقسیم کر دئیے جائیں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ان کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے مطابق فیصلہ دیا ہے پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی انہوں نے کہا : اے اللہ ! اگر تو نے نبی کے لئے قریش سے جنگ کو باقی رکھنا ہے ' تو مجھے بھی اس کے لیے باقی رکھ اور اگر ' تو نے اپنے نبی اور ان کے درمیان جنگ کو منقطع کر دیا ہے تو مجھے اپنی طرف قبض کر لے تو ان کے زخم سے خون جاری ہو گیا حالانکہ وہ اس سے پہلے ٹھیک ہو چکے تھے ' یہاں تک کہ صرف معمولی شا زخم رہ گیا تھا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ واپش تشریف لائے حضرت سعد رضی اللہ عنہ اپنے گھر واپس چلے گئے وہ خیمہ جو نبی اکرم ﷺ نے ان کے لیے لگوایا تھا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھ ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں اپنے حجرے میں ہی موجود تھی کہ مجھے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کے رونے کی آواز صاف سنائی دی ' تو اسی طرح ہوا تھا ' جس طرح اللہ تعالی یہ فرماتا ہے:
''آپس میں ایک دوسرے کے لئے رحم دل ہیں ''۔
راوی علقمہ نےکہا : اے امیر المومنین نبی اکرم ﷺ کیا کرتےتھے (یعنی رونے کے وقت کیا کرتے تھے ) تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکر م ﷺ کسی پر آنسو نہیں بہاتے تھے البتہ یہ ہے کہ آپ (غم کی شدت کی وجہ سے ) اپنی داڑھی مبارک پکڑ لیتے تھے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7028
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7029
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حالانکہ اس وقت حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ لوگوں کے سامنے رکھا ہوا تھا آپ نے فرمایا : اس کے لیے رحمان کا عرش جھوم اٹھا ہے۔
(اما م ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان : اس کے لئے رحمان کا عرش جھوم اٹھا ہے ' اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے کہ اس نے خوش خبری حاصل کی ہے اور راحت حاصل کی ہے ' اس کی مثال اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے۔
''جب ہم اس پر اپنی رحمت نازل کرتے ہیں ' تو وہ جھوم اٹھتا ہے اور پھلتا پھولتا ہے''۔
اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ وہ راحت حاصل کرتا ہے اور سر سبز ہو جاتا ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7029
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7030
محمد بن عمر و اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : میں نے حضرت اسید بن خضیر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا :
''سعد بن معاذ کے انتقال پر عرش جھوم اٹھا ''۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7030
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7031
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7031
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7032
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا جنازہ رکھا ہوا تا (آپ نے فرمایا) اس کے لیے رحمن ٰ کا عرش جھوم اٹھا ہے منافقین نے ان کے جنازے کے بارے میں یہ کہنا شروع کیا : یہ کتنا ہلکا ہے ' اس بات کی اطلاع نبی اکرم ﷺ کو ملی ' تو آپ نے فرمایا : لوگوں کے ساتھ اسے فرشتوں نے اٹھایا ہو اہے
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7032
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7033
حضر ت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا:
یہ وہ نیک شخص ہے جس کے لیے آسما ن کے دروازے کھول دئیے گئے اس پر ( قبر میں ) تنگی کی گئی لیکن پھر اس کو کشادگی عطا کر دی گئی ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7033