Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7010

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ خُطُوطًا أَرْبَعَةً، قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا هَذَا؟ »، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَاتَتْ خَدِيجَةُ بِمَكَّةَ قَبْلَ هِجْرَةِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ بِثَلَاثِ سِنِينَ

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ نے ہمارے سامنے زمین پر چار لکیریں کھینچیں ۔ آپ نے دریافت کیا : کیا تم یہ بات جانتے ہو یہ کیا ہے ۔ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اہل جنت کی خواتین میں سب سے افضل خدیجہ بنت خویلد ، فاطمہ بنت محمد ، مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم ہیں جو فرعون کی اہلیہ تھی ۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں :) سیدہ خدیجہ ؓ کا انتقال مکہ میں ہی ، ( نبی اکرمﷺ کے ) مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر نے سے تین سال پہلے ہوا تھا ۔

أَبُو حَاتِمٍ: مَاتَتْ خَدِيجَةُ بِمَكَّةَ قَبْلَ هِجْرَةِ الْمُصْطَفَى إِلَى الْمَدِينَةِ بِثَلَاثِ سِنِينَ ← آسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ». ← مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ ← اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ← أتدرون ما هذا ← خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ خُطُوطًا أَرْبَعَةً، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، ← دَاوٗدَ بْنِ اَبِیْ الْفُرَاتِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7010

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7011

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ الْحَسَنِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَغَيْرِهِ أَنَّهُمْ وَاعَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْقَوْهُ مِنَ الْعَامِ الْقَابِلِ بِمَكَّةَ فِيمَنْ تَبِعَهُمْ مِنْ قَوْمِهِمْ، فَخَرَجُوا مِنَ الْعَامِ الْقَابِلِ سَبْعُونَ رَجُلًا فِيمَنْ خَرَجَ مِنْ أَرْضِ الشِّرْكِ مِنْ قَوْمِهِمْ، قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ: حَتَّى إِذَا كُنَّا بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ، قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورِ بْنِ صَخْرِ بْنِ خَنْسَاءَ - وَكَانَ كَبِيرَنَا وَسَيِّدَنَا -: قَدْ رَأَيْتُ رَأَيًا وَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَتُوَافِقُونِي عَلَيْهِ [ص:472] أَمْ لَا؟ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ لَا أَجْعَلَ هَذِهِ الْبَنِيَّةَ مِنِّي بِظَهْرٍ - يُرِيدُ الْكَعْبَةَ - وَإِنِّي أُصَلِّي إِلَيْهَا فَقُلْنَا: لَا تَفْعَلْ، وَمَا بَلَغَنَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَّا إِلَى الشَّامِ، وَمَا كُنَّا نُصَلِّي إِلَى غَيْرِ قِبْلَتِهِ، فَأَبَيْنَا عَلَيْهِ ذَلِكَ وَأَبَى عَلَيْنَا، وَخَرَجْنَا فِي وَجْهِنَا ذَلِكَ، فَإِذَا حَانَتِ الصَّلَاةُ صَلَّى إِلَى الْكَعْبَةِ، وَصَلَّيْنَا إِلَى الشَّامِ حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ، قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ: قَالَ لِي الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ: وَاللَّهِ يَا ابْنَ أَخِي قَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي مَا صَنَعْتُ فِي سَفَرِي هَذَا، قَالَ: وَكُنَّا لَا نَعْرِفُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنَّا نَعْرِفُ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَيْنَا بِالتِّجَارَةِ وَنَرَاهُ، فَخَرَجْنَا نَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَطْحَاءِ، لَقِينَا رَجُلًا فَسَأَلْنَاهُ عَنْهُ، فَقَالَ: «هَلْ تَعْرِفَانِهِ» قُلْنَا: لَا وَاللَّهِ، قَالَ: فَإِذَا دَخَلْتُمْ، فَانْظُرُوا الرَّجُلَ الَّذِي مَعَ الْعَبَّاسِ جَالِسًا فَهُوَ هُوَ، تَرَكْتُهُ مَعَهُ الْآنَ جَالِسًا، قَالَ: فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَاهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ مَعَ الْعَبَّاسِ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِمَا، وَجَلَسْنَا إِلَيْهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تَعْرِفُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ يَا عَبَّاسُ؟ »، قَالَ: نَعَمْ، هَذَانِ الرَّجُلَانِ مِنَ الْخَزْرَجِ - وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ إِنَّمَا تُدْعَى فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ أَوْسَهَا وَخَزْرَجَهَا - هَذَا الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ رِجَالِ قَوْمِهِ، وَهَذَا كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ، [ص:473] فَوَاللَّهِ مَا أَنْسَى قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشَّاعِرُ»؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ صَنَعْتُ فِي سَفَرِي هَذَا شَيْئًا أَحْبَبْتُ أَنْ تُخْبِرَنِي عَنْهُ، فَإِنَّهُ قَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْءٌ، إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ لَا أَجْعَلَ هَذِهِ الْبَنِيَّةَ مِنِّي بِظَهْرٍ، وَصَلَّيْتُ إِلَيْهَا، فَعَنَّفَنِي أَصْحَابِي، وَخَالَفُونِي، حَتَّى وَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ مَا وَقَعَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّكَ قَدْ كُنْتَ عَلَى قِبْلَةٍ، لَوْ صَبَرْتَ عَلَيْهَا»، وَلَمْ يَزِدْهُ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى مِنًى فَقَضَيْنَا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا كَانَ وَسَطُ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ اتَّعَدْنَا نَحْنُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَقَبَةَ، فَخَرَجْنَا مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ نَتَسَلَّلُ مِنْ رِحَالِنَا، وَنُخْفِي ذَلِكَ مِنْ مُشْرِكِي قَوْمِنَا، حَتَّى إِذَا اجْتَمَعْنَا عِنْدَ الْعَقَبَةِ، أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَتَلَا عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ، فَأَجَبْنَاهُ وَصَدَّقْنَاهُ وَآمَنَّا بِهِ وَرَضِينَا بِمَا قَالَ، ثُمَّ إِنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَكَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْخَزْرَجِ، إِنَّ مُحَمَّدًا مِنَّا حَيْثُ قَدْ عَلِمْتُمْ، وَإِنَّا قَدْ مَنَعْنَاهُ مِمَّنْ هُوَ عَلَى مِثْلِ مَا نَحْنُ عَلَيْهِ، وَهُوَ فِي عَشِيرَتِهِ وَقَوْمِهِ مَمْنُوعٌ، فَتَكَلَّمَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ وَأَخَذَ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: بَايِعْنَا، قَالَ: «أُبَايعُكُمْ عَلَى أَنْ تَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَنِسَاءَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ»، قَالَ: نَعَمْ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ فَنَحْنُ وَاللَّهِ أَهْلُ الْحَرْبِ، وَرِثْنَاهَا كَابِرًا عَنْ كَابِرٍ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَاتَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ بِالْمَدِينَةِ قَبْلَ قُدُومِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا بِشَهْرٍ، وَأَوْصَى أَنْ يُوَجَّهَ فِي حُفْرَتِهِ نَحْوَ الْكَعْبَةِ، فَفُعِلَ بِهِ ذَلِكَ، وَأَمَّا تَرْكُ أَمْرِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ بِإِعَادَةِ الصَّلَاةِ الَّتِي صَلَّاهَا نَحْوَ الْكَعْبَةِ، حَيْثُ كَانَ الْفَرْضُ عَلَيْهِمُ اسْتِقْبَالَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، كَانَ ذَلِكَ لِأَنَّ الْبَرَاءَ أَسْلَمَ لَمَّا شَاهَدَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمِنْ أَجْلِهِ لَمْ يَأْمُرْهُ بِإِعَادَةِ تِلْكَ الصَّلَاةِ

معبد بن کعب اپنے بھائی عبداللہ بن کعب کے حوالے سے اپنے والد اور دیگر حضرات کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ان لوگوں نے نبی اکرمﷺ سے یہ وعدہ کیا کہ وہ اگلے سال مکہ میں اپنی قوم سے تعلق رکھنے والے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نبی اکرمﷺ سے ملیں گے پھر اگلے سال وہ "ستر" افراد نکلے جو شرک کی سر زمین سے نکلے تھے ۔ حضرت کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ؛ یہاں تک کہ جب ہم بیدا ء کے مقام پر پہنچے تو حضرت براء بن معرور ؓ جو ہمارے بڑے اور ہمارے سردار تھے انہوں نے کہا: میری ایک رائے ہے اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کیا تم اس کے بارے میں میری موافقت کرو گے یا نہیں میری یہ رائے ہے کہ میں اس عمارت کی طر ف اپنی پیٹھ نہ کروں ، ان کی مراد خانہ کعبہ تھا اور یہ کہ میں اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کروں ۔ ہم نے کہا: آپ ایسا نہ کریں ، کیونکہ ہم تک جو اطلاعات پہنچی ہیں اس کے مطابق نبی اکرمﷺ ( شام کی طرف یعنی بیت المقدس کی طرف) رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں : تو ہم نبی اکرمﷺ کے قبلہ کے علاوہ کسی اور طرف رخ کر کے نماز ادا نہیں کرسکتے ۔ ہم نے ان کی بات کا انکار کیا ۔ انہوں نے بھی ہماری بات نہیں مانی پھر ہم آگے روانہ ہوگئے ، یہاں تک کہ جب نماز کا وقت ہوا تو انہوں نے خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی اور ہم نے شام کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی ہم مکہ آئے ۔ حضرت کعب بن مالک ؓ نے کہا: حضرت براء بن معرور ؓ نے مجھ سے کہا: اللہ کی قسم! اے میرے بھتیجے میں نے اپنے اس سفر کےدوران جو کچھ کیا تھا وہ میرے ذہن میں آگیا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نبی اکرمﷺ کو ( چہرے سے ) پہچانتے نہیں تھے ہم حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ کے چہرے سے وقف تھے ، کیونکہ وہ تجارت کے سلسلے میں ہمارے ہاں آتے جاتے رہتے تھے اور ہم انہیں دیکھ لیتے تھے ، تو ہم مکہ میں نبی اکرمﷺ کے بارے میں دریافت کرنےکےلئے نکلے ، یہاں تک کہ جب ہم بطحا ء میں پہنچے تو ہماری ملاقات ایک شخص سے ہوئی ہم نے اس سے نبی اکرمﷺ کے بارے میں دریافت کیا : تو اس نے دریافت کیا: کیا تم لو گ نہیں جانتے ہو ۔ ہم نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! نہیں ۔ اس نے کہا: تم لوگ اند رجاؤ ان صاحب کو دیکھو ، جو حضرت عباسؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں وہی نبی اکرمﷺ ہیں میں انہیں ابھی بیٹھا ہوا چھوڑ کا آیا ہوں ۔ راوی کہتےہیں : ہم وہاں سے روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو آپﷺحضرت عباسؓ کے ساتھ تھے ہم نے ان دونوں صاحبان کو سلام کیا اور ان کے پاس بیٹھ گئے ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: اے عباس آپ ان دونوں کو جانتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں یہ دونوں صاحبان خزرج قبیلے سے تعلق رکھتےہیں ( راوی کہتے ہیں :) اس زمانے میں انصار کو ان کے قبیلے اوس اور خزرج کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا۔ (حضرت عباسؓ نے بتایا:) یہ براء بن معرو ر ہے ، جو اپنی قوم کا ایک بڑا فرد ہے اور یہ کعب بن مالک ہے ( حضرت کعب بن مالک ؓ بیان کرتےہیں ) اللہ کی قسم! میں نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نہیں بھولا آپ نے دریافت کیا : وہ جو شاعر ہے ۔ انہوں نے عرض کی: جی ہاں ۔ حضرت براء بن معرور ؓ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے اپنے سفر کے دوران ایک کام کیا ہے میں یہ چاہتا ہوں آپﷺمجھے اس کے بارے میں کچھ بتائیں میرے ذہن میں اس کے حوالے سے ایک الجھن ہے مجھے یہ لگا کہ مجھے اس عمارت کی طرف اپنی پشت نہیں کرنی چاہئے اور مجھے اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنی چاہئے ، تو اس بات پر میرے ساتھی مجھ سے ناراض ہوگئے انہوں نے میری مخالفت بھی کی ، یہاں تک کہ میرے ذہن میں اس بارے میں یہ چیز آئی جو آئی تھی ، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم ایک قبلہ پر ہوا اگر تم اس پر صبر سے کام لو ( تو یہ مناسب ہوگا ) نبی اکرمﷺ نے اس کے علاوہ مزید کچھ ارشا د ںۃین فرمایا۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ہم لوگ وہان سے نکل کر منیٰ کی طرف آئے ہم نے اپنا حج مکمل کیا ، یہاں تک کہ ایام تشریق کے درمیان میں ، ہم نے اور نبی اکرمﷺ نےیہ طے کیا کہ ہم عقبہ میں ملاقات کریں گے تو ہم رات کے وقت اپنی رہائش گاہوں سے کھسک کر وہاں گئے ہم اپنی قوم کے مشرکین سے اس چیز کو خفیہ رکھنا چاہتے تھے ، یہاں تک کہ ہمارا اجتماع گھاٹی کے پاس ہوا ۔ نبی اکرمﷺ تشریف لائے آپﷺ کے ساتھ آپﷺکے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ بھی تھے ۔ نبی اکرمﷺ نے ہمارے سامنے قرآنبی اکرمﷺ کی تلاوت کی ہم نے آپﷺ کی دعوت کو قبول کیا اور آپﷺ کی تصدیق کی اور آپﷺ پر ایمان لے آئے جو کچھ آپﷺنے بیان کیا تھا اس پر راضی ہوئے پھر حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ نے گفتگو شروع کی انہوں نے کہا:اے خزرج کے گروہ حضرت محمد ﷺ کی ہمارے درمیان کیا حیثیت ہے ، یہ تم جانتے ہو، ہم نے انہیں ان لوگون سے بچا کر رکھا ہے ، جو ہمارے ( یعنی اہل مکہ ) کے دین پر کار بند ہے ، اور حضرت محمد ؓ اپنے خاندان اور اپنی قوم میں محفوظ ہیں ، پھر حضرت برا ء بن معرور ؓ نے گفتگو شروع کی کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کا دست مبارک پکڑااور بولے آپﷺہم سے بیعت لیجئے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میں تم لوگوں سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم مجھ سے بھی اس چیز کو روکو گے ، جس سے تم اپنے آپ کو اپنی عورتوں کو اور اپنے بچوں کو روکتے ہو( یعنی دشمن سے بچاؤ کرو گے ) انہوں نے کہا: جی ہاں اس ذات کی قسم! جس نے آپﷺکو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ہم اللہ کی قسم! جنگ کرنے والے لوگ ہیں اور یہ چیز ہمیں ورثے میں ملی ہے ۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں :) حضرت براء بن معرور ؓ کا انتقال نبی اکرمﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے چند ماہ پہلے ہوگیا تھا ۔ انہوں نے یہ وصیت کی تھی کہ ان کی قبر میں ان کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کیا جائے ، تو ان کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا ، جہاں تک اس چیزکا تعلق ہے کہ نبی اکرمﷺ نے انہیں ان نمازوں کے دوہرانے کا حکم نہیں دیا ، جو انہوں نے خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے ادا کی تھیں ، حالانکہ اس وقت ان لوگوں پر بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا فرض تھا تو اس کی وجہ یہ ہے : حضرت براءؓ نے اسلام اس وقت قبول کیا تھا ، جب انہوں نے نبی اکرمﷺ کی زیارت کی تھی۔ اسی لیے نبی اکرمﷺ نے انہیں وہ نمازیں دہرانے کی ہدایت نہیں کی۔

أَبِيهِ وَغَيْرِهِ ← أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← سلمۃ بن الفضل ← عَمَّارُ بْنُ الْحَسَنِ الْهَمْدَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7011

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7012

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، [ص:475] عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ يَتَتَبَّعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ فِي الْمَوْسِمِ وَمَجَنَّةَ وَعُكَاظٍ، وَفِي مَنَازِلِهِمْ بِمِنًى، يَقُولُ: «مَنْ يُؤْوِينِي، وَيَنْصُرُنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَاتِ رَبِّي، وَلَهُ الْجَنَّةُ؟ »، فَلَا يَجِدُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا يَنْصُرُهُ وَلَا يُؤْوِيهِ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْحَلُ مِنْ مِصْرَ أَوْ مِنَ الْيَمَنِ إِلَى ذِي رَحِمِهِ، فَيَأْتِيهِ قَوْمُهُ فَيَقُولُونَ لَهُ: احْذَرْ غُلَامَ قُرَيْشٍ لَا يَفْتِنْكَ وَيَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ فَيُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ، حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ لَهُ مِنْ يَثْرِبَ، فَيَأْتِيهِ الرَّجُلُ فَيُؤْمِنُ بِهِ، وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ، فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ، فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ يَثْرِبَ إِلَّا وَفِيهَا رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ، فَائْتَمَرَنَا وَاجْتَمَعْنَا، فَقُلْنَا: حَتَّى مَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ؟ فَرَحَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ، فَوَاعَدَنَا شِعْبَ الْعَقَبَةِ، فَقَالَ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ: يَا [ابْنَ أَخِي إِنِّي لا أَدْرِي مَا هَؤُلاءِ القَوْمِ الَّذِينَ جَاؤُؤكَ؟! إِنِّي ذُو مَعرفَةٍ بـ] * أَهْلِ يَثْرِبَ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ، فَلَمَّا نَظَرَ [العَبَّاسُ] * فِي وجُوهِنَا، قَالَ: هَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَا أَعْرِفُهُمْ، هَؤُلَاءِ أَحْدَاثٌ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى مَا نُبَايِعُكَ؟ قَالَ: «تُبَايعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ، وَعَلَى النَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَعَلَى أَنْ تَقُولُوا فِي اللَّهِ، لَا يَأْخُذْكُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي إِذَا قَدِمْتُ [ص:476] عَلَيْكُمْ، وَتَمْنَعُونِي مَا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ، فَلَكُمُ الْجَنَّةُ»، فَقُمْنَا نُبَايِعُهُ فَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ وَهُوَ أَصْغَرُ السَّبْعِينَ إِلَّا أَنَا قَالَ: رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ، إِنَّا لَمْ نَضْرِبْ إِلَيْهِ أَكْبَادَ الْمَطِيِّ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً، وَقَتْلَ خِيَارِكُمْ وَأَنْ تَعَضَّكُمُ السُّيُوفُ، فَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَيْهَا إِذَا مَسَّتْكُمْ، وَعَلَى قَتْلِ خِيَارِكُمْ وَمُفَارَقَةِ الْعَرَبِ كَافَّةً، فَخُذُوهُ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ، وَإِمَّا أَنْتُمْ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً، فَذَرُوهُ فَهُوَ أَعْذَرُ عِنْدَ اللَّهِ، قَالُوا: يَا أَسْعَدُ، أَمِطْ عَنَّا يَدَكَ، فَوَاللَّهِ لَا نَذَرُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ، وَلَا نَسْتَقِيلُهَا، قَالَ: فَقُمْنَا إِلَيْهِ رَجُلٌ رَجُلٌ، فَأَخَذَ عَلَيْنَا شَرِيطَةَ الْعَبَّاسِ، وَضَمِنَ عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَاتَ أَسْعَدُ بَعْدَ قُدُومِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ [ص:477] بِأَيَّامٍ وَالْمُسْلِمُونَ يَبْنُونَ الْمَسْجِدَ

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ دس سال تک حج کے موقع پر مجنہ اور عکانہ کے بازاروں میں لوگوں کی رہائش گاہوں میں ان کے پاس جا کر اور منیٰ میں ان کی رہائشی جگہ پر جا کر یہ کہتے رہے کون شخص مجھے پناہ دے گا ، اور میری مدد کرے گا ، تاکہ میں اپنے پروردگار کے پیغام کی تبلیغ کر سکوں اس شخص کو جنت ملے گی ، لیکن نبی اکرمﷺ کو کوئی ایسا شخص نہیں ملا ، جو آپ کی مدد کر تا اور آپ کو پناہ دیتا ، یہاں تک کہ ایک شخص مصر سے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں :) یمن سے اپنے کسی رشتے دار سے ملنے کےلئے آیا اس کی قوم کے افراد اس کے پاس آئے انہوں نے اس سے کہا: قریش کے اس نوجوان سے بچ کے رہنا کہیں یہ تمہیں آزمائش کا شکار نہ کر دے یہ لوگوں کی رہائش گاہوں پر آتا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہے ۔ ان لوگوں نے نبی اکرمﷺ کی طرف انگلی سے اشارہ کر کے کہا ( کہ تم اس سے بچ کے رہنا) ( حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں :) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یثرب سے نبی اکرمﷺ کےلئے بھیجا، تو ایک شخص آپ کے پاس آتا اور آپ پر ایمان لے آتا آپ اسے قرآن کی تلاوت سکھاتے وہ شخص اپنے گھر واپس جاتا اس کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے کچھ اور لوگ بھی مسلمان ہو جاتے ، یہاں تک کہ یثرب کے ہر محلے میں کچھ نہ کچھ مسلمان ہو گئے ، جو اسلام کا اظہار کرتے تھے ایک مرتبہ ہم نے آپس میں مل کر یہ سوچا کہ ہم کب تک نبی اکرمﷺ کو مکہ کے پہاڑوں میں رہنے دیں گے اور آ پ خوف کے عالم میں وہاں رہیں گے ، تو ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ حج کے موقع پر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے عقبہ کی گھاٹی میں آپ سے ملاقات طے کی ۔ نبی اکرمﷺ کے چچا حضرت عباسؓ نے کہا: اے میرے بھتیجے! مجھے نہیں معلوم یہ کون لوگ ہیں ، جو تمہارے پاس آئے ہیں ، میں اہل یثرت میں بخوبی واقف ہوں ، تو ہم لوگ ایک ، ایک کر کے آپ کے پاس اکٹھے ہوگئے جب انہوں نے ہمارے چہروں کا جائز ہ لیا ، تو بولے ان لوگوں سے میں واقف نہیں ہوں یہ نئے لوگ ہیں ۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ہم کس بات پر آپ کی بیعت کریں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میری بیعت اس بات پر کرو کہ تم خوشی اور کسلمندی میں اطاعت وفرمانبرداری کرو گے اور تنگی اور خوشحالی میں خرچ کرو گے اور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بات کرو گے اور اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اثر قبول نہیں کرو گے اور اس بات پر بیعت کرو کہ جب میں آگیا ، تو تم میری مدد کرو گے اور تم مجھ سے ہر اس چیز کو روکو گے جس سے تم اپنے آپ کو اپنی بیویوں کو اور اپنے بچوں کو روکتے ہو ( یعنی دشمنوں کے حملے سے بچاؤ کرو گے) تو حضرت اسعد بن زرارہ ؓ جو میرے علاوہ ان باقی تمام ستر افراد میں کم سن تھے انہوں نے نبی اکرمﷺ کا دست مبارک پکڑا اور بولے : اے اہل یثرب ٹھہر جاؤ ہم نے ان کی طرف سفر صرف اس لیے کیا ہے کیونکہ ہم یہ بات جانتے ہیں ، کہ یہ اللہ کے رسول ہیں اور آج ( ان کا مکہ سے نکلنا ) تمام عربوں سے لا تعلقی کے برابر ہو گا ( یعنی عرب ہمارے بھی مخالف ہو جائیں گے ) اور اس صورت میں تمہارے بہترین لوگ مارے جائین گے تلواریں تم پر حملہ آور ہوں گی اگر ، تو تم ایسے لوگ ہو کہ اس صور ت حال پر صبر کرو گے اگر یہ تمہیں درپیش آئی ، تو ٹھیک ہے ، اگر تمہارے بہترین لوگ مارے جاتے ہیں اور تم تمام عوربوں سے لاتعلق ہو جاتے ہو( اور اسے برداشت کر سکتے ہو) تو تم نبی اکرمﷺ کے ساتھ دو تمہارا اجر اللہ کے ذمے ہوگا لیکن اگر تمہیں اپنی ذات کے حوالے سے کوئی اندیشہ ہو تو پھر نبی اکرمﷺ کو چھوڑ د و اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ زیادہ مناسب عذر ہوگا ،تو لوگوں نے کہا: اے اسعد اپنا ہاتھ ہم سے دور کر لو اللہ کی قسم ہم اس بیعت کو چھوڑیں گے نہیں اور اسے واپس نہیں کریں گے ۔ راوی کہتے ہیں ، تو ہم ایک ، ایک کر کے نبی اکرمﷺ کے سامنے کھڑے ہونا شروع ہوئے اور نبی اکرمﷺ نے ہم پر وہی شرائط عائد کیں ، جو حضرت عباسؓ نے بیان کی تھیں اور آپ نے ایسا کرنے کی صورت میں جنت کی ضمانت دی ۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں :) حضرت اسعد ؓ کا انتقال نبی اکرمﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے کچھ دن بعد ہوگیا تھا اس وقت مسلمان مسجد تعمیر کر رہے تھے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ [ص:318] ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7012

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7013

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ الْحَسَنِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: «كُنْتُ قَائِدَ أَبِي بَعْدَمَا ذَهَبَ بَصَرُهُ، وَكَانَ لَا يَسْمَعُ الْأَذَانَ بِالْجُمُعَةِ إِلَّا قَالَ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَتِ، إِنَّهُ لَتُعْجِبُنِي صَلَاتُكَ عَلَى أَبِي أُمَامَةَ كُلَّمَا سَمِعْتَ بِالْأَذَانِ بِالْجُمُعَةِ، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، كَانَ أَوَّلَ مَنْ جَمَّعَ الْجُمُعَةَ بِالْمَدِينَةِ فِي حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ، فِي نَقِيعٍ يُقَالُ لَهُ: الْخَضَمَاتُ، قُلْتُ: وَكَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ رَجُلًا»

عبداللہ بن کعب بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد ( حضرت کعب بن مالکؓ ) کی بینائی رخصت ہو جانے کے بعدا نہیں ساتھ لے کر جایا کرتا تھا وہ جب بھی جمعہ کے لئے اذان کی آواز سنتے تھے ، تو یہ کہتے تھے اللہ تعالیٰ حضرت اسعد بن زرارہ ؓ پر رحم کرے ۔ میں نے کہا: اے ابا جان مجھے اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ آپ جب بھی جمعہ کےلئے اذان سنتے ہیں ، تو آپ ابوامامہ ( یعنی حضرت اسعد بن زرارہؓ) کےلئے دعا رحمت کرتے ہیں ، تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے وہ پہلے شخص ہیں ، جنہوں نے مدینہ منورہ میں بنو بیاضہ کی پتھریلی زمین میں نقیع میں جسے خضمات کہا جاتا تھا ، جمعہ قائم کیا تھا ۔ میں نے دریافت کیا: اس وقت آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی انہوں نے بتایا : ہم چالیس لوگ تھے ۔

أَبِيهِ ← محمد بن أبى امامة بن سهل بن حنيف ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← سلمۃ بن الفضل ← عَمَّارُ بْنُ الْحَسَنِ الْهَمْدَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7013

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7014

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ قِرَاءَةً، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قِيلَ: هَذَا حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، كَذَاكُمُ الْبِرُّ، كَذَاكُمُ الْبِرُّ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا ،تو میں نے کسی کی تلاوت کی آواز سنی میں نے دریافت کیا: یہ کون ہے ، تو جواب دیا گیا: یہ حارثہ بن نعمان ہے ، نیکی اسی طرح ہوتی ہے نیکی اسی طرح ہوتی ہے ۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عَمْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7014

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7015

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَا أَنَا أَدُورُ فِي الْجَنَّةِ، سَمِعْتُ صَوْتَ قَارِئٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، كَذَلِكَ الْبِرُّ»، قَالَ: «وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّهِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میں جنت میں گھوم رہا تھا اسی دوران میں نے کسی تلاوت کرنے والے کی آواز سنی ، تو میں نے دریافت کیا: یہ کون ہے ۔ فرشتوں نے بتایا : یہ حارثہ بن نعمان ہے ، تو نیکی اسی طرح ہوتی ہے ۔ نعمان بیان کرتے ہیں : وہ اپنی والدہ کے ساتھ سب سے زیادہ اچھا سلوک کرتے تھے ۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7015

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7016

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، [ص:480] عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَدِيِّ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ، فَأَدْرَبْنَا مَعَ النَّاسِ، فَلَمَّا قَفَلْنَا وَرَدْنَا حِمْصَ، فَكَانَ وَحْشِيٌّ مَوْلَى جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَدْ سَكَنَهَا، وَأَقَامَ بِهَا، فَلَمَّا قَدِمْنَاهَا، قَالَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَدِيٍّ: هَلْ لَكَ فِي أَنْ نَأْتِيَ وَحْشِيًّا فَنَسْأَلَهُ عَنْ حَمْزَةَ كَيْفَ كَانَ قَتْلُهُ لَهُ؟ قَالَ: فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَاهُ، فَإِذَا هُوَ بِفِنَاءِ دَارِهِ عَلَى طِنْفِسَةٍ، وَإِذَا هُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهِ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ: ابْنٌ لِعَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُكَ مُنْذُ نَاوَلْتُكَ أُمَّكَ السَّعْدِيَّةَ الَّتِي أَرْضَعَتْكَ بِذِي طُوًى، فَإِنِّي نَاوَلْتُهَا إِيَّاكَ وَهِيَ عَلَى بَعِيرِهَا، فَأَخَذَتْكَ، فَلَمَعَتْ لِي قَدَمَاكَ حِينَ رَفَعَتْكَ إِلَيْهَا، فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَقَفَتْ عَلَيَّ فَرَأَيْتُهَا فَعَرَفْتُهَا. فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا: جِئْنَاكَ لِتُحَدِّثَنَا عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ كَيْفَ قَتَلْتَهُ؟ قَالَ: أَمَا إِنِّي سَأُحَدِّثُكُمَا كَمَا حَدَّثْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ، كُنْتُ غُلَامًا لِجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ نَوْفَلٍ، وَكَانَ عَمُّهُ طُعَيْمَةُ بْنُ عَدِيٍّ قَدْ أُصِيبَ يَوْمَ بَدْرٍ، فَلَمَّا سَارَتْ قُرَيْشٌ إِلَى أُحُدٍ، قَالَ لِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ: إِنْ قَتَلْتَ حَمْزَةَ عَمَّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَمِّي طُعَيْمَةَ فَأَنْتَ عَتِيقٌ، قَالَ: فَخَرَجْتُ وَكُنْتُ حَبَشِيًّا أَقْذِفُ بِالْحَرْبَةِ قَذْفَ الْحَبَشَةِ، قَلَّمَا أُخْطِئُ بِهَا شَيْئًا، فَلَمَّا الْتَقَى النَّاسُ، خَرَجْتُ أَنْظُرُ [ص:481] حَمْزَةَ حَتَّى رَأَيْتُهُ فِي عَرَضِ النَّاسِ مِثْلَ الْجَمَلِ الْأَوْرَقِ، يَهُزُّ النَّاسَ بِسَيْفِهِ هَزًا، مَا يَقُومُ لَهُ شَيْءٌ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَتَهَيَّأُ لَهُ أُرِيدُهُ، وَأَتَأَنَّى عَجْزًا، إِذْ تَقَدَّمَنِي إِلَيْهِ سِبَاعُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى، فَلَمَّا رَآهُ حَمْزَةُ، قَالَ: هَلُمَّ يَا ابْنَ مُقَطِّعَةِ الْبُظُورِ، قَالَ: ثُمَّ ضَرَبَهُ، فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّمَا أَخْطَأَ رَأْسَهُ، قَالَ: وَهَزَزْتُ حَرْبَتِي، حَتَّى إِذَا رَضِيتُ مِنْهَا، دَفَعْتُهَا عَلَيْهِ، فَوَقَعَتْ فِي ثُنَّتِهِ حَتَّى خَرَجَتْ بَيْنَ رِجْلَيْهِ، فَذَهَبَ لِيَنُوءَ نَحْوِي، فَغُلِبَ، وَتَرَكْتُهُ وَإِيَّاهَا حَتَّى مَاتَ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَأَخَذْتُ حَرْبَتِي، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى النَّاسِ فَقَعَدْتُ فِي الْعَسْكَرِ، وَلَمْ يَكُنْ لِي بَعْدَهُ حَاجَةٌ، إِنَّمَا قَتَلْتُهُ لِأُعْتَقَ، فَلَمَّا قَدِمْتُ مَكَّةَ عُتِقْتُ.

جعفر بن عمرو بن بیان کرتے ہیں : میں اور عبید اللہ بن عدی حضرت معاویہ ؓ کے عہد حکومت میں نکلے ہم لوگوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے جب ہم واپس آئے ، تو ہمارا گزر حمص سے ہوا وہاں حضرت وحشی ؓ موجود تھے ، جو حضرت جبیر بن معطم ؓ کے آزاد کردہ غلام تھے انہوں نے وہاں رہائش اختیار کی ہوئی تھی اور وہاں مقیم تھے جب ہم ان کے ہاں آئے ، تو عبید اللہ بن عدی نے مجھ سے کہا: کیا تمہیں اس بات میں دلچسپی ہے کہ ہم حضرت وحشی ؓ کے پاس آئیں اور ان سے حضرت حمزہ ؓ کے بارے میں دریافت کریں کہ انہوں نے حضرت حمزہ ؓ کو کیسے شہید کیا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو ہم لوگ روانہ ہوئے اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ اپنے گھر کے باہر چبوترے پر بیٹھے ہوئے تھے وہ ایک عمر رسیدہ بوڑھے شخص تھے ۔ جب ہم ان کے اس آئے ، تو ہم نے انہیں سلام کیا ،تو انہوں نے سر اٹھا کر عبید اللہ بن عدی کی طرف دیکھا اور دریافت کیا، تم عدی بن خیار کے بیٹے ہو ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ انہو ں نے کہا: اللہ کی قسم میں نے تمہیں اس وقت دیکھا تھا جب میں نے بنو سعد قبیلے سے تعلق رکھنے والی تمہاری رضاعی ماں کو تمہیں پکڑایا تھا ، جس نے ذی طویٰ کے مقام پر تمہیں دودھ پلایا تھا میں نے اس خاتون کو تمہیں پکڑایا ، تو وہ اپنے اونٹ پر سوار تھی اس نے تمہیں پکڑلیا جب میں نے تمہیں اس کی طرف بلند کیا تھا اس وقت تمہارے پاؤں میرے سامنے ظاہر ہوئے تھے اللہ کی قسم ابھی جب تم میرے سامنے آکر ٹھہر ے ، تو میں نے تمہارے پاؤں دیکھے ، تو انہیں شناخت کر لیا ۔ راوی کہتےہیں : ہم ان کے پاس بیٹھ گئے ہم نے کہا: ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں ، تاکہ آپ ہمیں حضرت حمزہؓ کے قتل کے بارے میں بتائیں کہ آپ نے انہیں کیسے قتل کیا تھا " تو انہوں نے فرمایا: میں تم دونوں کو اسی طرح بیان کروں گا ، جس طرح میں نے نبی اکرمﷺ کو اس بارے میں بیان کیا تھا جب نبی اکرمﷺ نے مجھ سے اس بارے میں دریافت کیا تھا : میں حضرت جبیر بن معطمؓ کا غلام تھا ان کا چچا طعمہ بن عدی غزوہ بدر میں مارا گیا تھا جب قریش احد کےلئے روانہ ہوئے ، تو جبیر بن معطم نے مجھ سے کہا: اگر تم نے محمد کے چچا حمزہ کو قتل کر دیا میرے چچا طعمہ کے بدلے میں تو تم آزاد ہوگئے ۔ میں وہاں سے روانہ ہوا میں ایک حبشی شخص تھا میں حبشیوں کے مخصوص انداز میں چھوٹا نیزہ پھینکا کر تا تھا کم ہی ایسا ہوتا تھا میرا نشانہ خطا ء جاتا تھا جب لڑائی شروع ہوئی ، تو میں اس بات کا جائز لینے لگا کہ حضرت حمزہ ؓ کہاں ہیں ، یہاں تک کہ میں نے انہیں لوگوں کے درمیان خاکستری اونٹ کی طرح دیکھا وہ لوگوں کو اپنی تلوار سے پیچھے کر رہے تھے کوئی بھی چیز انہیں روک نہیں رہی تھی اللہ کی قسم میں ابھی ان کی طرف جانے کا ارادہ کر ہی رہا تھا " تو میں اس بارے میں عاجز ہو گیا کہ مجھ سے پہلے سباع بن عبدالعزیٰ ان تک جاچکا تھا جب حضرت حمزہ ؓ نے ا سے دیکھا ، تو وہ بولے آگے آؤ اے عورتوں کے ختنے کرنے والی عورت کے بیٹے پھر انہوں نے اسے ضرب لگائی اللہ کی قسم انہوں نے اس کا سر اڑا دیا ۔ حضرت وحشی ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنا نیز ہ تیار کیا ، یہاں تک کہ جب میرے حساب سے نشانہ ٹھیک ہوا ، تو میں نے اس پھینک دیا وہ ان کے پیٹ میں جا کے لگا ، یہاں تک کہ ان کی دونوں ٹانگوں کے درمیان سے باہر نکل گیا انہوں نے میری طرف بڑھنے کی کوشش کی لیکن مغلوب ہو گئے میں نے انہیں ایسے ہی رہنے دیا ، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ، تو پھر میں ان کے پاس آیا اور میں نے اپنا نیز لے لیا پھر میں لوگوں کی طرف واپس چلا گیا اور لشکر میں آکر بیٹھ گیا کیونکہ اس کے بعد مجھے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں تھی میں نے انہیں اس لیے قتل کیا تھا تاکہ مجھے آزاد کر دیا جائے جب میں مکہ آیا ، تو مجھے آزاد کر دیا گیا ۔

جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7016

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7017

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ، - وَكَانَ وَاحِدَ زَمَانِهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ السَّرَخْسِيُّ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو عُمَرَ [ص:482] الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ أَخِي الْمَاجِشُونِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ إِلَى الشَّامِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا حِمْصَ، قَالَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ: هَلْ لَكَ فِي وَحْشِيٍّ نَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَكَانَ وَحْشِيٌّ يَسْكُنُ حِمْصَ، قَالَ: فَسَأَلْنَا عَنْهُ، فَقِيلَ لَنَا: هُوَ ذَاكَ فِي ظِلِّ قَصْرِهِ، كَأَنَّهُ حَمِيتٌ، قَالَ: فَجِئْنَا حَتَّى وَقَفْنَا عَلَيْهِ، فَسَلَّمْنَا فَرَدَّ السَّلَامَ، قَالَ: وَعُبَيْدُ اللَّهِ مُعْتَجِرٌ بِعِمَامَةٍ مَا يَرَى وَحْشِيٌّ إِلَّا عَيْنَيْهُ وَرِجْلَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ: يَا وَحْشِيُّ، أَتَعْرِفُنِي؟ فَنَظَرَ إِلَيْهِ وَقَالَ: لَا وَاللَّهِ إِلَّا أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّ عَدِيَّ بْنَ الْخِيَارِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً يُقَالُ لَهَا: أُمُّ الْقِتَالِ بِنْتُ أَبِي الْعِيصِ، فَوَلَدَتْ لَهُ غُلَامًا بِمَكَّةَ فَاسْتَرْضَعَهُ، فَحَمَلْتُ ذَلِكَ الْغُلَامَ مَعَ أُمِّهِ فَنَاوَلْتُهَا إِيَّاهُ، فَلَكَأَنِّي نَظَرْتُ إِلَى قَدَمَيْكَ، قَالَ: فَكَشَفَ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ: أَلَا تُخْبِرُنَا بِقَتْلِ حَمْزَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّ حَمْزَةَ قَتَلَ طُعَيْمَةَ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ بِبَدْرٍ، قَالَ: فَقَالَ لِي مَوْلَايَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعَمٍ: إِنْ قَتَلْتَ حَمْزَةَ بِعَمِّي فَأَنْتَ حُرٌّ، قَالَ: فَمَا أَنْ خَرَجَ النَّاسُ عَامَ عَيْنَيْنِ -، قَالَ: وَعَيْنَيْنُ جَبَلٌ تَحْتَ أُحُدٍ، بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ وَادٍ -، قَالَ: فَخَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ إِلَى [ص:483] الْقِتَالِ، فَلَمَّا اصْطَفُّوا لِلْقِتَالِ، خَرَجَ سِبَاعٌ أَبُو نِيَارٍ، قَالَ: فَخَرَجَ إِلَيْهِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ: يَا سِبَاعُ، يَا ابْنَ أُمِّ أَنْمَارٍ، يَا ابْنَ مُقَطِّعَةِ الْبُظُورِ، تُحَادُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ؟ قَالَ: ثُمَّ شَدَّ عَلَيْهِ، فَكَانَ كَأَمْسِ الذَّاهِبِ، قَالَ: وَانْكَمَنْتُ لِحَمْزَةَ حَتَّى مَرَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا أَنْ دَنَا مِنِّي رَمَيْتُهُ بِحَرْبَتِي، فَأَضَعُهَا فِي ثُنَّتِهِ حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ بَيْنَ وَرِكَيْهِ، قَالَ: فَكَانَ ذَلِكَ الْعَهْدُ بِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ النَّاسُ، رَجَعْتُ مَعَهُمْ، فَأَقَمْتُ بِمَكَّةَ حَتَّى نَشَأَ فِيهَا الْإِسْلَامُ، ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى الطَّائِفِ، قَالَ: وَأَرْسَلُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُسُلًا، قَالَ: وَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ لَا يَهِيجُ الرُّسُلَ، قَالَ: فَجِئْتُ فِيهِمْ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَنْتَ وَحْشِيٌّ»؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «أَنْتَ قَتَلْتَ حَمْزَةَ»؟ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ كَانَ مِنَ الْأَمْرِ مَا بَلَغَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تُغَيِّبَ عَنِّي وَجْهَكَ؟ »، قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ، قَالَ: قُلْتُ: لَأَخْرُجَنَّ إِلَى مُسَيْلِمَةَ لَعَلِّي أَقْتُلُهُ، فَأُكَافِئَ بِهِ حَمْزَةَ، قَالَ: فَخَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِمْ مَا كَانَ، قَالَ: وَإِذَا رُجَيْلٌ قَائِمٌ فِي ثَلْمَةِ جِدَارٍ كَأَنَّهُ جَمَلٌ أَوْرَقُ مَا نَرَى رَأْسَهُ، قَالَ: فَأَرْمِيهِ بِحَرْبَتِي، فَأَضَعُهَا بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ بَيْنِ كَتِفَيْهِ، قَالَ: وَدَبَّ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ عَلَى هَامَتِهِ [ص:484] قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ، وَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَتْ جَارِيَةٌ عَلَى ظَهْرِ الْبَيْتِ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَتَلَهُ الْعَبْدُ الْأَسْوَدُ

جعفر بن عمر و بن بیان کرتےہیں : میں عبید اللہ بن عدی کےساتھ شام گیا جب ہم حمص آئے ، تو عبید اللہ نےمجھ سے کہا: کیا تمہیں اس بات میں دلچسپی ہے کہ ہم حضرت وحشی ؓ سے حضرت حمزہ ؓ کے قتل کرنے کے بارے میں دریافت کریں ۔ میں نے کہا: جی ہاں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت وحشی ؓ حمص میں سکونت پذیر تھے ہم نے ان کے بارے میں دریافت کیا : تو ہمیں بتایا گیا : وہ اپنے محل کے سائے میں موجود ہوں گے یوں جیسے وہ برتن ہوں ۔ راوی کہتےہیں : ہم وہاں آئے ان کے پاس ٹھہر گئے جب ہم نے سلام کیا ، تو انہو ں نے سلام کا جواب دیا ۔ راوی کہتے ہیں : عبید اللہ نے اپنا عمامہ منہ پر لپیٹ لیا تھا ۔ حضرت وحشی ؓ کو صرف ان کی دو آنکھیں اور دونوں پاؤں نظر آرہے تھے ۔ راوی کہتےہیں : عبید اللہ نے ان سے دریافت کیا: اے حضرت وحشی ؓ کیا آپ نے مجھے پہچان لیا ا س نے ان شخص کی طرف دیکھا اور بولے نہیں اللہ کی قسم مجھے صرف یہ علم ہے کہ عدی بن خیار نے ایک عورت کے ساتھ شادی کی تھی جسےام قتال بنت ابوعیس کہا جاتا تھا اس عورت نے مکہ میں اپنے بچے کو جنم دیا ، تو اس کےلیے دودھ پلانے والی کی تلا ش کی میں نے اس لڑکے کو اٹھایا اس کی والدہ کےہمراہ (دودھ پلانے والی کے پاس ) گیا میں نےوہ بچہ اسے پکڑ ایا ، تو مجھے یوں لگ رہا ہے کہ وہ تمہارے ہی پاؤں ہیں ( جو اس بچے کے تھے ) راوی کہتےہیں : عبید اللہ نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور پھر بولے کہ آپ ہمیں حضرت حمزہ ؓ کو قتل کرنے کے بارے میں بتائیں گے انہوں نے جواب دیا: جی ہاں حضرت حمزہ ؓ نے بند کی جنگ میں طعمہ بن عدی کو قتل کیا تھا ۔ راوی کہتےہیں ، تو میرے آقا جبیر بن معطم نے مجھ سے کہا: اگر تم نے میرے چچا کے بدلے میں حمزہ کو قتل کر دیا ،تو تم آزاد ہو گے ۔ حضرت وحشی ؓ نے بتایا : جب عینین کے سال لوگ نکلے ( راوی کہتے ہیں ) عینین ایک پہاڑ ہے ، جو عہد پہاڑ کے نیچے ہے ( یعنی یہ غزوہ احد کے موقع کی بات ہے ) ان دونوں پہاڑوں کے درمیان ایک وادی ہے حضرت وحشی ؓ نے بتایا : میں بھی لوگوں کے ساتھ جنگ کےلئے نکلا جب انہوں نے جنگ کےلئے صف بندی کر لی ، تو سباع ابونیار نکلا ، تو اس کے مقابلے میں حمزہ بن عبدالمطلب آئے انہوں نے کہا: اے سباع اے ام عنوار کے بیٹے اے عورتوں کے ختنہ کرنے والی عورت کے بیٹے ، تو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو انہوں نے اس پر حملہ کر کے اس کا کام تمام کر دیا ۔ حضرت وحشی ؓ بیان کرتے ہیں : میں حضرت حمزہ ؓ کی تاک میں رہا ، یہاں تک کہ ایک مرتبہ وہ میرے پاس سے گزرے جب وہ میرے قریب ہوئے ، تو میں نے انہیں اپنا نیزہ مارا میں نے وہ نیز ان کے پیٹ میں مارا ، یہاں تک کہ وہ ان کی پشت کی طرف سے نکل گیا ۔ حضرت وحشی ؓ بتاتے ہیں میرا معاہدہ صرف اتنا ہی تھا جب وہ لوگ واپس آئے ، تو میں بھی ان کے ساتھ واپس آگیا میں مکہ مقیم رہا ، یہاں تک کہ وہاں بھی اسلام پھیل گیا ، تو میں طائف چلا گیا ۔ حضرت وحشی ؓ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں پیغام بھیجے کیونکہ انہیں یہ بتایا گیا تھا: نبی اکرمﷺ کسی بھی پیغام رساں کوقتل نہیں کرے میں ان پیغام رساں افراد میں شامل ہو کر آیا اور نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگیا ۔ جب نبی اکرمﷺ نے مجھے دیکھا ، تو فرمایا تم وحشی ہو ۔ میں نے عرض کی: جی ہاں ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: تم نے حضرت حمزہؓ کو شہید کیا تھا ۔ میں نے جواب دیا : صور ت حال وہی ہے ، جو آپ تک پہنچی چکی ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا تم یہ کر سکتے ہو کہ تم اپنا چہر ہ مجھ سے چھپا لو ( یعنی آئندہ میرے سامنے نہ آنا) حضرت وحشی ؓ بیان کرتے ہیں : میں وہاں سے نکلا جب نبی اکرمﷺ کا وصال ہوا ،تو مسیلمہ کذاب نے خروج کیا میں نے سوچا میں مسیلمہ کی طرف ضرور جاؤں گا ہوسکتا ہے میں اسے قتل کر دوں ، تو اس طرح میں حضرت حمزہ ؓ کے قتل کا بدلہ چکا دوں گا ۔ میں لوگوں کے ساتھ نکلا ان کے ساتھ جو ہونا تھا وہ ہوا( یعنی جنگ کے دوران ) میں نے ایک چھوتے قد کے شخص کو دیکھا، تو ایک دیوار کے اوپر کھڑا ہو ا تھا وہ خاکستری اونٹ لگتا تھا ہم اس کا سر نہیں دیکھ سکتے تھے میں نے اسے اپنا نیزہ مارا اس کے سینے کے درمیان آکر لگا ، اور دونوں کندھوں کے درمیان میں سےنکل گیا ۔ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے اس کی گردن پر تلوار مار دی ۔ یہاں تک روایت میں یہ الفاظ ہیں حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتےہیں : گھر کی موجود چھت پر ایک لڑکی نے کہا: امیر المومنین ( یعنی مسیلمہ کذاب) کو ایک سیاہ فام غلام نے قتل کر دیا ہے ۔

جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيُّ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ أَخِي الْمَاجِشُونِ، ← حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو عُمَرَ الْبَغْدَادِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ السَّرَخْسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ، وَكَانَ وَاحِدَ زَمَانِهِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7017

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7018

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: «أُتِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ - وَكَانَ صَائِمًا - بِطَعَامٍ فَجَعَلَ يَبْكِي، فَقَالَ: قُتِلَ حَمْزَةُ، فَلَمْ يُوجَدْ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ، وَقُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ فَلَمْ يُوجَدْ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ، وَلَقَدْ خَشِيتُ أَنْ تَكُونَ قَدْ عُجِّلَتْ طَيِّبَاتُنَا فِي حَيَاتِنَا الدُّنْيَا»، قَالَ: «وَجَعَلَ يَبْكِي»

سعد بن ابراہیم بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے پاس کھانا لایا گیا انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا انہوں نے رونا شروع کر دیا اور بولے حضرت حمزہ ؓ کو جب شہید کیا ،تو انہیں کفن دینے کےلئے صرف ایک کپڑا ملا تھا ۔ حضرت مصعب بن عمیر ؓ کو شہید کیا گیا ، تو انہیں کفن دینے کےلئے صرف ایک کپڑا ملا تھا مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اب ہمیں نعمتیں ہماری دنیاوی زندگی میں ہی مل جائیں گی اس کے بعد انہوں نے رونا شروع کر دیا۔

«أُتِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَكَانَ صَائِمًا بِطَعَامٍ فَجَعَلَ يَبْكِي، ← أَبِي ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7018

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7019

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: أَتَيْنَا خَبَّابًا نَعُودُهُ، فَقَالَ: «إِنَّا هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ، فَوَقَعَ أُجُورُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مِنْ حَسَنَاتِهِ شَيْئًا، مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ بُرْدَةً، فَكُنَّا إِذَا جَعَلْنَاهَا عَلَى رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ، وَإِذَا جَعَلْنَاهَا عَلَى رَأْسِهِ بَدَتْ رِجْلَاهُ، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ ثَمَرَتُهُ، فَهُوَ يَهْدِبُهَا، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ نَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنْ إِذْخِرٍ»

ابو وائل بیان کرتے ہیں : ہم لو گ حضرت خباب ؓ کی عیادت کرنے کےلئے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے فرمایا: ہم نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ ہجر ت کی ہم اللہ کی رضا کا حصول چاہتے تھے ہمارا اجر اللہ کے ذمے لازم ہو گیا ہم میں سے کچھ لوگ ( دنیا سے ) رخصت ہو گئے انہوں نے اپنی نیکیوں کے بدلے میں سے ) کچھ نہیں کھایا ان میں سے ایک حضرت مصعب بن عمری ؓ تھے ، جو غزوہ احد کے دن شہید ہوئے تھے انہوں نے ایک چادر چھوڑی تھی ہم وہ ان کے پاؤں پر ڈالتے تھے ، تو ان کا سر ظاہر ہو جاتا تھا اور جب ہم وہ چادر ان کے سر پر ڈالتے تھے ، تو ان کے پاؤں ظاہر ہو جاتے تھے ۔ اور اب ہم میں سے وہ لوگ ہیں جن کا پھل تیا ر ہوگیا ہے وہ اسے چن رہے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ کہ چادر کو ان کے سر پر رکھ دیں اور ان کے پاؤں پر تھوڑی سی اذخر ( گھاس ) ڈال دیں۔

أَتَيْنَا خَبَّابًا نَعُودُهُ، ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7019

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7020

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرَّكِينَ الْفَرْغَانِيُّ، بِدِمَشْقَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَمَرَ أَبِي بِخَزِيرَةٍ، فَصُنِعَتْ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَحَمَلْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ، فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا جَابِرُ، أَلْحَمٌ ذَا؟ » قُلْتُ: لَا، وَلَكِنَّهَا خَزِيرَةٌ، فَأَمَرَ بِهَا [ص:488] فَقُبِضَتْ، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى أَبِي، قَالَ: هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: هَلْ قَالَ شَيْئًا؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «مَا هَذَا يَا جَابِرُ أَلْحَمٌ ذَا؟ » فَقَالَ أَبِي: عَسَى أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اشْتَهَى اللَّحْمَ، فَقَامَ إِلَى دَاجِنٍ لَهُ فَذَبَحَهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَشُوِيَتْ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَحَمَلْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ، فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا جَابِرُ؟ » فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجَعْتُ إِلَى أَبِي فَقَالَ: هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: هَلْ، قَالَ شَيْئًا؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «مَا هَذَا أَلْحَمٌ ذَا؟ » فَقَالَ أَبِي: عَسَى أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اشْتَهَى اللَّحْمَ، فَقَامَ إِلَى دَاجِنٍ عِنْدَهُ فَذَبَحَهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَشُوِيَتْ، ثُمَّ أَمَرَنِي فَحَمَلْتُهَا إِلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَزَى اللَّهُ الْأَنْصَارَ عَنَّا خَيْرًا، وَلَا سِيَّمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ، وَسَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے خزیرہ بنانے کا حکم دیا وہ تیار ہو گیا ، تو انہوں نے مجھے حکم دیا میں اسے اٹھا کر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں آیا جب میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ اپنے گھر میں موجود تھے ۔ آپ نے دریافت کیا: یہ کیا ہے جابر کیا یہ گوشت ہے ۔ میں نے عرض کی: جی نہیں یہ خزیرہ ہے ۔ نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت وہ لے لی گیا ۔ جب میں اپنے والد کی طرف واپس آیا ، تو انہوں نے دریافت کیا: کیا تم نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا تھا میں نے جواب دیا: جی ہاں ۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا نبی اکرمﷺ نے کچھ کہا تھا ۔ میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: اے جابر یہ کیا ہے کیا یہ گوشت والی چیز ہے ، تو میرے والد نے کہا: شاید نبی اکرمﷺ کا گوشت کھانے کا جی چاہ رہا ہو گا وہ اٹھے اور بکری کے پاس گئے اور بکری کو ذبح کیا پھر ان کے حکم کے تحت اسے بھون لیا گیا پھر انہوں نے مجھے حکم دیا ، تو میں وہ گوشت اٹھا کر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں گیا جب میں نبی اکرمﷺ کے پا س پہنچا ، تو آپ اپنی اسی محفل میں تشریف فرما تھے۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: اے جابر یہ کیا ہے میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ میں اپنے والد کے پاس گیا انہوں نے دریافت کیا: کیا نبی اکرمﷺ نے کچھ کہا تھا میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا تھا: کیا یہ گوشت والی چیز ہے میرے والد نے کہا: ہو سکتا ہے نبی اکرمﷺ کا گوشت کو جی چاہ رہا ہو وہ اپنی بکری کے پاس گئے انہوں نے اسے ذبح کیا ان کے حکم کے تحت اسے پکا لیا گیا پھر انہوں نے مجھے ہدایت کی تو میں وہ گوشت اٹھا کر آپ کے پاس آگیا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے انصار کو جزائے خیر عطا کر ے بطور خاص عبداللہ بن عمرو بن حرام کو اور سعد بن عبادہ کو ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ الْفَرْغَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7020

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7021

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: لَمَّا قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ جَعَلْتُ أَبْكِي وَأَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ وَجَعَلَ، أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَوْنِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبْكِهِ، مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا تُظِلُّهُ حَتَّى دَفَنْتُمُوهُ»

حضرت جابر ؓ بیان کرتےہیں : جب غزوہ احد کے موقع پر میرے والد شہید ہوگئے ، تو میں رونے لگا میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانے لگا ، نبی اکرمﷺ کے اصحاب نے مجھے اس سے منع کرنا شروع کیا، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اس پر نہ روؤ جب تک تم اسے دفن نہیں کر دیتے فرشتے اپنے پروں کے ذریعے مسلسل اس پر سایہ کیے رہیں گے ۔

وَجْهِهِ وَجَعَلَ، أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ يَنْهَوْنِي، ← لما قتل أبي يوم أحد جعلت أبكي وأكشف الثوب ← جَابِرًا ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7021

chevron_left Previous
1…131415…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr