Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6986

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهِرَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهِيَ إِلَى جَنْبِهِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ»، قَالَتْ: فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعْتُ صَوْتَ السِّلَاحِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ هَذَا؟ »، قَالَ: سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: «مَا جَاءَ بِكَ؟ »، قَالَ جِئْتُ لِأَحْرُسَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَسَمِعْتُ غَطِيطَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَوْمِهِ

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : ایک رات نبی اکرم ﷺ رات دیر تک جاگتے رہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھیں وہ بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ ﷺ کو کیا ہوا ہے ۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا : کاش میرے اصحاب میں سےکوئی صالح شخص آج رات میر ی حفاظت کرتا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : ابھی ہم اس حالت میں تھے کہ میں نے ہتھیار کی آواز سنی ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : جون ہے۔ اس نے جواب دیا : سعد بن مالک ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کیو ں آئے ہو۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ !میں آپ ﷺ کی حفاظت کے لئے آیا ہوں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے نیندکے دوران خراٹے سنے (یعنی پھر آپ ﷺ پر سکون نیند سو گئے)

أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تُحَدِّثُ: ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6986

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6987

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ عَنَ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنْ شِمَالِهِ يَوْمَ أُحُدٍ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ، مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ - يَعْنِي جِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ -»

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ احد کے دن میں نے نبی اکرم ﷺ کے دائیں طرف اور بائیں طرف دو آدمی دیکھے جب کے جسم پر سفید کپڑے تھے میں ان دونوں کو نہ تو اس سے پہلے کبھی دیکھا اور نہ ہی بعد میں دیکھا (راوی کہتے ہیں : ) وہ جبرائیل ؑ اور حضرت میکائیل ؑ تھے،

يَمِينِ رَسُولِ اللهِ ← رَأَيْتُ ← سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← أَبِيهِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مِسْعَرٍ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6987

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6988

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ [ص:447] رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَسُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدٍ، فَإِنَّهُ، قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ: «ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي»

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے کبھی بھی نبی اکرمﷺ کو کسی کے لئے بھی اپنے والدین کو جمع کرتے ہوئے نہیں سنا صرف حضرت سعد کے لئے سنا ہے' کیونکہ غزوہ احد کے دن نبی اکر م ﷺ نے ان سے فرمایا : تم تیر پھینکو میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ۔

لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ: «ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» ← النَّبِيَّ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدٍ، فَإِنَّهُ، ← مَا ← عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مِسْعَرٍ، ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ [ص:447] وَسُفْيَانُ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6988

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6989

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: «وَاللَّهِ إِنِّي لَأَوَّلُ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ [ص:449] فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِنْ كُنَّا لَنَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ نَأْكُلُهُ إِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَةِ وَهَذَا السَّمُرُ، حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ مَا لَهُ خِلْطٌ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الدِّينِ، لَقَدْ خِبْتُ إِذًا وَضَلَّ عَمَلِي»

حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں عربوں میں سے وہ پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں (جنگ کے دوران ) تیر اندازی کی ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ غزوات میں شریک ہوئے تھے ہمارے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں ہوتا تھا صرف درخت کے پتے ہوتے تھے اور یہ مخصؤص قسم کا درخت ہوتا تھا ' یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص بکری کی مینگنی کی طرح پاخانہ کرتا تھا اس میں کچھ ملاہوا نہیں ہوتا تھا اب اگر بنوا سد 'دین کے حوالے سے مجھے عاردلانےکی کوشش کریں پھر تو میں رسوا ہو گیا اور میرا عمل ضائع ہو گیا ۔

سَعْدٍ، ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← مُعْتَمِرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ"1" الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6989

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6990

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لَهُ إِذَا دَعَاكَ - يَعْنِي سَعْدًا -»

قیس بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : نبی اکرمﷺ نے دعا کی ۔ ''اے اللہ ! جب یہ تجھ سے دعا کرے تو اس کو مستجاب کرنا ۔'' نبی اکرم ﷺ کی مراد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے۔

سَعْدًا، ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6990

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6991

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى* الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ ذَا الْبَابِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ»، قَالَ: وَلَيْسَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا وَهُوَ يَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، فَإِذَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ قَدْ طَلَعَ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس دروازے سے تمہارے پاس ایک شخص آئے گا ' جو جنتی ہو گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم میں سے ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ وہ داخل ہونے والا شخص اس کے گھر والوںمیں سے کوئی ہو ' تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔

«يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ ذَا الْبَابِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ»، ← كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى* الرَّقَاشِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6991

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6992

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أُنْزِلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ: أَصَبْتُ سَيْفًا، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفِّلْنِيهِ، قَالَ: «ضَعْهُ»، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفِّلْنِيهِ، وَاجْعَلْنِي كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ، قَالَ: «ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَ»، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ} [الأنفال: 1] وَصَنَعَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ طَعَامًا، فَدَعَانَا، فَشَرِبْنَا الْخَمْرَ حَتَّى انْتَشَيْنَا، فَتَفَاخَرَتِ الْأَنْصَارُ وَقُرَيْشٌ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: نَحْنُ أَفْضَلُ مِنْكُمْ، وَقَالَتْ قُرَيْشٌ: نَحْنُ أَفْضَلُ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لَحْيَ جَزُورٍ فَضَرَبَ أَنْفَ سَعْدٍ، فَفَزَرَهُ، فَكَانَ أَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُورًا، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} [المائدة: 90] وَقَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ اللَّهُ بِالْبِرِّ، وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُ طَعَامًا، [ص:453] وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَمُوتَ أَوْ تَكْفُرَ، قَالَ: فَكَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُطْعِمُوهَا شَجَرُوا فَاهَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا} [العنكبوت: 8] الْآيَةُ، قَالَ: وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ يَعُودُنِي، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ: «لَا»، قُلْتُ: فَبِثُلُثَيْهِ؟ قَالَ: «لَا»، قُلْتُ: فَبِنِصْفِهِ؟ قَالَ: «لَا»، قُلْتُ: فَبِثُلُثِهِ؟ قَالَ: فَسَكَتَ.

مصعب اپنے والدحضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میرے بارے میں چار آیات نازل ہوئیں مجھے تلوار ملی میں وہ لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں خاضر ہو ا میں نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ آپ ﷺ مجھے یہ نفلہ طور پر عطا کر دیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے رکھ دو ۔ میں نے پھر عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے نفلی طور پر عطا کر دیں اور مجھے ایسے شخص کی مانند کر دیں جس کے پاس خوشحالی نہیں ہوتی(یعنی مجھے غریب سمجھ کے ی یہ مجھے دیدیں ) نبی اکرم ﷺ نےفرمایا : جہاں سے تم نے اسے لیا ہے وہاں رکھ دو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ ''لوگ تم سے مال انفال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ۔'' ایک مرتبہ ایک انصاری شخص نے کھانا تیا رکیا اس نے ہمیں پلایا ہم نے شراب پی لی ' یہاں تک کہ ہم آپس میں لڑ پڑے انصار اور قریش نے ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کرنا شروع کر دیا : انصار نےکہا : ہم تم سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں ۔ قریش نے کہا ہم زیادہ فضیلت رکھتے ہیں ۔ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے گوشت کا ٹکڑا پکڑا او ر اسے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پر مار کر توڑ دیا تو حضرت سعد کی ناک ٹوٹ گئی ۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ؛؛بے شک شراب ' جوا'بت اور پانسہ ناپاک ہیں یہ شیطان کے عمل سے تعلق رکھتے ہیں تم اس سے اجتناب کرو تا کہ فلاح حاصل کر لو۔'' ایک مرتبہ ام سعد نے عرض کی: کیا اللہ تعالی نے نیکی کرنے کا حکم نہیں دیا اللہ کی قسم ! میں اس وقت تک کھانا نہیں کھاؤں گی اور اس وقت تک کوئی مشروب نہیں پیوں گی جب تک میں مر نہیں جاتی یا تم ( حضرت محمد ﷺ کا ) انکار نہیں کر دیتے ۔ راوی بیان کرتے ہیں لوگ جب ان کو کچھ کھلانے کا ارادہ کرتے تو وہ اس کا منہ زبر دستی کھولتے تھے اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ ''ہم نے انسان کو ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تلقین کی ہے۔'' حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے میں بیمار تھا آپ میری عیادت کے لے تشریف لائے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنے سار ے مال کے بارے میں وصیت کر دوں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جی نہیں ، میں نے دریافت کیا : دو تہائی کے بارے میں کر دوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ۔ میں نے عرض کی : نصف کے بارے میں کر دوں ۔ نبی اکر م ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ۔ میں نے عرض کی : ایک تہائی کے بارے میں کر دوں ' تو نبی اکرم ﷺ خاموش رہے۔

أُنْزِلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ: أَصَبْتُ سَيْفًا، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ فَقُلْتُ ← أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← بُنْدَارٌ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6992

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6993

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا الْحَوْضِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَخْنَسِ، أَنَّهُ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ، فَذَكَرَ الْمُغِيرَةُ عَلِيًّا، فَنَالَ مِنْهُ، فَقَامَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، فَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «عَشْرَةٌ فِي الْجَنَّةِ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَّةِ، وَأَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ»، وَلَوْ شِئْتُ لَسَمَّيْتُ الْعَاشِرَ، قَالُوا: مَنْ هُوَ؟ فَسَكَتَ، فَقَالُوا: مَنْ هُوَ؟ فَقَالَ: «سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ»

عبدالرحمن بن اجنس بیان کرتے ہیں : وہ مسجد میں موجود تھے مغیرہ نےحضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے ان کی شان میں گستاخی کی تو حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے وہ بولے : میں نبی اکرمﷺ کے بار ے میں یہ بات گواہی دے کر کہتا ہوں میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ''دس لوگ جنتی ہیں نبی اکرم ﷺ جنتی ہیں ، ابو بکر جنتی ہیں، عمرجنتی ہیں، عثمانجنتی ہیں، علی جنتی ہیں،طلحہ بن عبیدا للہ جنتی ہیں، زبیر عوام جنتی ہیں، سعد بن مالک جنتی ہیں اور عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں(پھر حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا ) اگر میں چاہوں ' تو دسویں آدمی کا نام بھی لے سکتا ہوں ۔ لوگوں نے دریافت کیا : وہ کون ہے؟ تو وہ خاموش رہے لوگوں نے دریافت کیا : وہ کون ہے؟ تو انہوں نے بتایا : سعد بن زید (یعنی وہ خود)''

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَخْنَسِ ← الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← الْحَوْضِيُّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6993

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6994

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ شَيْءٌ، فَسَبَّهُ خَالِدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي؛ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اورحضرت خالد رضی اللہ عنہ کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہو گیا حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے انہیں برا کہا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میرے اصحاب میں سے کسی کو برا نہ کہو اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ جتنا سونا خیرات کر دے تو بھی ان میں سے کسی ایک کے ایک مد بلکہ نصف (مد خیرات کرنے ) تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔

كَانَ بَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ شَيْءٌ، فَسَبَّهُ خَالِدٌ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6994

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6995

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، وَالْجَنَدِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «إِنَّ أَمْرَكُنَّ لَمِمَّا يَهُمُّنِي بَعْدِي، وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُ»، قَالَ: ثُمَّ تَقُولُ: فَسَقَى اللَّهُ أَبَاكَ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ، تُرِيدُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَكَانَ قَدْ وَصَلَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ بِيعَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم (خواتین ) کا معاملہ ان چیزوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں مجھے اپنے بعد اندیشہ ہے اور میرے بعد تم پر وہی شخص صبر سے کام لے گا 'جو صبر کرنے والا ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالی تمہارے والد کو (جنت کی نہر) سلسبیل ےسے سیراب کرے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی مراد عبدالرحمن بن عوف تھے ( سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ) وہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج کا اتنا خیال رکھتے تھے کہ انہوں نے جو مال دیا اس کی قیمت چالیس ہزارتھی۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، وَالْجَنَدِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6995

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6996

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ حُصِينًا يَذْكُرُ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ: قَامَ خُطَبَاءُ يَتَنَاوَلُونَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَفِي الدَّارِ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ فَأَخَذَ بِيَدِي، وَقَالَ: أَلَا تَرَى هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي أَرَى، يَلْعَنُ رَجُلًا مِنْ [ص:458] أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ أَنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ لَمْ آثَمُ، فَقُلْتُ: مَنِ التِّسْعَةُ؟ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِرَاءٍ، فَقَالَ: «اثْبُتْ حِرَاءُ، فَإِنَّ عَلَيْكَ نَبِيًّا، وَصَدِّيقًا، وَشَهِيدًا»، قُلْتُ: مَنْ هُمْ؟ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، قُلْتُ: مَنِ الْعَاشِرُ؟ فَتَفَكَّرَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: أَنَا

عبداللہ بن ظالم مازنی بیان کرتے ہیں : خطیب لوگ کھڑے ہوئے اور حضرت علی ؓ کی شان میں گستاخی کرنے لگے گھر۔ گھر میں حضرت سعید بن زیدؓ بھی موجود تھے انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور بولے کیا تم اس شخص کو دیکھ رہے ہو جسے میں دیکھ رہا ہوں یہ ایک جنتی شخص کو برا کہہ رہا ہے میں نو لوگوں کے بارے میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے بارے میں گواہی دینا چاہوں ، تو میں گناہ گار نہیں ہوں گا ۔ میں نے دریافت کیا: وہ نو لوگ کون ہیں، تو انہوں نے فرمایا نبی اکرمﷺ حرا پہاڑ پر موجود تھے آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اے حرا ٹھہرا رہو، کیونکہ تمہارے اورپر ایک نبی ، ایک صدیق اور ایک شہید ہے ۔ میں نے دریافت کیا: وہ کون لوگ ہیں ۔ انہوں نے بتایا : نبی اکرمﷺ ، حضرت ابوبکرؓ ، حضرت عمرؓ ، حضرت عثمان ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت طلحہ ؓ ، حضرت زبیر ؓ ، حضرت سعد ( بن ابی وقاص ؓ) اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ ( یہ نو لوگ ہیں جو جنتی ہیں ) میں نے دریافت کیا: دسواں شخص کون ہے ؟ وہ تھوری دیر تک سوچتے رہے ، پھر بولے ، میں ہوں ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ، ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← حُصَيْنًا يَذْكُرُ ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6996

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6997

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو بَكْرٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ عُمَرُ، نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، نِعْمَ الرَّجُلُ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، بِئْسَ الرَّجُلُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ» سَمَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُسَمِّهِمْ لَنَا سُهَيْلٌ

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6997

chevron_left Previous
1…111213…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr