Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6962

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَامِلًا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ»

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ ﷺ نے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر اٹھایا ہو ا تھا اور آپ ﷺ یہ کہہ رہے تھے۔ ''اے اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں 'تو بھی اس سے محبت کر۔''

«اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ» ← رَأَيْتُ النَّبِيَّ حَامِلًا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ، وَهُوَ ← الْبَرَاءِ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6962

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6963

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُوقٍ مِنْ أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ، فَانْصَرَفَ وَانْصَرَفْتُ مَعَهُ، فَقَالَ: «ادْعُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ»، فَجَاءَ الْحَسَنُ يَمْشِي وَفِي عُنُقِهِ الشِّحَابُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِيَدِهِ هَكَذَا»، فَقَالَ الْحَسَنُ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَأَخَذَهُ، وَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَمَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بَعْدَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَكَذَا حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ بِالشِّينِ وَالْحَاءِ وَإِنَّمَا هُوَ السِّخَابُ بِالسِّينِ وَالْخَاءِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ مدینہ منورہ کے ایک بازار میں موجود تھا آ پ ﷺ کی طرف مڑ گئے آ پ ﷺ کے ساتھ میں بھی مڑ گیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : حسن کو میرے پا س بلا کر لاؤ تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے آئے ان کی گردن میں ایک ہار تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اس طرح اشارہ کیا ' تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے ہاتھ کے ذریعے اس طرح اشار ہ کیا پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں پکڑلیا اور کہا: اے اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں ' تو بھی اس سے محبت کر اور اس شخص سے بھی محبت کر جو اس سے محبت کرتا ہو۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ' تو میرے نزدیک کوئی بھی شخص حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے زیادمحبوب نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کے بعد جو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: (امام ابن حبان ؒ فرماتےہیں ) عبداللہ بن محمد نے یہ الفاظ اس طرح ''ش''اور''ح'' کے ساتھ ہمیں بیان کیا حالانکہ اصل لفظ ''سخاب '' ہے یعنی''س''اور ''خ'' کے ساتھ ہے۔

«اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ» ← الْحَسَنُ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَأَخَذَهُ، ← النَّبِيُّ «بِيَدِهِ هَكَذَا»، ← «ادْعُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ»، فَجَاءَ الْحَسَنُ يَمْشِي وَفِي عُنُقِهِ الشِّحَابُ، ← كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي سُوقٍ مِنْ أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ، فَانْصَرَفَ وَانْصَرَفْتُ مَعَهُ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6963

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6964

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا، وَكَانَ الْحَسَنُ يَجِيءُ وَهُوَ صَغِيرٌ فَكَانَ كُلَّمَا سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَ عَلَى رَقَبَتِهِ وَظَهْرِهِ، فَيَرْفَعُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ رَفَعًا رَقِيقًا حَتَّى يَضَعَهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تَصْنَعُ بِهَذَا الْغُلَامِ شَيْئًا مَا رَأَيْنَاكَ تَصْنَعُهُ [ص:419] بِأَحَدٍ، فَقَالَ: «إِنَّهُ رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا، إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی حضرت حسن رضی اللہ عنہ آئے وہ اس وقت چھوٹے بچے تھے جب نبی اکرم ﷺ سجدے میں گئے تو وہ نبی اکرم ﷺ کی گردن اور پشت پر سوار ہو گئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر آرام سے اٹھایا ' یہاں تک کہ انہیں زمین پر بیٹھا دیا لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ! ہم نے آپ ﷺ کو بچے کے ساتھ ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے' جو ہم نے کسی کے ساتھ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ دنیا میں میری خوشبو ہے ' میرا یہ بیٹا سردار ہے ۔ عنقریب اللہ تعالی اس کی وجہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کروائے گا۔

أَبُو بَکْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6964

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6965

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ فِي طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَلَقِينَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَ لِلْحَسَنِ: «اكْشِفْ لِي عَنْ بَطْنِكَ، جُعِلْتُ فِدَاكَ، حَتَّى أُقَبِّلَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُهُ، قَالَ: فَكَشَفَ عَنْ بَطْنِهِ، فَقَبَّلَ سُرَّتَهُ، [ص:421] وَلَوْ كَانَتْ مِنَ الْعَوْرَةِ مَا كَشَفَهَا.

عمیر بن اسحا ق بیان کرتے ہیں : میں حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ کےکسی راستے میں جا رہا تھا ہماری ملاقات حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ اپنے پیٹ سے کپڑ ا ہٹائیں اور مجھے اپنے اوپر فدا ہونے کا موقع دیجئے تا کہ میں اس جگہ کا بوسہ لوں جہاں میں نے نبی اکرم ﷺ کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ راوی کہتے ہیں : تو انہوں نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹایا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ناف پر بوسہ دیا ۔ (راوی کہتے ہیں : ) اگر ناف پردے میں شامل ہوتی تو حضرت اما حسن رضی اللہ عنہ اس سے کپڑا نہ ہٹاتے

فَكَشَفَ ← بَطْنِكَ، جُعِلْتُ فِدَاكَ، حَتَّى أُقَبِّلَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يُقَبِّلُهُ، ← لِلْحَسَنِ: «اكْشِفْ لِي ← كُنْتُ أَمْشِي مَعَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ فِي طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَلَقِينَا أَبَا هُرَيْرَةَ، ← عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6965

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6966

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سَعِيدٍ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ [ص:422] أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جو شخص کسی جنتی کو دیکھنا چاہتا ہو وہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے' کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سَعِيدٍ الْجُعْفِيُّ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6966

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6967

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ*، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ النَّبَّالُ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، [ص:423] أَخْبَرَنِي أَبِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: طَرَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ لِبَعْضِ الْحَاجَةِ، وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى شَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي، قُلْتُ: مَنْ هَذَا الَّذِي أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ؟ فَكَشَفَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ عَلَى فَخِذَيْهِ، فَقَالَ: «هَذَانِ ابْنَايَ وَابْنَا ابْنَتِي، اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا»

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں کسی کام کے سلسلے میں رات کے وقت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم ﷺ کسی چیز کو اٹھائے ہوئے تھے مجھے اندازہ نہیں ہوا وہ کیا چیز ہے' جب میں اپنے کام سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کی : یہ کیا چیز ہے' جس کےاوپر ﷺ نے چادر دہ ہوئی ہے' نبی اکرم ﷺ نے اس چادر کو ہٹایا تو وہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ تھے جو آپ ﷺ کے زانوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں اے اللہ! بے شک تو یہ بات جانتا ہے میں ان سے محبت کرتا ہوں ' توں بھی ان دونوں سے محبت کر۔

أَبِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، ← الحَسَنُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← مُسْلِمُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ النَّبَّالُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ← مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6967

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6968

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ*، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: بَلَغَ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ بِمَالٍ لَهُ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، قَدْ تَوَجَّهَ إِلَى الْعِرَاقِ، فَلَحِقَهُ عَلَى مَسِيرَةِ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ، فَقَالَ: إِلَى أَيْنَ؟ فَقَالَ: هَذِهِ كُتُبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَبَيْعَتُهُمْ، فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ، فَأَبَى، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَيَّرَهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ، وَلَمْ يُرِدِ الدُّنْيَا، وَإِنَّكَ بَضْعَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَذَلِكَ يُرِيدُ مِنْكُمْ»، فَأَبَى، فَاعْتَنَقَهُ ابْنُ عُمَرَ، وَقَالَ: «أَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ، وَالسَّلَامُ»

امام شعبی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی وہ اس وقت اپنی زمینوں پر موجود تھے کہ حضرت امام حسین عراق کی طرف جانے لگے ہیں ' تو وہ دویا تین دن کا سفر کرکے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور دریافت کیا : آپ کہاں جانا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ اہل عراق کے خطوط ہیں اور ان کی بیعت ( کے بارے میں خطوط ہیں ) تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا " ایسا نہ کیجئے لیکن حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے یہ بات نہ مانی ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : حضرت جبرائیل ؑ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا تو نبی اکرم ﷺ نے آخرت کو اختیار کیا آپ ﷺ دنیا نہیں چاہتے تھے۔ آپ نبی اکرم ﷺ کے جگر کے ٹکڑے ہیں نبی اکرم ﷺ آپ سے بھی اس چیز کے طلب گار ہوں گے(کہ آپ دنیا کی طرف متوجہ نہ ہوں ) لیکن حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے یہ بات نہیں مانی ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں گلے لگایا اور کہا میں آپ کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں والسلام

بَلَغَ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ بِمَالٍ لَهُ ← الشَّعْبِيِّ، ← يحيى بن إسماعيلَ بن سالم، ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6968

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6969

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ شَيْءٍ، قَالَ شُعْبَةُ: سَأَلَهُ عَنِ [ص:426] الْمُحْرِمِ يَقْتُلُ الذُّبَابَ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: يَسْأَلُونِي عَنْ قَتْلِ الذُّبَابِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُمَا رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا». ابْنُ أَبِي نُعْمٍ: هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ

ابن ابو نعیم بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو سنا ایک شخص نے ا سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا ۔ شعبہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے ایک شخص نے ان سے احرام والے شخص کے بار ے میں دریافت کیا : جو مکھی کو ماردیتا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ لوگ مجھ سے مکھی کو مارنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے نواسے کو شہید کر دیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ دونوں (نواسے) دنیا میں میر ی خوشبو ہیں ۔ ابن ابو نعیم نامی راوی کا نام عبدالرحمن ہے

قَتْلِ الذُّبَابِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: يَسْأَلُونِي ← [ص:426] الْمُحْرِمِ يَقْتُلُ الذُّبَابَ؟ ← شُعْبَةُ: سَأَلَهُ ← شَيْءٍ ← ابن عمر وسأله رجل ← ابْنِ أَبِي نُعَمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6969

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6970

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ*، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، [ص:427] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَثِبَانِ عَلَى ظَهْرِهِ، فَيُبَاعِدُهُمَا النَّاسُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعُوهُمَا، بِأَبِي هُمَا وَأُمِّي مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ هَذَيْنِ»

حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نماز ادا کر رہے تھے حضرت حسنؓ اور حضر ت حسین ؓ آ پ ﷺ کی پشت پر چڑھ گئے لوگوں نے انہیں پیچھے ہٹانا چایا تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ان دونوں کو کرنے دو ' میرے ماں باپ ان پر قر بان ہوں جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے وہ ان دونوں سے بھی محبت رکھے

«دَعُوهُمَا، بِأَبِي هُمَا وَأُمِّي مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ هَذَيْنِ» ← كَانَ النَّبِيُّ يُصَلِّي وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَثِبَانِ عَلَى ظَهْرِهِ، فَيُبَاعِدُهُمَا النَّاسُ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ، [ص:222] ← عَاصِمٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6970

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6971

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ يَعْلَى الْعَامِرِيِّ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ دُعُوا لَهُ، فَإِذَا حُسَيْنٌ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَاسْتَقْبَلَ أَمَامَ الْقَوْمِ، [ص:428] ثُمَّ بَسَطَ يَدَهُ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَفِرُّ هَا هُنَا مَرَّةً وَهَا هُنَا مَرَّةً، وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَاحِكُهُ، حَتَّى أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ تَحْتَ ذَقْنِهِ وَالْأُخْرَى تَحْتَ قَفَاهِ، ثُمَّ قَنَّعَ رَأْسَهُ فَوَضَعَ فَاهُ عَلَى فِيهِ فَقَبَّلَهُ، وَقَالَ: «حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ»

حضرت یعلیٰ عامری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ایک کھانے کی دعوت پر گئے جس میں انہیں بلایا گیا تھا وہاں حضرت حسین رضی اللہ عنہ دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ' تو نبی اکرم ﷺ لوگوں سے آگے بڑھے آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیلالیا تو وہ بچہ (آپ ﷺ کی گرفت سے بچنے کے لئے ) کبھی ادھر بھاگنے لگا اور کبھی ادھر بھاگنے لگا نبی اکر م ﷺ اسے ہنسا رہے تھے ' یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے اسے پکڑ لیا آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس کی تھوڑی کے نیچے رکھا اور دوسرا گدی کے نیچے رکھا پھر نبی اکرم ﷺ نے ان کا سر اوپر کیا او ر اپنا منہ ان کے منہ پر رکھ کر بوسہ دیا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :حسین مجھ سےہے اور میں حسین سے ہوں اللہ تعالی اس شخص سے محبت کرے جو حسین سے محبت رکھتا ہو' حسین واقعی نواسہ ہے۔

يَعْلَى الْعَامِرِيِّ، ← سعيد بن أبي راشد ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَفَّانُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6971

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6972

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ إِذْ جِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَقُولُ بِقَضِيبِهِ فِي أَنْفِهِ وَيَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حُسْنًا فَقُلْتُ: «أَمَا إِنَّهُ كَانَ مِنْ أَشْبَهِهِمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ابن زیاد کے پاس موجود تھا اسی دوران حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر لایا گیا تو اس نے چھڑی کو اس کی نا ک پر لگایا اور بولا : میں نے اتنا خوبصورت شخص کبھی نہیں دیکھا تو میں نے کہا : یہ نبی اکرم ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ۔

بِقَضِيبِهِ فِي أَنْفِهِ ← فَجَعَلَ ← كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ إِذْ جِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حَفْصَةَ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6972

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6973

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: «لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کوئی شخص حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ نبی اکرم ﷺ سے مشابہت نہیں رکھتا تھا ۔

«لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِرَسُولِ اللَّهِ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ» ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6973

chevron_left Previous
1…91011…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr