Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 295

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بن مسرھد قال حدثنا بن اَبِیْ عَدِیٍّ عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ عَنْ یَّحْیَی بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ التیمی عَنِ ابْنِ عَتِیْکٍ الْاَنْصَارِیِّ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إن من الْغَیْرَۃِ مَا یُحِبُّ اللہُ وَمِنْھَا مَا یُبْغِضُ اللہُ فَاَمَّا الْغَیْرَۃُ الَّتِیْ یُحِبُّ اللہُ فَالْغَیْرَۃُ فِی اللہِ وَاَمَّا الْغَیْرَۃُ الَّتِیْ یُبْغِضُ اللہُ فَالْغَیْرَۃُ فِیْ غَیْرِ اللہِ وَاِنَّ مِنَ الْخُیَلَاءِ مَا یُحِبُّ اللہُ وَمِنْھَا مَا یُبْغِصُ اللہُ فَاَمَّا الْخُیَلَاءُ الَّتِیْ یُحِبُّ اللہُ اَنْ یَّتَخَیَّلَ الْعَبْدُ بِنَفْسِہِ عِنْدَ الْقِتَالِ وَاَنْ یَّتَخَیَّلَ عِنْدَ الصَّدَاقَۃِ وَاَمَّا الْخُیَلَاءُ الَّتِیْ یُبْغِضُ اللہُ فَالْخُیَلَاءُ لغیر الدین۔ (3:66)

ابن عتیک انصاری اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : ’’غیرت کی ایک قسم وہ ہے ‘ جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ‘ اور ایک قسم وہ ہے ‘ جسے اللہ تعالیٰ نا پسند کرتا ہے ‘ جہاں تک اس قسم کا تعلق ہے ‘ جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ‘ تو یہ غیرت ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہے ‘ اور وہ غیرت جسے اللہ تعالیٰ نا پسند کرتا ہے ‘ تو یہ وہ غیرت ہے ’ جو اللہ تعالیٰ کی بجائے کسی اور کے لئے ہو ، تکبر کا اظہار کرنے والے لوگوں میں کچھ لوگ وہ ہیں ‘ جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ‘ اور کچھ لوگ وہ ہیں ‘ جنہیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ‘ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے ‘ جو تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو پسند کرتا ہے ‘ تو اس سے مراد وہ بندہ ہے ‘جو جنگ کے وقت اپنے آپ کو نمایاں کرے اور وہ شخص جو صدقہ کرتے وقت اپنے آپ کو نمایاں کرے۔ اور جہاں تکبر کرنے والے اس شخص کا تعلق ہے ‘ جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ‘ تو اس سے مراد وہ شخص ہے ‘ جو کسی دینی معاملے کی بجائے ( دنیاداری کے حوالے سے ) تکبر کا اظہار کرتا ہے ‘‘۔ امام ابن حبان ؓ فرماتےہیں : اب عتیک نامی راوی ابو سفیان بن جابر عتیک بن نعمان اشہلی ہیں ۔ ان کے والد صحابی ہیں۔

أَبِيهِ ← ابْنِ عَتِیْکٍ الْاَنْصَارِیِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ← بن أَبِي عَدِيٍّ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong · Hadith 295

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 296

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عِیْسَی الْمِصْرِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا بن وَھْبٍ قَالَ اَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ دَرَّاجِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللہ بن عمر قَالَ : قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللہِ مَا یَمْنَعُنِی من غضب اللہ ؟ قال: لاتغضب۔ (1:2)

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سی چیز مجھے اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچا سکتی ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم غصہ نہ کرو۔

قُلْتُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← اَبُوْ یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong · Hadith 296

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 297

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ حَدَّثَنَا جَرِیْرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیْدِ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَفَرَّغْتُ لَہٗ سَمْعِیْ وَقَلْبِیْ وعرفت أنی لان اَسْمَعَ اَحَدًا عَلٰی مِنْبَرِ نَا ھٰذَا یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ مَثَلُ القَائمِ عَلٰی حُدُوْدِ اللہِ وَالْمُدَاھِنُ فِیْ حُدُوْدِ اللہِ کَمَثَلِ قُوْمٍ کَانُوْا فِیْ سَفِینَۃٍ فَاقْتَرَعُوا مَنَازِلَھُمْ فَصَارَ مَھْرَاقُ الْمَاءِ وَمُخْتَلفُ الْقَوْمِ لِرَجُلِ فَضجِرَ فَاَخَذَ الْقَدُومَ وَرُبَّمَا قَالَ الْفَاْسَ فَقَالَ اَحَدُ ھُمْ لِلْاٰخَرِ اِنَّ ھٰذَا یُرِیْدُ اَنْ یغرقناو یخرق سفینتکم وقال الاخر فإنما یخرق مکانہ وَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: اِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً اِذَا صَلَحَتْ صلح الْجَسَدُ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ لَھَا الْجَسَدُ کلُّہُ۔ وَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ الْمُؤْمِنُوَنَ تَرَاحُمُھُمْ وَلُطْفُ بَعْضِھِمْ بِبَعْضٍ کَجَسَدِ رَجُلٍ وَاحِدٍ اِذَا اشْتَکَی بَعْضُ جَسَدِہٖ اَلِمَ لہ سائر جسدہ۔ (3:28)

امام شعبی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت نعمان ب بشیر ؓ ‘ کو منبر پر یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : میری سماعت اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا ہے۔ اور مجھے یہ بات پتہ ہے ‘ اب میں اس منبر پر کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے نہیں سن سکوں گا کہ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ( نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ) ’’اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم کرنے والے شخص اور اللہ تعالیٰ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کی مثال اس طرح ہے ‘ کچھ لوگ ایک کشتی میں سوار ہوں ‘ وہ اپنی جگہوں کے بارے میں قرعہ اندازی کر لیں ‘ تو پانی حاصل کرنے کی جگہ اور لوگوں کے گزرنے کی جگہ ایک شخص کے حص میں آئے ‘اور پھاؤڑہ پکڑے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو ان میں سے ایک شخص دوسرے سے یہ کہے : یہ شخص ہمیں ڈبونا چاہتا ہے ‘اور کشتی کو توڑنا چاہتا ہے ‘ اور دوسرا شخص کہے : اسے کرنے دو ‘ یہ اپنی جگہ کو توڑ رہا ہے ‘‘۔ (راوی بیان کرتے ہیں ) میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ بے شک جسم میں گوشت کا یک ٹکڑا ہے اگر وہ ٹھیک رہے‘ تو سارا جسم ٹھیک رہتا ہے ‘ اور اگر وہ خراب ہو جائے‘ تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے ‘‘۔ (راوی بیان کرتے ہیں ) میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’آپس میں ایک دوسرے پر رحمت اور لطف کے حوالے سے اہل ایمان کی مثال ایک شخص کے جسم کی مانند ہے ‘ جب جسم کا ایک حصہ بیمار ہو جائے ‘ تو پورا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے ‘‘۔

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong · Hadith 297

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 298

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ خَیْثَمَۃَ قَالَ حدثنا جریر عن مطرف عن الشعبیعن النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اَلْمُدَاھِنُ فِیْ حُدُوْدِ اللہِ وَالرَّاکِبُ حُدُوْدَ اللہِ وَالْاٰمَرُ بِھَا وَالنَّاھِی عَنْھَا کَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَھَمُوا فِیْ سَفِیْتَۃٍ مِّنْ سُفُنِ الْبَحْرِ فَاَصَابَ اَحَدُھُمْ مُؤَخَّرَ السَّفِینَۃِ وَاَبْعَدَھَا مِنَ الْمِرْفَقِ وَکَانُوْا سُفَھَاءَ وَکَانُوْا اِذَا اَتَوْا عَلٰی رِجَالِ الْقَوْمٍ اٰذَوْھُمْ فَقَالُوْا بَحْنُ اَقْرَبُ اَھْلِ السَّفِینَۃِ مَنَ الْمِرْفَقِ وَاَبْعَدُھُمْ مِنَ الْمَاءِ فَتَعَالَوْا نَخْرِقْ دَفَّ السَّفِینَۃِ ثمَّ نَرُدَّہُ اِذَا اسْتَغْنَیْنَا عَنْہُ فَقَالَ مَنْ نَاوَاَہُ مِنَ السُّفَھَاءِ افْعَلْ فَاَھْوَی اِلٰی فَاْسٍ لِیَضْرِبَ بَھَا اَرْضَ السَّفِینَۃِ فَاَشْرَفَ عَلَیْہِ رَجُلٌ رُشَیْدٌ فَقَالَ مَا تَصْنَعُ فَقَالَ نَحْنُ اَقْرَبُکُمْ مِنَ الْمِرْفَقِ وَاَبْعَدُ کُمْ مِنْہُ اَخْرِقُ دَفَّ السَّفِینَۃِ فَاِذَا اسْتَغْنَیْنَا عَنْہُ سَدَدْنَاہُ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ فَاِنَّکَ اِنْ فعلت تھلک ونھلک۔ (3:66)

’’اللہ تعالیٰ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی حدود کی حفاظت کرنے والا ‘ اس کا حکم دینے والا اور اس سے منع کرنے والا۔ اس کی مثال ایسے لوگوں کی طرح ہے ‘ جو سمندر کی کسی کشتی میں اپنی جگہ کے بارے میں قرعہ اندازی کر لیتے ہیں ‘ تو ان میں سے ایک شخص کو کشتی کا پچھلا حصہ ملتا ہے۔ وہ شخص انے ساتھیوں سے دور ہوتا ہے ‘اور وہ لوگ بے وقوف ہوتے ہیں ‘ جب بھی لوگ وہاں آتے ہیں ‘ تو اسے اذیت دیتے ہیں ‘تو وہ لوگ یہ کہتے ہیں ‘ ہم تمام کشتی والوں میں سہولت کے زیادہ قریب ہیں اور پانی سے زیادہ دور ہیں ‘ تو تم لوگ آؤ ہم کشتی کے زیریں حصے کو توڑ دیتے ہیں ‘ جب ہم اس سے بے نیاز ہو جائیں گے ‘ تو ہم اسے واپس لگا دیں گے‘ تو ان میں سے جو بےوقوف شخص ہوتا ہے ‘ وہ کہتا ہے تم ایسا کرلو پھر وہ کلہاڑی کی طرف بڑھتاہے ‘تاکہ اسے کشتی کے فرش پر مارے ‘ تو ایک سمجھ دار شخص جھانک کر اس کی طرف دیکھتا ہے ‘اور دریافت کرتاہے: تم کیا کر وہے ہو ؟ وہ کہتا ہے ہم سہولت میں تمہارے زیادہ قریب ہیں اور اس سے تم سے زیادہ دور ہیں ۔ میں کشتی کا تختہ توڑنے لگا ہوں ۔ جب ہماری ضرورت پوری ہو جائے گی‘ تو ہم اسے بند کر دیں گے‘ تو وہ سمجھدار شخص یہ کہتا ہے:تم ایسانہ کرو‘ اگر تم ایسا کرو گے ‘ تو تم ہلاکت کا شکار ہو جاؤ گے اور ہم بھی ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے‘‘۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :

الشعبیعن النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ ← مُطَرِّفٍ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong · Hadith 298

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 299

جو شخص نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ کا اس کے لئے صدقے کو نوٹ کر لینے کا تذکرہ ‘ جبکہ وہ ان دونوں کاموں میں کسی علت سے محفوظ رہتا ہے عَلٰی کُلِّ مِّنْ بَنِیْ اٰدَمَ صَدَقَۃٌ کُلَّ یَوْمٍ فَقَالَ رَجُلٌ یَوْمٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَمَنْ یُّطِیقُ ھٰذَا؟ قَالَ: اَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَۃٌ وَنَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ صَدَقَۃٌ وَالْحَمْلُ عَلَی الضَّعِیفِ صَدَقَۃٌ وَکُلُّ خُطْوَۃٍ یخطوھا أحدکم إلی الصلاۃ صدقۃ۔(1:2)

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’نبی آدم کے ہر جوڑ پر روزانہ صدقہ دینا لازم ہوتا ہے ۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : کون اس کی طاقت رکھتا ہے ؟نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : نیکی کا حکم دیا صدقہ ہے ، برائی سے روکنا صدقہ ہے ،کمزور شخص کا وزن اٹھا دینا صدقہ ہے‘اور تم میں نےکوئی شخص جب نماز کی طرف چل کر جاتا ہے ‘ تو اس کا ہر قدم صدقہ ہے‘‘۔

اَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَۃٌ وَنَھْیٌ ← رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَمَنْ يُطِيقُ هذَا؟ ← رَجُلٌ یَوْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong · Hadith 299

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 300

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُو الْوَلِیْدِ الطَّیَالِسِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوالْاَحْوَصِ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ جَرِیْرٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ مَامِنْ قَوْمٍ یُعْمَلُ فِیْھِمْ بِالْمَعَاصِی یَقْدِرُوْنَ اَنْ یُّغَیْرُوْا عَلَیْھِمْ وَلَا یُغَیِّرُوْا اِلَّا اَصَابَھُمُ اللہُ بِعِقَابٍ قَبْلَ أَنْ یَّمُوْتُوْا۔ (2:109)

عبد اللہ بن جریر اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’جب بھی کسی قوم کے درمیان گناہوں کا ارتکاب ہونے لگے اور وہ لوگ انہیں روک سکتے ہوں اور پھر بھی نہ روکیں ‘ تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے مرنے سے پہلے ان سب پر عذاب نازل کر دیتا ہے‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أبوالأحوص ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong · Hadith 300

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 301

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَثَلُ الْمُدَاهِنِ فِي حُدُودِ اللَّهِ وَالْآمِرِ بِهَا وَالنَّاهِي عَنْهَا كَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا سَفِينَةً مِنْ سُفُنِ الْبَحْرِ فَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي مُؤَخَّرِ السَّفِينَةِ وَأَبْعَدِهِمْ مِنَ الْمِرْفَقِ وَبَعْضُهُمْ فِي أَعْلَى السَّفِينَةِ فَكَانُوا إِذَا أَرَادُوا الْمَاءَ وَهُمْ فِي آخِرِ السَّفِينَةِ آذَوْا رِحَالَهُمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ نَحْنُ أَقْرَبُ مِنَ الْمِرْفَقِ وَأَبْعَدُ مِنَ الْمَاءِ نَخْرِقَ دَفَّةَ السَّفِينَةِ وَنَسْتَقِي فَإِذَا اسْتَغْنَيْنَا عَنْهُ سَدَدْنَاهُ فَقَالَ السُّفَهَاءُ مِنْهُمُ افْعَلُوا قَالَ فَأَخَذَ الْفَأْسَ فَضَرَبَ عَرَضَ السَّفِينَةِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ رُشَيْدٌ مَا تَصْنَعُ؟ قَالَ: نَحْنُ أَقْرَبُ مِنَ الْمِرْفَقِ وَأَبْعَدُ مِنَ الْمَاءِ نَكْسِرُ دَفَّ السَّفِينَةِ فَنَسْتَقِي فَإِذَا اسْتَغْنَيْنَا عَنْهُ سَدَدْنَاهُ فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ فَإِنَّكَ إِذًا تَهْلِكُ ونهلك"1. [55:3]

حضرت نعمال بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’اللہ تعالیٰ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے اور اس پر (عمل کرنے کا ) حکم دینے والا اور اس کی (خلاف ورزی ) سے روکنے والے شخص کی مثال ایسے لوگوں کی مانند ہے ‘ جو سمندر میں کسی کشتی کے بارے میں قرعہ اندازی کرتے ہیں ‘ تو ان میں سے کچھ لوگوں کشتی کا پیچھے والا حصہ ملتا ہے ۔ وہ لوگ سہولت سے دور ہوتے ہیں اورکچھ لوگ بالائی حصے میں چلے جاتے ہیں جب وہ لوگ پانی لینے کا ارادہ کرتے ہیں ‘ تو وہ کشتی کے آخری حصے میں ہوتے ہیں ‘ تو وہ سوار لوگوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں ‘ تو ان میں سے ایک شخص یہ کہتا ہے ہم سہولت سے زیادہ قریب ہیں اور پانی سے زیادہ دور ہیں ہم کشتی کے ایک حصے کو توڑ دیتے ہیں اور پانی حاصل کر لیتے ہیں ‘ جب ہماری ضرورت پوری ہو جائے گی ‘تو ہم اسے بند کر دیں گے ‘ تو ان میں سے بے وقوف لوگ یہ کہتے ہیں : تم لوگ ایسا کرلو۔ تو ان میں سے ایک شخص کلہاڑی پکڑتاہے ‘ اور کشتی کے فرش پر مارتا ہے ‘تو ان میں سے ایک سمجھدار شخص کہتا ہے ‘ کیا کرنےلگے ہو ؟ وہ کہتا ہے : ہم سہولت سے قریب ہیں اور پانی سے زیادہ دور ہیں ‘ہم کشتی کا فرش توڑنے لگے ہیں ‘ تاکہ پانی حاصل کر لیں ۔ جب ہماری ضرورت پوری ہو جائے گی ‘ تو ہم اسے بند کر دیں گے ‘ تو وہ شخص کہتا ہے : تم ایسا نہ کرو‘ کیونکہ اس صورت میں تم بھی ہلاکت کا شکار ہو جاؤ گے اور ہم بھی ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے‘‘۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← مُطَرِّفٍ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong · Hadith 301

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 302

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يَقُولُ: "مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يَعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا عَلَيْهِ وَلَا يُغَيِّرُوا إِلَّا أَصَابَهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ قبل أن يموتوا"1. [109:2]

ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب نازل ہونے کے امکان کا تذکرہ ‘ جو گناہوں کو ختم کرنے کی قدرت رکھتا ہو‘ لیکن وہ انہیں ختم نہ کرے

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong · Hadith 302

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 303

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ وَزَحْمَوَيْهِ قَالَا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ: قَعَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَرَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ بِقَضِيبٍ كَانَ فِي يَدِهِ ثُمَّ غَفَلَ عَنْهُ فَأَلْقَى الرَّجُلُ خَاتَمَهُ ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَيْنَ خَاتَمُكَ؟ " قَالَ: أَلْقَيْتُهُ قَالَ: "أَظُنُّنَا قَدْ أَوْجَعْنَاكَ وَأَغْرَمْنَاكَ"1. [9:5] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: النُّعْمَانُ بن راشد ربما أخطأ على الزهري

حضرت ابو ثعلبہ حنثنی ؓ ‘ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرمﷺ کے پاس آکر بیٹھا اس نے سونے کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی ۔ نبی اکرمﷺ نے اپنے دست مبارک میں موجود شاخ اس کے ہاتھ پر ماری ( اور اس انگوٹھی اتارنے کا اشارہ کیا ) جب نبی اکرمﷺ کی توجہ اس شخص سےہٹی تو اس نےاپنی انگوٹھی اتار دی ‘ پھر نبی اکرمﷺ نے اس کی طرف دیکھا تو دریافت کیا : تمہاری انگوٹھی کہا ں ہے ؟ اس نے عرض کی : میں نے وہ اتار دی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : میرا خیال ہے ‘ ہم نے تمہیں تکلیف پہنچائی ‘ہم نے تمہیں نقصان پہنچایا ‘‘۔ امام بن حبان ؓ ‘ فرماتے ہیں : نعمان بن راشد نامی راوی بعض اوقات زہری کے حوالے سے حدیث روایت کرتے ہوئے غلطی کر جاتے ہیں۔

أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← الْمُقَدَّمِيُّ وَزَحْمَوَيْهِ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong · Hadith 303

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 304

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: قَرَأَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ هَذِهِ الْآيَةَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: 105] قَالَ: إِنَّ النَّاسَ يَضَعُونَ هَذِهِ الْآيَةَ عَلَى غَيْرِ مَوْضِعِهَا أَلَا وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوَا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْ قَالَ المنكر فلم يغيروه عمهم الله بعقابه" 1. [66:3]

قیس بن ابو حازم بیان کرتے ہیں : حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے یہ آیت تلاوت کی۔ ’’اے ایمان والو ! تم پر اپنا خیال رکھنا لازم ہے۔ جب تم ہدایت حاصل کر لو ‘ تو گمراہ ہونے والا شخص تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ‘‘۔ حضرت ابو بکر ؓ نے فرما یا : لوگ اس آیت کا غلط مفہوم مراد لیتے ہیں۔ خبر دار ! میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’بے شک جب لوگ کسی ظالم کو دیکھیں گے اور اس کے ہاتھوں کو نہیں پکڑیں گے ۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) جب وہ کسی گناہ کو دیکھیں گے اور اسے روکیں گے نہیں ‘ تو اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں پر عذاب نازل کرے گا‘‘۔

قَرَأَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ هَذِهِ الْآيَةَ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong · Hadith 304

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 305

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عن أبي بكر الصديق رضي الله تعالى عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَقْرَؤُونَ هَذِهِ الْآيَةَ وَتَضَعُونَهَا عَلَى غَيْرِ مَا وَضَعَهَا اللَّهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: 105] إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوَا الْمُنْكَرَ فَلَمْ يُغَيِّرُوهُ يُوشِكُ أَنْ يعمهم الله بعقاب"2. [66:3]

حضرت ابو بکر صدیق ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اےلوگو ں ! تم لوگ یہ آیت تلاوت کرتے ہو‘ اور اس کا اس سے مختلف مفہوم مراد لیتے ہیں ‘ جو اللہ تعالیٰ کی مراد ہے ‘‘۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’اے لوگوں تم پر اپنا خیا ل رکھنا لازم ہے ‘ جب تم ہدایت حاصل کر لو تو گمراہ ہونے والا شخص تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا‘‘۔ (نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ) لوگ جب منکر (یعنی گناہ ) کو دیکھیں گے اور اسے روکنے کی کوشش نہیں کریں گے ‘تو عنقریب اللہ تعالیٰ ان سب پر عذاب نازل کرے گا۔

النَّبِيِّ ← أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong · Hadith 305

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 306

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ الْأَحْمَسِيِّ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْعِيدِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: الصَّلَاةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ فَقَالَ: تُرِكَ مَا هناك أبا فلان فقالذكر وَصْفِ النَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ إِذَا رَآهُ الْمَرْءُ أَوْ عَلِمَهُ [306] أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ الْأَحْمَسِيِّ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ يَوْمَ الْعِيدِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: الصَّلَاةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ فَقَالَ: تُرِكَ مَا هُنَاكَ أَبَا فُلَانٍ فَقَالَ اَ بُوْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیُّ: اَمَّا ھٰذَا فَقَدْ قَضٰی مَا عَلَیْہِ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَنْ رَاَی مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّیْرہُ بِیَدِہِ فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ فَاِنْ لَمْ یستطع فبقلبہ وذاک أضعف الإیمان (1:37)

طارق بن شہاب احمسی بیان کرتے ہیں : عید کے دن نماز سے پہلے خطبہ دینے کا آغاز مروان بن حکم نےکیا ‘ تو ایک شخص اس کے سامنے کھڑا ہوا اور بولا : خطبے سےپہلے نماز پڑھی جائے گی؟ اس نے بلند آواز میں یہ بات کہی ‘ تو مروان نے کہا : اے ابو فلاں ! یہاں یہ طریقہ ترک کر دیا گیا۔ تو حضرت ابو سعید خدریؓ نے فرمایا :ُ اس شخص نے اپنے ذمے لازم چیز کو ادا کر دیا ہے ۔ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہونے سنا ہے: ’’جب کوئی شخص کوئی منکر دیکھے‘ تو اسے اپنے ہاتھ کے ذریعے ختم کرے‘ اگر وہ اس کی استطاعت نہیں رکھتا تو اپنی زبان کے ذریعے کرے ‘ اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا تو اپنے دل میں دل میں اسے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے زیادہ کمزور درجہ ہے ‘‘۔

طارق بن شهاب الأحمسي، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← وَكِيعٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong · Hadith 306

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr