Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 283

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْحَنْظَلِیُّ قَالَ اَخْبَرَنَا الْمُلَائیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ اَبِیْ حَصِینٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِیِّ عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ قَالَ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ جُلُوسٌ عَلٰی وِسَادَۃٍ مِّنْ اَدَمٍ فَقَالَ: سَیَکُوْنُ بَعْدِیْ اُمَرَاءُ فَمَنْ دَخَلَ عَلَیْھِمْ وَصَدَّقَھُمْ بِکَذِبِھِمْ وَاَعَانَھُمْ عَلٰی ظُلْمِھِمْ فَلَیْسَ مِنِّیْ وَلَسْتُ مِنْہُ وَلَیْسَ یَرِدُ عَلَیَّ الْحَوْضَ وَمَنْ لَمْ یُصَدِّقْھِمْ بِکَذِبِھِمْ وَلَمْ یُعِنْھُمْ عَلٰی ظُلْمِھِمْ فَھُوَ مِنِّیْ وَاَنَا مِنْہُ وَھُوَ وَار،دٌ عَلَیّ الْحَوْضَ۔(2:109) الْمُلَائیُّ ھُوَ اَبُوْ نُعَیْمٍ الْفَضْلُ بن دکین۔

حضرت کعب بن عجرہ ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ ہمارے پاس تشریف لائے‘ ہم اس وقت چمڑے کے بنے ہوئے تکیے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’عنقریب میرے بعد کچھ حکمران آئیں گے‘ جو شخص ان کے ہاں جائے گا اور ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا‘ اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا‘ اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا‘ اور وہ میرے حوض پر میرے پاس نہیں آسکے گا ‘ اور جو شخص ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا۔ ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا۔ اس کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا اور وہ میرے حوض پر میرے پاس آئے گا‘‘۔ امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں : ملائی نامی روی ابو نعیم فضل بن دکین ہیں۔

کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي حَصِينٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْمُلَائِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 283

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 284

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی قَالَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ حَدَّثَنَا اَبِیْ قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ اَبِیْ صَغِیْرََٰ اَبُوْ یُوْنُسَ الْقُشَیْرِیُّ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ کُنَّا قُعُوْدًا عَلٰی بَابِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلَیْنَا قَالَ: اسْمَعُوْا قُلْنَا: قَدْ سَمِعْنَا قَالَ: اسْمَعُوْا قُلْنَا: قَدْ سَمِعْنَا قَالَ: اسْمَعُوا قُلْنَا: قَدْ سَمِعْنَا قَالَ: اِنَّہٗ سَیَکُوْنُ بَعْدِیْ اُمَرَاءُ فَلَا تُصَدِّقُوْ ھُمْ بِکَذِبِھِمْ وَلَا تُعِینُوْھُمْ عَلٰی ظُلْمِھِمْ فَاِنَّہٗ مَنْ صَدَّقَھُمْ بِکَذِبِھِمْ وَاَعَانَھُمْ عَلٰی ظلمھم لم یرد علی الحوض۔(2:3)

عبد اللہ بن جناب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ’’ایک مرتبہ ہم نبی اکرمﷺ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ہمارے پاس تشریف لائے‘ آپ نے فرمایا : تم لوگ غور سے سنو ! ہم نے عرض کی : ہم سننے کے لئے تیار ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم غور سے سنو! ہم نے عرض کی : ہم سننے کے لئے تیار ہیں ‘‘۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم غور سے سنو! ہم نے عرض کی : ہم سننے کے لئے تیار ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’عنقریب میرےبعد کچھ حکمران آئیں گے‘ تو تم ان کی تصدیق نہ کرنا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد نہ کرنا ‘ کیونکہ جو شخص ان کے جھوٹ کے تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا ‘ وہ میرے حوض تک نہیں آسکے گا‘‘۔

اسْمَعُوا قُلْنَا: قَدْ ← اسْمَعُوا قُلْنَا: قَدْ ← اسْمَعُوا قُلْنَا: قَدْ ← کُنَّا قُعُوْدًا عَلٰی بَابِ النَّبِیِّ فَخَرَجَ عَلَیْنَا ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَاتِمُ بْنُ اَبِیْ صَغِیْرََٰ اَبُوْ یُوْنُسَ الْقُشَیْرِیُّ ← أَبِي ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 284

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 285

اَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الْاَصْیَھَانِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ مُرَّۃَ بْنِ عَجْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا اَبِیْ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ اَبِیْ حَصِینٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِیِّ عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ قَالَ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ تِسْعَۃٌ وَبَیْنَنَا وِسَادَۃٌ مِنْ اَدَمِ فَقَالَ: اِنَّہٗ سَیَکُوْنُ بَعْدِیْ اُمَرَاءُ فَمَنْ دَخَلَ عَلَیْھِمْ وَصَدَّقَھُمْ بِکَذِبِھِمْ وَاَعَانَھُمْ عَلٰی ظُلْمِھِمْ فَلَیْسَ مِنِّیْ وَلَسْتُ مِنْہُ وَلَا یَرِدُ عَلَیَّ الْحَوْضَ وَمَنْ لَمْ یَدْخُلْ عَلَیْھِمْ وَلَمْ یُصَدِّقْھُمْ بِکَذِبِھِمْ وَلَمْ یُعِنْھُمْ عَلٰی ظُلْمِھِمْ فَھُوَ مِنِّیْ وَاَنَا مِنْہُ وَسَیَرِدُ عَلَیَّ الْحَوْضَ۔ (2:61)

حضرت کعب بن عجرہؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ‘ ہم لوگ اس وقت ن افراد تھے ہمارے درمیان چمڑے کا بنا ہوا تکیہ موجود تھا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’عنقریب میرے بعد کچھ ایسے حکمران آئیں گے‘ جو شخص ان کے پاس جائے گا‘ ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا۔ ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا‘ اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اس سے کچھ تعلق نہیں ہو گا ‘ وہ شخص میرے حوض پر میرے پاس نہیں آ سکے گا۔ اور جو شخص ان کے ہاں نہیں جائے گا اور ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا۔ ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا۔ اس کا مجھ تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا اور وہ عنقریب میرے حوض پر میرے پاس آئے گا‘‘۔

کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي حَصِينٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مرّة بْنِ عَجْلانَ ← عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الْاَصْیَھَانِیُّ

Hadith 285

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 286

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُبْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِیُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ھِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَیَکُوْنُ مِنْ بَعْدِیْ اُمَرَاءُ یَغْشَاھُمْ غَوَاشٍ مِّنْ النَّاسِ فَمَنْ صَدَّاقَھُمْ بِکَذِبِھِمْ وَاَعَانَھُمْ عَلٰی ظُلْمِھِمْ فَاَنَا مِنْہُ بَرِیءٌ وَھُوَ مِنِّیْ یَرِیءٌ وَمَنْ لَمْ یُصَدِّقْھُمْ بِکَذِبِھِمْ وَلَمْ یُعِنْھُمْ عَلٰی ظُلْمِھِمْ فَاَنَا مِنْہُ وھومنی۔ (3:51)

’’عنقریب میرے بعد کچھ حکمران آئیں گے جن کے ہاں لوگ آئیں جائیں گے‘ تو جو شخص ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کرے گا اور ا ن کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا۔ میں اس سے بری الذمہ ہوں اور وہ مجھ سے لا تعلق ہے۔ اور جو شخص ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا‘ میرا اس سے تعلق ہے‘ اور اس کا مجھ سے تعلق ہے‘‘۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں :

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سُلَیْمَانَ ← قَتَادَةَ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 286

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 287

اَخْبَرَنَا بَکْرُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ سَعِیْدٍ الطَّاحِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَۃَ عَنْ أبیہ عَنْ جَدِّہِ قَالَ کُنَّا مَعَہٗ جُلُوسًا فِی السُّوقِ فَمَرَّبِہٖ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ لَہٗ شَرَفٌ فَقَالَ لَہٗ: یَا ابْنَ اَخِی اِنَّ لَکَ حَقًّا وَاِنَّکَ لَتَدْخُلُ عَلٰی ھٰؤُلَاءِ وَتَکَلَّمُ عِنْدَھُمْ وَاِنِّیْ سَمِعْتُ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ صَاحِبَ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : اِنَّ الْعَبْدَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ وَلَا یَرَاھَا بَلَغَتْ حَیْثُ بَلَغَتْ فَیَکْتُبُ اللہُ لَہٗ بِھَا رِضَاہُ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَاِنَّ الْعَبْدَ لَیَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ لَا یَرَاھَا بَلَغَتْ حَیْثُ بَلَغَتْ یَکْتُبْ اللہُ بِھَا سَخَطَہُ اِلٰی یَوْمِ یَلْقَاہُ فَانْظُرْ یَابْنَ اَخِی مَا تَقُوْلُ وَمَا تَکَلَّمُ فَرُبَّ کَلَامٍ کَثِیْرٍ قَدْ مَنَعَنِیْ مَا سَمَعْتُ مِنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِث۔(2:109)

محمد بن عمرووبن علقمہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم ان کے ساتھ بازار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے پاس سے مدینہ منورہ کا رہنے والا ایک صاحب حیثیت شخص گزرا ‘ تو وہ علقمہ بن وقاص نے اس سے کہا : تمہارا ایک حق ہے ( کہ میں تمہیں یہ بات بتاؤں ) تم ان حکمرانوں کے ہاں آتے جاتے ہو۔ ان سے بات چیت کرتے ہو۔ میں نے حضرت بلال بن حارثؓ جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ُ ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’بندہ کوئی بات کرتا ہے ‘اسے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ بات کہاں تک جائے گی؟ اللہ تعالیٰ اس بات کی وجہ سے قیامت کے دن تک کے لئے اس بندے کے بارے میں رضا مندی تحریر کر دیتا ہے۔ اور ایک بندہ کوئی بات کہتا ہے ‘ اور اسے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ بات کہاں تک جائے گی؟ لیکن اس بات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تک کے لئے اس شخص کے بارے میں ناراضگی نوٹ کر لیتا ہے‘‘۔ تو اے میرے بھتیجے ! تم اس بات کا جائزہ لو کہ تم کیا کہتے ہو‘ اور کیا بات کرتے ہو؟ میں نے جب سے حضرت بلال حارثؓ کی زبانی یہ بات سنی ہے‘ تب سے میں نے (غیر محتاط) باتیں کرنا ترک کر دی ہیں۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ ← بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ،

Hadith 287

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 288

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قَتَیْبَۃَ وَاللَّفْظُ لِلْحَسَنِ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ المتوکل وھو بن اَبِیْ السَّرِیِّ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَۃَ بْنِ یُوْسُفَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ سَلَّامٍ: اِنَّا للہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لَمّا اَرَادَ ھُدَی زَیْدِ بْنِ سَعْنَۃَ قَالَ زَیْدُ بْنُ سَعْنَۃَ: اِنَّہٗ لَمْ یَبْقَ مِنْ عَلَامَاتِ النُّبُوَّۃِ شَیْءٌ اِلَّا وَقَدْ عَرَفْتُھَا فِیْ وَجْہِ مُحَمَّدٍ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیْنَ نَظَرْتُ اِلَیْہِ اِلَّا اثْنَتَیْنِ لَمْ اَخْبُرْھُمَا مِنْہُ یَسْبِقُ حِلْمُہُ جَھْلَہٗ وَلَا یَزِیْدُہُ شِدَّۃُ الْجَھْلِ عَلَیْہِ اِلَّا حِلْمًا فَکُنْتُ اَتَلَطَّفُ لَہٗ لِاَنْ اُخَالِطَہُ فَاَعْرِفَ حِلْمَہُ وَجَھْلَہٗ قَالَ فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحُجَرَاتِ وَمَعَہٗ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ فَاَتَاہُ رَجُلٌ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ کَالْبَدَوِیِّ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللہِ قَرْیَۃُ بَنِیْ فُلَانِ قَدْ اَسْلَمُوا وَدَخَلُوْا فِی الْاِسْلَامِ وَکُنْتُ اَخْبَرْتُھُمْ اَنَّھُمْ اِنْ اَسْلَمُوا اَتَا ھُمُ الرِّزْقُ رَغَدًا وَقَدْ اَصَابَھُمْ شِدَّہٌ وَقَحْطٌ مِنَ الْغَیْثِ وَاَنَا اَخْشٰی یَا رَسُوْلَ اللہِ اَنْ یَّخْرُجُوا مِنَ الْاِسْلَامِ طَمَعًا کَمَا دَخَلُوْا فِیْہِ طَمَعًا فَاِنْ رَاَیْتَ اَنْ تُرْسِلَ اِلَیْھِمْ مَنْ یُّغِیثُھُمْ بِہٖ فَعَلْتَ قَالَ فَنَظَرَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلٰی رَجُلِ جَانِبَہُ اُرَاہُ عُمَرُ فَقَالَ مَا بَقِیَ مِنْہُ شَیْءٌ یَا رَسُوْلَ اللہِ قَالَ زَیْدُ بْنُ سَعْنَۃَ فَدَنَوْتُ اِلَیْہِ فَقُلْتُ لَہٗ یَا مُحَمَّدُ ھَلْ لَکَ اَنْ تَبِیْعَنِیْ تَمْرًا مَعْلُوْمًا مِنْ حَائطِ بَنِیْ فُلَان اِلٰی اَجْلِ کَذَا وَکَذَا فَقَالَ: لَا یَا یَھُوْدِیُّ وَلَکِنْ اَبِیْعُکَ تَمْرًا مَعْلُوْمًا اِلٰی اَجْلِ کَذَا وَکَذَا وَلَا اُسَمِّی حَائطَ بَنِیْ فُلَانِ قُلْتُ: نَعَمْ فَبَایَعَنِیْ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَطْلَقْتُ ھِمْیَانِیْ فَاَعْطَیْتُہٗ ثَمَانِیْنَ مِثْقَالًا مِنْ ذَھَبٍ فِیْ تَمْرٍ مَعْلُوْمٍ اِلٰی اَجْلِ کَذَا وَکَذَا قَالَ فَاَعْطَاھَا الرَّجُلَ وَقَالَ: اعْجَلْ عَلَیْھِمْ وَاَغِثْھُمْ بِھَا قَالَ زَیْدُ بْنُ سَعْنَۃَ: فَلَمَّا کَانَ قَبْلَ مَحَلِّ الْاَجَلِ بِیَوْمَیْنِ اَوْثَلَاثَۃٍ خَرَجَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ جَنَازَۃِ رَجُلِ مِّنَ الْاَنْصَارِ وَمَعَہٗ اَبُوْ بَکْرِ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَنَفَرٌ مِنْ اَصْحَابِہٖ فَلَمَّا صَلّٰی عَلَی الْجَنَازَۃِ دَنَا مِنْ جِدَادٍ فَجَلَسَ اِلَیْہِ فَاَخَذْتُ بِمَجَامِعِ قَمِیصِہِ وَنَظَرْتُ اِلَیْہِ بِوَجْہٍ غَلِیظٍ ثُمَّ قُلْتُ اَلَا تَقْضِینِیْ یَا مُحَمَّدُ حَقِّی فَوَاللہِ مَا عَلِمْتُکُمْ بَنِیْ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بِمَطْلٍ وَلَقَدْ کَانَ لِیْ بِمُخَانَطَتِکُمْ عِلْمٌ قَالَ وَنَظَرْتُ اِلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابُؤِ وَعَیْنَاہُ تَدُورَانِ فِیْ وَجْھِہِ کَالْفَلَکِ الْمُسْتَدِیْرِ ثُمَّ رَمَانِیْ بِبَصَرِہٖ وَقَالَ: اَیْ عَدُوَّ اللہِ اَتَقُوْلُ لِرَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا اَسْمَعُ وَتَفْعَلُ بِہٖ مَا اَرَی ؟ فَوَالَّذِیْ بَعَثَہٗ بِالْحَقِّ لَوْلَا مَا اُحَاذِرُ فَوْتَہٗ لَضَرَبْتُ بِسَیْفِیْ ھٰذَا عُنُقَکَ وَرَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْظُرُ اِلٰی عُمَرَ فِیْ سُکُوْنِ وَتُؤَدَۃٍ ثُمَّ قَالَ: اِنَّا کُنَّا اَحْوَجَ اِلٰی غَیْرِ ھٰذَا مِنْکَ یَا عُمَرُ اَنْ تَاْمُرَنِیْ بِحُسْنِ الْاَدَاءِ وَتَاْمُرَہُ بِحُسْنِ التِّبَاعَۃِ اذْھَبْ بَہٖ یَا عُمَرُ فَاقْضِہِ حَقَّہُ وَزِدْہُ عِشْرِْنَ صَاعًا مِنْ غَیْرِہٖ مَکَانَ مَا رُعْتَہُ قَالَ زَیْدٌ: فَذَھَبَ بِیْ عُمَرُ فَقَضَانِیْ حَقِّی وَزَادَنِیْ عِشْرِبْن صَاعًا مِنْ تَمْرٍ فَقُلْتُ: مَا ھٰذِہِ الزِّیَادَۃُ قَالَ: اَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ اَزِیْدَکَ مَکَانَ مَارُعْتُکَ فَقُلْتُ: اَتَعْرِفُنِیْ یَا عُمَرُ ؟ قَالَ: لَا فَمَنْ اَنْتَ ؟ قُلْتُ: اَنَا زَیْدُ بْنُ سَعْنَۃَ قَالَ: الْجَبْرُ قُلْتُ: نَعَمْ الْحَبْرُ قَالَ: فَمَا دَعَاکَ اَنْ تَقُوْلَ لِرَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا قُلْتَ وَتَفْعَلُ بِہٖ مَا فَعَلْتَ ؟ فَقُلْتُ: یَا عُمَرُ کُلُّ عَلَامَاتِ النُّبُوَّۃِ قَدْ عَرَفْتُھَا فِیْ وَجْہِ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ نَظَرْتُ اِلَیْہِ اِلَّا اِثْنَتَیْنِ لَمْ اَخْتَبِرْھُمَا مِنْہُ: یَسْبِقُ حِلْمُہُ جَھْلُھٗ وَلَا یَزِیْدُہُ شِدَّۃُ الْجَھْلِ عَلَیْہِ اِلَّا حِلْمًا فَقَدِ اخْتَبَرْتُھُمَا فَاُشْھِدُکَ یَا عُمَرُ اَنِّیُ قَدْ رَضِیْتّ بِاللہِ رَبًّا وَبِاْلِاسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَبِیًّا وَاُشْھِدُکَ اَنَّ شَطْرَمَالِی فَاِنِّیْ اَکْثَرُھَا مَالًا صَدَقَۃٌ عَلٰی اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ: اَوْعَلٰی بَعْضِھِمْ فَاِنَّکَ لَا تَسَعُھُمْ کُلَّھُمْ قُلْتُ: اَوْعَلٰی بَعْضِھِمْ فَرَجَعَ عُمَرُ وَزَیْدٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فقال زَیْدٌ: اَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَمَنَ بِہٖ وَصَدَّقَہُ وَشَھِدَ مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَشَاھِدَ کَثِیْرَۃً ثُمَّ تُوُفِّیَ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوکَ مُقْبِلًا غَیْرَ مُدَبِّرًا رَحِمَ اللہُ زَیْدًا قَالَ فَسَمِعْتُ الْوَالِیْدَ یَقُوْلُ حَدَّثَنِیْ بِھٰذَا کُلِّہِ مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَۃَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سلام۔ (1:2)

حضرت عبد اللہ بن سلامؓ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے زید بن سعنہ کو ہدایت عطا کرنے کا ارادہ کیا‘ تو زید بن سعنہ نے کہا : نبوت کی جتنی بھی علامات باقی رہ گئی ہیں ‘ وہ سب میں نے نبی اکرمﷺ کے چہرے میں پہچان لی ہیں۔ جب میں نے آپ کی زیارت کی صرف دو باتیں باقی رہ گئی ہیں ‘ وہ میں آپ کی شخصیت میں نہیں جان سکا۔ ایک یہ کہ آپ کے مزاج میں بردباری اور (برداشت )عنصر کتنا ہے؟ دوسرا یہ کہ جب آپ کے ساتھ بد تمیزی کا مظاہرہ کیا جائے‘ تو آپ زیادہ بردباری کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ تو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ نرمی سے پیش آؤں ‘ ان کے ساتھ ملتا رہوں‘ تاکہ مجھے آپ کی بردباری کا اندازہ ہو سکے۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ اپنے حجرے سے باہر تشریف لائے آپ کے ساتھ حضرت علی بن ابو طالب ؓ بھی تھے۔ ایک شخص جو دیکھنے میں دیہاتی لک رہا تھا‘ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ !فلاں بستی کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ میں نے انہیں بتایا تھا۔ کہ اگر انہوں نے اسلام قبول کر لیا ‘ تو اللہ تعالیٰ انہیں زیادہ رزق عطا کرے گا۔ اب انہیں قحط سالی لاحق ہو گئی ہے ‘ بارش نہیں ہوئی ، مجھے یہ اندیشہ ہے ‘ یا رسول اللہ ! جس طرح وہ لالچ کی وجہ سے اسلام میں داخل ہوئے تھے‘ کہیں اسی طرح لالچ کی وجہ سے اسلام سے خارج نہ ہو جائیں ، اگر آپ مناسب سمجھیں ‘ تو ان کی طرف کوئی ایسی چیز بھیج دیں‘ جو ان کی امداد کر سکے۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے اپنے پہلوں میں موجود ایک شخص کی طرف دیکھا ‘ میرا خیال ہے ‘ وہ حضرت عمر ؓ تھے ‘ تو انہوں نے عرض کی! یا رسول اللہ ! میرے پاس تو ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔ زید بن سعنہ کہتے ہیں : میں نبی اکرمﷺ کے قریب ہوا‘ میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : اے حضرت محمد ﷺ ! کیا آپ بنو فلاں کے باغ کی متعین کھجوریں فلاں ‘ فلاں عرصے تک فروخت کر دوں ا ‘لیکن میں بنو فلاں کے باغ کا تعین نہیں کروں گا۔ میں نے جواب دیا: ٹھیک ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے میرے ساتھ سودا کر لیا۔ میں نے اپنے تھیلے کو کھولا اور اس میں سے 80 مثقال سونا نکال کر آپ کو دے دیا ‘ جو کھجوروں کی متعین تعداد کے عوض میں تھا‘ جس کی ادائیگی فلاں ‘فلاں مدت تک تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے وہ سونا اس شخص کو دیا اور کہا: تم جلدی سے ان کے پاس جاؤ اور اس کے ذریعے ان کی مدد کرو۔ حضرت زید بن سعنہ ؓ بیان کرتے ہیں : جب متعین مدت پوری ہونے کا وقت قریب آیا ‘ تو ابھی اس میں دو یا تین دن باقی تھے۔ نبی اکرمﷺ کسی انصاری کے جنازے میں شیریک ہونے کے لئے تشریف لائے‘ آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر ؓ ‘ حضرت عمرؓ ‘ حضرت عثمان ؓ اور دیگر کچھ صحابہ کرام بھی تھے۔ جب نبی اکرمﷺ نے نماز جنازہ ادا کر لی ‘ تو آپ ایک دیوار کے قریب ہو کر بیٹھ گئے۔ میں نے آپ کی قمیض کے دامن کو پکڑا اور سخت نظروں نے آپ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا : اے حضرت محمد ﷺ کیا آپ میرا حق مجھے ادا نہیں کریں گے؟ اللہ کی قسم ! آپ یعنی عبد المطلب کی اولاد کی طرف سے مجھے ٹال مٹول کرنے کا علم نہیں ہے؟ کیونکہ میں آپ لوگوں کے لین دین کو جانتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کی طرف دیکھا ‘ تو ان کی آنکھیں غصے سے اُبل رہی تھیں۔ انہوں نے میری طرف گھور کے دیکھا اور بولے: اے اللہ کے دشمن ! کیا تم اللہ کے رسول کے ساتھ یہ بات کر رہے ہو؟ جو میں سن رہا ہوں اور یہ طریقہ اختیار کر رہے ہو‘ جو میں دیکھ رہا ہوں ؟ اس ذات کی قسم ! جس نے انہیں حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ‘ اگر ان کا احترام پیش نظر نہ ہوتا ‘ تو میں اس تلوار کے ذریعے تمہاری گردن اڑا دیتا۔ نبی اکرمﷺ نے نرمی اور مہربانی کے ساتھ حضرت عمرؓ کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا: ’’اے عمر ! تمہاری طرف سے اس سے مختلف ردعمل سامنے آنے کی زیادہ ضرورت تھی‘ تم مجھے اچھے طریقے سے ادائیگی کرنے کا کہنے اور اس کو اچھے طریقے سے تقاضا کرنے کی کہتے۔ اے عمر! اسے ساتھ لے جاؤ۔ اس کا حق اسے ادا کر دو اور تم نے جو اسے ڈانٹا ہے ‘ اس کے بدلے میں اسے بیس صاع کھجوریں زیادہ دینا۔ حضرت زید بن سعنہ ؓ بیان کرتی ہیں: حضرت عمر ؓ مجھے ساتھ لے گئے ‘ انہوں نے میرا حق ادا کر دیا اور مزید بیس صاع کھجوریں عطا کیں ‘ تو میں نے دریافت کیا : یہ اضافی ادائیگی کس لئے ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : نبی اکرمﷺ نے مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ میں نے تمہیں ‘ جو ڈانٹا ہے ‘ اس کی جگہ میں تمہیں یہ اضافی ادائیگی کروں۔ میں نے دریافت کیا : اے عمر ! تم مجھے پہچانتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تم کون ہو؟ میں نے کہا : میں زید بن سعنہ ہوں۔ انہوں نے دریافت کیا : یہودیوں کا بڑا عالم ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ یہودیوں کا بڑا عالم۔ حضرت عمر ؓ نے دریافت کی : تم نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ اس طریقے کے ساتھ بات چیت اور اس طرح کا طرزِعمل کیوں کیا ؟ میں نے جواب دیا : اے عمر ! میں نے اللہ کے رسول کے چہرے میں تمام علامات نبوت دیکھ لی تھیں‘ جب میں نے آپ کی زیارت کی تھی‘ صرف دو چیزیں باقی رہ گئی تھیں۔ آپ ﷺ کے بارے میں مجھے یہ پتہ نہیں چل سکا تھا۔ ایک یہ کہ آپ کے مزاج میں بردباری کتنی ہے ؟ دوسرا یہ کہ جب آپ کے ساتھ بدتمیزی کا مظاہرہ کیا جائے ‘ تو آپ بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کرتےہیں ؟ تو میں نے ان دونوں کا علم بھی حاصل کر لیا ہے۔ اے عمر ! اب میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد ﷺ کے نبی ہونے سے راضی ہوں ۔ (یعنی ان پر ایمان رکھتا ہوں ) اور میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں : میرا نصف مال ‘حالانکہ یہودیوں میں سے ‘ سب سے زیادہ مال میرے پاس ہے۔ یہ حضرت محمد ﷺ کی اُمت کے لئے صدقہ ہے۔ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا : تم یہ کہو کہ ان میں سے کچھ لوگوں کے لئے ہے ‘ کیونکہ تم ان سب کو پورا نہیں کر سکتے ‘ تو میں نے کہا : ان میں سے بعض لوگوں کے لئے ہے۔ پھر حضرت عمرؓ اور حضرت زید نبی اکرمﷺ ی خدمت میں حاضر ہوئے‘ تو حضرت زید نے عرض کی : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘ اور حضرت محمد ؓ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ (راوی کہتے ہیں : ) پھر حضرت زید بن سعنہ ؓ نبی اکرمﷺ پر ایمان لے آئے۔ انہوں نے نبی اکرمﷺ کی تصدیق کی وہ نبی اکرمﷺ کے ساتھ بہت سے غزوات میں شریک ہوئے اور پھر غزوہ تبوک کے دوران دشمن کا سامنا کرتے ہوئے انہوں نے انتقال کیا۔ اللہ تعالیٰ زید پر رحم کرے۔ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے میں نے ولید کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے مجھے یہ تمام روایت محمد بن حمزہ نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ کے حوالے سے بیان کی ہے۔ ذِکْرُ اِعْطَاءِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا الْاٰمِرَ بِالْمَعْرُوفِ ثَوَابَ الْعَامِلِ بِہٖ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَّنْقُصَ مِنْ اَجْرِہٖ شَیْءٌ اس بات کا تذکرہ کہ اللہ تعالیٰ نیکی کا حکم دینے والے کو اس پر عمل کرنے والے کا ثواب اب عطا کرے گا‘ حالانکہ اس عمل کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہو گی

للہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لَمّا اَرَادَ ھُدَی زَیْدِ بْنِ سَعْنَۃَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← محمد بن حمزة بن يوسف بن عبد الله بن سلام ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ المتوکل وھو بن اَبِیْ السَّرِیِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قَتَیْبَۃَ وَاللَّفْظُ لِلْحَسَنِ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 288

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 289

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ یُوْسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُبْنُ خَالِدٍ الْعَسْکَرِیُّ قَالَ حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سُلَیْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا عَمْرٍو الشَّیْبَانِیَّ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ قَالَ اَتَی رَجُلٌ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَالَہٗ فَقَالَ: مَا عِنْدِیْ مَا اُعْطِیکَ لَکِنِ ائْتِ فُلَانًا قَالَ: فَاَتَی الرَّجُلَ فَاَعْطَاہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ دَلَّ عَلٰی خَیْرٍ فَلَہٗ مِثْلُ اَجْرِ فَاعِلِہٖ اَوْعاملہ۔ (1:2)

حضرت ابو مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس نے آپ سے مدد طلب کی تو آپ ﷺ نے فرمایا : میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے‘ جو میں تمہیں دوں ‘ تم فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ۔ (راوی بیان کرتے ہیں )وہ اس شخص کے پاس آیا اس نے اسے عطیہ دے دیا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جو شخص بھلائی کے بارے میں رہنمائی کرے ‘ تو اس کو اس بھلائی کو کرنے والے ( راوی شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں ) اس پر عمل کرنے والے کی مانند اجر ملتا ہے ‘‘۔

فَاَتَی الرَّجُلَ فَاَعْطَاہُ ← مَا عِنْدِیْ مَا اُعْطِیکَ لَکِنِ ائْتِ فُلَانًا ← اَتَی رَجُلٌ النَّبِیَّ فَسَالَہٗ ← أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بِشْرُبْنُ خَالِدٍ الْعَسْکَرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Hadith 289

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 290

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بن إبراھیم حدثنا بن اَبِیْ فُدَیْکٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ ھَانِیْءٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائشَۃَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَعَرَفْتُ فِیْ وَجْھِہٖ اَنْ قَدْ حَضَرَہُ شَیْءٌفَتَوَضَّا وَمَا کَلَّمَ اَحَدًا ثُمَّ خَرَجَ فَلَصِقْتُ بِالْحُجْرَاۃِ اَسْمَعُ مَا یَقُوْلُ فَقَعَدَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللہَ وَاَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: یَا اَیُّھَا النَّاسُ اِنَّ اللہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یَقُوْلُ لَکُمْ مُرُوْا بِالمَعْرُوْفِ وَالنْھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ قَبْلِ اَنْ تَدْعُوْنِیْ فَالَ اُجِیْبُکُمْ وَتَسْاَلُوْنِیْ فَلَا اُعْطِیکُمْ وَتَسْتَنْصِرُوْنِیْ فَلَا أنصرکم

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ میرے ہاں تشریف لائے ‘ تو آپ کے چہرے سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ آپ کا مزاج ٹھیک نہیں ہے۔ آپ نے وضو کیا آپ نے کسی کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی۔ پھر باہر تشریف لے گئے۔ میں حجرے کے (دروازے ) کے پاس ہو گئی ‘ تاکہ میں یہ سنوں کی آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں : آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے‘ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’اے لوگوں ! بے شک اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے ‘ تم لوگ نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو۔ اس سے پہلے کہ تم لوگ مجھ سے دعا مانگو اور میں تمہاری دعا قبول نہ کروں ‘ تم لوگ مجھ سے کچھ مانگو اور میں تمہیں عطا نہ کروں ‘ تم لوگ مجھ سے مدد مانگو اور میں تمہاری مدد نہ کروں ‘‘۔ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے صرف یہی کلمات ارشاد فرمائے ‘ اور پھر منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔

دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ فَعَرَفْتُ فِیْ وَجْھِہٖ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ ← عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ ھَانِیْءٍ ← بن أبي فديك ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 290

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 291

اَخْبَرَنَا عَبْدُ قللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَیْبٍ وَالْوَلِیْدُ قَالَا حَدَّثَنَا الْاَوْزَاعِیُّ عَنْ یَّحْیَی بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیرِ عَنْ اَسْمَاءَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ اَنَّھَا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ: اِنَّہٗ لَا شَیْءٍ اَغْیَرَ مِنَ اللہِ جَلَّ وعلا۔ (3:67)

سیّدہ اسماء بنت ابو بکر ؓ بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرمﷺ کو منبر پر یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت والی نہیں ہے ‘‘۔

وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ: اِنَّہٗ لَا شَیْءٍ اَغْیَرَ مِنَ اللہِ جَلَّ وعلا۔ ← رَسُولِ اللَّهِ ← اَسْمَاءَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ اَنَّھَا ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَیْبٍ وَالْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ قللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 291

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 292

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنِی الْقَعْنَبِیُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزَیْزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَلْمُؤْمِنُ یَغَارُ وَاللہُ أشد غیرہ۔ (3:67)

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’مومن غیرت والا ہوتا ہے‘ اور اللہ تعالیٰ زیادہ شدید غیرت والا ہے ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 292

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 293

اَخْبَرَنَا بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ قَالَ حَدَّثَنَا الْاَوْزَاعِیُّ عَنْ یَّحْیَی بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ اَبِیْ سلمۃ عن اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّ اللہَ یَغَارُ وَالْمُؤْمِنُ یَغَارُ فَغَیْرَۃَ اللہِ اَنْ یَّاْتِیَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ علیہ۔ (3:67)

حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’بے شک اللہ تعالیٰ غیرت والا ہے ‘ اور مومن بھی غیرت والا ہوتا ہے ۔‘‘۔ اللہ تعالیٰ کی غیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ مومن کسی ایسی چیز کا ارتکاب کرے‘ جو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دی ہے ‘‘۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← بْنِ سَلْمٍ

Hadith 293

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الصِّدْقِ وَاَلْاَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ · حديث 294

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمِ قَالَ اَخْبَرَنَا جَرِیْرٌ وَعَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ شَقِیْقٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَیْسَ اَحَدٌ اِلَیْہِ الْمَدْحُ مِنَ اللہِ فَلِذٰلِکَ مَدَحَ نَفْسَہُ وَلَیْسَ اَحَدٌ اَغْیَرَ مِنَا اللہِ فَلِذٰلِکَ حَرَّمَ الفواحش ۔ (3:67)

حضرت عبد اللہ ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : اپنی تعریف سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے ۔ اس لئے اس نے اپنی تعریف خود کی ہے ‘ اور کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت والا نہیں ہے ۔ اس لئے اس نے فحش کاموں کو حرام قرار دیا ہے ‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 294

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr