صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الشِّرْکِ وَالنِّفَاقِ · حديث 263
اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَیْرٍ الْھَمْدَانِیُّ حَدَّثَنَا عِیْسَی بْنُ حَمَّادٍ اَخْبَرَنَا اللَّیْتُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَعْقُوْبَ مَوْلَی الْحُرَقَۃِ اَنَّہٗ قَالَ دَخَلْتُ عَلٰی اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَصَاحِبٌ لِیْ بَعْدَ الظُّھْرِ قَالَ: اَصَلَّیْتُمُ الْعَصْرَ ؟ قَالَ: فَقُلْنَا: لَا قَالَ: فَصَلِّیَا عِنْدَنَا فِی الْحُجْرَۃِ فَفَرَغْنَا وَطَوَّلَ ھُوَ وَانْصَرَفَ اِلَیْنَا فَکَانَ اَوَّلَ مَا کَلَّمَنَا بِہٖ اَنْ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قال: تِلْکَ صَلَاۃُ الْمُنَافِقِیْنَ یَقْعُدُ اَحَدُھُمْ حَتّٰی اِذَا کَانَتْ عَلٰی قَرْنِ الشَّیْطَانِ اَوْ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ قَامَافَنَقَرَ اَرْبَعًا لَا یَذْکُرُ اللہَ فیھا إلا قلیلا ۔(5:7)
علاء بن عبد الرحمٰن بیان کرتے ہیں : میں اور میرا ایک ساتھی ظہر کی نماز کے بعد حضرت انس بن مالکؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ تو انہوں نے دریافت کیا : کیا تم نے عصر کی نماز ادا کر لی ہے ؟ ہم نے جواب دیا : جی نہیں ۔ انہوں نے فرمایا : تم ہمارے ہاں حجرے میں نماز ادا کر لو‘ جب ہم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ‘ تو حضرت انس ؓ نے طویل نماز ادا کی۔ نماز پڑھ کر فارغ ہونے کے بعد وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے‘ تو انہوں نے سب سےپہلی بات ہمارے ساتھ یہ کی کہ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ’’یہ منافقین کی نما ز ہے ۔ ان میں سے کوئی ایک شخص بیٹھا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے سینگ پر (راوی کو شک ہے شاید ی الفاظ ہیں ) شیطان کے دو سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے ‘ تو وہ شخص اٹھ کر چار مرتبہ ٹھونگے مارتا ہے ‘ وہ ان رکعات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت تھوڑا سا کرتا ہے‘‘۔
فَقُلْنَا لاَ ← اَصَلَّیْتُمُ الْعَصْرَ ← دَخَلْتُ عَلٰی اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَصَاحِبٌ لِیْ بَعْدَ الظُّھْرِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَعْقُوْبَ مَوْلَی الْحُرَقَۃِ اَنَّہٗ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّیْتُ بْنُ سَعْدٍ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ"1" الْهَمْدَانِيُّ،
Hadith 263
