Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِیْ صِفَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ · حديث 241

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمِ حَدَّثَنَا الْاَوْ زَاعِیُّ عَنِ الزُّھْرِیِّ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : حَقَّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمَ خَمْسٌ رَدُّ السَّلَامِ وَعِیَادَۃُ الْمَرِیضِ وَاتِّبَاعُ الْجَنَائزِ وَاِجَابَۃُ الدعوۃ وتشمیت العاطس۔ (3:32)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں ‘ میں نے نبی اکرمﷺ کویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں۔ سلام کا جواب دینا بیمار کی عیادت کرنا ‘ جنازے کے ساتھ جانا‘ دعوت کو قبول کرنا اور چھینکنے والے کا جواب دینا‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الاو زاعي ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 241

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِیْ صِفَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ · حديث 242

اَخْبَرَنَااَبُوْ خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ اَبَیْہِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ سِتٌّ قَالُوْا: مَا ھُنَّ یَا رَسُوْلَ اللہِ قَالَ: اِذَالَقِیَہٗ سَلَّمَ عَلَیْہِ وَاِذَا دَعَاہُ اَجَابَہُ وَاِذَا السْتَنْصَحَ نَصَحَہُ وَاِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللہَ یَشَمِّتُہٗ وَاِذَا مرض عادہ وإذا مات صحیہ۔ (3:32)

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! وہ کون سے ہیں ؟ آپ نے فرما یا : جب وہ اس سےملاقات کرے‘ تو اسے سلام کرے اور جب وہ اس دعوت کرے‘ تو وہ اسے قبول کرے اور جب وہ اس سے خیر خواہی کا طلب گار ہو‘ تو اس کی خیر خواہی کرے اور جب وہ چھینک کر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے ‘ تو یہ اسے جواب دے‘جب وہ بیمار ہو‘ تو اس کی عیادت کرے اور جب وہ فوت ہو جائے‘ تو یہ اس کے جنازے کے ساتھ جائے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← اَخْبَرَنَااَبُوْ خَلِیفَۃَ

Hadith 242

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِیْ صِفَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ · حديث 243

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ عُمَرَ الضَّرِیْرُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِیُّ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ دِیْنَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ یُّخْبِرُنِیْ عَنْ شَجَرَۃٍ مَثَلُھَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَفَرْ عُھَا فِی السَّماءِ تُؤْتِیْ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّھَا ؟ قَالَ عَبْدُ اللہِ: فَاَرَدْتُ اَنْ اَقُوْلَ ھِیَ النَّخْلَۃُ فَمَنَعَنِیْ مَکَانُ اَبِیْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ھِیَ النَّخْلَۃُ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِاَبِیْ فَقَالَ: لَوْ قُلْتَھَا کَانَ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ کَذَا اَحْسَبُہٗ قَالَ: حمرالنعم (3:66)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’کون شخص مجھے ایسے درخت کے بارے میں بتائے گا‘جس کی مثال بندہ مومن کی طرح ہے‘ جس کی بنیاد مضبوط ہے‘ اور اس کی شاخیں آسمان میں ہیں۔ وہ ہر وقت اپنے پروردگار کے اذن کے تحت پھل دیتا ہے‘‘۔ حضرت عبد اللہ کہتے ہیں : میں نے یہ کہنے کا ارادہ کیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے‘ لیکن اپنے والد صاحب کی موجودگی کی وجہ سے میں ایسا نہیں کر سکا تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ کھجور کا درخت ہے۔ (حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں بعد میں ) میں نے اپنے والد سے اس بات کا تذکرہ کیا ‘ تو انہوں نے فرمایا : اگر تم اس وقت یہ بات کہہ دیتے ‘ تو میرے نزدیک اس چیز سے زیادہ محبوب تھا۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیا ل ہے ‘ روایت میں یہ الفاظ ہیں : سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتا۔

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِیُّ ← اَبُوْ عُمَرَ الضَّرِیْرُ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 243

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِیْ صِفَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ · حديث 244

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ مجاھد عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذْ اُتِیَ بِجُمَّارِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَۃٌ بَرَکَتُھَا کَالْمُسْلِمِ قَالَ: فَاُرِیتُ اَنَّھَا النَّخْلَۃُ ثُمَّ نَظَرْتُ اِلَی الْقَوْمِ فَاِذَا اَنَا عَاشِرُ عَشَرَۃٍ وَاَنَا اَحْدَتُ الْقَوْمِ فَسَکَتُّ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ھِیَ النَّخْلَۃُ ۔ (3:28)

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتےہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرمﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران ’’جمار‘‘ (کھجور کے درخت کا گوند ) لایا گیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک درخت ایسا ہے‘ جس کی برکت مسلمان کی مانند ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں : مجھے خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہو گا۔ میں نے حاضرین کا جائزہ لیا‘ تو میں وہاں دن آدمیوں میں سے دسواں فرد تھا‘ اور میں وہاں سب سے کم سن تھا۔ اس لئے میں خاموش رہا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : وہ کھجور کا درخت ہے۔

رَسُوْلُ اللہِ ھِیَ النَّخْلَۃُ ← اَحْدَتُ الْقَوْمِ فَسَکَتُّ ← عَاشِرُ عَشَرَۃٍ ← فَاُرِیتُ اَنَّھَا النَّخْلَۃُ ثُمَّ نَظَرْتُ اِلَی الْقَوْمِ فَاِذَا ← رَسُوْلُ اللہِ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَۃٌ بَرَکَتُھَا کَالْمُسْلِمِ ← کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ اِذْ اُتِیَ بِجُمَّارِ ← ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 244

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِیْ صِفَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ · حديث 245

اَخْبَرَنَا اَبُو الطَّیِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ الصَّیْرَ فِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ کَامِلٍ الْجَحْدَرِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا اَیُّوْبُ عَنْ أبی الخلیل عن مجاھد عَنِ ابْنَ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا لِاَصْحَابِہٖ: اَخْبَرُوْنِیْ عَنْ شَجَرَۃٍ مَثَلُھَامَثَلُ الْمُؤْمِنِ قَالَ: فَجَعَلَ الْقَوْمُ یَتَذَا کَرُوْنَ شَجَرًا مِنْ شَجَرِالْوَادِی قَالَ عَبْدُ اللہِ: وَاُلْقِیَ فِیْ نَفْسِیْ اَوْ رَوْعِیْ اَنَّھَا النَّخْلَۃُ قَالَ: فَجَعَلْتُاُرِیْدُاَنْ اَقُوْلَ فَاَریٰ اَسْنَانًا مِنَ الْقَوْمِ فَاَھَابُ اَنْ اَتَکَلَّمَ فَلَمْ یَکْشِفُوا فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ھِیَ النَّخْلَۃُ۔

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرمﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : مجھے ایسے درخت کے بارے میں بتاؤ ! جس کی مثال بندہ مومن کی طرح ہے۔ راوی کہتے ہیں: لوگو جنگلات کے مختلف درختوں کے بارے میں بات چت کرنےلگے‘ حضرت عبد اللہ ؓ کہتے ہیں : میرے ذہن میں خیال آیا کہ وہ کھجو ر کا درخت ہو سکتا ہے۔ پہلے میں یہ بات کہنے لگا‘ لیکن جب میں نے حاضرین کی عمر کا جائزہ لیا‘ تو مجھے بات کرنے کی ہمت نہیں ہوئی‘ کوئی بھی شخص اس سوال کا جواب نہیں دے سکا تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ کھجور کا درخت ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← أَبِي الْخَلِيلِ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← اَبُو الطَّیِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ الصَّیْرَ فِیُّ

Hadith 245

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِیْ صِفَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ · حديث 246

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السَّامِیُّ قَال حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ قَالَ حَدَّثَنَاق اِسْمَاعِیْلُ جَعْفَرٍ قَالَ وَاَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللہِ دِیْنَارٍ اَنَّہٗ سَمِعَ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ مِنَ الشَّجَرِ سَجَرَۃٌ لَا یَسْقُطُ وَرَقُھَا وَاِنَّھَا مِثْلُ الْمُسْلِمِ فَحَدِّثُونِیْ مَاھِیَ ؟ فَوَقَعَ النَّاسُ فِیْ شَجَرِ الْبَوَادِیْ قَالَ عَبْدُ اللہِ: وَقَعَ فِیْ نَفْسِیْ اَنَّھَا النَّخْلَۃُ فَاسْتَحْیَیْتُ ثُمَّ قَالُوْا: حَدِّثَنَا مَاھِیَ یَا رَسُوْلَ اللہِ ؟ قَالَ: ھِیَ النَّخْلَۃُ فَزَکَرْتُ ذٰلِکَ لِعُمَرَ فَقَالَ: لِاَنْ تَکُوْنَ قُلْتَ ھِیَ النَّخْلَۃُ اَحَبَّ اِلَیَّ من کذاوکذا۔ (3:53)

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’بے شک درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے‘ جس کے پتے گرتے نہیں ہیں اور اس کی مثال مسلمان کی مانند ہے‘ تم لوگ مجھے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ لوگ جنگلات کے مختلف درختوں کے بارےمیں غوروفکر کرنے لگے۔ حضرت عبد اللہ ؓ کہتے ہیں : میرے ذہن میں یہ آیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے ‘لیکن مجھے شرم آ گئی۔ پھر لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ بتائیے کہ وہ کون سا درخت ہے؟ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : وہ کھجور کا درخت ہے۔ (راوی کہتے ہیں ) بعد میں ‘ میں نے اس کا تذکرہ حضرت عمر ؓ سے کیا ‘ تو انہوں نے فرمایا : اگر تم اس وقت یہ بات کہہ دیتے کہ یہ کھجور کی درخت ہے‘ تو یہ میرے نزدیک اس ’ اس چیز سے زیادہ محبوب ہوتی۔

ابْنِ عُمَرَ ← وَاَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللہِ دِیْنَارٍ اَنَّہٗ ← حَدَّثَنَاق اِسْمَاعِیْلُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 246

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِیْ صِفَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ · حديث 247

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ قَحْطَبَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِیْمِ الْعَنْبَرِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ قَال حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ یَّعْلٰی بْنِ عَطَاءٍ عَنْ وَکِیْعِ بْنِ عُدَّسٍ عَنْ اَبِیْ رَزَینٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّحْلَۃِ لَا تَاْکُلُ اِلَّا طَیّبًا وَلَا تَضَعُ اِلَّاطَیْبًا ۔ (1:2ٌ)

حضرت ابور زین ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’مومن کی مثال کھجور کے درخت کی مانند ہے‘ جو صرف پاکیزہ چیز کھاتا ہے ‘ اور جو صرف پاکیزہ چیز دیتا ہے‘‘۔ امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں : شعبہ نامی راوی کو روایت میں راوی کا نام ’’عدس‘‘ نقل کرنے میں وہم ہوا ہے۔ اصل الفاظ ’’حدس‘‘ ہے جیسا کہ حماد بن سلمہ اور دیگر حضرات نے یہ الفاظ بیان کیا ہے۔

اَبِیْ رَزَینٍ ← وَکِیْعِ بْنِ عُدَّسٍ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Hadith 247

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِیْ صِفَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ · حديث 248

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِیْقٍ حَدَّثَنَا سلمۃ بن الفضل عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمٍ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃہٗ عَنْ مَّحْمُوْدِ بْنِ لبِیدٍ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا أَکْفَرَ رَجُلٌ اِلَّا بَاءَ اَحَدُھُمَا بِھَا اِنْ کَانَ کَافِرًا وَإلَّا کَفَرَ بِتکْفِیْرِہٖ ۔ (2:54)

حضرت ابو سعید خدری ؓ ‘روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’جب بھی کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو کافر قرار دے ‘ تو وہ کفر ‘ ان دونوں میں سے کسی ایک شخص کی طرف لوٹ آتا ہے۔ اگر وہ (دوسرا شخص ) کافر ہو ( تو ٹھیک ہے ) ورنہ ( پہلا شخص ) اسے کافر قرار دینے کی وجہ سے کافر ہو جاتا ہے‘‘۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمٍ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃہٗ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← سلمۃ بن الفضل ← الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 248

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِیْ صِفَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ · حديث 249

اَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ اِدْرِیْسَ الْاَنْصَارِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ عَنْ مَّالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ دِیْنَارِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَیُّمَا رَجُلٌ قَالَ لِاَخِیہِ کَافِرٌ فَقَدْ بَآءَ بِہٖ اَحَدَ ھُمَا۔ (2:54)

’’جو شخص اپنے بھائی کو کافر کہے ‘ تو یہ (کفر ) ان دونوں میں سے کسی ایک کی طرف لوٹ آتا ہے‘‘۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 249

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِیْ صِفَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ · حديث 250

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السَّامِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ اَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللہِ بْنُ دِیْنَارٍ اَنَّہٗ سمع بْنُ عُمَرَ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَیُّمَا امْرِءٍ قَالَ لِاَخِیہِ کَافِرٌ فَقَدْ بَاءَ بِہٖ اَحَدُھُمَا اِنْ کَانَ کَمَا قال وإلا رجعت علیہ۔ (2:54)

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’جو شخص اپنے بھائی کو کافر کہے‘ تو یہ کفر ان دونوں میں سے کسی ایک کی طرف لوٹ آتا ہے اگر وہ شخص ویسا ہی ہو جیسا کہ اس شخص نے کہا ہے( تو ٹھیک ہے ) ورنہ یہ (کفر ) کہنے والے کی طرف لوٹ آئے گا‘‘۔

بن عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بن دينار أنه ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 250

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr