Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5302

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: صَنَعَ رَجُلٌ طَعَامًا، فَبَعَثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ائْتِنِي أَنْتَ وَخَمْسَةٌ، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ: «أَتَأْذَنُ لِي فِي سَادِسٍ»

حضرت ابو مسعود ؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے کھانا تیار کیا اس نے نبی اکرمﷺ کو پیغام بھجوایا اور عرض کی آ پ سمیت پانچ آدمی میرے ہاں تشریف لے آئیں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اسے پیغام بھجوایا کیا تم میرے ساتھ چھٹے آدمی کو بھی شریک ہونے کی اجازت دو گے۔

فَبَعَثَ إِلَيْهِ: «أَتَأْذَنُ لِي فِي سَادِسٍ» ← صَنَعَ رَجُلٌ طَعَامًا، فَبَعَثَ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ: ائْتِنِي أَنْتَ وَخَمْسَةٌ، ← أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبِي وَائِلٍ ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← بُنْدَارٌ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5302

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5303

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، [ص:116] عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ، فَإِنْ شَاءَ أَكَلَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ»

حضرت جابر ؓ روایت کرتے ہیں ‘نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جب کسی شخص کو دعوت میں بلایا جائے ‘تو اسے دعو ت کو قبول کرنا چاہئے اگر وہ چاہے تو کھائے اور اگر وہ چاہے ‘تو نہ کھائے‘‘۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ [ص:318] ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5303

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5304

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، يُدْعَى إِلَيْهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «قَالَ لَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا قَصَّرْتُ بِهِ، لِأَنَّ أَصْحَابَ الزُّهْرِيِّ كُلَّهُمْ كَذَا قَالُوا مَوْقُوفًا وَالْمُسْنَدُ هُوَ آخِرُ الْحَدِيثِ: » وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ «

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں سب سے برا کھانا ولیمے کا ہوتاہے ‘ جس میں خوشحال لوگوں کو بلا لیا جاتا ہے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور جو شخص دعوت قبول نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کرتا ہے۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں :) ابن قتیبہ نے ہمیں یہ بات بیان کی کہ یہ روایت حضرت ابو ہریرہؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ سے منقول ہے ۔ میں نے اس کو مختصر طور پر ذکر کر دیا ہے کیونکہ زہری کے تمام شاگردوں نے اس روایت کو اسی طرح موقوف روایت کے طو رپر نقل کیاہے۔ مسند روایت دوسری ہے۔ ’’ جو شخص دعوت قبول نہیں کرتا‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5304

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5305

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرَّكِينٍ، بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، يُدْعَى الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: سب سے برا کھانا ولیمے کا کھانا ہے ‘ جس میں خوشحال لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے ‘ جو شخص دعوت قبول نہیں کرتا وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ بِدِمَشْقَ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5305

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5306

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، [ص:120] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ، فَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ، وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ» َالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ «يُرِيدُ بِهِ: فَلْيَدْعُ؛ لِأَنَّ الصَّلَاةَ دُعَاءٌ، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا لِصَفِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، {خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ} [التوبة: 103] أَرَادَ بِهِ، وَادْعُ لَهُمْ» [ص:121] فَأَمَّا الْمُجْمَلُ مِنَ الْأَخْبَارِ فَهُوَ الْخَبَرُ الَّذِي يَرْوِيهِ صَحَابِيٌّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَفْظَةٍ مُسْتَقِلَّةٍ يَتَهَيَّأُ اسْتِعْمَالُهَا عَلَى عُمُومِ الْخِطَابِ. وَالْمُفَسِّرُ هُوَ رِوَايَةُ صَحَابِيٍّ آخَرَ ذَلِكَ الْخَبَرَ بِعَيْنِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزِيَادَةِ بَيَانٍ لَيْسَ فِي خَبَرِ ذَلِكَ الصَّحَابِيِّ الْأَوَّلِ ذَلِكَ الْبَيَانُ حَتَّى لَا يَتَهَيَّأَ اسْتِعْمَالُ تِلْكَ اللَّفْظَةِ الْمُجْمَلَةِ الَّتِي هِيَ مُسْتَقِلَّةٌ بِنَفْسِهَا إِلَّا بِاسْتِعْمَالِ هَذِهِ الزِّيَادَةِ الَّتِي هِيَ الْبَيَانُ لِتِلْكَ اللَّفْظَةِ الَّتِي لَيْسَتْ فِي خَبَرِ ذَلِكَ الصَّحَابِيِّ، قَدْ ذَكَرْنَا كُلَّ خَبَرٍ مُجْمَلٍ وَمُفَسِّرٍ لَهُ فِي السُّنَنِ فِي كِتَابِ: فُصُولِ السُّنَنِ، فَأَغْنَى ذَلِكَ عَنِ الِاسْتِقْصَاءِ فِي هَذَا النَّوْعِ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ؛ لِأَنَّ فِيمَا أَوْمَأْنَا إِلَيْهِ مِنْهُ غُنْيَةً لِمَنْ وَفَّقَهُ اللَّهُ وَتَدَبَّرَهُ «

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ‘نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جب کسی شخص کو دعوت میں بلایا جائے ‘ تو اسے قبول کرنا چاہئے اور اگر وہ روزہ دار ہو ‘ تو دعائے رحمت کر دے اور اگر روزہ دار نہ ہو ‘ تو کھانا کھا لے‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’ اگر وہ روزہ دار ہو ‘ تو دعائے رحمت کر دے‘‘۔ اس کے ذریعے مراد یہ ہے : وہ دعا کر دے کیونکہ الصلوٰۃ کا مطلب دعا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب سے یہ فرمایا ہے : ’’ تم ان کے اموال میں سے صدقہ وصول کر کے انہیں پاک کر دو اور ان کا تزکیہ اس کے ذریعے کر دو اور ان کے لئے دائے رحمت کرو بیشک تمہاری دعا ان کے لئے سکون باعث ہے‘‘۔ تو اس کے ذریعے مراد یہی ہے ‘ تم ان کے لئے دعا کر دو۔ جہاں تک مجمل روایت کا تعلق ہے ‘تو یہ وہ روایت ہے ‘ جو ایک اصحابی نے نبی اکرمﷺ کے حوالے سے مستقل لفظ کے طو ر پر نقل کی ہے ‘ جس میں روایت کے الفاظ عمومی ہیں البتہ وضاحتی روایت وہ ہے ‘ جو دوسرے صحابی نے انہی الفاظ کے ساتھ نبی اکرمﷺ سے اضافی بیان کے ہمراہ نقل کی ہے ‘ جو پہلے والے صحابی کی نقل کردہ روایت میں نہیں ہے ‘ یہاں تک کہ اس مجمل الفاظ والی روایت پر عمل کرنا اس وقت تک ممکن نہیں ہو گا ‘ جب تک ان اضافی الفاظ والی روایت پر عمل نہ کیا جائے جو ان الفاظ کی وضاحت کرتی ہے ‘ جو اس صحابی کی روایت میں نہیں ہے ہم نے سنن میں مجمل اور مفصل دونوں روایتیں کتا ’’ فصول سنن‘‘ میں نقل کر دی ہیں ۔ا س لئے اس نوعیت کی تمام روایات کو اس کتا ب میں جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم نے اس بات کی طرف اشارہ کر دیا ہے ‘ جو اس شخص کے لئے کافی ہو گی۔ جسے اللہ تعالیٰ توفیق عطا کرے اور جو غورو فکر کرے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، [ص:30] ← هِشَامٍ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5306

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5307

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ تَكُونُ الْقَائِلَةُ، وَكَانَتْ فِينَا امْرَأَةٌ، فَكَانَتْ تَجْعَلُ فِي مَزْرَعَةٍ لَهَا سِلْقًا، فَكَانَتْ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ تَنْزِعُ أُصُولَ السِّلْقِ، فَتَجْعَلُهُ فِي قِدْرٍ، ثُمَّ تَجْعَلُ عَلَيْهِ قَبْضَةً مِنْ شَعِيرٍ فَتَطْحَنُهَا فَيَكُونُ ذَلِكَ السِّلْقُ عُرَاقَةً» قَالَ سَهْلٌ: فَكُنَّا نَنْصَرِفُ إِلَيْهَا مِنْ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ [ص:122] فَنُسَلِّمُ عَلَيْهَا، فَتُقَرِّبُ ذَلِكَ الطَّعَامَ إِلَيْنَا فَنَلْعَقُهُ قَالَ: فَكُنَّا نَتَمَنَّى يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِطَعَامِهَا ذَلِكَ

حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں جمعہ کی نماز ادا کرتے تھے۔ اس کے بعد قیلولہ کیا کرتے تھے ۔ ہمارے ایک خاتون تھی۔ وہ اپنی کھیت میں چقندر بویا کرتی تھی ‘ جب جمعہ کا دن آتا تھا ‘ تو وہ چقندر کی جڑیں اتار لیتی تھی اسے ہنڈیا میں پکاتی تھی۔ اس میں مٹھی بھر جو ڈال کر انہیں بھون لیتی تھی ‘ تو اس کا سالن بن جایا کرتا تھا۔ حضرت سہل کہتے ہیں ‘ ہم جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد اس خاتون کے پاس واپس جاتے تھے۔ اسے سلام کرتے تھے ‘ تو وہ کھانا ہمارے آگے کر دیتی تھی ‘ تو ہم اسے کھایا کرتے تھے۔ اس کے اس کھانے کی وجہ سے ہم جمع کا دن ( جلدی آنے کے) آرزو مند ہوتے تھے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو حَازِمٍ ← أبو غسان، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عبد الله بن حماد ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5307

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الْعَقِیقَۃِ · حديث 5308

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا عَقُّوا عَنِ الصَّبِيِّ خَضَبُوا قُطْنَةً بِدَمِ الْعَقِيقَةِ، فَإِذَا حَلَقُوا رَأْسَ الصَّبِيِّ وَضَعُوهَا عَلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْعَلُوا مَكَانَ الدَّمِ خَلُوقًا»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : زمانہ جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ جب لوگ بچے کا عقیقہ کرتے تھے ‘ تو عقیقے کے خون کے ہمراہ روئی کو گیلا کرتے تھے اور جب وہ بچے کا سرمونڈتے تھے ‘ تو روئی کو بچے کو سر پر رکھ دیتے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم خون کی جگہ خلوق ( مخصوص قسم کی خوشبو ) لگایا کرو۔

النَّبِيُّ «اجْعَلُوا مَكَانَ الدَّمِ خَلُوقًا» ← الصَّبِيِّ خَضَبُوا قُطْنَةً بِدَمِ الْعَقِيقَةِ، فَإِذَا حَلَقُوا رَأْسَ الصَّبِيِّ وَضَعُوهَا عَلَى رَأْسِهِ، ← كَانُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا عَقُّوا ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حجاج، ← يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Bab Al Aqiq · Hadith 5308

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الْعَقِیقَۃِ · حديث 5309

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ بِكَبْشَيْنِ»

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کے عقیقے پر دو دنبے ذبح کئے تھے۔

حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ بِكَبْشَيْنِ» ← «عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Bab Al Aqiq · Hadith 5309

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الْعَقِیقَۃِ · حديث 5310

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَسَأَلْنَاهَا عَنِ الْعَقِيقَةِ فَأَخْبَرَتْنَا أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ»

یوسف بن ماہک بیان کرتے ہیں : ہم سیدہ حفصہ بنت عبد الرحمٰن ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے ا ن سے عقیقے کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو انہوں نے بتایا : سیدہ عائشہؓ نے انہیں یہ بات بتائی ہے: نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی : لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ( عقیقے میں قربان کی جائے گی)

الْعَقِيقَةِ فَأَخْبَرَتْنَا أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا ← دَخَلْنَا عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَسَأَلْنَاهَا ← يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Bab Al Aqiq · Hadith 5310

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الْعَقِیقَۃِ · حديث 5311

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «وَهُوَ الْيَافِعِيُّ شَيْخٌ ثِقَةٌ مِصْرِيٌّ»، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ يَوْمَ السَّابِعِ وَسَمَّاهُمَا، وَأَمَرَ أَنْ يُمَاطَ عَنْ رَأْسِهِ الْأَذَى»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کی پیدائش کے ساتویں دن نبی اکرمﷺ نے ان کا عقیقہ کیا تھا اور ان کا نام رکھا تھا۔ آپ نے یہ حکم دیا تھا کہ ان کے سر پہ تکلیف دہ چیز ( یعنی بولوں کو ) صاف کر دیا جائے۔

رَأْسِهِ الْأَذَى» ← حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ يَوْمَ السَّابِعِ وَسَمَّاهُمَا، وَأَمَرَ أَنْ يُمَاطَ ← «عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو حَاتِمٍ: «وَهُوَ الْيَافِعِيُّ شَيْخٌ ثِقَةٌ مِصْرِيٌّ»، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Bab Al Aqiq · Hadith 5311

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الْعَقِیقَۃِ · حديث 5312

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَقِيقَةِ قَالَ: «عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ، لَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا»

سید ہ اُم کرزؓ بیان کرتی ہیں : انہوں نے عقیقہ کے بارے میں نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری قربان کی جائے گی۔ تمہیں کوئی نقصان نہیں خواہ وہ بکرا ہو یا بکری ہو۔

الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ، لَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا» ← النَّبِيَّ فِي الْعَقِيقَةِ ← أُمِّ كُرْزٍ، أَنَّهَا ← سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Bab Al Aqiq · Hadith 5312

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الْعَقِیقَۃِ · حديث 5313

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خُثَيْمٍ، عَنْ أُمِّ بَنِي كُرْزٍ الْكَعْبِيِّينَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْعَقِيقَةِ: «عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ» فَقُلْتُ لَهُ، يَعْنِي عَطَاءً: مَا الْمُكَافِئَتَانِ؟ قَالَ: مِثْلَانِ ذُكْرَانُهُمَا أَحَبُّ إِلَيْهِ [ص:130] مِنْ إِنَاثِهِمَا

سیدہ اّم بنو کرزؓ بیان کرتی ہیں :میں نے نبی اکرمﷺ کو عقیقہ کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہو گی۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ان سے یعنی عطا سے دریافت کیا برابر کی ہونے سے مراد کیا ہے ‘ تو انہوں نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے : وہ دونوں ایک جیسی ہوں تاہم وہ بکرے ہوں ‘ تو یہ میرے نزدیک بکریوں کے مقابلے میں زیادہ پسندیدہ ہوں گے۔

مِثْلَانِ ذُكْرَانُهُمَا أَحَبُّ إِلَيْهِ [ص:130] مِنْ إِنَاثِهِمَا ← الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ» فَقُلْتُ لَهُ، يَعْنِي عَطَاءً: مَا الْمُكَافِئَتَانِ؟ ← فِي الْعَقِيقَةِ: ← رَسُولِ اللَّهِ ← أُمِّ بَنِي كُرْزٍ الْكَعْبِيِّينَ، ← حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خُثَيْمٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Bab Al Aqiq · Hadith 5313

chevron_left Previous
1…6789
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr