صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5290
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ، أَنَّ نَافِعًا، حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، كَانَ إِذَا دُعِيَ ذَهَبَ إِلَى الدَّاعِي، فَإِنْ كَانَ صَائِمًا دَعَا بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ انْصَرَفَ، وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا جَلَسَ فَأَكَلَ، قَالَ نَافِعٌ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دُعِيتُمْ إِلَى كُرَاعٍ فَأَجِيبُوا»
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب انہیں دعوت دی جاتی تھی ‘ تو وہ دعوت میں چلے جاتے تھے ۔ اگر انہوں نے روزہ رکھا ہوتا تھا ‘تو برکت کی دعا کر کے واپس تشریف لے آتے تھے اور اگر روزہ نہیں ہوتا تھا ‘تو وہاں تشریف فرما ہوتے تھے اور کھانا کھا لیا کرتے تھے۔ نافع بیان کرتےہیں : حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے یہ بات بیان کی ہےنبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’جب تمہاری پائے ( کھانے ) کی دعوت کی جائے ‘ تو تم اسے قبول کرلو‘‘۔
عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الْأَيْلِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،
Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5290
