Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5290

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ، أَنَّ نَافِعًا، حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، كَانَ إِذَا دُعِيَ ذَهَبَ إِلَى الدَّاعِي، فَإِنْ كَانَ صَائِمًا دَعَا بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ انْصَرَفَ، وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا جَلَسَ فَأَكَلَ، قَالَ نَافِعٌ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دُعِيتُمْ إِلَى كُرَاعٍ فَأَجِيبُوا»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب انہیں دعوت دی جاتی تھی ‘ تو وہ دعوت میں چلے جاتے تھے ۔ اگر انہوں نے روزہ رکھا ہوتا تھا ‘تو برکت کی دعا کر کے واپس تشریف لے آتے تھے اور اگر روزہ نہیں ہوتا تھا ‘تو وہاں تشریف فرما ہوتے تھے اور کھانا کھا لیا کرتے تھے۔ نافع بیان کرتےہیں : حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے یہ بات بیان کی ہےنبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’جب تمہاری پائے ( کھانے ) کی دعوت کی جائے ‘ تو تم اسے قبول کرلو‘‘۔

عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الْأَيْلِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5290

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5291

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُهُ، وَلَوْ دُعِيتُ إِلَيْهِ لَأَجَبْتُهُ»

حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ اگر مجھے پا یہ تحفے کے طور پر دیا جائے ‘ تو میں اس قبول کر لوں گا اور اگر اس کےلئے میری دعوت کی جائے ‘تو میں اسے قبول کر لوں گا‘‘۔

«لَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُهُ، وَلَوْ دُعِيتُ إِلَيْهِ لَأَجَبْتُهُ» ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5291

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5292

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ، وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ لَقَبِلْتُ»

حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اگر مجھے پائے کی دعوت دی جائے ‘ تو میں اسے قول کر لوں گا اور اگر وہ مجھے تحفے کے طو رپر دیا جائے ‘ تو میں اسے قبول کر لوں گا‘‘۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5292

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5293

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، [ص:104] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ خَيَّاطًا بِالْمَدِينَةِ دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، وَكَانَ فِيهَا قَرْعٌ، قَالَ أَنَسٌ: فَكُنْتُ أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ، قَالَ: فَكُنْتُ أُقَدِّمُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَلَمْ يَزَلِ الْقَرْعُ يُعْجِبُنِي مُنْذُ رَأَيْتُهُ يُعْجِبُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں: مدینہ منورہ میں ایک درزی تھا ۔ اس نے نبی اکرمﷺ کی دعوت کی جس میں جو کی روٹی تھی اور بھنا ہوا گوشت تھا جس میں کدو ملےہوئے تھے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ کو کدو پسند آئے ‘تو میں کدو نبی اکرمﷺ کےآگے کرنے لگا جب سے میں نے نبی اکرمﷺ کو انہیں پسند کرتے ہوئے دیکھا ہے اس کے بعد میں بھی ہمیشہ کدو کو پسند کر تا ہوں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5293

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5294

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کسی شخص کوولیمے کی دعوت دی جائے ‘ تو اسے اس میں جانا چاہئے‘‘۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5294

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5295

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، بِبُسْتَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْجَارُودِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا، وَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي، وَتُصَلِّيَ فِيهِ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا فِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ تِلْكَ الْفُحُولِ، فَأَمَرَ بِجَانِبٍ مِنْهُ فَكُنِسَ، ثُمَّ رُشَّ فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں :میرے ایک چچا نے نبی اکرمﷺ کے لئے کھانا تیار کر لیا۔ انہوں نے گزارش کی کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر میں کھانا کھائیں اور وہاں نماز ادا کریں ‘ تو نبی اکرمﷺ ان کے ہاں آئے گھر میں ایک نر جانور تھا۔ نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت اس کے ایک طرف جھاڑو دی گئی پھر وہاں پانی چھڑ کا گیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے وہاں نماز ادا کی۔ ہم نے بھی آپﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔

«صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي لِرَسُولِ اللَّهِ طَعَامًا، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْجَارُودِ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5295

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5296

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ سَعْدٍ، فَقَالَ: «أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ»

حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے حضرت سعدؓ کے ہاں افطاری کی‘ تو ارشاد فرمایا: تمہارے ہاں روزہ داروں نے افطاری کی ہے اور فرشتوں نے تمہارے لئے دعائے رحمت کی اور نیک لوگوں نے تمہارا کھانا کھایا ہے۔

أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ عِنْدَ سَعْدٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5296

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5297

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ، فَأَتَاهُ بِطَعَامٍ وَحَيْسٍ وَسَوِيقٍ وَتَمْرٍ، ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ فَنَاوَلَ مَنْ عَنْ يَمِينِهِ، قَالَ: وَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ وَيَضَعُ النَّوَى عَلَى ظَهْرِ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوسْطَى، ثُمَّ يَرْمِي بِهِ، ثُمَّ دَعَا لَهُمْ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ»

حضرت عبد اللہ بن بسر سلمی ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ میرے والد کے ہمراہ تشریف لائے۔ آپﷺ نے وہاں قیام کیا۔ آپﷺ کی خدمت میں کھانا ، حیس، ستو اور کھجور پیش کئے گئے پھر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں مشروب پیش کیا گیا ‘تو آپ نے اپنے دائیں طرف والے شخص کی طرف بڑھا دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کھجور کھاتے تھے اور گٹھلی کو اپنی شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی کے درمیان رکھ دیتے تھے پھر آپ ﷺ اسے پھینک دیتے تھے پھر آپﷺ نے ان لوگوں کے لئے دعائے رحمت کی اور یہ دعاکی۔ ’’ اے اللہ ! جو رزق ‘ تو نے انہیں عطا کیا ہے اس میں ان کے لئے برکت رکھ دے ان کی مغفرت کر اور ان پر رحم کر دے‘‘۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ السُّلَمِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5297

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5298

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ، فَأَخَذَ بِلِجَامِهَا، فَقَالَ: انْزِلْ عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَنَزَلَ عِنْدَهُ، قَالَ: فَجَاءَهُمْ بِحَيْسٍ فَأَكَلُوهُ، ثُمَّ جَاءَهُمْ بِتَمْرٍ، قَالَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ وَيَقُولُ بِالنَّوَى هَكَذَا وَيُقَلِّبُهُ، وَضَمَّ شُعْبَةُ أُصْبُعَيْهِ، ثُمَّ جَاءُوهُ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ»

حضرت عبد اللہ بن بسرؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ میرے والد کی پاس سے گزرے آپ اس وقت سفید خچر پر سوار تھے۔ میرے والد نے اس کی لگام پکڑ لی، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ میرے ہاں قیام کریں ‘ تو نبی اکرمﷺ ان کے ہاں ٹھہر گئے راوی بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حیس لے کر آئے ان لوگوں نے اسے کھا لیا پھر وہ کھجوریں لے کر آئے‘ تو نبی اکرمﷺ کھجوریں کھانے لگے ‘ اور اس کی گٹھلیوں کی یوں الٹنے لگے۔ یہاں شعبہ نامی راوی نے دو انگلیوں کا ملا کر یہ دکھایا ‘ پھر نبی ان کی خدمت می مشروب پیش کیا گیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اسے پی لیا پھر آپﷺ نے اپنے دائیں طرف موجود شخص کی طرف اسے بڑھا دیا پھر آپ ﷺ نے دعا کی۔ ’’ اے اللہ! جو رزق ‘ تو نے انہیں عطا کیا ہے اس میں ان کے لئے برکت رکھ دے ان کی مغفرت کر دے اور ان پر رحم کر دے‘‘۔

انْزِلْ عِنْدِي ← مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ بِأَبِي وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ، فَأَخَذَ بِلِجَامِهَا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5298

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5299

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، وَسَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ: قَالَ أَبِي لِأُمِّي: لَوْ صَنَعْتِ طَعَامًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، [ص:111] فَصَنَعَتْ ثَرِيدَةً، وَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا يُقَلِّلُهَا، فَانْطَلَقَ أَبِي فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى ذِرْوَتِهَا، ثُمَّ قَالَ: «خُذُوا بِاسْمِ اللَّهِ» فَأَخَذُوا مِنْ نَوَاحِيهَا، فَلَمَّا طَعِمُوا، دَعَا لَهُمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي رِزْقِهِمْ»

حضرت عبد اللہ بن بسرؓ بیان کرتے ہیں: میرے والد نے میری والدہ سے کہا اگر تم نبی اکرمﷺ کےلئےکھانا تیار کرو ( تو یہ مناسب ہو گا ) اس خاتون نے ثرید تیار کیا۔ راوی نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے بتایا: وہ تھوڑا سا تھا۔ میرے والد گئے اور نبی اکرمﷺ کو بلا کر لائے نبی اکرمﷺ نے اپنا دست مبارک برتن کے اوپر رکھا پھر آپﷺ نے فرمایا: اللہ کا نام لے کر اسے حاصل کرو لوگوں نے اطراف سے اسے حاصل کرناشروع کیا جاب ان لوگوں نے کھانا کھا لیا‘ تو نبی اکرمﷺ نے ان کےلئے دعا کی۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’ اے اللہ! ان کی مغفرت کر دے ان پر رحم کر اور ان کے رزق میں برکت عطا کر‘‘۔

أَبِي لِأُمِّي: لَوْ صَنَعْتِ طَعَامًا لِرَسُولِ اللَّهِ فَصَنَعَتْ ثَرِيدَةً، ← سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5299

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5300

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ، وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفَ فِي وَجْهِهِ الْجُوعَ، فَقَالَ لِغُلَامِهِ: اصْنَعْ لَنَا طَعَامًا لِخَمْسَةٍ، فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَدْعُوَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ، قَالَ: فَصَنَعَ ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ وَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا [ص:112] تَبِعَنَا، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ» وَإِنْ شِئْتَ رَجَعَ «قَالَ: بَلْ آذَنُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ

حضرت ابو مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جس کا نام ابو شعیب تھا۔ اس کا ایک غلام تھا جو گوشت بنایا کرتا تھا۔ اس نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا ‘ تو اسے نبی اکرمﷺ کے چہرے پر بھوک محسوس ہوئی ۔ اس نے اپنے غلام سے کہا تم ہمارے پانچ آدمیوں کے لئے کھانا تیار کرو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں نبی اکرمﷺ سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کرو ۔ راوی کہتے ہیں : اس شخص نے کھانا تیار کیا پھر نبی اکرمﷺ پانچ آدمیوں سمیت تشریف لائے۔ ایک اور شخص بھی آپﷺ کے پیچھے آ گیا جب نبی اکرمﷺ دروازے پر پہنچے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ شخص ہمارے پیچھے آ گیا ہے اگر تم چاہو ‘ تو تم اسے اجازت دو اور اگر چاہو ‘ تو یہ واپس چلا جائے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں اسے اجازت دیتا ہوں۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5300

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5301

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا فَارِسِيًّا كَانَ جَارًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ مَرَقَتُهُ أَطْيَبَ شَيْءٍ رِيحًا، فَصَنَعَ طَعَامًا، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ تَعَالَ، وَعَائِشَةُ إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَهَذِهِ مَعِي» وَأَشَارَ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَ: لَا، قَالَ: ثُمَّ أَشَارَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: «وَهَذِهِ مَعِي» قَالَ: لَا، ثُمَّ أَشَارَ إِلَيْهِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: «وَهَذِهِ مَعِي» وَأَشَارَ إِلَى عَائِشَةَ، قَالَ: نَعَمْ

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں : ایک فارسی نبی اکرمﷺ کا پڑوسی تھا۔ اس کا شوہر با انتہائی خوشبو دار ہوتا تھا ۔ اس نے کھانا تیار کیا پھر وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو اس اور آپ کو اشارہ کیا کہ آپ لے آئیں۔ سیدہ عائشہؓ اس وقت نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھیں۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا :یہ بھی میرے ساتھ آئے ؟ نبی اکرمﷺ نے سیدہ عائشہؓ کی طرف اشارہ کیا ‘تو اس نے جواب دیا : جی نہیں پھر اس نے نبی اکرمﷺ کی طرف اشارہ کیا‘تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ میرے ساتھ ہے اس نے پھر عرض کی جی نہیں پھر اس نے تیسری مرتبہ نبی اکرمﷺ کو اشارہ کیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ میرے ساتھ ہے۔ نبی اکرمﷺ نے سیدہ عائشہؓ کی طرف اشارہ کیا تھا ‘تو اس نے کہا: ٹھیک ہے ( یعنی یہ بھی تشریف لے آئیں)

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَامٍ الْجُمَحِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5301

chevron_left Previous
1…6789
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr