Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5278

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَكْلُ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ حَرَامٌ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ ہر نوکیلے دانت والے درندے ( کا گوشت کھانا) حرام ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُبَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5278

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5279

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، [ص:84] عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ»

حضرت ابو ثعلبہ خشنی ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ہر نوکیلے دانت والے درندے ( کا گوشت کھانے ) سے منع کیا ہے۔

أَبِي ثَعْلَبَةَ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، [ص:84] ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5279

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5280

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النِّيلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مَيْمُونَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ.

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیا ن کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ہر نوکیلے دانت والے درندے اور نوکیلے پنجوں والے پرندے ( کا گوست کھانے ) سے منع کیاہے۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں :) نیل ، واسطہ میں ایک بستی ہے۔

أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ. ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النِّيلِي، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5280

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5281

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى رَاعِي إِبِلٍ فَلْيُنَادِي: يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا، فَإِنْ أَجَابَهُ وَإِلَّا فَلْيَحْلِبْ وَلْيَشْرَبْ، وَلَا يَحْمِلَنَّ، وَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى حَائِطٍ فَلْيُنَادِ، ثَلَاثًا: يَا أَصْحَابَ الْحَائِطِ فَإِنْ أَجَابَهُ وَإِلَّا فَلْيَأْكُلْ وَلَا يَحْمِلَنَّ» قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا زَادَ فَصَدَقَةٌ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «أُضْمِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ عِلَّةُ الْأَمْرِ، وَهِيَ اضْطِرَارُ الْمَرْءِ وَحَاجَتُهُ إِلَيْهِ دُونَ تَلَفِ النَّفْسِ دُونَ الْقُدْرَةِ وَالسَّعَةِ»

حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں ‘نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جب کوئی شخص اونٹوں کے چرواہے ( یعنی چرنے والے اونٹوں ) کے پاس آئے تو بلند آواز میں تین مرتبہ پکارے : اے اونٹوں کے چروا ہے ! اگر وہ اسے جواب دیدے تو ٹھیک ہے‘ ورنہ ان کا دودھ دوہ کر پی لے ‘ا ور جب کوئی شخص کسی باغ کے پاس آئے تو تین مرتبہ بلند آواز میں پکارے : اے باغ والو! اگر وہ اس کا جواب دیں تو ٹھیک ہے ‘ورنہ وہ ( اس باغ میں سےکھجوریں) کھا لے‘ لیکن وہ اٹھا کے ہرگز نہ لے جائے‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے یہ ارشاد فرمایاہے: ’’ مہمان نوازی تین دن ہوتی ہے ‘ جو اس سے زیادہ ہو ‘ وہ صدقہ ہوتا ہے‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ کہتے ہیں:) اس روایت میں اس حکم کی علت پوشیدہ ہے ‘اور وہ آدمی کا اضطراری حالت میں مبتلا ہونا اور ان چیزوں کا حاجت مند ہوناہے ‘ تاکہ اس کی جان ضائع نہ ہو ‘ اگر آدمی کے پاس قدرت اور گنجائش ہو ( تو پھر وہ مالکان کی اجازت کے بغیر ان چیزوں کو حاصل نہیں کر سکتا)۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5281

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5282

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحْتَلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرَبَتُهُ فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَثَلُ طَعَامُهُ، إِنَّمَا ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ وَأَطْعِمَتُهُمْ، فَلَا يَحْتَلِبَنَّ أَحَدٌ [ص:89] مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ کوئی بھی شخص کسی دوسرے کے جانور کے اس کی اجازت کے بغیرہرگز نہ وہ لے ‘ کیا کوئی شخص یہ بات پسند کرے گا کہ اس کے گودام کے پاس کوئی آئے اس کا خزانہ توڑ کر اس کا اناج منتقل کر لے ؟ لوگوں نے جانوروں کے تھن اور ان کی خورا ک ( ایک ہی طرح قابل احترام ہے ) ‘ تو کوئی شخص کسی دوسرے کے جانور کا دودھ اس کی اجازت کے بغیر ہرگز نہ دوہ لے‘‘۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5282

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5283

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ، قَالَ: بَعَثَنِي أَهْلِي بِلَقُوحٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلُبَهَا فَحَلَبْتُهَا، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ»

حضرت ضرار بن ازور ؓ بیان کرتے ہیں: میرے اہل خانہ نے ایک حاملہ اونٹنی کے ہمراہ مجھے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں بھیجا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں اسے ساتھ لے کر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا‘ تو آپﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کا دودھ دوہ لوں۔ میں نے اس کا دودھ دوہ لیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے مجھ سے فرمایا: دودھ کے داعی کے لئے ( تھوڑا سا دودھ ) چھوڑ دو۔

فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلُبَهَا فَحَلَبْتُهَا، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ «دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ» ← بَعَثَنِي أَهْلِي بِلَقُوحٍ إِلَى النَّبِيِّ ← ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ، ← يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5283

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5284

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا وَرَاءَهَا فَهُوَ صَدَقَةٌ»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ مہمان نوازی تین دن تک ہوتی ہے ‘ جو اس سے زیادہ ہو وہ صدقہ ہو گی‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5284

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5285

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ [ص:93] الْقَيْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، وَثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَاوِيًا، فَأَتَى أُمَّ سُلَيْمٍ، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ فَقَالَتْ: مَا عِنْدَنَا إِلَّا نَحْوُ مُدٍّ مِنْ دَقِيقِ شَعِيرٍ، قَالَ: فَاعْجِنِيهِ وَأَصْلِحِيهِ، عَسَى أَنْ نَدْعُوَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْكُلَ عِنْدَنَا، قَالَ: فَعَجَنَتْهُ وَخَبَزَتْهُ، فَجَاءَ قُرْصًا، فَقَالَ: ادْعُ لِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَاسٌ، قَالَ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ: أَحْسِبُهُ بَضْعَةً وَثَمَانِينَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَبُو طَلْحَةَ يَدْعُوكَ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «أَجِيبُوا أَبَا طَلْحَةَ» فَجِئْتُ مُسْرِعًا حَتَّى أَخْبَرْتُهُ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ وَأَصْحَابُهُ، قَالَ بَكْرٌ: فَقَفَدَنِي قَفْدًا، وَقَالَ ثَابِتٌ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ بِمَا فِي بَيْتِي مِنِّي، وَقَالَا جَمِيعًا عَنْ أَنَسٍ: فَاسْتَقْبَلَهُ أَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ إِلَّا قُرْصٌ، رَأَيْتُكَ طَاوِيًا، فَأَمَرْتُ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَجَعَلَتْ ذَلِكَ [ص:94] قُرْصًا، قَالَ: فَدَعَا بِالْقُرْصِ، وَدَعَا بِجَفْنَةٍ فَوَضَعَهُ فِيهَا، وَقَالَ: «هَلْ مِنْ سَمْنٍ؟ » قَالَ: أَبُو طَلْحَةَ: وَكَانَ فِي الْعُكَّةِ شَيْءٌ، فَجَاءَ بِهَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ يَعْصِرَانِهَا حَتَّى خَرَجَ شَيْءٌ، فَمَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ سَبَّابَتَهُ، ثُمَّ مَسَحَ الْقُرْصَ فَانْتَفَخَ، وَقَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ» فَانْتَفَخَ الْقُرْصُ، فَلَمْ يَزَلْ يَصْنَعُ ذَلِكَ وَالْقُرْصُ يَنْتَفِخُ حَتَّى رَأَيْتُ الْقُرْصَ فِي الْجَفْنَةِ يَتَمَيَّعُ، فَقَالَ: «ادْعُ عَشْرَةً مِنْ أَصْحَابِي» فَدَعَوْتُ لَهُ عَشْرَةً، قَالَ: فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي وَسَطِ الْقُرْصِ، وَقَالَ: «كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ» فَأَكَلُوا حَوَالَيِ الْقُرْصِ حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ قَالَ: «ادْعُ لِي عَشْرَةً» فَلَمْ يَزَلْ يَدْعُو عَشْرَةً عَشْرَةً، يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ الْقُرْصِ حَتَّى أَكَلَ مِنْهُ بَضْعَةٌ وَثَمَانُونَ مِنْ حَوَالَيِ الْقُرْصِ حَتَّى شَبِعُوا، وَإِنَّ وَسَطَ الْقُرْصِ حَيْثُ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ كَمَا هُوَ

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: حضرت ابو طلحہؓ نے نبی اکرمﷺ کو بھوک کے عالم میں دیکھا ‘تو وہ سیدہ ام سلیم ؓ کے پاس آئے اور بولے : تمہارے پاس کچھ کھانے کے لئےہے۔ انہوں نے عرض کی :میرے پاس ‘ تو صرف جو کے آٹے کا ایک مد ہے حضرت ابو طلحہ نے کہا: تم اسے گوندھ لو اور اسے تیار کر لو‘ہم نبی اکرمﷺ کی دعوت کرتے ہیں تاکہ نبی اکرمﷺ ہمارے پاس کھانا کھائیں حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں : اس خاتون نے آٹا گوندھا لیا اور روٹی پکا لی پھر حضرت ابو طلحہ ؓ روٹیوں کے پاس آئے اور بولے: نبی اکرمﷺ کو میرے ہاں بلا لاؤ راوی بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کے ہمراہ کچھ لوگ بھی تھے۔ یہاں مبارک بن فضالہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کرتے ہیں: میرا خیال ہے وہ 80 سے زیادہ لوگ تھے میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! حضرت ابو طلحہ ؓ نےآپ کو بلایا۔ نبی اکرمﷺ نے اپنے اصحاب سے کہا ابو طلحہ کی دعوت کو قبول کرو ( حضرت انسؓ کہتے ہیں ) میں تیزی سے چلتا ہوا آیا اور حضرت ابو طلحہؓ کو اس بارے میں بتایا : نبی اکرمﷺ اور آ پ کے اصحاب تشریف لا رہے ہیں۔ یہاں بکر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میں تیزی سے چلتا ہوا آیا اور ثابت نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : حضرت ابو طلحہؓ نے کہا: اللہ کے رسولﷺ اس بارے میں مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں جو کچھ میرے گھر میں ہے پھر اس کے بعد دونوں راویوں نے حضرت انس ؓ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے حضرت ابو طلحہؓ نے نبی اکرمﷺ کا استقبال کیا۔انہوں نے عرض کی : ہمارے پاس ‘ تو صرف ایک تھال (جتنا ) کھانا ہے میں نے آپ کو بھوکا دیکھا تھا ‘ تو میں نے ام سلیم سے کہا اس نے یہ کھانا تیار کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے وہ تھال منگوایا اور آپ نے ایک پیالہ منگوا کر وہ روٹی اس میں رکھی ۔ آپ ص نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس گھی ہے حضرت ابو طلحہ نے عرض کی: ایک کپی میں تھوڑا سا ہے وہ اسے لے کر گئے ۔ نبی اکرمﷺ اور حضرت ابو طلحہؓ اسے نچوڑنے لگے ‘ یہاں تک کہ تھوڑا سا گھی نکل آیا۔ نبی اکرمﷺ نے اسے اپنی شہادت کی انگلی کے ذریعے لگایا اور اسے روٹی پر لگا دیا ‘ تو وہ پھول گئی۔ نبی اکرمﷺ نے بسم اللہ پڑھا ‘ تو روٹی اور پھول گئی ۔ اس کے بعد مسلسل نبی اکرمﷺ ایسا ہی کرتے رہے ‘ یہاں تک کہ وہ روٹی پھولتی ہوئی اس پوری پرات کے اوپر غالب آ گئی ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میرے اصحاب میں سے دس آدمیوں کو بلاؤ میں دس آدمیوں کو بلوایا نبی اکرمﷺ نے اپنا دست مبارک روٹی کے درمیان میں رکھا۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے کھانا شروع کرو۔ انہوں نے اطراف سے روٹی کھانا شروع کی‘ یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے پھر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میرے پاس دس آدمیوں کو بلا کر لاؤ اس کے بعد حضرت ابو طلحہ ؓ دس دس کر کے آدمیوں کو بلاتے رہے ‘ یہاں تک کہ ان سب لوگوں نے وہ روٹی 80 سے زیادہ افراد نے روٹی کےاطراف میں سے کھا لیا‘ یہاں تک کہ وہ سب سیر ہو گئے اور روٹی کاد رمیان کا وہ حصہ جہاں نبی اکرم نےاپنا دست مبارک رکھا ہوا تھا۔ وہ اسی طرح تھا جیسے پہلے تھا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، وَثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5285

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5286

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدٍ الْحَمِيدِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي مَجْهُودٌ، فَأَرْسَلَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا، مَا عِنْدِي إِلَّا مَاءٌ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُخْرَى فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى قُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ: «مَنْ يُضِيفُ هَذَا اللَّيْلَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ» فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا قُوتُ صِبْيَانِي، قَالَ: [ص:96] فَعَلِّلِيهِمْ بِشَيْءٍ، فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا فَأَضِيئِي * السِّرَاجَ وَأَرِيهِ أَنَّا نَأْكُلُ، فَإِذَا أَهْوَى لِيَأْكُلَ قَوْمِي إِلَى السِّرَاجِ حَتَّى تُطْفِئِيهِ، قَالَ: فَقَعَدُوا وَأَكَلَ الضَّيْفُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «لَقَدْ عَجِبَ اللَّهُ مِنْ صَنِيعِكُمَا اللَّيْلَةَ»

حضرت ابو ہریرہؓ ؓ بیان کرتے ہیں :ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی : میں ضرورت مند ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے اپنی کسی زوجہ محترمہ کی طرف پیغام بھجوایا‘ تو اس خاتون نے عرض کی۔ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میرے پاس صرف پانی ہے پھر نبی اکرمﷺ نے دوسری زوجہ محترمہ کی طرف پیغام بھجوایا۔ انہوں نے بھی یہ جواب دیا‘ یہاں تک کہ تمام ازواج نے اسی طرح کا جواب دیا: تو نبی اکرمﷺ نےد ریافت کیا آج رات کون اسے مہمان بنائے گا اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے ‘ تو ایک انصاری کھڑا ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں بناؤ ں گا وہ اسے ساتھ لے کر اپنے چلا گیا۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا : کیا تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ ہے ۔ اس نے جواب دیا جی نہیں صرف بچوں کی خوراک ہے۔ اس انصاری نے کہا: تم انہیں کسی چیز کے ذریعے بہلا دینا جب ہمارا مہمان اندر آئے‘ تو تم چراغ روشن کرنا اور یوں ظاہر کرنا جیسے ہم کھانا کھانے لگے ہیں جب وہ کھانے کے لئے ہاتھ بڑھائے ‘ تو تم چراغ کی طرف جا کر اسے بجھا دینا ۔ راوی بیان کرتے ہیں‘ تو وہ سب لوگ بیٹھ گئے اور کھانا صرف مہمان نے کھایا۔ اگلے دن صبح وہ انصاری نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘تو آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کو گزشتہ رات تم دونوں (میاں بیوی) کا کیا ہوا طرز عمل بہت پسند آیا ہے۔

«مَنْ يُضِيفُ هَذَا اللَّيْلَةَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، ← مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى قُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذَلِكَ، ← وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا، مَا عِنْدِي إِلَّا مَاءٌ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُخْرَى ← إِنِّي مَجْهُودٌ، فَأَرْسَلَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5286

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5287

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتَ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ» أَبُو شُرَيْحٍ الْكَعْبِيُّ اسْمُهُ خُوَيْلِدُ بْنُ عَمْرٍو مِنْ جِلَّةِ الصَّحَابَةِ، عِدَادُهُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ، مَاتَ سَنَةَ ثَمَانٍ وَسِتِّينَ»

حضرت ابو شریح کعبیؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس بھلائی کی بات کہنی چاہئے ورنہ خاموش رہنا چاہئے جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے د ن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہئے ۔ اہتمام کے ساتھ اس کی دعوت ایک دن اور ایک رات ہو گی عام مہمان نوازی تین دن ہو گی اور جو اس کے بعد ہو وہ صدقہ شمار ہو گا ۔ البتہ مہمان کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے ‘ وہ اتنے دن وہاں قیام کرے کہ میزبان کو حرج میں مبتلا کر دے‘‘۔ ( امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں:) حضرت ابو شریح کعبی کا نام خویلد بن عمرو ہے یہ جلیل القدر صحابہ کرام ؓ میں سے ایک ہیں ۔ ان کا شمار اہل حجاز میں ہوتا ہے ان کا انتقال 68 ہجری میں ہوا۔

أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5287

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5288

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَنْزِلُ بِقَوْمٍ لَا يُضَيِّفُونَا، فَكَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا، وَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا [ص:100] مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُ»

حضرت عقبہ بن عامرؓ بیان کرتے ہیں :لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! ہم کسی قوم کے ہاں پڑاؤ کرتے ہیں ۔ وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے ‘ تو اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم کسی قوم کے ہاں پڑاؤ کرو‘ تو اگر وہ تمہارے لئے اس چیز کا حکم دیں جو مہمان کے لئے مناسب ہوتی ہے ‘ تو اسے قبول کر لو اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے ‘ تو تم ان سے مہمان کا وہ حق حاصل کرو جو مہمان کے لئے ہونا چاہئے۔

عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّهُمْ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5288

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5289

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب تمہیں دعوت دی جائے‘ تو تم دعوت میں جاؤ ‘‘۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5289

chevron_left Previous
1…6789
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr