Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5266

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ الْمَهْرِيِّ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلْنَا أَرْضًا كَثِيرَةَ الضِّبَابِ وَنَحْنُ مُرْمِلُونَ، فَأَصَبْنَاهَا، فَكَانَتِ الْقُدُورُ تَغْلِي بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذَا؟ » فَقُلْنَا: ضِبَابًا أَصَبْنَاهَا، فَقَالَ: «إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ، وَأَنَا أَخْشَى أَنْ تَكُونَ هَذِهِ» فَأَمَرَنَا فَأَكْفَأْنَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الْأَمْرُ بِإِكْفَاءِ الْقُدُورِ الَّتِي فِيهَا الضِّبَابُ أَمْرٌ قُصِدَ بِهِ الزَّجْرُ عَنْ أَكْلِ الضِّبَابِ، وَالْعِلَّةُ الْمُضَمَرَةُ هِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعَافُهَا لَا أَنَّ أَكْلَهَا مُحَرَّمٌ»

حضرت عبد الرحمٰن بن حسنہ مہریؓ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرمﷺ کے ہمراہ ایک غزوہ میں شرکت کی ۔ ہم نے ایک ایسی جگہ پر پڑاؤ کیا جہاں گوہ بہت زیادہ تھی ہم لوگ ضرورت مند تھے ‘ ہم نے انہیں پکڑا ‘ تو ہنڈیا میں وہ پکنے لگی نبی اکرمﷺ نے یہ دریافت کیا : یہ کیا چیز ہے ؟ ہم نے عرض کی: یہ گوہ ہے ‘ جو ہم نے پکڑی ہے نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو مسخ کر دیا گیا تھا ۔ مجھے یہ اندیشہ ہے؟ شاید یہ وہی نہ ہو ں پھر نبی اکرمﷺ نے ہمیں حکم دیا ‘ تو ہم نے ہنڈیاؤں کو اُلٹ دیا‘ حالانکہ ہم بھوکے تھے۔ ( امام ابن حبان ؒفرماتے ہیں:) ان ہنڈیاؤں کو الٹانے کا حکم دینا جن میں گوہ پک رہی تھی۔ یہ ایک ایسا حکم ہے‘ جس کے ذریعے گوہ کھانے کی ممانعت مقصود ہے اور اس میں علت یہ ہے ‘ نبی اکرمﷺ اس سے بچنے تھے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے ‘ اسے کھانا حرام دیا گیا ہے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ الْمَهْرِيِّ، ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5266

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5267

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَإِذَا بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، فَقَالَتِ النِّسْوَةُ اللَّاتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ: أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ، فَأَخْبَرُوهُ، فَرَفَعَ يَدَهُ، قَالَ: قُلْتُ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ» قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں :میں اور حضرت خالد بن ولید ؓ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ سیدہ میمونہ ؓ بنت حارث کے گھر میں داخل ہوئے ‘ تو وہاں گوہ بھنی ہوئی تھی۔ نبی اکرمﷺ نے اپنا دست مبارک اس کی طرف بڑھایا‘ تو سیدہ میمونہؓ کے گھر میں موجود خواتین نےکہا: نبی اکرمﷺ کو یہ ‘ تو بتا دو کہ آپﷺ کیا کھانے لگے ہیں۔ انہوں نے نبی اکرمﷺ کو اس بارے میں بتایا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اپنا دست مبارک کھینچ لیا۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہﷺ ! کیا یہ حرام ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جی نہیں ‘ لیکن یہ میرے علاقے کی خوراک نہیں ہے اس لئے میں اس سے پرہیز کرتاہوں۔ حضرت خالد ؓ بیان کر تے ہیں :میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا ( اور کھانا شروع کیا) جب کہ نبی اکرمﷺ ملاحظہ فرما رہے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5267

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5268

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْخَيْلِ، وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْخَبَرَ عَنْ جَابِرٍ، لِأَنَّ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ، رَوَاهُ عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرٍ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ عَمْرٌو سَمِعَ جَابِرًا وَسَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرٍ»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ہمیں گھوڑوں کا گوشت کھلایا ہے اور آپ نے ہمیں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) اس بات کا امکان موجود ہے ‘ عمرو بن دینار نے یہ روایت حضرت جابرؓ سے نہ سنی ہو کیونکہ حماد بن زید نے یہ روایت عمرو کے حوالے سے امام محمد باقرؓ کے حوالے سے حضرت جابر سے نقل کی ہے ‘ تو اس بات کا احتمال موجود ہے ‘ عمرو نے یہ روایت حضرت جابر ؓ سے سنی ہو اور یہ روایت امام باقر کے حوالے سے حضرت جابر سے سنی ہو۔

جَابِرٍ ← جَابِرًا وَسَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ، ← جَابِرٍ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ عَمْرٌو ← محمد بن علي ← عَمْرٍو، ← جَابِرٍ، لِأَنَّ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ، رَوَاهُ ← أَبُو حَاتِمٍ: «يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْخَبَرَ ← لُحُومِ الْحُمُرِ» ← «أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللَّهِ لُحُومَ الْخَيْلِ، وَنَهَانَا ← جَابِرٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5268

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5269

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا الطُّفَاوِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلُحُومِ الْخَيْلِ، وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ»

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ہمیں گھوڑوں کا گوشت کھانے کا حکم دیا ( یعنی اجازت دی ) اور آپ نے ہمیں پالتو گدھوں کا گوشت کھانےسے منع کیا ۔

لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ» ← «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ بِلُحُومِ الْخَيْلِ، وَنَهَانَا ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَيُّوبَ، ← الطُّفَاوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5269

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5270

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الطُّفَاوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، [ص:77] عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ، وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ»

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ہمیں گھوڑوں کا گوشت کھانے کا حکم دیا ( یعنی اجازت دی ) اور آپ نے ہمیں پالتو گدھوں کا گوشت کھانےسے منع کیا ۔

لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ» ← «رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ، وَنَهَانَا ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ [ص:318] ← أَيُّوبَ، ← الطُّفَاوِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5270

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5271

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ أَنَّهَا قَالَتْ: «نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَاهُ»

سیدہ اسماء ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں ہم نے گھوڑا قربان کیا اور اس کا ( گوشت ) کھا لیا۔

«نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ فَأَكَلْنَاهُ» ← جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ أَنَّهَا ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5271

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5272

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، [ص:78] عَنْ جَابِرٍ «أَنَّهُمْ ذَبَحُوا يَوْمَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ، وَلَمْ يَنْهَ عَنِ الْخَيْلِ»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : غزوہ خیبر کے موقع پر ان لوگوں نے گھوڑے خچر اور گدھے ذبح کئے ‘ تو نبی اکرمﷺ کے خچروں اور گدھوں سے منع کر دیا البتہ آپ ﷺ نے گھوڑوں سے منع نہیں کیا۔

الْخَيْلِ» ← الْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ، وَلَمْ يَنْهَ ← جَابِرٍ «أَنَّهُمْ ذَبَحُوا يَوْمَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي الزُّبَيْرِ [ص:318] ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5272

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5273

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَأَذِنَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ»

حضر ت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے غزوہ خیبر کے موقع پر گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا البتہ آپ نے گھوڑوں کا گوشت کھانے کی اجازت دی تھی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← محمد بن علي ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5273

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5274

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَى: «إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ»

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے منادی نے یہ اعلان کیاکہ بیشک اللہ اور اس کا رسول تم لوگوں کو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں کیونکہ یہ ناپاک ہے۔

لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ» ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ نَادَى: «إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5274

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5275

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي وَمَعْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَكَانَ النَّاسُ احْتَاجُوا إِلَيْهَا»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے غزوہ خیبر کے موقع پر گدھو کا گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا ‘ حالانکہ لوگوں کو اس کی ( شدید ترین) ضرورت تھی۔

أَكْلِ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَكَانَ النَّاسُ احْتَاجُوا إِلَيْهَا» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَبِي وَمَعْنُ بْنُ عِيسَى، ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5275

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5276

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، [ص:81] عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَيْ عَامِرٌ لَوْ مَتَّعْتَنَا مِنْ هَنَاتِكَ، فَنَزَلَ يَحْدُو لَهُمْ، فَذَكَرَ اللَّهَ، وَذَكَرَ شِعْرًا لَمْ أَحْفَظْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ هَذَا السَّائِقُ؟ » قَالُوا: عَامِرُ بْنُ الْأَكْوَعِ، قَالَ: «يَرْحَمُهُ اللَّهُ» فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ مَتَّعْتَنَا بِهِ، فَلَمَّا أَصَابُوا الْقَوْمَ قَاتَلُوهُمْ وَأُصِيبَ عَامِرٌ، فَلَمَّا أَمْسَوْا أَوْقَدُوا نَارًا كَثِيرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذِهِ النَّارُ؟ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقَدُ؟ » قَالُوا: عَلَى الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ، فَقَالَ: «أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا وَكَسِّرُوهَا» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا؟ فَقَالَ: «فَذَاكَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا «أَمْرُ حَتْمٍ، [ص:82] وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» وَكَسِّرُوهَا: أَمْرُ تَشْدِيدٍ وَتَغْلِيظٍ دُونَ الْحُكْمِ، أَلَا تَرَى الرَّجُلَ مِمَّنْ أَمَرَهُمْ بِكَسْرِهَا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا؟ قَالَ: «فَذَاكَ»

حضرت سلمہ بن اکوع ؓ بیا ن کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ خیبر کی طرف روانہ ہوئے حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: اے عامر! اگر آپ اپنے نغمے کے ذریعے ہمیں لطف اٹھانے کا موقع دیں ( تو یہ مناسب ہو گا) ‘ تو حضرت عامرؓ لوگوں کو حُدی سنا نے کے لئے سواری سے نیچے اتر آئے ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا پھر ایک شعر ذکر کیا جو مجھے یاد نہیں رہا‘ تو نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا جانور کو لے کر چلنے والا یہ شخص کون ہے لوگوں نے بتایا یہ عامر بن اکوع ہے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! اگر آپ ہمیں اس سے ( لطف اندوز ہونے کا موقع دیں ‘ تو عنایت ہو گی) جب ان لوگوں نے دشمنوں پر حملہ کیا‘ اور ان کے ساتھ لڑائی کی‘ تو حضرت عامرؓ زخمی ہو گئے جب شام کا وقت ہوا ‘ تو انہوں نے ڈھیر ساری آگ جلا لی نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا یہ آگ کس وجہ سے ہے اور یہ کیا چیز پکائی جا رہی ہے ۔ لوگوں نے بتایا گدھے کا گوشت پکایا جا رہا ہے۔نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ہنڈیوں میں موجود چیزوں کو انڈیل دو اور انہیں توڈ دو ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! کی اہم ایسا نہ کریں کہ ان میں موجود چیز کو انڈیل کر ان کو دھو لیں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ایسا کر لو۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’ اس میں جو کچھ موجود ہے اسے بہادو ‘‘ یہ ایک لازمی حکم ہے اور نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان: ’’ تم اسے توڑ دو ‘‘ یہ شدت اور سختی ظاہر کرنے کا حکم ہے۔ لازم حکم نہیں ہے۔ کیا آپﷺ نے یہ بات ملاحظہ نہیں کی کہ جسے نبی اکرمﷺ نے ہنڈیا تو ڑنے کا حکم دیا تھا ۔ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ کیا ہم اس موجود چیز کو بہاکر انہیں دھو نہ لیں‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ایسا کر لو۔

رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: ← «يَرْحَمُهُ اللَّهُ» ← عَامِرُ بْنُ الْأَكْوَعِ، ← رَسُولُ اللَّهِ «مَنْ هَذَا السَّائِقُ؟ ← شِعْرًا لَمْ أَحْفَظْهُ، ← اللہُ ← رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَيْ عَامِرٌ لَوْ مَتَّعْتَنَا مِنْ هَنَاتِكَ، فَنَزَلَ يَحْدُو لَهُمْ، ← خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى خَيْبَرَ، ← سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ {ص:44} ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5276

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5277

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَصَابُوا حُمُرًا فَذَبَحُوهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْفِئُوا الْقُدُورَ»

حضرت براء بن عازبؓ بیان کرتے ہیں : وہ لوگ نبی اکرمﷺ کےساتھ تھے انہیں کچھ گدھے ملے انہوں نے انہیں ذبح کر لیا‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: : ہنڈیاؤں کو الٹ دو۔

رَسُولُ اللَّهِ «أَكْفِئُوا الْقُدُورَ» ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَأَصَابُوا حُمُرًا فَذَبَحُوهَا، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5277

chevron_left Previous
1…56789
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr