صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5266
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ الْمَهْرِيِّ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلْنَا أَرْضًا كَثِيرَةَ الضِّبَابِ وَنَحْنُ مُرْمِلُونَ، فَأَصَبْنَاهَا، فَكَانَتِ الْقُدُورُ تَغْلِي بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذَا؟ » فَقُلْنَا: ضِبَابًا أَصَبْنَاهَا، فَقَالَ: «إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ، وَأَنَا أَخْشَى أَنْ تَكُونَ هَذِهِ» فَأَمَرَنَا فَأَكْفَأْنَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الْأَمْرُ بِإِكْفَاءِ الْقُدُورِ الَّتِي فِيهَا الضِّبَابُ أَمْرٌ قُصِدَ بِهِ الزَّجْرُ عَنْ أَكْلِ الضِّبَابِ، وَالْعِلَّةُ الْمُضَمَرَةُ هِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعَافُهَا لَا أَنَّ أَكْلَهَا مُحَرَّمٌ»
حضرت عبد الرحمٰن بن حسنہ مہریؓ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرمﷺ کے ہمراہ ایک غزوہ میں شرکت کی ۔ ہم نے ایک ایسی جگہ پر پڑاؤ کیا جہاں گوہ بہت زیادہ تھی ہم لوگ ضرورت مند تھے ‘ ہم نے انہیں پکڑا ‘ تو ہنڈیا میں وہ پکنے لگی نبی اکرمﷺ نے یہ دریافت کیا : یہ کیا چیز ہے ؟ ہم نے عرض کی: یہ گوہ ہے ‘ جو ہم نے پکڑی ہے نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو مسخ کر دیا گیا تھا ۔ مجھے یہ اندیشہ ہے؟ شاید یہ وہی نہ ہو ں پھر نبی اکرمﷺ نے ہمیں حکم دیا ‘ تو ہم نے ہنڈیاؤں کو اُلٹ دیا‘ حالانکہ ہم بھوکے تھے۔ ( امام ابن حبان ؒفرماتے ہیں:) ان ہنڈیاؤں کو الٹانے کا حکم دینا جن میں گوہ پک رہی تھی۔ یہ ایک ایسا حکم ہے‘ جس کے ذریعے گوہ کھانے کی ممانعت مقصود ہے اور اس میں علت یہ ہے ‘ نبی اکرمﷺ اس سے بچنے تھے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے ‘ اسے کھانا حرام دیا گیا ہے۔
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ الْمَهْرِيِّ، ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،
Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5266
