Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5254

أَخْبَرَنَا ابْنُ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ حلوے اور شہد کو پسند کر تے تھے۔

«كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ» ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← ابْنُ زُهَيْرٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5254

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5255

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، وَالْقَاسِمِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: أَيُّوبُ: وَأَنَا لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ أَحْفَظُ مِنِّي لِحَدِيثِ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، فَدَعَا بِمَائِدَةٍ وَعَلَيْهَا لَحْمُ دَجَاجٍ، وَقَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ»

ابو قلابہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ ابو موسیٰ اشعری کے پاس موجود تھے ۔ انہوں نے دستر خوان منگوایا اس پر مرغی کا گوشت تھا ۔ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرمﷺ کو اسے کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔

«رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَأْكُلُ مِنْهُ» ← كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، فَدَعَا بِمَائِدَةٍ وَعَلَيْهَا لَحْمُ دَجَاجٍ، ← لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ أَحْفَظُ مِنِّي لِحَدِيثِ أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ← أَبِي قِلَابَةَ، وَالْقَاسِمِ بْنِ عَاصِمٍ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5255

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5256

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَنَحْنُ حُرُمٌ، فَأُهْدِيَ لَنَا طَيْرٌ، وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ، فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ، وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَافَقَ مَنْ أَكَلَهُ، وَقَالَ: أَكَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

معاذ بن عبد الرحمٰن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ کے ساتھ تھے ۔ ہم نے احرام باندھا ہوا تھا۔ ہمیں ایک پرندے ( کا گوشت ) تحفے کے طور پر دیا گیا۔ حضرت طلحہ ؓ اس وقت سو رہے تھے ہم میں سے کچھ لوگوں نے اسے کھا لیا اور کچھ نے پرہیز کیا۔ جب حضرت طلحہؓ بیدار ہوئے ‘ تو انہوں نے ان لوگوں کا ساتھ دیا جنہوں نے اس کا گوشت کھا لیا تھا۔ انہوں نے یہ بات بیان کی کہ ہم نے نبی اکرمﷺ کےہمراہ اس ( پرندے کا گوشت ) کھایا ہے۔

أَبِيهِ ← معاذ بن عبد الرحمن بن عثمان التيمي، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5256

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5257

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورَ، قَالَ: [ص:62] سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: «غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَوْ سِتَّ غَزَوَاتٍ - شَكَّ شُعْبَةُ - فَكُنَّا نَأْكُلُ مَعَهُ الْجَرَادَ»

حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرمﷺ کے ہمراہ سات ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) چھ ایسے غزوات میں شرکت کی ہے ‘ جس میں ہم نبی اکرمﷺ کے ہمراہ ٹڈی کھاتے رہے ہیں ۔

ابن اَبِیْ اَوْفٰی ← [ص:149] ← اَبِیْ یَعْفُورٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5257

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5258

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، مِنْ آلِ ابْنِ الْأَزْرَقِ أَنَّ الْمُغِيرَةِ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ [ص:63] أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرمﷺ سے سوال کیا اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ہم سمندر سفر کرتے ہیں ۔ ہم اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی لے جاتے ہیں ۔ اگر ہم اس کے ذریعے وضو کریں ‘ تو خود پیاسے رہ جائیں کیا ہم سمندر کے پانی کے ذریعے وضو کر لیا کریں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔

سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ ابْنِ الْأَزْرَقِ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5258

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5259

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ مِائَةِ رَاكِبٍ، وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، نَرْصُدُ عِيرًا لِقُرَيْشٍ، فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ نِصْفَ شَهْرٍ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ، حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ، قَالَ: فَسُمِّيَ ذَلِكَ الْجَيْشُ جَيْشَ الْخَبَطِ، ثُمَّ أَلْقَى الْبَحْرُ دَابَّةً يُقَالُ لَهَا: الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ حَتَّى ثَابَتْ أَجْسَامُنَا وَادَّهَنَّا بِوَدَكِهِ، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ، وَنَظَرَ إِلَى أَطْوَلِ جَمَلٍ فِي الْجَيْشِ وَأَطْوَلِ رَجُلٍ، فَحَمَلَهُ عَلَيْهِ فَمَرَّ تَحْتَهُ «قَالَ: سُفْيَانُ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرٍ: عَنْ جَابِرٍ: أَعْطَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِرَابًا فِيهِ تَمْرٌ، فَلَمَّا نَفِدَ، وَجَدْنَا فَقْدَهُ، فَجَعَلَ يَجِيءُ الرَّجُلُ بِالشَّيْءِ، قَالَ: وَأَخْرَجْنَا مِنْ عَيْنَيْهِ كَذَا وَكَذَا حُبًّا مِنْ وَدَكٍ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَنَا: » هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ «

حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے ہم تین سو سواروں کو ( ایک مہم پر ) روانہ کیا ہمارے امیر حضرت ابو عبید ہ بن جراح ؓ سے ہم قریش کے قافلے کی گھات میں تھے ہم نے پندرہ دن تک ساحل پر قیام کیا۔ ہمیں شاید بھوک لاحق ہو گئی ‘ یہاں تک کہ ہم پتے کھانے لگے۔ اسی وجہ سے اس لشکر کا نام پتو ں والا لشکر رکھا گیا تھا ‘ پھر سمندر نے ایک بڑے سے جانور کو باہر پھینک دیا جس کا نام عنبر تھا ۔ ہم نے پندرہ دن تک اس کا گوشت کھایا ‘ یہاں تک کہ ہمارے جسم مضبوط ہو گئے ۔ ہم نے اس کی چربی کو تیل کے طور پر استعمال کیا پھر حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ نے اس کی ایک پسلی کو لیا۔ انہوں نے لشکر میں موجود سب سے اونچے اونٹ اور سب سے لمبے آدمی کا انتخاب کیا۔ اسے اس اونٹ پر سوار کیا ‘ تو وہ آدمی اس پسلی کے نتیجے سے گزر گیا۔ ایک اور سند کے ساتھ یہ منقو ل ہے ۔ حضرت جابر ؓبیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ہمیں ایک تھیلا دیا تھا۔ جس میں کھجوریں موجود تھیں جب وہ ختم ہو گئی ‘ تو ہمیں ان کی غیر موجودگی محسوص ہوئی پھر کوئی آدمی کوئی چیز لے آیاکرتا تھا۔ ا س روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ‘ ہم نے اس کے( سمندری جانور ) کی آنکھوں سے اتنی اتنی چربی نکالی جب ہم نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تو آپﷺ نے ہم سے دریافت کیا؛ کیا تمہارے پاس اس کا کچھ ( گوشت ) ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5259

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5260

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ يَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ، وَزَوَّدَنَا جِرَابَ تَمْرٍ لَمْ يَجِدْ لَنَا غَيْرَهُ، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُطْعِمُنَا تَمْرَةً تَمْرَةً، قُلْتُ: فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِهَا؟ قَالَ: نَمُصُّهَا كَمَا يَمُصُّ الصَّبِيُّ، ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ، فَيَكْفِينَا يَوْمَنَا إِلَى اللَّيْلِ، قَالَ: وَكُنَّا نَضْرِبُ بِعِصِيِّنَا الْخَبَطَ ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْمَاءِ فَنَأْكُلُهُ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَرُفِعَ لَنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ، فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا هُوَ دَابَّةٌ تُدْعَى الْعَنْبَرَ، فَقَالَ: أَبُو عُبَيْدَةَ: مَيْتَةٌ، ثُمَّ [ص:65] قَالَ: لَا، نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَقَدِ اضْطُرِرْتُمْ فَكُلُوا، قَالَ: فَأَقَمْنَا عَلَيْهِ شَهْرًا، وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ حَتَّى سَمِنَّا، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَغْتَرِفُ مِنْ وَقَبِ عَيْنَيْهِ بِالْقِلَالِ، وَنَقْطَعُ مِنْهُ الْفِدَرَ كَالثَّوْرِ أَوْ كَقَدْرِ الثَّوْرِ، وَلَقَدْ أَخَذَ مِنَّا أَبُو عُبَيْدَةَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَأَقْعَدَهُمْ فِي وَقَبِ عَيْنِهِ، وَأَخَذَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَأَقَامَهَا، ثُمَّ أَرْحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ مِنَّا فَمَرَّ تَحْتَهَا، قَالَ: وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَشَائِقَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «هُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ لَكُمْ، فَهَلْ مِنْ لَحْمِهِ مَعَكُمْ شَيْءٌ تُطْعِمُونَا؟ » فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِ مِنْهُ فَأَكَلَهُ

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ہمیں ایک مہم پر روانہ کیا۔ آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو ہمارا امیر مقررکیا۔ ہمارا ارادہ قریش کے قافلے کو روکنے کاتھا۔ نبی اکرمﷺ نے زادراہ کے طور پر کھجوروں کا ایک تھیلا ہمیں دے دیا ۔ ہمیں اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ملی۔ حضرت ابو عبید ؓ اس میں سے ایک ‘ ایک کھجور ہمیں کھانے کے لئے تیار کرتے تھے۔ ( راوی بیان کرتے ہیں ) میں نے دریافت کیا آپ لوگ اس کا کیا‘ کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا: ہم اسے یوں چوستے تھے جس طرح کوئی بچہ چاستا ہے ‘پھر اس کے بعد ہم پانی پی لیا کرتے تھے ‘ تو وہ ہمارے لئے پورے دن کے لئے کافی ہوتی تھی۔ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ اپنے عصا کے ذریعے پتے اتارا کرتے تھے ۔ انہیں پانی میں بھگو یا کرتے تھے اور پھر انہیں کھا لیا کرتے تھے ۔ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں :ہم لوگ چلتے رہے ‘ یہاں تک کہ ساحل سمندر پر ہمارے سامنے بڑی چٹان جیسی کوئی چیز آگئی ہم اس کے پاس آئے ‘ تو وہ ایک جانور تھا جسے عنبر کہا جاتا تھا حضرت ابو عبیدہ ؓ نے کہا: یہ مردار ہے پھر انہوں نے فرمایا: جی نہیں۔ ہم اللہ کے رسول کے بھیجے ہوئے لوگ ہیں۔ اور اللہ کی راہ میں ہیں تم لوگ اضطراری حالت میں ہو ‘ تو تم لوگ اسے کھولو۔ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں : ہم ایک ماہ وہاں مقیم رہے۔ ہم تین سو افراد تھے ‘ یہاں تک کہ ہم( اسے کھا کر) موٹے تازے ہو گئے ۔ مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے ‘ ہم نے اس کی آنکھوں سے چربی کے کئی مٹکے نکالے تھے اور ہم نے اس سے خشک گوشت کاٹ لیا۔ حضرت ابو عبیدہ ؓ نے ہم میں سے تیرہ آدمیوں کو لیا ‘ تو وہ اس کی آنکھ کے سوراخ میں بیٹھ گئے ‘ پھر حضرت ابو عبیدہ نے ا س کی ایک پسلی کو لے کھڑا کیا اور سب سے اونچے اونٹ پر آدمی کو سوار کیا ‘ تو وہ اس کے نیچے سے گزر گیا۔ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : پھر ہم نے اس کے گوشت کو زادراہ کے طور پر ساتھ رکھ لیا جب ہم مدینہ منورہ آئے ‘ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تو ہم نے آپ کے سامنے اس بات کا ذکر کیا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ وہ رزق ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے نکالا تھا کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کوئی چیز ہے‘ جو تم ہمیں بھی کھلاؤ ‘ہم نے نبی کرمﷺ کی خدمت میں اس کا گوشت بھجوایا ‘ تو آپ ﷺ نے اسے کھا لیا۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5260

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5261

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا إِلَى أَرْضِ جُهَيْنَةَ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا، فَلَمَّا نَفِدَتْ أَزْوَادُهُمْ أَمَرَ أَمِيرُهُمْ بِمَا بَقِيَ مِنْ أَزْوَادِهِمْ فَجُمِعَتْ، فَجَعَلَ يُقَوِّتُنَا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةً تَمْرَةً، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَا كَانَتْ تُغْنِي عَنْكُمْ تَمْرَةٌ؟ قَالَ: وَاللَّهِ إِنَّهَا فُقِدَتْ، فَوَجَدْنَا فَقْدَهَا، كَانَ أَحَدُنَا يَضَعُهَا بَيْنَ أَسْنَانِهِ وَحَنَكِهِ فَيَمُصُّهَا، وَنُصِيبُ مِنْ وَرَقِ الشَّجَرِ وَنَبَاتِ الْأَرْضِ مَعَ ذَلِكَ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ، فَأَخْرَجَ اللَّهُ لَنَا حُوتًا أَلْقَاهُ الْبَحْرُ فَأَكَلْنَا وَقَدَدْنَا، فَلَمَّا أَرَدْنَا أَنْ نَرْتَحِلَ أَمَرَ أَمِيرُنَا بِضِلْعٍ مِنْ ضُلُوعِهِ فَنَكَبَ طَرَفَاهُ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ أَمَرَ بِبَعِيرٍ فَرُحِّلَ، فَمَرَّ تَحْتَهُ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے جہینہ کی سرزمین کی طرف ایک مہم روانہ کی۔ آپﷺ نے ایک شخص کو ان لوگوں کا امیر مقرر کیا جب ان لوگوں کا زادارہ ختم ہو گیا ‘ تو ان کے امیر نے حکم دیا کہ باقی بچ جانے والے زادراہ کو جمع کیا جائے ۔ وہ جمع کر دیا گیا ‘ تو امیر ہمیں روزانہ ایک ایک کھجور دیا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں :میں نے دریافت کیا ایک کھجور سے آپ کا کیا بنتا تھا۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم جب وہ بھی ختم ہو گئی ‘ تو ہمیں اس کے ختم ہونے کا شدید احساس ہوا۔ ہم میں سے کوئی ایک شخص اسے اپنے آنتوں کے درمیان رکھ کر چوس لیا کرتا تھا ہمیں درختوں کے پتے ملتے اور زمین کے نباتات اس کے ساتھ مل جاتے تھے ‘ یہاں تک کہ ہم سمندر کے ساحل تک آئے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ایک مچھلی کو نکالا جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا۔ ہم نے اسے کھایا اور اس کی چربی استعمال کی جب ہم وہاں سے روانہ ہونے لگے ‘ تو ہمارے امیر نے حکم دیا کہ اسکی ایک پسلی کو زمین پر کھڑا کیا جائے پھر ان کی تحت ایک اونٹ پر سامان رکھا گیا ‘ تو وہ اونٹ اس کے نیچے سے گزر گیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5261

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5262

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ، وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، وَهُمْ ثَلَاثُ مِائَةٍ، وَأَنَا فِيهِمْ، قَالَ: فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَنِيَ الزَّادُ، فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ ذَلِكَ الْجَيْشِ، فَجُمِعَ كُلُّهُ فَكَانَ مِزْوَدَ تَمْرٍ، فَكَانَ يُقَوِّتُنَا كُلَّ يَوْمٍ قَلِيلًا قَلِيلًا، حَتَّى فَنِيَ وَلَمْ يُصِبْنَا إِلَّا تَمْرَةً تَمْرَةً، فَقُلْتُ: وَمَا تُغْنِي تَمْرَةٌ، قَالَ: لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حَيْثُ فَنِيَتْ، قَالَ: ثُمَّ انْتَهَى إِلَى الْبَحْرِ، فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ، فَأَكَلَ مِنْهُ ذَلِكَ الْجَيْشُ إِحْدَى عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِضِلْعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ فَرُحِّلَتْ، ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَهُمَا وَلَمْ تُصِبْهُمَا»

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ساحل کی سمت ایک مہم روانہ کی۔ آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ؓ کو ہمارا امیر مقرر کیا ۔ ہم تین سو افراد تھے۔ میں بھی ان میں شامل تھا۔ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ روانہ ہوئے راستے میں ہمارا زاد سفر ختم ہو گیا ‘ تو حضرت ابو عبیدہ ؓ نے اس لشکر کے تمام زادراہ کے بارے میں حکم دیا ان سب کو جمع کیا گیا ‘ تو وہ ایک کھجوروں کا تھیلا بنا ‘ تو حضرت ابو عبیدہ ؓ اس میں سے روزانہ تھوڑی سی کھجوریں ہمیں دیا کرتے تھے ‘ یہاں تک کہ وہ بھی ختم ہوگئیں ‘ تو ہمیں ایک کھجورملا کرتی تھی۔ ( راوی کہتے ہیں : ) ایک کھجور ہے۔ آپﷺ کا کیا بنتا تھا۔ انہوں نے فرمایا: جب وہ بھی ختم ہو گئی ‘ تو پھر ہمیں اس کی غیر موجودگی محسوس ہوئی۔ حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں : پھر ہم لوگ سمندر تک پہنچ گئے ‘ تو وہاں چھوٹے ٹیلے کی طرح ایک مچھلی تھی اس لشکر نے گیارہ د تک اس کا گوشت کھایا ‘ پھر حضرت ابو عبیدہؓ کے حکم کے تحت اس کی دو پسلیوں کو کھڑا کیا گیا پھر ایک اونٹ تیا ر کیا گیا ‘ تو وہ اونٹ ان پسلیوں کے نیچے سے گزر گیا۔ اس نے انہیں چھوا نہیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5262

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5263

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ: أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ» قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیا ن کرتے ہیں :میں اور حضرت خالد بن ولید ؓ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ سیدہ میمونہ ؓ بنت حارث کے پاس آئے ( جو میری اور حضرت خالد ؓ کی خالہ بھی تھیں ) بھنی ہوئی گوہ لائی گئی نبی اکرمﷺ نے اپنا دست مبارک اس کی طرف بڑھایا ‘ تو گھر میں موجود خواتین میں سے کسی نے کہا: نبی اکرمﷺ کو یہ بات ‘ تو بتا دو کہ آپﷺ کیا کھانے لگے ہیں ( جب نبی اکرمﷺ کو یہ بات بتائی گئی کہ یہ گوہ کا گوشت ہے) ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ہاتھ کھینچ لیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا یہ حرام ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جی نہیں ‘ لیکن یہ میرے علاقے کی خوراک نہیں ہے۔ اس لئے میں اس سے بچتا ہوں۔ حضرت خالد بن ولیدؓ بیان کرتے ہیں: میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور میں نے کھا لیا‘ جبکہ نبی اکرمﷺ ملاحضہ فرما رہےتھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5263

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5264

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، سَمِعَ الشَّعْبِيَّ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ سَعْدٌ، فَأُتِيَ بِلَحْمِ ضَبٍّ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ لَحْمُ [ص:72] ضَبٍّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا فَإِنَّهُ حَلَالٌ، وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِي»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے ہمراہ آپ کے کچھ اصحاب بھی تھے جن میں حضرت سعد ؓ بھی تھے۔ گوہ کا گوشت پیش کیا گیا ‘ تو نبی اکرمﷺ کی ازواج میں سے ایک خاتون نے عرض کی: یہ گوہ کا گوشت ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اسے کھالو یہ حلال ہے ‘ لیکن یہ میری خوراک نہیں ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← الشَّعْبِيِّ، ← تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5264

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ مَا یَجُوْزُ اَکْلُہٗ وَمَا لَا یَجُوْزُ · حديث 5265

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبِّ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَسْتُ بِآكِلِهِ وَلَا مُحَرِّمِهِ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ سے گوہ کے بارے میں دریافت کیا گیا ‘ تو آپﷺ نے فرمایا: میں اسے کھاتا بھی نہیں ہوں اور اسے حرام بھی قرار نہیں دیتا۔

الضَّبِّ، فَقَالَ «لَسْتُ بِآكِلِهِ وَلَا مُحَرِّمِهِ» ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← وَاَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللہِ بْنُ دِینَارٍ اَنَّہٗ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Chapter on what is permissible to eat and what is not permissible · Hadith 5265

chevron_left Previous
1…456…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr