Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5242

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ [ص:47] عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلَ بَلْدَحَ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةً فِيهَا طَعَامٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ، وَقَالَ: «إِنَّا لَا نَأْكُلُ مِمَّا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ، وَلَا نَأْكُلُ إِلَّا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نبی اکرمﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں :بلدح کے زیریں حصے میں آپ کی ملاقات حضرت زید بن عمرو بن نفیل سے ہوئی۔ نبی اکرمﷺ نے ان کے سامنے ایک دسترخوان رکھا جس میں کچھ کھانا موجود تھا۔ انہوں نے کھانے سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا: میں وہ گوشت نہیں کھاتا جسے تم لوگ ( یعنی اہل مکہ ) بتوں میں نام پر ذبح کرتے ہیں۔ ہم صرف وہی چیز کھاتے ہیں ‘ جس پر اللہ کا نام ذکر کیاگیا ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عبد الله بن محمد المديني

Hadith 5242

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5243

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، عَنْ أَبِي الْبَزَرِيِّ يَزِيدِ بْنِ عُطَارِدً، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كُنَّا نَشْرَبُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ قِيَامٌ، وَنَأْكُلُ وَنَحْنُ نَسْعَى»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں ہم کھڑے ہوکر پی لیا کرتے تھے اور بھاگتے ہوئے کچھ کھا لیا کرتے تھے۔

«كُنَّا نَشْرَبُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ، وَنَأْكُلُ وَنَحْنُ نَسْعَى» ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِي الْبَزَرِيِّ يَزِيدِ بْنِ عُطَارِدً، ← عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدٌ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 5243

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5244

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ بِقَدْرٍ لِبَعْضِ أَهْلِهِ فِيهَا لَحْمٌ يُطْبَخُ، فَنَاوَلَهُ بَعْضُهُمْ مِنْهَا كَتِفًا، فَأَكَلَهَا وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»

حضرت ابو رافع ؓ جو نبی اکرمﷺ کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں :میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھا۔ نبی اکرمﷺ اپنی کسی ا ہلیہ محترمہ کے ہاں گزرے جہاں ہنڈیا میں گوشت پکا ہوا تھا۔ ان میں سے کسی نے اس گوشت میں سے دستی کا گوشت نبی اکرمﷺ کی طرف بڑھایا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے کھڑے ہو کر اسے کھا لیا پھر آپ نے نماز ادا کی اور راز سرِ نو وضو نہیں کیا۔

أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← شرحبيل بن سعد الأنصاري ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Hadith 5244

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5245

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، [ص:51] عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: دُعِينَا إِلَى طَعَامٍ وَمَعَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَزَاذَانُ وَأَبُو الْبَخْتَرِيِّ وَمِقْسَمٌ، فَأَتَيْنَا بِالطَّعَامِ، فَقَالَ: سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَرَكَةُ تَنْزِلُ وَسَطَ الطَّعَامِ، فَكُلُوا مِنْ حَافَتَيْهِ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ برکت کھانے کےدرمیان میں نازل ہوتی ہے اس لئے تم اس کےکناروں کی طرف سے کھایا کرو‘‘۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← زَاذَانُ وَأَبُو الْبَخْتَرِيِّ وَمِقْسَمٌ، فَأَتَيْنَا ← دُعِينَا إِلَى طَعَامٍ وَمَعَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5245

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5246

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:52] عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ خربوزے اور کھجور کو ملا کر کھا لیا کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ، [ص:184] ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Hadith 5246

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5247

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، بِمَنْبِجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ» *

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ کھجور کے ہمراہ خربوزے کھا لیتے تھے۔

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ» ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ

Hadith 5247

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5248

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ الطَّبِيخَ أَوِ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ»، «[ص:54] الشَّكُّ مِنْ أَحْمَدَ»

حضرت انس بن مالکؓ بیا ن کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کھجور کے ہمراہ خربوزہ کھا لیتے تھے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) یہ شک احمد بن حنبل کو ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدًا، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 5248

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5249

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ، فَلْيُمِطِ الْأَذَى عَنْهَا وَلْيَأْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَأَسْلِتُوا الصَّحْفَةَ، فَإِنَّهُ لَا يُدْرَى فِي أَيِّ طَعَامِكُمْ تَكُونُ الْبَرَكَةُ»

حضرت انسؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جب کسی شخص کا لقمہ گر جائے‘ تو اسےا س سے گندگی صاف کر کے اسے کھا لینا چاہئے ۔ اسے شیطان کے لئے نہیں چھوڑنا چاہئے اور تم پیالے کو پونچھ لیاکرو کیونکہ وہ یہ بات معلوم نہیں ہے ‘ تمہارے کھانے کے کون سے حصے میں برکت ہے‘‘۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5249

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5250

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءٌ وَفِي الْآخَرِ شِفَاءٌ، وَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ ثُمَّ لِيَنْزِعْهُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الْعَرَبُ تُسَوِّغُ هَذِهِ اللَّفْظَةَ فِي الِاتِّقَاءِ أَنَّهُ يُسْتَعْمَلُ فِي الْغَمْسِ وَالرَّفْعِ مَعًا، فَإِنَّ الِاتِّقَاءَ يَقَعُ عَلَى الْمَعْنَيَيْنِ جَمِيعًا»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جب کسی شخص کے برتن میں مکھی گر جائے‘ تو وہ اسےڈبو دے کیونکہ اس کے دو پروں میں سے ایک میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفا ہوتی ہے وہ اپنے اس پر کے ذریعے بچنے کی کوشش کرتی ہے ‘ جس میں بیماری ہوتی ہے ‘ تو آدمی ‘ تو اسے مکمل ڈبو کر بؤپھر باہر نکالنا چاہئے‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) عرب یہ لفظ ڈبونے اور اٹھانے دونوں کے لئے استعمال کرتے ہیں کیونکہ لفظ اتقاء ان دونوں معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Hadith 5250

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5251

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ، بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانَيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ، ثُمَّ [ص:56] يَلْعَقُهُنَّ»

حضرت کعب بن مالکؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ تین انگلیوں کے ساتھ کھایا کرتے تھے اور انہیں چاٹ لیاکرتے تھے۔

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَأْكُلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ، ثُمَّ [ص:56] يَلْعَقُهُنَّ» ← أَبِيهِ ← ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، ← زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ، بِالْبَصْرَةِ،

Hadith 5251

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5252

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، [ص:57] عَنْ أَنَسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَكَلَ لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ»

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ جب کھانا کھاتے تھے ‘ تو آپ ﷺ اپنی تین انگلیاں چاٹ لیا کرتے تھے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٌ، [ص:331] ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 5252

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5253

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْجَوَالِيقِيُّ، بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا طَعِمَ أَحَدُكُمْ فَسَقَطَتْ لُقْمَتُهُ مِنْ يَدِهِ فَلْيُمِطْ مَا رَابَهُ مِنْهَا، وَلْيَطْعَمْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ يَدَهُ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ يُبَارَكُ لَهُ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَرْصُدُ النَّاسَ أَوِ الْإِنْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى عِنْدَ مَطْعَمِهِ أَوْ طَعَامِهِ، وَلَا يَرْفَعُ الصَّحْفَةَ حَتَّى يَلْعَقَهَا، أَوْ يُلْعِقَهَا فَإِنَّ فِي آخِرِ الطَّعَامِ الْبَرَكَةَ»

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں :انہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ۔ ’’ جب کوئی شخص کھانا کھا رہا ہو اور اس کالقمہ اس کے ہاتھ سے گر جائے ‘ تو اس پر جو چیز لگی ہوئی ہو اسے صاف کر کے آدمی کو اسے کھا لینا چاہئے اور اس لقمے کو شیطان کے لئے نہیں چھوڑنا چاہئے اور آدمی کو اپنے ہاتھ رومال سے اس وقت تک نہیں پونچھنے چاہئے ‘ جب تک وہ اپنے ہاتھ کو چاٹ نہیں لیتا کیونکہ آدمی یہ بات نہیں جانتا کہ اس کے کھانے کے کون سے حصے میں اس کےلئے برکت رکھی گئی ہے اور شیطان انسان کی گھات میں رہتا ہے ۔ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ہر چیز کے حوالے سے رہتا ہے یہاں تک کہ کھانے کے حوالے سے بھی رہتا ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) آدمی کو پیالہ اس وقت تک نہیں اٹھانا چاہئے ‘ جب تک وہ اسے چاٹ نہیں لیتا یا کسی دوسرے کو چاٹنے کے لئے نہیں دے دیتا کیونکہ کھانے کے آخری حصے میں برکت ہوتی ہے‘‘۔

النَّبِيِّ ← جَابِرٍ أَنَّهُ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْجَوَالِيقِيُّ بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ،

Hadith 5253

chevron_left Previous
12345…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr