صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5210
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت انس بن مالک ؓ کے حوالے سے منقول ہے۔
Hadith 5210
Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.
ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔
by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي
صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5210
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت انس بن مالک ؓ کے حوالے سے منقول ہے۔
Hadith 5210
صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5231
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، وَالْحَوْضِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ أَخْبَرَنِي قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمُرُّ بِنَا فَيَقُولُ: «لَا تُقَارِنُوا فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْقِرَانِ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ»
جبلہ بن سہیم بیان کرتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ہمارے پاس سے گزرے ‘ تو انہوں نے فرمایا: تم ( دو کھجوریں ) ملا کر نہ کھاؤ کیوں کہ نبی اکرمﷺ نے ( دو کھجوریں ) ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع کیاہے البتہ اگر آدمی اپنے بھائی سے اجازت حاصل کر لے ( تو حکم مختلف ہے)
الْقِرَانِ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ» ← كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمُرُّ بِنَا فَيَقُولُ: «لَا تُقَارِنُوا فَإِنَّ النَّبِيَّ نَهَى ← جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ وَالْحَوْضِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ
Hadith 5231
صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5232
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَكَلَ مَعَ قَوْمٍ مِنْ تَمْرٍ فَلَا يَقْرِنْ، فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يَفْعَلَ فَلْيَسْتَأْذِنْهُمْ، فَإِنْ أَذِنُوا لَهُ فَلْيَفْعَلْ»
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ‘نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’جو شخص لوگوں کے ساتھ کھجوریں کھا رہا ہو وہ دو کھجوریں ایک ساتھ نہ کھائے اگر وہ ایسا کرنے کا ارادہ کرتاہے‘ تو اسے ان سے اجازت لینی چاہئے اگر وہ اسے اجازت دے دیں ‘ تو ایسا کرے‘‘۔
النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، ← زيد1 ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← اَیُّوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزّانُ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ
Hadith 5232
صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5233
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، [ص:38] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «كُنْتُ فِي أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، فَبَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرِ عَجْوَةٍ، فَكُبَّتْ بَيْنَنَا، فَجَعَلْنَا نَأْكُلُ الثِّنْتَيْنِ مِنَ الْجُوعِ، وَجَعَلَ أَصْحَابُنَا إِذَا قَرَنَ أَحَدُهُمْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: إِنِّي قَدْ قَرَنْتُ فَأَقْرِنُوا»
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: میں اصحاب صفہ میں شامل تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے ہمیں عجوہ کھجوریں بھیجیں وہ ہمارے درمیان انڈیل دی گئی ‘ تو ہم بھوک کی شدت کی وجہ سے دو کھجوریں ایک ساتھ کھانے لگے ہم میں سے کوئی ایک شخص جب دو کھجوریں ایک ساتھ کھاتا ‘ تو وہ اپنے ساتھی یہ کہہ دیتا کہ میں دو ایک ساتھ کھا رہا ہوں ‘ تو تم بھی دو ‘ دو ایک ساتھ کھاؤ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الشَّعْبِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ
Hadith 5233
صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5234
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي [ص:39] مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ»
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوںمیں کھاتا ہے‘‘۔
اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَبُو يَعْلَى
Hadith 5234
صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5235
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ ضَيْفٌ كَافِرٌ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَ حِلَابَهَا، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَ حِلَابَهَا، حَتَّى شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاهٍ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِأُخْرَى فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ [ص:41] الْمُؤْمِنَ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ»
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : ایک کافر نبی اکرمﷺ کے ہاں مہمان کے طور پر آیا ۔ نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت اس کے لئے بکری کا دودھ دوہ لیا گیا ۔ اس نے اس کا دودھ پی لیا ‘یہاں تک کہ اس نے سات بکریوں کا دودھ پی لیا۔ اگلے دن وہ مسلمان ہو گیا۔ نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت بکری کا دودھ دوہ لیا گیا ‘ تو اس نے اسے پی لیا پھر نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت دوسری بکری کا دودھ دوہ لیا گیا ‘ تو وہ اسے مکمل طور پر نہیں پی سکا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ بیشک مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سا ت آنتوں میں پیتا ہے ‘‘۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،
Hadith 5235
صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5236
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْأَبْرَشُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ الْكِنَانِيُّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مَلَأَ آدَمَيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، حَسْبُكَ يَا ابْنَ آدَمَ لُقَيْمَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَكَ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَثُلُثٌ طَعَامٌ، وَثُلُثٌ شَرَابٌ، وَثُلُثٌ نَفَسٌ»
حضرت مقدام بن معدی کرب ؓ بیان کرتے ہیں ‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو ہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ آدمی پیٹ سے زیادہ برے برتن کو نہیں بھرتا ۔ اے ابن آدم تمہارے لئے چند لقمے کافی ہیں جو تمہاری پشت کو قائم رکھیں اگر بہت زیادہ ضروری ہو ‘ تو ( معدے کا ) ایک تہارئی حصہ کھانے کے لئے‘ ایک تہائی حصہ پانی کےلئے اور ایک تہائی حصہ سانس لینے کےلئے ہونا چاہئے۔
رَسُولِ اللَّهِ ← جده المقدام ← أَبِيهِ ← صَالِحِ بْنِ يَحْيَی بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي کَرِبَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ سَلِيمٍ الْكِنَانِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْأَبْرَشُ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ
Hadith 5236
صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5237
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ، وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ، وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ»
حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں ‘میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ ایک آدمی کا کھانا دو کے لئے کافی ہوتا ہے دو کا کھانا چار کے لئے کافی ہوتا ہے اور چار کا کھانا آٹھ کے لئے کافی ہوتا ہے ‘‘۔
«طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ، وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ، وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ» ← النَّبِيِّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،
Hadith 5237
صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5238
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْلِمُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ»
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے‘‘۔
ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،
Hadith 5238
صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5239
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِيلٍ الْبَالِسِيُّ، بِأَنْطَاكِيَّةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ». قَالَ الشَّيْخُ: «هَذَا الْخَبَرُ خَرَجَ عَلَى إِنْسَانٍ بِعَيْنِهِ»
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ‘‘۔ شیخ فرماتے ہیں : یہ روایت انسانوں کی صورت حال کی بالکل عین مطابق ہے۔
اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِيلٍ الْبَالِسِيُّ، بِأَنْطَاكِيَّةَ،
Hadith 5239
صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5240
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا أَنَا فَلَا آكُلُ [ص:45] مُتَّكِئًا»
حضرت ابو جحیفہؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جہاں تک میری بات ہے ‘ تو میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا‘‘۔
أَبِي جُحَيْفَةَ ← عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،
Hadith 5240
صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5241
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى بْنِ خَتٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبْنَةٍ مِنْ تَبُوكَ، فَدَعَا بِسِكِّينٍ فَسَمَّى وَقَطَعَ»
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: تبوک سے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں پنیر پیش کیا گیا۔ آپ ﷺ نے چھری منگوائی اور اللہ کا نام لیا اور اسے کاٹ دیا۔
«أُتِيَ النَّبِيُّ بِجُبْنَةٍ مِنْ تَبُوكَ، فَدَعَا بِسِكِّينٍ فَسَمَّى وَقَطَعَ» ← ابْنِ عُمَرَ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ ← يَحْيَى بْنُ مُوسَى بْنِ خَتٍّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Hadith 5241