Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5219

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:23] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: دَعَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا طَعِمَ وَغَسَلَ يَدَهُ، قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَلَا يُطْعَمُ، مَنَّ عَلَيْنَا فَهَدَانَا، وَأَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَكُلُّ بَلَاءٍ حَسَنٍ أَبْلَانَا، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَ مِنَ الطَّعَامِ، وَسَقَى مِنَ الشَّرَابِ، وَكَسَا مِنَ الْعُرْيِ، وَهَدَى مِنَ الضَّلَالَةِ، وَبَصَّرَ مِنَ الْعَمَى، وَفَضَّلَ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیا ن کرتے ہیں: ایک انصاری نے نبی اکرمﷺ کی دعوت کی حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتےہیں: نبی اکرمﷺ کے ساتھ میں بھی چلا گیا جب نبی اکرمﷺ نے کھانا کھایا اور اپنے ہاتھ دھو لئے ‘ تو آپ ﷺ نے یہ پڑھا۔ ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ جو کھلاتا ہے اسے کھلایا نہیں جاتا اس نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں ہدایت نصیب کی اس نے ہمیں کھانے کےلئے دیا۔ ہمیں پلایا اور ہمیں اچھی طرح کی صورت حال میں مبتلا کیا۔ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے مخصوص ہے ‘ جس نے کھانے میں سے کھلایا اور مشروب میں سے پلایا اور بے لباس جسم کو پہنایا اور گمراہی سے ہدایت نصیت کی۔ نابینا کوبصارت عطا کی اور اس کی اپنی مخلوق میں سے بہت سے لوگوں پر ہمیں فضیلت عطا کی ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ‘‘۔

فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا طَعِمَ وَغَسَلَ يَدَهُ، ← دَعَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ النَّبِيَّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ، [ص:184] ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5219

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5220

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، [ص:24] عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَسَقَى وَسَوَّغَهُ وَجَعَلَ لَهُ مَخْرَجًا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَبُو عَقِيلٍ هَذَا هُوَ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ، مِنْ سَادَاتِ أَهْلِ فِلَسْطِينَ ثِقَةً وَإِتْقَانًا»

حضرت ابو ایوب انصاریؓ نبی اکرمﷺ کے بارے مٰیں یہ بات نقل کرتے ہیں : جب آپ کھا کر یا پی کر فارغ ہوتے تھے ‘ تو آپﷺ یہ پڑھتے تھے۔ ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ جس نے کھلایا اور پلایا اور اس نے اسے خوشگوار کیا اور اس نے اس کے لئے نکلنے کا راستہ بنایا ‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں:) ابو عقیل نامی راوی زہری بن معبد ہے یہ فلسطین کے سرداروں میں سے ہیں اور ثقہ اور متقن ہیں۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَسَقَی وَسَوَّغَهُ وَجَعَلَ لَهُ مَخْرَجًا ← رَسُول الله أَنه كَانَ إِذا أكل أَو شرب ← أَبِي أَيُّوبَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، [ص:187] ← أَبِي عَقِيلٍ الْقُرَشِيِّ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 5220

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5221

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ خَالَتَهُ أَهْدَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا، فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَالْأَقِطِ، وَلَمْ يَأْكُلْ مِنَ الْأَضُبِّ تَقَذُّرًا، قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ: «أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُؤْكَلْ عَلَيْهَا»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: ان کی خالہ نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں گھی ، پنیر اور گوہ پیش کی ‘ تو نبی اکرمﷺ نے گھی اور پنیر کو کھا لیا ‘ لیکن آپ ﷺ نے گوہ کو نہیں کھایا آپ نے اسے پسند نہیں کیا۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے دستر خوان پر اسے کھایا گیا اگر یہ حرام ہوتی ‘ تو آپ کے دستر خوان پر اسے نہ کھایا جاتا۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 5221

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5222

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَبِي مُوسَى وَبَيْنَ يَدَيْهِ دَجَاجَةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا، قُلْنَا تَأْكُلُ مِنْهَا؟ فَقَالَ: أَكَلْتُهُ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «

زہدم جرمی بیان کرتے ہیں: ہم حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے سامنے مرغی رکھی ہوئی تھی اور وہ اسے کھا رہے تھے۔ ہم نے دریافت کیا آپ اسے کھا رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرمﷺ کے دستر خوان پر اسے کھایا ہے۔

أَكَلْتُهُ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ ← دَخَلْنَا عَلَى أَبِي مُوسَى وَبَيْنَ يَدَيْهِ دَجَاجَةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا، قُلْنَا تَأْكُلُ مِنْهَا؟ ← زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← وُهَيْبٌ، ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 5222

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5223

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، [ص:27] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ خَالَتِي بِنْتُ الْحَارِثِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا، فَدَعَا بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَكَلَ عَلَى مَائِدَتِهِ وَتَرَكَهُنَّ كَالْمُتَقَذِّرِ لَهُنَّ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَتْ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَمَرَ بِأَكْلِهِنَّ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: میری خالہ سیدہ اُم حفیدبنت حارث ؓ نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں گھی، پنیر اور وہ پیش کئے۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں منگوایا ‘ تو آپ کے دستر خوان پر اسے کھایا گیا ‘ لیکن نبی اکرمﷺ نے انہیں نا پسند کرتے ہوئے خود اسے نہیں کھایا اگر یہ حرام ہوتی ‘ تو نبی اکرمﷺ کے دستر خوان پر نہ کھائی جاتی اور آپﷺاسے کھانے کا حکم نہ دیتے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، [ص:98] ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيِّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 5223

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5224

أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبِ بْنِ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ وَحْشِيٍّ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ، قَالَ: «تَجْتَمِعُونَ عَلَى طَعَامِكُمْ أَوْ تَتَفَرَّقُونَ؟ » قَالُوا: نَتَفَرَّقُ، قَالَ: «[ص:28] اجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، يُبَارَكْ لَكُمْ»

جَدِّهِ وَحْشِيٍّ، ← أَبِيهِ ← وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبِ بْنِ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، بِبَغْدَادَ،

Hadith 5224

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5225

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ أَوْ يَمْشِيَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ أَوْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ»

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اس بات سے منع کیاہے ‘ کوئی شخص بائیں ہاتھ سے کھائے یا ایک جوتا پہن کر چلے یا اشتمال صماء کے طور پر لباس پہنے یا ایک کپڑے کو احتباء کے طور پر اس طرح لپیٹ لے کہ اس کیی شرم گاہ سے پرہ ہٹا رہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزبير المكي ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 5225

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5226

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَصْحَابُ الزُّهْرِيِّ كُلُّهُمْ قَالُوا فِي هَذَا الْخَبَرِ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ وَخَالَفَهُمْ مَعْمَرٌ، فَقَالَ: عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ، فَقِيلَ لِمَعْمَرٍ: خَالَفْتَ النَّاسَ، فَقَالَ: كَانَ الزُّهْرِيُّ يَسْمَعُ مِنْ جَمَاعَةٍ فَيُحَدِّثُ مَرَّةً عَنْ هَذَا وَمَرَّةً عَنْ هَذَا»

سالم اپنے والد ( حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جب کوئی شخص کچھ کھائے‘ تو اپنے دائیں ہاتھ سے کھائے‘ اور جب پیئے ‘ تو دائیں ہاتھ سے پیئے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) زہری کے تمام شاگردوں نے اس روایت کی سند میں یہ بات نقل کی ہے ‘ زہری نے یہ روایت نے ابو بکر بن عبید اللہ سے ‘ ان کے والد کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ جبکہ معمر نے ان کے برخلاف روایت نقل کی ہے ۔ وہ یہ کہتے ہیں: یہ زہری کے حوالے سے سالم کے حوالے سے ان کے والد ( حضرت عبد اللہ بن عمرؓ) سے منقول ہے ‘ تو معمر سے یہ بات کہی گئی آ پ دوسرے لوگوں کے برخلاف نقل کرتے ہیں ‘ تو انہوں نے کہا: زہری نے کئی افراد سے یہ حدیث سنی ہے ‘ توبعض اوقات وہ کسی ایک کے حوالے سے نقل کر دیتے ہیں ۔ بعض اوقات دوسرے کے حوالے سے نقل کر دیتے ہیں۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 5226

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5227

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْإِفْرِيقِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ، حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْعَلُ يَمِينَهُ لِطَعَامِهِ، وَيَجْعَلُ شِمَالَهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ» أَبُو أَيُّوبَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ الْإِفْرِيقِيُّ»

سیدہ حفصہ ؓ بیان کرتی ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ کو کھانے کے لئے مخصوص رکھا تھا اور بائیں ہاتھ کو دیگر کاموں کے لئے رکھا ہوا تھا۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) ابو ایوب نامی راوی کا نام عبد اللہ بن علی افریقی ہے۔

حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ، حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← عَاصِمٍ، ← أَبِي أَيُّوبَ الْإِفْرِيقِيِّ، ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 5227

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5228

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُعْطِيَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ شَيْئًا أَوْ يَأْخُذَ بِهَا، وَنَهَى أَنْ يَتَنَفَّسَ فِي إِنَائِهِ إِذَا شَرِبَ»

عبد اللہ بن ابو قتادہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے اس بات سے منع کیاہے ‘ کیا آدمی بائیں ہاتھ کے ذریعے کوئی چیز دے یا کوئی چیز پکڑے اور آپ نے پانی پیتے ہوئے برتن میں سانس لینے سے بھی منع کیاہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 5228

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5229

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ وَلَا يَشْرَبْ بِهَا، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِهَا وَيَشْرَبُ بِهَا» وَزَادَ فِيهِ نَافِعٌ: «وَلَا يَأْخُذَنَّ بِهَا، وَلَا يُعْطَيْنَ بِهَا»

الم بن عبد اللہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ کوئی شخص بائیں ہاتھ کے ذریعے نہ کھائے اور اس کے ذریعے نہ پئے کیونکہ شیطان اس کے ذریعے کھاتا ہے اور اس کےذریعے پیتاہے۔ نافع نے اپنی روایت میں یہ زائد الفاظ نقل کئے ہیں۔ ’’ اس کے ذریعے نہ پکڑے اور اس کے ذریعے نہ دے‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 5229

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5230

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، [ص:35] حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ، إِنْ أَكَلَتْ أَكَلَتْ طَيِّبًا وَإِنْ وَضَعَتْ وَضَعَتْ طَيِّبًا»

حضرت ابو ر زین عقیلیؓ ‘ نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح ہے اگر وہ کھاتا ہے ‘ تو پاکیزہ چیز کھاتاہے اور اگر رکھتا ہے ‘ تو پاکیزہ چیز رکھتا ہے‘‘۔

«مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ، إِنْ أَكَلَتْ أَكَلَتْ طَيِّبًا وَإِنْ وَضَعَتْ وَضَعَتْ طَيِّبًا» ← النَّبِيِّ ← عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، ← وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، [ص:35] ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ،

Hadith 5230

chevron_left Previous
1234…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr