Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5206

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جس کے گھر میں کھجوریں نہ ہو اس کے گھر والے بھوکے ہوتے ہیں ‘‘۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ،

Hadith 5206

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5207

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ [ص:7] السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا ثَرَدَتْ غَطَّتْهُ حَتَّى يَذْهَبَ فَوْرُهُ، ثُمَّ تَقُولُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْبَرَكَةِ»

سیدہ اسماء بنت ابو بکرؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ‘ جب وہ ثرید بناتی تھیں ‘ تو اسے ڈھانپ دیتی تھیں ‘ یہاں تک کہ اس کی گرمی رخصت ہو جاتی تھی ‘ پھر وہ یہ فرماتی تھیں میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : یہ برکت میں اضافے باعث ہے‘‘۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← قُرَّۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 5207

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5208

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ، بِتُسْتَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ فَطَعِمَ، فَقِيلَ لَهُ: قَبْلَ أَنْ تَتَوَضَّأَ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ فَأَتَوَضَّأَ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ قضائے حاجت کر کے تشریف لائے آ پ کھانا کھانے لگے ‘ تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئ آپ وضو کرنے سے پہلے ہی ( کھانے لگے ہیں ؟) نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میں کیا نماز پڑھنے لگا ہوں جو وضو کروں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← اَحْمَدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ زُھَیْرٍ الْحَافِظُ، بِتُسْتَرَ،

Hadith 5208

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5209

حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ»

حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جب کھانا رکھ دیا جائے اور نماز کھڑی ہو جائے ‘ تو پہلے کھانا کھا لو‘‘۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 5209

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5211

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ الشَّيْخُ الصَّالِحُ، قَالَ: [ص:10] حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي وَجْزَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْلِسْ يَا بُنَيَّ وَسَمِّ اللَّهَ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ» قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ أَكْلَتِي بَعْدُ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَبُو وَجْزَةَ يَزِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ السَّعْدِيُّ»

حضرت عمر بن ابو سلمہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے میرے بیٹے ! بیٹھو بسم اللہ پڑھو اور اپنے دائیں ہاتھ سے اور اپنے آگے سے کھاؤ۔ حضرت عمر بن ابو سلمہ ؓ فرماتے ہیں : اس کے بعد میں ہمیشہ اسی طرح کھاتا ہوں ۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) ابو وجزہ نامی راوی یزید بن عبید سعدی ہے۔

عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبِي وَجْزَةَ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ← أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِيُّ الشَّيْخُ الصَّالِحُ

Hadith 5211

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5212

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَاهُ إِلَى طَعَامٍ، فَقَالَ: «تَعَالَ [ص:12] يَا بُنَيَّ، كُلْ مِمَّا يَلِيكَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ»

عبد الرحمٰن بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں کھانے پر بلایا اور فرمایا: اے میرے بیٹے آگے آ جاؤ اور اپنے آگے سے کھاؤ اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اس پر اللہ کا نام لے لو۔

أَبِيهِ ← أَبِي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 5212

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5213

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اللَّهَ فِي أَوَّلِ طَعَامِهِ فَلْيَقُلْ حِينَ يَذْكُرُ: بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ، فَإِنَّهُ يَسْتَقْبِلُ طَعَامَهُ جَدِيدًا، وَيَمْنَعُ الْخَبِيثَ مَا كَانَ يُصِيبُ مِنْهُ»

قاس بن عبد الرحمٰن اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا ( حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ) کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص کھانے کے آغاز میں اللہ کا ذکر کرنا بھول جائے ‘ تو اسے جب یاد آئے ‘ تو وہ اس وقت یہ پڑھ لے: ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے آغاز میں بھی اور آخر میں بھی‘‘۔ تو وہ گویا اپنے کھانے کو نئے سرے سے شروع کرےگا۔ اس سے پہلے جو خرابی اس تک پہنچی تھی اسے روک دے گا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ← مُوسَى الْجُهَنِيَّ، ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ← خَلِیفَۃُ بْنُ خَیَّاطٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 5213

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5214

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَلَفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّمَرْقَنْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ طَعَامًا فِي سِتَّةِ نَفَرٍ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّهُ لَوْ كَانَ سَمَّى بِاللَّهِ لَكَفَاكُمْ، فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ [ص:14] عَلَيْهِ، فَإِنْ نَسِيَ فَي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ»

سید ہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ چھ آدمیوں کے ہمراہ کھانا کھا رہے تھے۔ اسی دوران ایک دیہاتی آیا اس نے دو لقمے لئے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اگر اس نے بسم اللہ پڑھ لی ہوتی ‘ تو یہ کھانا تم سب کےلئے کافی ہوتا جب کوئی شخص کھانا کھائے ‘ تو اسے اللہ کا نام لے لینا چاہئے اور اگر وہ اس کے آغاز میں اللہ کا نام لیتا بھول جاتاہے ‘تو پھر یہ پڑھنا چاہئے۔ ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اس کے آغاز میں بھی اور آخر میں بھی ‘‘۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَأْكُلُ طَعَامًا فِي سِتَّةِ نَفَرٍ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ، ← عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← بُدَيْلٍ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عِيسَی بْنُ أَحْمَدَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَلَفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّمَرْقَنْدِيُّ،

Hadith 5214

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5215

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ أَبِي وَجْزَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْنُ بُنَيَّ فَسَمِّ اللَّهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ». قَال: أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَبُو وَجْزَةَ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ السَّعْدِيُّ»َ

حضرت عمرابو سلمہ ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اے میرے بیٹے ! آگے جاؤ اللہ کا نام لو اپنے دائیں ہاتھ سے اور اپنے آگے سے کھاؤ ‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) ابو وجزہ نامی راوی کا نام یزید بن عبید سعدی ہے۔

عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبِي وَجْزَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ

Hadith 5215

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5216

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ بِالْهَاجِرَةِ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَسَمِعَ بِذَلِكَ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ قَالَ: مَا أَخْرَجَنِي إِلَّا مَا أَجِدُ مِنْ حَاقِّ الْجُوعِ، قَالَ: وَأَنَا وَاللَّهِ مَا أَخْرَجَنِي غَيْرُهُ، فَبَيْنَمَا هُمَا كَذَلِكَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا أَخْرَجَكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ؟ »، قَالَا: وَاللَّهِ مَا أَخْرَجَنَا إِلَّا مَا نَجِدُ فِي بُطُونِنَا مِنْ حَاقِّ الْجُوعِ، قَالَ: «وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَخْرَجَنِي غَيْرُهُ، فَقُومَا»، فَانْطَلَقُوا حَتَّى أَتَوْا بَابَ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَّخِرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا أَوْ لَبَنًا، فَأَبْطَأَ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ، فَلَمْ يَأْتِ لِحِينِهِ، فَأَطْعَمَهُ لِأَهْلِهِ وَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلِهِ يَعْمَلُ فِيهِ، فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَى الْبَابِ خَرَجَتِ امْرَأَتُهُ، فَقَالَتْ: مَرْحَبًا بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِمَنْ مَعَهُ، [ص:17] فَقَالَ لَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَيْنَ أَبُو أَيُّوبَ؟ » فَسَمِعَهُ وَهُوَ يَعْمَلُ فِي نَخْلٍ لَهُ، فَجَاءَ يَشْتَدُّ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِمَنْ مَعَهُ، يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَيْسَ بِالْحِينِ الَّذِي كُنْتَ تَجِيءُ فِيهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقْتَ» قَالَ: فَانْطَلَقَ فَقَطَعَ عِذْقًا مِنَ النَّخْلِ فِيهِ مِنْ كُلِّ التَّمْرِ وَالرُّطَبِ وَالْبُسْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَرَدْتُ إِلَى هَذَا، أَلَا جَنَيْتَ لَنَا مِنْ تَمْرِهِ» فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَحْبَبْتُ أَنْ تَأْكُلَ مِنْ تَمْرِهِ وَرُطَبِهِ وَبُسْرِهِ، وَلَأَذْبَحَنَّ لَكَ مَعَ هَذَا، قَالَ: «إِنْ ذَبَحْتَ فَلَا تَذْبَحَنَّ ذَاتَ دَرٍّ»، فَأَخَذَ عَنَاقًا أَوْ جَدْيًا فَذَبَحَهُ، وَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: اخْبِزِي وَاعْجِنِي لَنَا، وَأَنْتِ أَعْلَمُ بِالْخَبْزِ، فَأَخَذَ الْجَدْيَ فَطَبَخَهُ وَشَوَى نِصْفَهُ، فَلَمَّا أَدْرَكَ الطَّعَامُ، وُضِعَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، فَأَخَذَ مِنَ الْجَدْيِ فَجَعَلَهُ فِي رَغِيفٍ، فَقَالَ: «يَا أَبَا أَيُّوبَ أَبْلِغْ بِهَذَا فَاطِمَةَ، فَإِنَّهَا لَمْ تُصِبْ مِثْلَ هَذَا مُنْذُ أَيَّامٍ»، فَذَهَبَ بِهِ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى فَاطِمَةَ، فَلَمَّا أَكَلُوا وَشَبِعُوا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُبْزٌ وَلَحْمٌ [ص:18] وَتَمْرٌ وَبُسْرٌ وَرُطَبٌ» وَدَمِعَتْ عَيْنَاهُ «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ هَذَا لَهُوَ النَّعِيمُ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا {ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ} [التكاثر: 8] فَهَذَا النَّعِيمُ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»، فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: «بَلْ إِذَا أَصَبْتُمْ مِثْلَ هَذَا، فَضَرَبْتُمْ بِأَيْدِيكُمْ، فَقُولُوا: بِسْمِ اللَّهِ، وَإِذَا شَبِعْتُمْ فَقُولُوا: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هُوَ أَشْبَعَنَا وَأَنْعَمَ عَلَيْنَا وَأَفْضَلَ، فَإِنَّ هَذَا كَفَافٌ بِهَا» فَلَمَّا نَهَضَ قَالَ لِأَبِي أَيُّوبَ: «ائْتِنَا غَدًا» وَكَانَ لَا يَأْتِي إِلَيْهِ أَحَدٌ مَعْرُوفًا إِلَّا أَحَبَّ أَنْ يُجَازِيَهُ، قَالَ: وَإِنَّ أَبَا أَيُّوبَ لَمْ يَسْمَعْ ذَلِكَ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ أَنْ تَأْتِيَهَ غَدًا، فَأَتَاهُ مِنَ الْغَدِ، فَأَعْطَاهُ وَلِيدَتَهُ، فَقَالَ: «يَا أَبَا أَيُّوبَ اسْتَوْصِ بِهَا خَيْرًا، فَإِنَّا لَمْ نَرَ إِلَّا خَيْرًا مَا دَامَتْ عِنْدَنَا» فَلَمَّا جَاءَ بِهَا أَبُو أَيُّوبَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا أَجِدُ لَوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا مِنْ أَنْ أَعْتِقَهَا، فَأَعْتَقَهَا

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: دن چڑھنے کے بعد حضرت ابو بکرؓ مسجد تشریف لائے حضرت عمرؓ نے ان کی آواز سنی ‘ تو بولے‘ اے ابو بکر آپ اس وقت ‘ تو نہیں آتے ہیں۔ حضرت ابو بکرؓ نے بتایا میں شدید بھوک کی وجہ سے اس وقت آیا ہوں ‘ تو حضرت عمرؓ نے کہا: اللہ کی قسم میں بھی صرف اسی وجہ سے آیا ہوں ابھی یہ دونوں حضرات اسی حالت میں تھے کہ نبی اکرمﷺ ان دونوں کے پاس تشریف لے آئے۔ آپ نے دریافت کیا تم دونوں اس وقت کیوں آئے ہو ؟ ان دونوں نے عرض کی: اللہ کی قسم ہم شدید ترین بھوک کی وجہ سے اس وقت باہر نکلے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہیں ۔ میں بھی صرف اسی وجہ سے باہر آیا ہوں تم دونوں اٹھو پھر یہ دونوں حضرات حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر تشریف لے گئے۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ نبی اکرمﷺ کے لئے کھانا اور دودھ وغیرہ سنبھال کر رکھتے تھے۔ اس دن تاخیر ہو گئی تھی وہ اس وقت نہیں آئے تھے۔ انہوں نے اپنے گھر والوں کو کھانا کھلایا اور خود کھجور کےباغ میں چلے گئے تاکہ وہاں کام کرتے رہیں ۔ جب یہ حضرات حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر پہنچے ‘ تو حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کی اہلیہ باہر آئیں۔ انہوں نے عرض کی: اللہ کے نبی اور ان کے ساتھیوں کو خوش آمدید نبی کریم ﷺ نے اس خاتون سے دریافت کیا: ابو ایوبن کہاں ہے؟ حضرت ابو ایوبؓ نے آپ کی آواز سن لی وہ اس وقت اپنے باغ میں کام کر رہےتھے۔ وہ جلدی سے چلتے ہوئے آئے اور عرض کی اللہ کے نبی اور ان کے ساتھیوں کو خوش آمدید اے اللہ کے نبی آپ عام طور پر اس وقت تشریف نہیں لاتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا تم نے ٹھیک کہا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر حضرت ابو ایوب انصاریؓ گئے اور کھجور کے باغ میں سے ہر قسم کی کھجوریں خشک ‘ تازہ اور تر کھجوریں لے کر آئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میں یہ نہیں چاہتا تھا تم نے ہمارے لئے صرف خشک کھجوریں لے آنی تھیں ۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی میں یہ چاہتا تھا کہ آپ خشک اور تازہ ہر طرح کی کھجوریں کھائیں۔ میں اس کے ہمراہ آپ کے لئے جانور بھی ذبح کرتا ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم نےذبح کرنا ہے‘ تو دودھ دینے والا جانور ذبح نہ کرنا پھر انہوں نے ایک بکری یا بھیڑ کا بچہ ذبح کیا اور اپنی بیوی سے کہا تم روٹی پکاؤ اور ہمارے لئے آٹا گوندھ لو ‘ تمہیں اچھی روٹی پکانی آتی ہے پھر انہوں نے بھیڑ کا بچہ لے کر اس کو پکایا اور اسکا نصف حصہ بھون لیا جب کھانا تیار ہوا ‘ تو وہ نبی اکرمﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے سامنے رکھا گیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے کچھ گوشت لے کر اس کے ساتھ روٹی رکھی اور فرمایا: اے ابو ایوب ! یہ فاطمہ تک پہنچا دو کیوں کہ اس نے بھی کئی دن سے کھانا نہیں کھایا۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ وہ کھانا سیدہ فاطمہ ؓ تک پہنچانے چلے گئے جب ان حضرات نے کھانا کھا لیا اور سیر ہو گئے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: روٹی اور گوشت خشک تازہ کھجوریں ‘ پھر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں تم سے دریافت کیا جائے گا ۔ ارشادباری تعالیٰ ہے۔ ’’ اس دن تم سے ضرور نعمتوں کے بارے میں دریافت کیا جائے گا ‘‘۔ ( نبی اکرمﷺ نے فرمایا ) ‘ تو یہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن تم سے حساب لیا جائے گا۔ یہ بات آپﷺ کے ساتھیوں کو گراں گزری‘ تو آپ نے ارشا د فرمایا: جب تمہیں اس طرح کی نعمتیں نصیب ہوں ‘ تو تم اپنے ہاتھ آگے بڑھاؤ اور بسم اللہ پڑھ لو اور جب تم سیر ہو جاؤ ‘ تو یہ پڑھو۔ ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے مخصوص ہے ‘ جس نے ہمیں سیر کیا اور اس نے ہم پر نعمتیں کیں اور فضل کیا‘‘۔ تو یہ ان کے لئے کفایت کر جائےگا۔ جب یہ حضراب اٹھنے لگے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے حضرت ابو ایوبؓ سے فرمایا: تم کل ہمارے ہاں آنا نبی اکرمﷺ کے ساتھ جب بھی کوئی اچھائی کی جاتی تھی‘ تو آپ کو یہ بات پسند تھی کہ آپ اس کا بدلہ دیں۔ راوی بیا ن کرتے ہیں: حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے یہ بات نہیں سنی ‘ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: نبی اکرمﷺ نے آپ کو یہ ہدایت کی ہے ‘ آپ کل ان کی خدمت میں حاضر ہوں۔ اگلے دن حضرت ابو ایوب انصاریؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اپنی کنیز انہیں عطا کی آپ نے ارشاد فرمایا: اے ابو ایوب اس کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو کیونکہ یہ ‘ جب تک ہمارے پاس رہی ۔ ہم نے اس میں صرف بھلائی دیکھی ہے ‘ جب حضرت ابو ایوب انصاریؓ اس کنیز کو نبی اکرمﷺ کے پاس سے لے آئے ‘ تو انہوں نے کہا: نبی اکرمﷺ نے اس کے بارے میں جو بھلائی کی تلقین کی ہے۔ اس کے حوالے سے مجھے اس سے بہتر کوئی چیز نہیں ملتی کہ میں اسے آزاد کر دوں ‘ تو حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے اس کنیز کو آزاد کر دیا۔

يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ ← بِذَلِكَ عُمَرُ، ← خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ بِالْهَاجِرَةِ إِلَى الْمَسْجِدِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ،

Hadith 5216

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5217

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ جَشِيبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عِنْدَ انْقِضَاءِ الطَّعَامِ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ»

حضرت ابو امامہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو سنا آپ نے کھانے سے فارغ ہوکر یہ دعا پڑھی۔ ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ جو زیادہ ہو پاکیزہ ہو اس میں برکت موجود ہو وہ ایسی نہ ہو کہ کفایت نہ کرے اور نہ ہی اسے وداع کیا گیا ہو اور نہ ہی اس سے بے نیازی اختیار کی گئی ہو‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← عَامر بن جشيب ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 5217

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اَنْ لَا یَخْلُوَ بَیْتُہُ مِنَ التَّمْرِ · حديث 5218

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ: شَهِدْنَا طَعَامًا فِي مَنْزِلِ عَبْدِ الْأَعْلَى وَمَعَنَا أَبُو أُمَامَةَ، فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ عِنْدَ انْقِضَاءِ الطَّعَامِ: مَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ خَطِيبًا، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عِنْدَ انْقِضَاءِ الطَّعَامِ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ جَشِيبِ، وَبَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ»

خالد بن معدان بیان کرتے ہیں: ہم لوگ عبدالاعلیٰ کے گھر کھانے پر مدعو تھے۔ ہمارے ساتھ حضرت ابا امامہ ؓ بھی تھے۔ کھانے سے فارغ ہونے پر حضرت ابو امامہ ؓ نے فرمایا مجھے یہ بات پسند نہیں ہے ‘ میں خطبہ دینا شروع کر دوں ‘ لیکن نبی اکرمﷺ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے۔ ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ۔ایسی حمد جو زیادہ ہو پاکیزہ ہو اس میں برکت موجود ہو ‘ اسے و داع نہ کیا گیا ہو اور وہ اس سے بے نیازی نہ اختیار کی گئی ہو‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : )یہ روایت معاویہ بن صالح نے عامر بن جشیب کے حوالے سے اور بحیر بن سعد نے خالد بن معدان کے حوالے سے سنی ہے ‘ تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔

أَبُو أُمَامَةَ عِنْدَ انْقِضَاءِ الطَّعَامِ: مَا أُحِبُّ ← مَعَنَا أَبُو أُمَامَةَ، ← شَهِدْنَا طَعَامًا فِي مَنْزِلِ عَبْدِ الْأَعْلَى ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 5218

chevron_left Previous
1234…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr