Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا · حديث 7474

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الْأَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ، وَأَهْلُ النَّارِ إِلَى النَّارِ أُتِيَ بِالْمَوْتِ حَتَّى يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحُ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ لَا مَوْتَ، يَا أَهْلَ النَّارِ لَا مَوْتَ، فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ، وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: خَبَرُ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: «يُجَاءُ بِالْمَوْتِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ»، [ص:517] تَنَكَّبْنَاهُ، لِأَنَّهُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ، قَالَ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: «يُجَاءُ بِالْمَوْتِ» يُرِيدُ يُمَثِّلُ لَهُمُ الْمَوْتُ لَا أَنَّهُ يُجَاءُ بِالْمَوْتِ

حضرت عبداللہ بن عمرؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "جب اہل جنت ، جنت میں چلے جائیں گے اور اہل جہنم جہنم میں چلےجائیں گے ، تو موت کو لایا جائے گا اس کو جنت اور جہنم کے درمیان رکھا جائے گا ، اور پھر ذبح کر دیا جائےگا ۔ پھر ایک منا دی یہ اعلان کر ے گا ۔ اے اہل جنت اب موت نہیں آئے گی ۔ اے اہل جہنم اب موت نہیں آئے گی ۔ اس کے نتیجے میں اہل جنت کی خوشی میں اضافہ ہو جائے گا ، اور اہل جہنم کے غم میں اضافہ ہو جائے گا"۔( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں :)اعمش نے ابو صالح کے حوالے سے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ موت کو ایک دنبے کی شکل میں لایا جائے گا ۔ ہم نے اس روایت کو نقل نہیں کیا ہے کیونکہ اس کی سند متصل نہیں ہے ۔ شجا ع بن ولید نے اس اعمش کے حوالے سےنقل کیا ہے وہ یہ کہتےہیں : میں نے اسے لوگوں کو ابو صالح کے حوالے سے نقل کرتے ہوئےسنا ہے ۔ روایت کے یہ الفاظ "موت کو لایا جائے گا "اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ موت کو کسی وجود کی شکل میں لایا جائے گا۔ یہ مراد نہیں ہے کہ موت کو لایا جائے گا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ أَبَاهُ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الْأَيْلِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7474

صیح ابن حبان · بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا · حديث 7475

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ، قَالَ: «لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ، وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَأْتِيهَا، فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، قَدْ وَجَدْتُهَا مَلْأَى، فَيَقُولُ لَهُ: اذْهَبْ فَارْجِعْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَأْتِيهَا، فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى، فَيَرْجِعُ إِلَيْهِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، قَدْ وَجَدْتُهَا مَلْأَى، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: اذْهَبْ [ص:518] فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ بِي، أَوْ تَضْحَكُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟ قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ» قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَكَانَ يُقَالُ: «إِنَّ ذَلِكَ الرَّجُلَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً»

حضرت عبداللہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "میں جہنم سے نکلنے والے آخری جنتی کو جانتا ہوں اور جنت میں داخل ہونے والے جنتی کو جانتا ہوں ۔ ایک شخص جہنم میں گسٹتا ہوا نکلےگا ، تو اللہ تعالیٰ فرماے گا: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ جنت میں آئے گا ، تو اسے یہ محسوص ہوگا کہ وہ بھر چکی ہے ۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار ! میں نے اسے پایا ہے کہ وہ بھر چکی ہے ۔ پروردگار اس سےفرمائےگا : تم واپس جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ اس میں آئے گا ، تو اسے لگے گا کہ وہ بھر چکی ہے ۔ وہ واپس پروردگار کی بارگاہ میں جائے گا ، اور عرض کرے گا : اے پروردگار میں نے اسے پایا ہے کہ وہ بھر چکی ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائےگا : تم جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ تمہیں دنیا اور دنیا کا دس گنا مزید ملتا ہے ۔ وہ عرض کر ے گا کیا ، تو میرا مذاق اڑا رہا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں :) کیا، تو مجھ پر ہنس رہا ہے ۔ جبکہ ، تو بادشاہ ہے"۔راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو مسکراتے ہوئے دیکھا ، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ ابراہیم نامی راوی کہتےہیں : یہ بات کہی جاتی ہے کہ یہ جنت کے سب سے کم مرتبے کے شخص کا عالم ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عُبَيْدَةُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 7475

صیح ابن حبان · بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا · حديث 7476

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «اخْتَصَمَتِ الْجَنَّةُ [ص:519] وَالنَّارُ، فَقَالَتِ النَّارُ: يَدْخُلُنِي الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: يَدْخُلُنِي ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَأَسْقَاطُهُمْ، فَقَالَ اللَّهُ لِلنَّارِ: أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ، وَقَالَ لِلْجَنَّةِ: أَنْتِ رَحْمَتِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا»

حضرت ابوہریرہؓنبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "جنت اور جہنم میں بحث ہوگئی ۔ جہنم نے کہا: میرے اندر جبار اور متکبر داخل ہوں گے ۔ جنت نے کہا:میرے اندر کمزور اور عام افراد داخل ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم سے فرمایا:تم میرا عذاب ہو تمہارے ذریعے میں جسے چاہوں گا عذاب دوں گا ، اور جنت سے فرمایا: تم میری رحمت ہو تمہارے ذریعے میں جسے چہاوں گا ( رحمت عطا کروں گا) اور تم دونوں میں سے ہر ایک نے بھرنا ہے "۔

اللَّهُ لِلنَّارِ: أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ، ← الْجَنَّةُ: يَدْخُلُنِي ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَأَسْقَاطُهُمْ، ← النَّارُ: يَدْخُلُنِي الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ، ← «اخْتَصَمَتِ الْجَنَّةُ [ص:519] وَالنَّارُ، ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Hadith 7476

صیح ابن حبان · بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا · حديث 7477

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «احْتَجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتِ الْجَنَّةُ: مَا بَالِي يَدْخُلُنِي الْفُقَرَاءُ وَالضُّعَفَاءُ؟ وَقَالَتِ النَّارُ: مَا بَالِي يَدْخُلُنِي الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ؟ فَقَالَ اللَّهُ: أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ، وَقَالَ لِلنَّارِ: أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ مِلْؤُهَا»

حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "جنت اور جہنم میں بحث ہوگئی ۔ جنت نے کہا: میرا یہ معاملہ ہے کہ میرے اندر غریب اور ضعیف لوگ داخل ہوں گے ۔ جہنم نے کہا: میرا یہ معاملہ ہے ، میرے اندر جبار اور متکبر داخل ہوں گے ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم میری رحمت ہو، میں تمہارے ذریعے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا ، اور جہنم سے فرمایا: تم میرا عذاب ہو، میں تمہارے ذریعے جسے چاہوں گا ( عذاب دوں گا) اور تم دونوں میں سے ہر ایک نے بھرنا ہے "۔

اللَّهُ: أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ، ← النَّارُ: مَا بَالِي يَدْخُلُنِي الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ؟ ← الْجَنَّةُ: مَا بَالِي يَدْخُلُنِي الْفُقَرَاءُ وَالضُّعَفَاءُ؟ ← «احْتَجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 7477

صیح ابن حبان · بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا · حديث 7478

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ بِالصَّدَقَةِ، وَحَثَّهُنَّ عَلَيْهَا، فَقَالَ: «تَصَدَّقْنَ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ»، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: بِمَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتُسَوِّفْنَ الْخَيْرَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ»

حضرت حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے خواتین کو صدقہ کرنے کا حکم دیا اور انہیں اس کی ترغیب دی ، آپ نے فرمایا: تم صدقہ کرو، کیونکہ اہل جہنم میں اکثریت تمہاری ہے ۔ ان میں سے ایک خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیونکہ تم لعنت بکثرت کرتی ہو، اور بھلائی کا انکار کرتی ہو، اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں :) "عثیر"سے مراد شوہر ہے ۔

امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: بِمَ ذَلِكَ ← «تَصَدَّقْنَ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ»، ← أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ النِّسَاءَ بِالصَّدَقَةِ، وَحَثَّهُنَّ عَلَيْهَا، ← أَبِيهِ ← حزام بن حكيم بن حزام: ← زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← اَیُّوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزّانُ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Hadith 7478

صیح ابن حبان · بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا · حديث 7479

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَوَعَظَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالطَّاعَةِ لِأَزْوَاجِهِنَّ، وَقَالَ: «إِنَّ مِنْكُنَّ مَنْ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ، وَجَمَعَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَمِنْكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ، وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ»، فَقَالَتِ الْمَارِدِيَّةُ أَوِ الْمُرَادِيَّةُ: وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «تَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَتُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتُسَوِّفْنَ الْخَيْرَ»

حضرت حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرمﷺ نے خواتین کو خطبہ دیتے ہوئے انہیں وعظ و نصیحت کی ، اور انہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور اپنے شوہروں کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم میں سے کچھ خواتین وہ ہیں ، جو جنت میں داخل ہوں گی ، نبی اکرمﷺ نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کر لیا ، اور کچھ خواتین وہ ہیں ، جو جہنم کا ایندھن ہوں گی ، نبی اکرمﷺ نے ( یہ کہتے ہوئے ) اپنی انگلیوں کو پھیلا لیا ، تو ان میں سے ایک خاتون ، جس کا تعلق "مارد"یا شاید "مراد " قبیلے سے تھا ، اس نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیونکہ تم شوہر کی ناشکری کرتی ہو، لعنت زیادہ کرتی ہو، اور بھلائی سے گریز کرتی ہو۔

خَطَبَ النَّبِيُّ النِّسَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَوَعَظَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالطَّاعَةِ لِأَزْوَاجِهِنَّ، ← حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ← حزام بن حكيم بن حزام: ← زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 7479

صیح ابن حبان · بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا · حديث 7480

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ بِعُكْبَرَاءَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، [ص:522] عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَائِدَةُ وَالْمَوْءُودَةُ فِي النَّارِ» أَخْبَرَنَاهُ ابْنُ ذَرِيحٍ فِي عَقِبِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: قَالَ أَبِي: فَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، أَنَّ عَامِرًا حَدَّثَهُ بِذَلِكَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. [ص:523] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «خِطَابُ هَذَا الْخَبَرِ وَرَدَ فِي الْكُفَّارِ دُونَ الْمُسْلِمِينَ يُرِيدُ بِقَوْلِهِ: الْوَائِدَةُ وَالْمَوْءُودَةُ مِنَ الْكُفَّارِ فِي النَّارِ»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "زندہ درگور کرنے والی اور زندہ درگور ہونے والی جہنمی ہوں گی "۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے حوالے سے ، نبی اکرمﷺ نے منقول ہے ۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں :) روایت کے یہ الفاظ کفار ( کی خواتین ) کے بارے میں ہیں ، مسلمانوں کے بارے میں نہیں ہیں ۔ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : "زندہ درگور کرنے والی اور زندہ درگور ہونے والی"سے مراد وہ عورتیں ہیں ، جو کفار سے تعلق رکھتی ہیں ۔ وہ جہنم میں ہوں گی ۔

عَامِرٍ، ← أَبِي، [ص:522] ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ بِعُكْبَرَاءَ،

Hadith 7480

صیح ابن حبان · بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا · حديث 7481

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ [ص:525] الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ الْعُقَيْلِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ: أَمِيرٌ مُسَلَّطٌ، وَذُو ثَرْوَةٍ مِنْ مَالٍ، لَا يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ، وَفَقِيرٌ فَخُورٌ»

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "میر ے سامنے ان تین افراد کو پیش کیا گیا ، جو جہنم میں پہلے داخل ہوں گے ( ایک ) مسلط کیا جانے والا حکمران ، ( دوسرا ) ایسا مال دار شخص جو اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا نہیں کرتا ، ( تیسرا ) غریب متکبر"۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← عَامِرُ بْنُ الْعُقَيْلِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ [ص:525] الْمُثَنَّى، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 7481

صیح ابن حبان · بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا · حديث 7482

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ مَطَرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ: [ص:526] الضَّعِيفُ الَّذِي لَا يُؤْبَهُ لَهُ وَهُوَ فِيكُمْ تَبَعٌ لَا يَبْغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا»، قُلْتُ: وَيَكُونُ ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَاللَّهِ لَقَدْ أَدْرَكْتُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْعَى عَلَى الْحَيِّ مَا بِهِ إِلَّا وَلِيدَتُهُمْ يَطَؤُهَا، وَرَجُلٌ لَا يُصْبِحُ وَلَا يُمْسِي إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكِ وَمَالِكِ، وَرَجُلٌ لَا يُخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ إِلَّا خَانَهُ وَإِنَّ دَقَّ، وَذَكَرَ الْكَذِبَ، وَذَكَرَ الْبُخْلَ»

حضرت عیاض بن حمارؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "اہل جہنم پانچ قسم کے لوگ ہیں ، وہ ضعیف شخص جس کی پرواہ نہیں کی جاتی اور وہ تمہارے درمیان پیروکار ( تابع فرمان ) کے طور پر رہتے ہیں ، وہ نہ بیوی بچے چاہتے ہیں ، نہ مال چاہتےہیں ( راوی کہتے ہیں ) میں نے دریافت کیا: اے ابو عبداللہ ! کی ایسا ہوں گا؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں !اللہ کی قسم ! میں نے زمانہ جاہلیت میں ایسے لوگوں کو پایا ہے ، جو کسی قبیلے کا پہرہ صرف اس لیے دیا کرتا تھا ، تاکہ اس کے ذریعے ( اس قبیلے کی کسی) لڑکی کےساتھ زنا کر لے "۔وہ شخص جو صبح و شام تمہاری بیوی اور مال کے حوالے سے تمہارے ساتھ دھوکہ سے کام لے، وہ شخص جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہتی ، وہ خیانت کرتا ہے ، خواہ وہ چیز کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو۔ پھر انہوں نے جھوٹ اور بخل کا بھی ذکر کیا۔

عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← قَتَادَةَ ← مَطَرٍ، ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Hadith 7482

صیح ابن حبان · بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا · حديث 7483

سَمِعْتُ الْهَيْثَمَ بْنَ خَلَفٍ الدُّورِيَّ بِبَغْدَادَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ مُوسَى الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ: «يُخْرِجُ اللَّهُ قَوْمًا مِنَ النَّارِ [ص:527] فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ»، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ فِي حَدِيثِ عَمْرٍو: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ، وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنْهَا} [المائدة: 37]، فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: إِنَّكُمْ تَجْعَلُونَ الْخَاصَّ عَامًّا، هَذِهِ لِلْكُفَّارِ اقْرَؤُوا مَا قَبْلَهَا، ثُمَّ تَلَا: {إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ، وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنْهَا} [المائدة: 37] هَذِهِ لِلْكُفَّارِ.

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : میں نے ان دونوں کانوں کے ذریعے سنا ۔ انہوں نے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کر کے یہ کہا: ( نبی اکرمﷺ نے فرمایا:) " اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کوجہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر ے گا"۔ عمرو کی روایت میں یہ الفاظ ہیں ۔ ایک شخص نےان سے کہا: اللہ تعالیٰ نےیہ ارشاد فرمایا: "و ہ لوگ جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے لیکن وہ اس سے نکل نہیں سکیں گے "۔ تو حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے فرمایا: تم لوگ خصوصی مفہوم سے عام مفہوم مراد لے رہے ہو ۔ یہ کفار کے بارے میں ہے تم اس سے پہلے والے حصے کو بھی تلاوت کرو ۔ انہوں نے یہ تلاوت کی: "بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیااگر ان کےلیے زمین میں موجود سب کچھ ہو اور اس کی مانند مزید ان کے ساتھ اور وہ قیامت کےدن عذاب کےلیے اسے فدیے کے طور پر دینا چاہیں ، تو وہ ان کی طرف سے قبول نہیں کیا جائے گا انہیں دردناک عذاب ہوگا وہ جہنم سے نکلنا چاہیں گے لیکن وہ اس سے نہیں نکل سکیں گے "۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إسحاق بن موسیٰ الأنصاري ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ،

Hadith 7483

صیح ابن حبان · بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا · حديث 7484

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَأَبُو يَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، وَهِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً» قَالَ يَزِيدُ: فَلَقِيتُ شُعْبَةَ فَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ شُعْبَةُ: [ص:529] حَدَّثَنِي بِهِ قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ إِلَّا أَنَّ شُعْبَةَ جَعَلَ مَكَانَ الذَّرَّةِ ذَرَّةً، قَالَ يَزِيدُ: صَحَّفَ فِيهِ أَبُو بِسْطَامٍ، قَالَ يَزِيدُ: فَلَقِيتُ عِمْرَانَ الْقَطَّانَ أَبَا الْعَوَّامِ فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ، فَقَالَ عِمْرَانُ: حَدَّثَنِي بِهِ قَتَادَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبَى هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَدِيثِ، قَالَ يَزِيدُ: أَخْطَأَ فِيهِ عِمْرَانُ، وَوَهِمَ فِيهِ

حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "جہنم سے ہر وہ شخص نکلے گا ، جو لا الٰہ الا اللہپڑھتا ہو اور اس کے دل میں ذرے کے وزن جتنا ایمان ہو "۔ یزید کہتےہیں : میری ملاقات شعبہ سے ہوئی ۔ میں نے انہیں یہ حدیث بیان کی ، تو شعبہ نے بتایا ، قتادہ نے یہ روایت حضرت انس ؓ کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ البتہ شعبہ نے لفظ الذرہ کی بجائے ذرہ استعمال کیا ہے ۔ یزید بیان کرتے ہیں : اس روایت میں ابو بسطام نامی راوی نے تصحیف کی ہے ۔ یزید کہتےہیں : میری ملاقات عمران قطان سے ہوئی ۔ میں نے انہیں یہ حدیث سنائی ، تو عمران نے بتایا : قتادہ نے یہ حدیث عطاء بن یزید لیثی کے حوالے سے حضرت ابوہریرہؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ سے منقول ہونے کے طور پر مجھے سنائی تھی۔ یزید کہتےہیں : اس روایت میں عمران نے غلطی کی ہے اور انہیں اس میں وہم ہوا ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، وَهِشَامٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَأَبُو يَعْلَى،

Hadith 7484

صیح ابن حبان · بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ صِفَۃِ النَّارِ وَاَھلِھَا · حديث 7485

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا، فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوتُونَ، وَلَا يَحْيَوْنَ، وَلَكِنَّ أُنَاسًا تُصِيبُهُمُ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ فَيُمِيتُهُمْ حَتَّى إِذَا صَارُوا فَحْمًا أَذِنَ فِي الشَّفَاعَةِ»

حضرت ابوسعید خدری ؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے ، جو اس کے اہل ہوں گے یہ لوگ اس میں مریں گے بھی نہیں اور زندہ بھی نہیں رہیں گے ۔ البتہ کچھ لوگوں کو ان گناہوں کے عوض میں جہنم لاحق ہوگی وہ انہیں مار دے گی ، یہاں تک وہ کوئلہ ہو جائیں گے ، تو ان کی شفاعت کی جائے گی "۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← أَبُو مَسْلَمَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 7485

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr