Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7445

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ نَاسٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي يَوْمِ صَائِفٍ، وَالسَّمَاءُ مُصْحِيَةٌ غَيْرُ مُتَغَيِّمَةٍ لَيْسَ فِيهَا سَحَابَةٌ»، قَالُوا: لَا، قَالَ: «فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَالسَّمَاءُ مُصْحِيَةٌ غَيْرُ مُتَغَيِّمَةٍ لَيْسَ فِيهَا سَحَابَةٌ؟ » قَالُوا: لَا، قَالَ: «فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، كَذَلِكَ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، كَمَا لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَلْقَى الْعَبْدُ رَبَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: أَيْ فُلُ أَلَمْ أَخْلُقْكَ؟ أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيرًا؟ أَلَمْ أُزَوِّجْكَ؟ أَلَمْ أَكْرِمْكَ؟ أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ؟ أَلَمْ أُسَوِّدْكَ وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ؟ فَيَقُولُ: بَلَى أَيْ رَبِّ، فَيَقُولُ: فَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: الْيَوْمَ أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي، [ص:479] قَالَ: وَيَلْقَاهُ الْآخَرُ، فَيَقُولُ: أَيْ فُلُ أَلَمْ أَخْلُقْكَ؟ أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيرًا؟ أَلَمْ أُزَوِّجْكَ؟ أَلَمْ أُكْرِمْكَ؟ أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ؟ أَلَمْ أُسَوِّدْكَ وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ؟ فَيَقُولُ: بَلَى يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: فَمَاذَا أَعْدَدْتَ لِي، فَيَقُولُ: آمَنْتُ بِكَ وَبِكِتَابِكَ وَبِرَسُولِكَ وَصَدَّقْتُ وَصَلَّيْتُ وَصُمْتُ، فَيَقُولُ: فَهَا هُنَا إِذًا ثُمَّ، يَقُولُ: أَلَا نَبْعَثُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَيُفَكِّرُ فِي نَفْسِهِ مَنْ هَذَا الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيَّ؟ قَالَ: وَذَلِكَ الْمُنَافِقُ الَّذِي يَغْضَبُ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَذَلِكَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ، وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ: انْطِقِي فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ وَعِظَامُهُ وَعَصَبُهُ بِمَا كَانَ يَعْمَلُ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ، أَلَا اتَّبَعَتْ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ، فَيَتْبَعُ عَبْدَةُ الصَّلِيبِ الصَّلِيبَ، وَعَبْدَةُ النَّارِ النَّارَ، وَعَبْدَةُ الْأَوْثَانِ الْأَوْثَانَ، وَعَبْدَةُ الشَّيْطَانِ الشَّيْطَانَ، وَيَتْبَعُ كُلُّ طَاغِيَةٍ طَاغِيَتَهَا إِلَى جَهَنَّمَ، وَنَبْقَى أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ، وَنَحْنُ الْمُؤْمِنُونَ فَيَأْتِينَا رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى، وَنَحْنُ قِيَامٌ، فَيَقُولُ: عَلَامَ هَؤُلَاءِ قِيَامٌ؟ فَنَقُولُ: نَحْنُ عِبَادُ اللَّهِ [ص:480] الْمُؤْمِنُونَ آمَنَّا بِهِ، وَلَمْ نُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا وَهَذَا مَقَامُنَا وَلَنْ نَبْرَحَ حَتَّى يَأْتِينَا رَبُّنَا، وَهُوَ رَبُّنَا وَهُوَ يُثَبِّتُنَا، فَيَقُولُ: وَهَلْ تَعْرِفُونَهُ؟ فَنَقُولُ: سُبْحَانَهُ إِذَا اعْتَرَفَ لَنَا عَرَفْنَاهُ»، قَالَ سُفْيَانُ: وَهَاهُنَا كَلِمَةٌ لَا أَقُولُهَا لَكُمْ، قَالَ: «فَنَنْطَلِقُ حَتَّى نَأْتِي الْجِسْرَ وَعَلَيْهِ خَطَاطِيفُ مِنْ نَارٍ تَخْطَفُ النَّاسَ، وَعِنْدَهَا حَلَّتِ الشَّفَاعَةُ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، فَإِذَا جَاوَزَ الْجِسْرَ، فَكُلُّ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجًا مِنَ الْمَالِ مِمَّا يَمْلِكُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَكُلُّ خَزَنَةِ الْجَنَّةِ تَدَعُوهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، يَا مُسْلِمُ هَذَا خَيْرٌ، فَتَعَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ يَا مُسْلِمُ هَذَا خَيْرٌ، فَتَعَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ يَا مُسْلِمُ هَذَا خَيْرٌ»، فَتَعَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاكَ عَبْدٌ لَا تَوَى عَلَيْهِ، يَدَعُ بَابًا وَيَلِجُ مِنْ آخَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسَحَ مَنْكِبَيْهِ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں صاف دن میں سورج کو دیکھنے میں مشکل پیش آتی ہے، جبکہ آسمان صاف ہو یعنی کوئی بادل نہ ہو۔ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں چودھویں رات میں چاند کو دیکھنے میں مشکل پیش آتی ہے، جب کہ آسمان صاف ہو اور اس میں کوئی بادل موجود نہ ہو۔ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمای: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اسی طرح تمہیں قیامت کے دن اپنے پروردگار کا دیدار کرنے میں مشکل پیش نہیں آئے گی، جس طرح تمہیں ان دونوں (یعنی سورج اور چاند) میں سے کسی ایک کو دیکھنے میں مشکل پیش نہیں آتی۔ قیامت کے دن بندہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوگا، تو پروردگار فرمائے گا: اے فلاں! کیا میں نے تمہیں پیدا نہیں کیا تھا۔ کیا میں نے دیکھنے اور سننے کی صلاحیت عطا نہیں کی تھی۔ کیا میں نے تمہاری شادی نہیں کروائی۔ کیا میں نے تمہاری عزت افزائی نہیں کروائی۔ کیا میں نے تمہارے لیے گھوڑوں اور اونٹوں کو مسخر نہیں کیا۔ کیا میں نے تمہیں صاحب حیثیت نہیں بنایا تھا، تو وہ عرض کرے گا: جی ہاں، اے میرے پروردگار! پروردگار فرمائے گا: کیا تمہیں اندازہ تھا کہ تم میری بارگاہ میں حاضر ہوگے ۔ وہ عرض کرے گا جی نہیں اے میرے پروردگار۔ پروردگار فرمائے گا آج کے دن میں تمہیں اسی طرح بھلا دیتا ہوں، جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر دوسرا شخص پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوگا۔ پروردگار فرمائے گا: اے فلاں کیا میں نے تمہیں پیدا نہیں کیا۔ کیا میں نے تمہیں سماعت اور بصارت عطا نہیں کی۔ کیا میں نے تمہاری شادی نہیں کروائی۔ کیا میں نے تمہاری عزت افزائی نہیں کی۔ کیا میں نے تمہارے لیے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کیے۔ کیا میں نے تمہیں صاحب حیثیت نہیں بنایا تھا۔ وہ عرض کرے گا جی ہاں اے میرے پروردگار، تو پروردگار فرمائے گا تم نے میرے لیے کیا تیاری کی؟ وہ عرض کرے گا میں تجھ پر، تیری کتاب پر، تیرے رسول پر ایمان لایا۔ میں نے تسبیح کی، میں نے نماز ادا کی، میں نے روزہ رکھا، تو پروردگار فرمائے گا اچھا، تو پھر ہم تمہارے خلاف گواہ نہ لے کے آئیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ بندہ اپنے دل میں سوچے گا میرے خلاف کون گواہی دے سکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: یہ وہ منافق شخص ہے جس پر اللہ تعالیٰ غضب ناک ہوگا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اس کو معذور کرے گا، اور اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی، اور اس کے زانو سے کہا جائے گا: تم کلام کرو، تو اس کا زانوں، اس کی ہڈیاں، اس کے پٹھے اس چیز کے بارے میں بات کریں گے جو وہ عمل کرتا رہا تھا۔ پھر ایک منادی یہ اعلان کرے گا۔ خبردار! ہر امت اس کے پیچھے چلی جائے جس کی وہ عبادت کرتی تھی، تو صلیب کے عبادت گزار صلیب کے پیچھے چلے جائیں گے، آگ کے پجاری آگ کے پیچھے چلے جائیں گے، بتوں کے پجاری بتوں کے پیچھے چلے جائیں گے، شیطان کے پجاری شیطان کے پیچھے چلے جائیں گے۔ ہر سرکش کا پجاری سر کش کے پیچھے جہنم کی طرف چلا جائے گا۔ اے اہل ایمان پھر ہم باقی رہ جائیں گے ہم جو مومن ہوں گے۔ ہمارا پروردگار ہمارے پاس آئے گا۔ ہم کھڑے ہوئے ہوں گے وہ فرمائے گا تم لوگ یہاں کیوں کھڑے ہوئے ہو؟ تو ہم عرض کریں گے ہم اللہ کے مومن بندے ہیں۔ ہم اس پر ایمان لائے ، ہم نے کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرایا۔ ہم یہیں کھڑے رہیں گے جب تک ہمارا پروردگار نہیں آتا۔ وہ ہمارا پروردگار ہے وہ ہمیں ثابت رکھے گا، تو پروردگار فرمائے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو، تو ہم کہیں گے اس کی ذات پاک ہے، جب وہ ہمیں پہچان کروائے گا، تو ہم پہچان لیں گے۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: یہاں ایک کلمہ ہے، جو میں تمہارے سامنے بیان نہیں کروں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر ہم چل پڑیں گے، یہاں تک کہ ہم پل صراط پر آئیں گے جس پر آگ کے بنے ہوئے آنکڑے ہوں گے جو لوگوں کو اچک رہے ہوں گے۔ اس مقام پر شفاعت حلال ہوگی (اور یہ کہا جائے گا: ) اے اللہ ! سلامتی عطا کر، سلامتی عطا کر، اے اللہ سلامتی عطا کر، سلامتی عطا کر، اے اللہ سلامتی عطا کر، سلامتی عطا کر۔ جب پل سے پار ہوجائیں گے، تو ہر وہ شخص جس نے اپنے مال میں سے کسی چیز کا جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہوگا، تو جنت کے تمام دربان اسے بلائیں گے اور کہیں گے اے اللہ کے بندے اے مسلمان یہ بہتر ہے۔ادھر آجاؤ! اے اللہ کے بندے اے مسلمان ادھر آجاؤ، یہ بہتر ہے۔ اے اللہ کے بندے اے مسلمان ادھر آجاؤ یہ بہتر ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےعرض کی: وہ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ایسے شخص کو، تو کوئی نقصان نہیں ہوگا وہ ایک دروازے کو چھوڑ کر دوسرے سے داخل ہوجائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ارشاد فرمایا: مجھے یہ امید ہے کہ تم بھی ان میں سے ایک ہوگے۔

نَاسٌ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 7445

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7446

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَرَارِيُّ الْمُؤْمِنِينَ يَكْفُلُهُمْ إِبْرَاهِيمُ فِي الْجَنَّةِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ، ← عَطَاءُ بْنُ قُرَّةَ، ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 7446

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7447

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ بِعَسْقَلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَحَاجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتِ النَّارُ أُوثِرْتُ بِالْمُتَكَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ، وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ، فَقَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ: أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَقَالَ لِلنَّارِ: أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ مِنْ عِبَادِي، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا، فَأَمَّا النَّارُ، فَلَا تَمْتَلِئُ حَتَّى يَضَعَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا قَدَمَهُ فِيهَا، فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ فَهُنَاكَ تَمْتَلِئُ، وَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ، وَلَا يَظْلِمُ اللَّهُ أَحَدًا، وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الْقَدَمُ مَوَاضِعُ الْكُفَّارِ الَّتِي عَبَدُوا فِيهَا دُونَ اللَّهِ

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جنت اور جہنم میں بحث ہوگئی۔ جہنم نے کہا: مجھے تکبر کرنے والوں اور جابر لوگوں کے ذریعے ترجیح دی گئی ہے۔ جنت نے کہا: میرے اندر صرف کمزور اور عام سے لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تم میری رحمت ہو۔ میں تمہارے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس پرچاہوں گا رحمت کروں گا، اور اللہ تعالیٰ نے جہنم سے فرمایا: تم میرا عذاب ہو میں تمہارے ذریعے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا، اور تم میں ہر ایک کو بھرنا ہے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ) جہاں تک جہنم کا تعلق ہے، تو وہ اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں نہیں رکھے گا، تو وہ عرض کرے گی: بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ ظلم نہیں کرے گا جہاں تک جنت کا تعلق ہے، تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) پاؤں سے مراد کفار کے وہ مقامات ہیں جہاں وہ اللہ تعالیٰ کی بجائے دوسروں کی عبادت کیا کرتے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَّ اللَّخْمِیُّ بِعَسْقَلَانَ

Hadith 7447

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7448

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَبْقَى مِنَ الْجَنَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَى، فَيُنْشِئُ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا مَا يَشَاءُ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جنت میں اتنی جگہ باقی رہ جائے گی، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا کہ وہ باقی رہے،پھر اللہ تعالیٰ اس کے لیے نئی مخلوق پیدا کرے گا جتنی وہ چاہے گا"۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَامٍ الْجُمَحِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7448

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7449

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِالْفُسْطَاطِ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:486] عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ نَادَى مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ، وَلَا مَوْتَ فِيهِ وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ لَا مَوْتَ فِيهِ»

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← [ص:486] عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ، بِالْفُسْطَاطِ،

Hadith 7449

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7450

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثَ السِّجِسْتَانِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُؤْتَى بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُوقَفُ عَلَى الصِّرَاطِ، فَيُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، فَيَنْطَلِقُونَ [ص:487] خَائِفِينَ وَجِلِينَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنْ مَكَانِهِمُ الَّذِي هُمْ فِيهِ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ النَّارِ، فَيَنْطَلِقُونَ فَرِحِينَ مُسْتَبْشِرِينَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنْ مَكَانِهِمُ الَّذِي هُمْ فِيهِ، فَيُقَالُ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ رَبَّنَا هَذَا الْمَوْتُ، فَيَأْمُرُ بِهِ فَيُذْبَحُ عَلَى الصِّرَاطِ، ثُمَّ يُقَالُ لِلْفَرِيقَيْنِ كِلَاهُمَا: خُلُودٌ وَلَا مَوْتَ فِيهِ أَبَدًا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "قیامت کے دن موت کو لایا جائے گا، اور اسے پل صراط پر ٹھہرا دیا جائے گا، اور کہا جائے گا: اے اہل جنت! تو وہ لوگ خوف زدہ ہوکر پریشان ہوکر چلتے ہوئے آئیں گے اور اپنی جگہ سے باہر نکلیں گے ، جہاں وہ رہتے ہوں گے پھر کہا جائے گا: اے اہل جہنم! تو خوش ہوتے ہوئے خوش خبری حاصل کرتے ہوئے اس جگہ سے نکلیں گے، جہاں وہ رہ رہے ہوں، تو پوچھا جائے گا کیا تم اسے جانتے ہو، تو وہ عرض کریں گے جی ہاں! اے ہمارے پروردگار! یہ موت ہے۔ پھر پروردگار اس کے بارے میں حکم دے گا، تو اسے پل صراط پر ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر دونوں فریقوں سے یہ کہا جائے گا: تم ہمیشہ یہاں رہو گے تمہیں اس میں کبھی موت نہیں آئے گی"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثَ السِّجِسْتَانِيُّ بِبَغْدَادَ،

Hadith 7450

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7451

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ*، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْرَجُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ، إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ لَوْ أَسَاءَ لِيَزْدَادَ شُكْرًا، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ، إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ لَوْ أَحْسَنَ لِيَكُونَ عَلَيْهِ حَسْرَةً»

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جو بھی شخص جنت میں داخل ہوگا اسے جہنم کا ٹھکانہ دکھایا جائے گا کہ اگر اس نے برائی کی ہوتی (تو اسے یہ جگہ ملنی تھی) تاکہ اس کے شکر میں اضافہ ہو، اور جو بھی شخص جہنم میں داخل ہوگا اسے جنت کا ٹھکانہ دکھایا جائے گا کہ اگر اس نے اچھائی کی ہوتی (تو اسے یہ جگہ ملنی تھی) تاکہ اس کو حسرت ہو"۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← الْأَعْرَجُ أَنَّهُ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← وَرْقَاءُ ← شَبَابَةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،

Hadith 7451

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7452

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِالْمَوْصِلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:490] هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَحَدٌ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، وَلَهُ عَشَرَةُ أَمْثَالِهَا إِلَّا الشَّهِيدُ، فَإِنَّهُ وَدَّ أَنَّهُ رَجَعَ إِلَى الدُّنْيَا، فَيُقْتَلُ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنَ الْفَضْلِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "اہل جنت میں سے کوئی بھی شخص اس بات کی آرزو نہیں کرے گا کہ وہ دوبارہ دنیا کی طرف جائے اگرچہ اس کو دنیا کا دس گنا مل جائے۔ صرف شہید کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ وہ اس بات کا آرزو مند ہوگا کہ وہ دنیا میں واپس جائے اور اسے دس مرتبہ شہید کردیا جائے کیونکہ وہ (شہید ہونے کی) فضیلت دیکھ لے گا"۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← [ص:490] هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِالْمَوْصِلِ

Hadith 7452

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7453

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ مَطَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ: ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ مُوَفَّقٌ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ بِكُلِّ ذِي قُرْبَى [ص:491] وَمُسْلِمٍ، وَرَجُلٌ فَقِيرٌ عَفِيفٌ مُتَصَدِّقٌ»

حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اہل جنت تین طرح کے لوگ ہوں گے۔ ایسا حکمران جو عدل کرتا ہو اسے توفیق دی گئی ہو، ایسا شخص جو رحیم ہو نرم دل ہو، ہر رشتے دار اور مسلمان کے ساتھ اچھائی کرتا ہو اور ایسا شخص جو غریب ہو، مانگنے سے بچتا ہواور صدقہ و خیرات کرتا ہو۔

عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← قَتَادَةَ ← مَطَرٍ، ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← الْحُسَیْنُ بْنُ حُرَیْثٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Hadith 7453

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr