Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7433

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَكُونُ قَوْمٌ فِي النَّارِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونُوا، ثُمَّ يَرْحَمُهُمُ اللَّهُ، فَيُخْرِجُهُمْ مِنْهَا، فَيَكُونُونَ فِي أَدْنَى الْجَنَّةِ فِي نَهْرٍ، يُقَالُ لَهُ: الْحَيَوَانُ، لَوِ اسْتَضَافَهُمْ أَهْلُ الدُّنْيَا لَأَطْعَمُوهُمْ وَسَقُوهُمْ وَأَتْحَفُوهُمْ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "کچھ لوگ جہنم میں جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا اتنا عرصہ رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے گا، اور انہیں جہنم سے نکال دے گا، اور وہ جنت کے زیریں حصے میں ایک نہر میں آئیں گے جس کا نام حیوان ہوگا۔ اگر تمام اہل دنیا ان کے مہمان بن جائیں، تو وہ ان سب کو کھلا دیں پلا دیں اور انہیں تحفے دیں (پھر بھی ان کے پاس موجود نعمتیں ختم نہیں ہوں گی) "

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7433

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7434

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ [ص:461] إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ حُبِسُوا بِقَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيَقَاصُّونَ مَظَالِمَ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا، حَتَّى إِذَا نُقُّوا وَهُذِّبُوا أُذِنَ لَهُمْ بِدُخُولِ الْجَنَّةِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ بِمَسْكَنِهِ فِي الْجَنَّةِ أَدَلُّ بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب اہل ایمان جہنم سے نجات پالیں گے، تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک ڈھیر پر روک لیا جائے گا، اور ان کے درمیان آپس میں دنیا میں، جوزیادتیاں ہوئی تھیں ان کا بدلہ دلوایا جائے گا، یہاں تک کہ جب وہ پاک و صاف ہو جائیں گے، تو انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے، جنت میں (داخل ہونے والا شخص) اپنے مخصوص ٹھکانے سے، اس سے زیادہ واقف ہوگا، جتنا وہ دنیا میں اپنے گھر سے واقف تھا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ [ص:461] إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7434

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7435

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَهْلُ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ، وَيَشْرَبُونَ، وَلَا يَبُولُونَ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ، وَلَا يَمْتَخِطُونَ، وَلَا يَبْزُقُونَ يُلْهَمُونَ الْحَمْدَ وَالتَّسْبِيحَ كَمَا يُلْهَمُونَ النَّفَسَ طَعَامُهُمْ لَهُ جُشَاءٌ وَرِيحُهُمُ الْمِسْكُ»

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اہل جنت کھائیں گے اور پئیں گے لیکن وہ پیشاب اور پاخانہ نہیں کریں گے، بلغم نہیں نکالیں گے، تھوک نہیں پھینکیں گے۔ انہیں حمد اور تسبیح یوں الہام کی جائے گی، جس طرح سانس لینا الہام کیا جاتا ہے اور ان کا کھانا ڈکار کی شکل میں (ختم ہوجائے گا) اس کی خوشبو مشک کی طرح ہوگی"۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7435

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7436

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، [ص:464] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الْجَنَّةَ صُوَرُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، لَا يَبْصُقُونَ فِيهَا، وَلَا يَمْتَخِطُونَ فِيهَا، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ فِيهَا آنِيَتُهُمْ، وَأَمْشَاطُهُمْ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَمَجَامِرُهُمُ الْأَلُوَّةُ، وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ يُرَى مُخُّ سُوقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ، لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ، وَلَا تَبَاغُضَ قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبٍ وَاحِدٍ يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بَكْرَةً وَعَشِيًّا»

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےا رشاد فرمایا: "جنت میں داخل ہونے والے سب سے پہلے گروہ کی شکلیں چودھویں رات کے چاند کی مانند ہوں گی وہ لوگ جنت میں تھوکیں گے نہیں، بلغم نہیں نکالیں گے، پاخانہ نہیں کریں گے۔ ان کے برتن اور کنگھیاں سونے اور چاندی سے بنی ہوئی ہوں گی ان کی انگیٹھیوں میں عود سلگے گا ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلی کا مغز گوشت کے اندر سے بھی نظر آئے گا۔ ان لوگوں کے درمیان آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہوگا۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے بغض نہیں ہوگا، اور ان سب کے دلوں کی حیثیت ایک جیسی ہوگی۔ وہ صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کریں گے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، [ص:24] ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7436

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7437

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ [ص:465] إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى صُورَةِ أَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ، لَا يَبُولُونَ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ، وَلَا يَتْفُلُونَ، وَلَا يَمْتَخِطُونَ أمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ، وَمَجَامِرُهُمُ الْأَلُوَّةُ، وَأَزْوَاجُهُمُ الْحُورُ الْعَيْنُ، وَأَخْلَاقُهُمْ عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ سِتُّونَ ذِرَاعًا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جنت میں داخل ہونے والا سب سے پہلا گروہ چودھویں رات کے چاند کی مانند ہوگا پھر اس کے بعد والے لوگ آسمان میں موجود سب سے زیادہ چمکدار ستارے کی مانند ہوں گے۔ وہ لوگ (جنت میں ) پیشاب نہیں کریں گے، پاخانہ نہیں کریں گے، تھوک نہیں پھینکیں گے ، بلغم نہیں نکالیں گے۔ ان کی کنگھیاں سونے سے بنی ہوں گی اور ان کا پسینہ مشک کا ہوگا۔ ان کی انگیٹھیوں میں عود سلگے گا۔ ان کی بیویاں حور عین ہوں گی اور ان کی جسامت ان کی جد امجد (حضرت آدم علیہ السلام ) کی طرح ساٹھ گز ہوگی"۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ [ص:268] إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7437

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7438

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ بِنَسَا، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، وَعُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، [ص:467] أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فِي سُوقِ الْجَنَّةِ، قَالَ سَعِيدٌ: أَوَ فِيهَا سُوقٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلُوهَا نَزَلُوا فِيهَا بِفَضْلِ أَعْمَالِهِمْ، فَيُؤْذَنُ لَهُمْ فِي مِقْدَارِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا، فَيَزُورُونَ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا، وَيُبْرِزُ لَهُمْ عَرْشَهُ وَيتَبَدَّى لَهُمْ فِي رَوْضَةٍ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، فَيُوضَعُ لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ لُؤْلُؤٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ يَاقُوتٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ زَبَرْجَدٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ فِضَّةٍ، وَيَجْلِسُ أَدْنَاهُمْ - وَمَا فِيهِمْ دَنِيٌّ - عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ، وَالْكَافُورِ مَا يَرَوْنَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَرَاسِيِّ أَفْضَلُ مِنْهُمْ مَجْلِسًا»، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلْ نَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ: «نَعَمْ، هَلْ تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ»، قُلْنَا: لَا قَالَ: «كَذَلِكَ لَا تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ، وَلَا يَبْقَى فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ أَحَدٌ إِلَّا حَاصَرَهُ اللَّهُ مُحَاصَرَةً، حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ لِلرَّجُلِ مِنْهُمْ: يَا فُلَانُ، أَتَذْكُرُ يَوْمَ عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ يُذَكِّرُهُ بَعْضَ غَدَرَاتِهِ فِي الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَفَلَمْ تَغْفِرْ لِي؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَبِسَعَةِ مَغْفِرَتِي بَلَغْتَ مَنْزِلَتَكَ هَذِهِ، قَالَ: فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ غَشِيَتْهُمْ سَحَابَةٌ مِنْ فَوْقِهِمْ، فَأَمْطَرَتْ عَلَيْهِمْ طِيبًا لَمْ يَجِدُوا مِثْلَ رِيحِهِ شَيْئًا قَطُّ، ثُمَّ يَقُولُ جَلَّ وَعَلَا: قُومُوا إِلَى مَا أَعْدَدْتُ لَكُمْ مِنَ الْكَرَامَةِ، فَخُذُوا مَا اشْتَهَيْتُمْ، قَالَ: فَنَأْتِي سُوقًا قَدْ حُفَّتْ بِهِ الْمَلَائِكَةُ مَا لَمْ تَنْظُرِ الْعُيُونُ إِلَى مِثْلِهِ، وَلَمْ تَسْمَعِ الْآذَانُ، وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى الْقُلُوبِ، قَالَ: [ص:468] فَيُحْمَلُ لَنَا مَا اشْتَهَيْنَا لَيْسَ يُبَاعُ فِيهِ شَيْءٌ وَلَا يُشْتَرَى، وَفِي ذَلِكَ السُّوقِ يَلْقَى أَهْلُ الْجَنَّةِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، قَالَ: فَيُقْبِلُ الرَّجُلُ ذُو الْمَنْزِلَةِ الْمُرْتَفِعَةِ، فَيَلْقَى مَنْ هُوَ دُونَهُ، وَمَا فِيهِمْ دَنِيٌّ فَيَرُوعُهُ مَا يَرَى عَلَيْهِ مِنَ اللِّبَاسِ، فَمَا يَنْقَضِي آخِرُ حَدِيثِهِ حَتَّى يَتَمَثَّلَ عَلَيْهِ بِأَحْسَنَ مِنْهُ وَذَلِكَ أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَحْزَنَ فِيهَا، قَالَ: ثُمَّ نَنْصَرِفُ إِلَى مَنَازِلِنَا، فَتَلْقَانَا أَزْوَاجُنَا، فَيَقُلْنَ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا بِحِبِّنَا لَقَدْ جِئْتَ، وَإِنَّ بِكَ مِنَ الْجَمَالِ وَالطِّيبِ أَفْضَلَ مِمَّا فَارَقْتَنَا عَلَيْهِ، فَيَقُولُ: إِنَّا جَالَسْنَا الْيَوْمَ رَبَّنَا الْجَبَّارَ وَيَحُقُّنَا أَنْ نَنْقَلِبَ بِمِثْلِ مَا انْقَلَبْنَا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «لَفْظُ الْخَبَرِ لِلْحَسَنِ بْنِ سُفْيَانَ»

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: ان کی ملاقات حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی، تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اورتمہیں جنت کے بازار میں اکٹھا کرے۔ سعید بن مسیب نے دریافت کیا: جنت میں بازار ہوں گے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی ہے: جب اہل جنت، جنت میں داخل ہوجائیں گے، تو وہ اپنے اعمال کے حساب سے اس میں رہائش اختیار کریں گے۔ دنیاوی دنوں کے اعتبار سے جمعے کے دن انہیں اجازت دی جائے گی، تو وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے کے لیے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا عکس ان کے سامنے آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے جنت کے ایک باغ میں ظہور کرے گا۔ ان کے سامنے نور کے منبرر کھے جائیں گے اور موتیوں کے منبر ہوں گے، یا قوت کے منبرہوں گے، زبر جد کے منبر ہوں گے، سونے کے منبر ہوں گے، چاندی کے منبر ہوں گے۔ ان میں سب سے کم ترشخص ، حالانکہ ان میں کوئی بھی شخص کم تر نہیں ہوگا، وہ بھی مشک کے ٹیلوں پر اور کافور کے ٹیلوں پر ہوگا۔ وہ یہ نہیں سمجھیں گے کہ کرسی پر بیٹھا شخص محفل میں بیٹھنے کے اعتبار سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! کیا ہم اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! کیا تمہیں سورج کو دیکھنے اور چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں مشکل پیش آتی ہے؟ ہم نے عرض کی: جی نہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس طرح تمہیں اپنے پروردگار کا دیدار کرنے میں بھی کوئی الجھن نہیں پیش آئے گی۔ اس محفل میں ، جو بھی شخص موجود ہوگا اللہ تعالیٰ اس سے براہ راست کلام کرے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی ایک شخص سے فرمائے گا: اے فلاں شخص تمہیں فلاں دن یاد ہے، جب تم نے یہ، یہ عمل کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ دنیا میں کی گئی اس کی کسی خلاف ورزی کو یاد کرائے گا، تو وہ عرض کرے گا: اے پروردگار! کیا، تو نے میری مغفرت نہیں کردی، تو پروردگار فرمائے گا جی ہاں! میری مغفرت کی وسعت کی وجہ سے تم اس مقام پر پہنچے ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ابھی وہ لوگ اسی حالت میں ہوں گے کہ ان کے اوپر سے ایک بادل انہیں ڈھانپ لے گا، اور ان پر خوشبو کی بارش نازل کرے گا۔ انہوں نے ایسی خوشبو کبھی نہیں سونگھی ہوگی، پھر پروردگار فرمائے گا تم اس چیز کی طرف اٹھ کر جاؤ میں نے تمہارے لیے عزت افزائی تیار کی ہے اور جس چیز کی تمہیں خواہش ہے، اسے تم حاصل کرو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر ہم بازار میں آئیں گے جسے فرشتوں نے ڈھانپا ہوا ہوگا وہ ایسی چیز ہوگی، جس کی مانند کوئی چیز آنکھوں نے نہیں دیکھی ہوگی اور کانوں نے نہیں سنی ہوگی اور کسی دل میں اس کا خیال نہیں آیا ہوگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو ہمارے لیے وہاں وہ چیز یں لائی جائیں گی جن کی ہمیں خواہش ہوگی۔ وہاں کوئی چیز فروخت نہیں ہوگی اور کوئی چیز خریدی نہیں جائے گی۔ اس بازار میں اہل جنت ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر بلند مرتبے کا مالک ایک شخص آئےگا ، اور اس سے ملاقات کرے گا، جو کم مرتبے کا ہوگا حالانکہ ان میں کوئی بھی کم درجے کا نہیں ہوگا۔ کم مرتبے کا شخص اس کے جسم پر موجود لباس کو دیکھ کر اسے پسند کرے گا، اور ان کی گفتگو ختم ہونے سے پہلے ہی اس سے زیادہ عمدہ لباس اس کے جسم پر آچکا ہوگا اس کی و جہ یہ ہوگی کہ وہاں کوئی شخص کسی بھی حوالے سے غمگین نہیں ہوگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر ہم اپنی رہائش گاہوں کی طرف واپس جائیں گے۔ ہماری بیویاں ہم سے ملیں گی، تو وہ یہ کہیں گی: آپ کو خوش آمدید، جو ہمارے محبوب ہیں آپ تشریف لے آئے ہیں اب آپ کا حسن وجمال اور خوشبو پہلے سے زیادہ اچھی ہوگئی ہے، جب آپ ہمیں چھوڑ کر گئے تھے، تو وہ کہیں گے: آج ہم نے اپنے عظیم پروردگار کی ہم نشینی اختیار کی تھی، تو ہم اس بات کے حق دار تھے کہ ہم اس طرح کی صورت حال میں واپس آئیں جس میں ہم آئے ہیں۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) روایت کے الفاظ حسن بن سفیان کے ہیں۔

أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: ← نَعَمْ ← سَعِيدٌ: أَوَ فِيهَا سُوقٌ؟ ← أَبُو هُرَيْرَةَ: أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فِي سُوقِ الْجَنَّةِ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ فِي آخَرِينَ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ← الحسن بن سفيان بنسا

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7438

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7439

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، قَالَ اللَّهُ: أَتَشْتَهُونَ شَيْئًا فَأَزِيدَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا، وَمَا فَوْقَ مَا أَعْطَيْتَنَا؟ قَالَ: فَيَقُولُ: بَلَى، رِضَايَ أَكْثَرُ»

۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جب اہل جنت ، جنت میں داخل کردئیے جائیں گے، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم کسی چیز کے خواہش مند ہو؟ تاکہ میں تمہیں مزید عطا کروں، تو وہ عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہمیں، جو کچھ عطا کردیا ہے، اس سے اوپر اور کیا ہو سکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو پروردگار فرمائے گا: جی ہاں! میری رضا سب سے برتر ہے"۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7439

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7440

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ فَضَالَةَ الشَّعِيرِيُّ بِالْمَوْصِلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الْأَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُونَ: لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكِ، فَيَقُولُ: هَلْ رَضِيتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: مَا لَنَا لَا نَرْضَى وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، فَيَقُولُ: أَلَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، فَيَقُولُونَ: يَا رَبِّ، وَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ؟ فَيَقُولُ: أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي فَلَا أَسْخَطُ بَعْدَهُ أَبَدًا»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "بے شک اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے اہل جنت ! وہ عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار! ہم حاضر ہیں۔ سعادت مندی تجھ سے حاصل ہو سکتی ہے، بھلائی تیرے دست قدرت میں ہے۔ پروردگار دریافت کرے گا کیا تم لوگ راضی ہو؟ وہ عرض کریں گے ہم کیوں راضی نہ ہوں جب کہ، تو نے ہمیں وہ کچھ عطا کردیا ہے، جو، تو نے اپنی مخلوق میں کسی کو بھی عطا نہیں کیا، تو پروردگار فرمائے گا کیا میں تمہیں اس سے زیادہ فضیلت والی چیز عطا نہ کروں؟ وہ عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار! اس سے زیادہ فضیلت والی چیز اور کیا ہو سکتی ہے؟ پروردگار فرمائے گا: میں نے تمہارے لیے اپنی رضا مندی کو حلال کر دیا ہے۔ اب میں اس کے بعد کبھی بھی (تم سے) ناراض نہیں ہوں گا"۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مالک بن أنس ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الْأَيْلِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ فَضَالَةَ الشَّعِيرِيُّ بِالْمَوْصِلِ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7440

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7441

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ: تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ: {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} [يونس: 26] قَالَ: «إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ نَادَى مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا يُحِبُّ أَنْ يُنْجِزَكُمُوهُ، فَيَقُولُونَ: وَمَا هُوَ؟ أَلَمْ يُثَقِّلِ اللَّهُ مَوَازِينَنَا وَيُبَيَّضْ وُجُوهَنَا وَيُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ وَيُجِرْنَا مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: فَيُكْشَفُ الْحِجَابُ، فَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمُ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ [ص:472] النَّظَرِ إِلَيْهِ»

حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی۔

تَلَا رَسُولُ اللَّهِ هَذِهِ الْآيَةَ: ← صُھَیْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7441

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7442

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، وَحَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْلَةَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ، فَقَالَ: «إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَنْ صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَصَلَاةٍ قَبْلَ غُرُوبِهَا، فَافْعَلُوا»، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا} [طه: 130]

حضرت جریربن عبد اللہ بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ تاریخ کی رات کو چودھویں کے چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا عنقریب تم اپنے پروردگار کا اسی طرح دیدار کرو گے، جس طرح تم اسے دیکھ رہے ہو اسے دیکھنے میں تمہیں کوئی مشکل پیش نہیں آرہی۔ اگر تم سے ہو سکے، تو تم سورج کے طلوع ہونے سے پہلے والی اور غروب ہونے سے پہلے والی نماز کے حوالے سے مغلوب نہ ہونا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی۔ "اور تم اپنے پروردگار کی حمد کی ہمراہ پاکی بیان کرو، سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے"۔

كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْلَةَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ، ← جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ البَجَلِيِّ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، وَحَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7442

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7443

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ، قَالَ: قَالَ لِي جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: «أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ [ص:476] قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا، فَافْعَلُوا»، ثُمَّ قَرَأَ: {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا} [طه: 130]

قیس بیان کرتے ہیں: حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے بتایا ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا: عنقریب تم اپنے پروردگار کا اس طرح دیدار کرو گے، جس طرح تم اسے دیکھ رہے ہو۔ اسے دیکھنے میں تمہیں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ اگر تم سے ہو سکے، تو تم سورج طلوع ہونے سے پہلے والی اور سورج غروب ہونے سے پہلے والی نماز کے حوالے سے مغلوب نہ ہونا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی۔ "تم اپنے پروردگار کی حمد کے ہمراہ پاکی بیان کرو، سورج طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے"۔

قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَامٍ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7443

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7444

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: «إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبُّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «هَذِهِ الْأَخْبَارُ فِي الرُّؤْيَةِ يَدْفَعُهَا مَنْ لَيْسَ الْعِلْمُ صِنَاعَتَهُ، وَغَيْرُ مُسْتَحِيلٍ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا يُمَكِّنُ الْمُؤْمِنِينَ الْمُخْتَارِينَ مِنْ عِبَادِهِ مِنَ النَّظَرِ إِلَى رُؤْيَتِهِ، جَعَلْنَا اللَّهُ مِنْهُمْ بِفَضْلِهِ حَتَّى يَكُونَ فَرْقًا بَيْنَ الْكُفَّارِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْكِتَابُ يَنْطِقُ بِمِثْلِ السُّنَنِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا سَوَاءً قَوْلَهُ جَلَّ وَعَلَا: {كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ} [المطففين: 15]، فَلَمَّا أَثْبَتَ الْحِجَابَ عَنْهُ لِلْكُفَّارِ دَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ غَيْرَ الْكُفَّارِ لَا يُحْجَبُونَ عَنْهُ، فَأَمَّا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا، فَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا خَلَقَ الْخَلْقَ فِيهَا لِلْفَنَاءِ فَمُسْتَحِيلٌ أَنْ يَرَى بِالْعَيْنِ الْفَانِيَةِ الشَّيْءَ الْبَاقِي، فَإِذَا أَنْشَأَ اللَّهُ الْخَلْقَ، وَبَعَثَهُمْ مِنْ قُبُورِهِمْ لِلْبَقَاءِ فِي إِحْدَى الدَّارَيْنِ غَيْرُ مُسْتَحِيلٍ حِينَئِذٍ أَنْ يَرَى بِالْعَيْنِ الَّتِي خُلِقَتْ لِلْبَقَاءِ فِي الدَّارِ الْبَاقِيَةِ الشَّيْءَ الْبَاقِي لَا يُنْكِرُ هَذَا [ص:478] الْأَمْرَ إِلَّا مَنْ جَهِلَ صِنَاعَةَ الْعِلْمِ، وَمَنَعَ* بِالرَّأْيِ الْمَنْكُوسِ وَالْقِيَاسِ الْمَنْحُوسِ»

۔ حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چودھویں رات میں ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ نے فرمایا: تم لوگ عنقریب قیامت کے دن اپنے پروردگار کو یوں دیکھو گے، جس طرح تم اسے (یعنی چودھویں کے چاند کو) دیکھ رہے ہو، جسے دیکھنے میں تمہیں کوئی مشکل نہیں آرہی۔

جَرِيرٌ ← قَيْسٍ ← بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ ← زَائِدَۃَ، ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُکْرَمٍ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7444

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr