Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7409

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَحْرَ الْمَاءِ، وَبَحْرَ الْعَسَلِ، وَبَحْرَ الْخَمْرِ، وَبَحْرَ اللَّبَنِ، ثُمَّ يَنْشَقُّ مِنْهَا بَعْدُ الْأَنْهَارُ»

۔ حکیم بن معاویہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جنت میں پانی کا دریا ہے۔ شہد کا دریا ہے۔ مشروب کا دریا ہے۔ دودھ کا دریا ہے اور پھر ان دریاؤں سے نہریں نکلتی ہیں"۔

أَبِيهِ ← حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 7409

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7410

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَطَّانُ بِتِنِّيسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا جَدِّي، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ إِلَّا سَاقُهَا مِنْ ذَهَبٍ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جنت میں ہر درخت کا تنا سونے کی ہے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← جَدِّي، ← أَبِي ← زِيَادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ، ← أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَطَّانُ بِتِنِّيسَ،

Hadith 7410

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7411

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِيَ الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ»، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاقْرَؤُوا إِنْ شِئْتُمْ {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ} [الواقعة: 30]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جنت میں درخت (اتنے بڑے ) ہیں ایک سوار اس کے سائےمیں ایک سو سال تک سفر کر سکتا ہے (پھر بھی اس کا سایہ ختم نہیں ہوگا)" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اگر تم چاہو، تو ویہ آیت تلاوت کرلو۔ "اور پھیلے ہوئے سائے ہیں"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 7411

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7412

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ، لَا يَقْطَعُهَا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 7412

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7413

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا طُوبَى؟ قَالَ: «شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ مِائَةِ سَنَةٍ، ثِيَابُ أَهْلِ الْجَنَّةِ تَخْرُجُ مِنْ أَكْمَامِهَا»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! طوبیٰ کیا چیز ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک درخت ہے، جس کی مسافت ایک سو سال کی ہے۔ اہل جنت کےکپڑے اس کی شاخوں سے نکلتے ہیں۔

لَهُ رَجُلٌ: ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا ← ابْنُ وَهْبٍ، ← ابْنُ سَلْمٍ،

Hadith 7413

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7414

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ بِبَيْرُوتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:430] مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَخِي، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ زَيْدٍ الْبِكَالِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ، يَقُولُ: قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا فَاكِهَةُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: «فِيهَا شَجَرَةٌ تُدْعَى طُوبَى»، فَقَالَ: أَيُّ شَجَرِنَا تُشْبِهُ، قَالَ: «لَيْسَ تُشْبِهُ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ أَرْضِكَ، وَلَكِنْ أَتَيْتَ الشَّامَ؟ »، قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «وَإِنَّهَا شَجَرَةٌ بِالشَّامِ تُدْعَى الْجُمَيْزَةَ تَشْتَدُّ عَلَى سَاقٍ، ثُمَّ يُنْشَرُ أَعْلَاهَا»، قَالَ: مَا عِظَمُ أَصْلِهَا؟ قَالَ: «لَوِ ارْتَحَلْتَ جَذَعَةً مِنْ إِبِلِ أَهْلِكَ مَا أَحَطْتَ بِأَصْلِهَا حَتَّى تَنْكَسِرَ تُرْقُوَتَاهَا هَرَمًا»

حضرت عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اس نے دریافت کیا۔ جنت کے پھل کیسے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک درخت طوبیٰ ہے۔ دیہاتی نے دریافت کیا۔ ہمارے درختوں میں سے کون سا درخت اس سے مشابہت رکھتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے علاقے کا کوئی درخت اس سے مشابہت نہیں رکھتا کیا تم شام گئے ہو۔ اس نے عرض کی: جی نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شام میں ایک درخت ہے جس کان نام جمیزہ ہے، اس کے تنے کو باندھا جاتا ہے اور پھر اوپر ی حصے کو کھول دیا جاتا ہے۔ اس دیہاتی نے دریافت کیا: (جنت کے اس درخت) کی جڑ کتنی بڑی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اپنے گھر کے اونٹوں میں سے ایک کم سن اونٹ پر پالان رکھو، تو پھر بھی تم اس کی جڑ کو اس وقت تک عبور نہیں کر سکو گے جب تک اس اونٹ کی ہڈیاں بڑھاپے کی وجہ سے ٹوٹ نہیں جاتیں۔

لَا۔ ← «لَيْسَ تُشْبِهُ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ أَرْضِكَ، وَلَكِنْ أَتَيْتَ الشَّامَ؟ ← «فِيهَا شَجَرَةٌ تُدْعَى طُوبَى»، فَقَالَ: أَيُّ شَجَرِنَا تُشْبِهُ، ← قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: مَا فَاكِهَةُ الْجَنَّةِ؟ ← عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ، ← عَامِرُ بْنُ زَيْدٍ الْبِكَالِيُّ، أَنَّهُ ← أَبَا سَلَّامٍ، ← أَخِي، أَنَّهُ ← [ص:430] مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← مَعْمَرُ بْنُ يَعْمُرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلْفٍ الدَّارِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ بِبَیْرُوتَ،

Hadith 7414

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7415

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: «رُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى، فَإِذَا نَبْقُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ، وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ، وَإِذَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ: نَهْرَانِ بَاطِنَانِ، وَنَهْرَانِ ظَاهِرَانِ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَنَهْرَانِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ»

حضرت مالک بن معصعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو یہ بات بتائی۔ آپ نے فرمایا: میرے سامنے سدرۃ المتہیٰ آیا، تو اس کے پھل ہجر کے مٹکوں کی طرح تھے، اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے۔ وہاں چار نہریں تھیں دو نہریں باطنی تھیں اور دو نہریں ظاہری تھیں۔ میں نے دریافت کیا: جبرائیل یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: جہاں تک باطنی دو نہروں کا تعلق ہے، تو وہ جنت میں ہیں اور جہاں تک ظاہری دو نہروں کا تعلق ہے تو وہ نیل اور فرات ہیں۔

مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 7415

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7416

أَخْبَرَنَا مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَمِّرُ بْنُ يَعْمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، [ص:433] قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَزِيدَ الْبِكَالِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ، يَقُولُ: قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: فِيهَا عِنَبٌ - يَعْنِي: الْجَنَّةَ - يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: مَا عِظَمُ الْعُنْقُودِ مِنْهَا، قَالَ: «مَسِيرَةُ شَهْرٍ لِلْغُرَابِ الْأَبْقَعِ لَا يَنْثَنِي وَلَا يَفْتُرُ»، قَالَ: مَا عِظَمُ الْحَبَّةِ مِنْهُ؟ قَالَ: «هَلْ ذَبَحَ أَبُوكَ تَيْسًا مِنْ غَنَمِهِ قَطُّ عَظِيمًا؟ » قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَسَلَخَ إِهَابَهُ، فَأَعْطَاهُ أُمَّكَ، وَقَالَ: ادْبُغِي لَنَا هَذَا ثُمَّ افْرِي لَنَا مِنْهُ دَلْوًا نَرْوِي بِهِ مَاشِيَتَنَا»، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ تِلْكَ الْحَبَّةَ تُشْبِعُنِي وَأَهْلَ بَيْتِي؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَعَامَّةُ عَشِيرَتِكَ»

حضرت عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس میں انگور ہوں گے۔ اس کی مراد یہ تھی کہ کیا جنت میں انگور ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا: اس کے گچھے کتنے بڑے ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتنی مسافت جتنے، جو ایک "ابقع کوا" رکے بغیر مسلسل اڑتے ہوئے ایک ماہ میں طے کرتا ہے۔ دیہاتی نے دریافت کیا: اس کا دانہ کتنا بڑا ہوگا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا۔ کیا تمہارے والد نے اپنی بکریوں میں سے کبھی کوئی بڑا نر جانور ذبح کیا ہے۔ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: انہوں نے اس کی کھال بھی اتاری ہوگی، اور وہ تمہاری والدہ کو دی ہوگی اور یہ کہا ہوگا: تم ہمارے لیے اس کی دباغت کردو، اور پھر اس کے ذریعے ہمارے لیے ایک مشکیزہ تیار کردینا تاکہ ہم اس کے ذریعے اپنے جانوروں کو پانی دیں۔ اس دیہاتی نے جواب دیا: جی ہاں۔ پھر اس نے کہا: وہ ایک دانہ تو مجھے اور میرے تمام اہل خانہ کو سیر کردے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اور تمام خاندان کے اکثر افراد کو بھی (سیر کردے گا)

قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: فِيهَا عِنَبٌ يَعْنِي: الْجَنَّةَ ← عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ، ← عَامِرُ بْنُ يَزِيدَ الْبِكَالِيُّ، أَنَّهُ ← أَبَا سَلَّامٍ، ← أَخِي، أَنَّهُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، [ص:433] ← مَعْمَرُ بْنُ يَعْمُرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلْفٍ الدَّارِيُّ ← مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ

Hadith 7416

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7417

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: [ص:434] حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا، وَمَا فِيهَا جَمِيعًا»، اقْرَؤُوا إِنْ شِئْتُمْ: {فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ، وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ} [آل عمران: 185] «

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں کوڑا رکھنے کی جگہ دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سےبہتر ہے۔ اگر تم چاہو، تو یہ آیت تلاوت کرلو۔ "جس شخص کو جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیاوی زندگی، تو صرف دھوکے کا سامان ہے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ← [ص:149] ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 7417

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7418

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَقَابُ قَوْسٍ، أَوْ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جنت میں کمان رکھنے کی جگہ یا کوڑا رکھنے کی جگہ دنیا سے زیادہ بہتر ہے"۔

أَبِي يُونُسَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 7418

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7419

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، [ص:436] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «تَجْتَمِعُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: أَيْنَ فُقَرَاءُ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَمَسَاكِينُهَا؟ قَالَ: فَيَقُومُونَ، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَاذَا عَمِلْتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا ابْتَلَيْتَنَا فَصَبَرْنَا، وَآتَيْتَ الْأَمْوَالَ وَالسُّلْطَانُ غَيْرَنَا، فَيَقُولُ اللَّهُ: صَدَقْتُمْ، قَالَ: فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ النَّاسِ، وَيَبْقَى شِدَّةُ الْحِسَابِ عَلَى ذَوِي الْأَمْوَالِ وَالسُّلْطَانِ»، قَالُوا: فَأَيْنَ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «يُوضَعُ لَهُمْ كَرَاسِيُّ مِنْ نُورٍ، وَتُظَلِّلُ عَلَيْهِمُ الْغَمَامُ، يَكُونُ ذَلِكَ الْيَوْمُ أَقْصَرَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مِنْ سَاعَةٍ مِنْ نَهَارٍ»

۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " تم لوگ قیامت کے دن اکٹھے ہوگے، تو یہ کہا جائے گا: امت کے غریب لوگ اور مسکین لوگ کہاں ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو لوگ کھڑے ہوں گے، تو ان سے کہا جائے گا: تم نے کیا عمل کیا؟ وہ یہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہمیں آزمائش میں مبتلا کیا، تو ہم نے صبر سے کام لیا، تو نے اموال اور حکومت دوسروں کو دے دی، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے سچ کہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو وہ لوگ دوسرےلوگوں سے پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے، اورحساب کی سختی مالدار لوگوں اور حکمرانوں کے لیے باقی رہ جائے گی۔ لوگوں نے دریافت کیا: اس دن مومن کہاں ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ان کے لیے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی، اور ان پر بادل نے سایہ کیا ہوا ہوگا، اور وہ دن اہل ایمان کے لیے (دنیاوی) دن کی ایک گھڑی سےبھی چھوٹا ہوگا"۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي کَثِيرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← محمد بن سعيد الأنصاري، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Hadith 7419

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7420

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا، يَقُولُ: اخْتَصَمَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ أَيُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ فَأَتَوْا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنَ أُمَّتِي عَلَى [ص:437] صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَضْوَأِ كَوْكَبٍ فِي السَّمَاءِ دُرِّيٍّ أَوْ دُرِّيءٍ - شَكَّ سُفْيَانُ - لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ اثْنَتَانِ يُرَى مُخُّ سُوقِهِنَّ مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ، وَمَا فِي الْجَنَّةِ أَعْزُبُ»

۔ محمد نامی راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ کچھ مردوں اور خواتین کے درمیان اس بات پر بحث ہوگئی کہ ان میں سے کس کی تعداد جنت میں زیادہ ہوگی۔ وہ لوگ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا: حضرت ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: میری امت کا سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا وہ چودھویں رات کے چاند کی مانند ہوگا۔ اس کے بعد والے لوگ آسمان میں موجود سب سے زیادہ چمکدار ستارے کی مانند ہوں گے۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں سفیان نامی راوی کو شک ہے۔ ) ان میں سے ہر ایک فرد کی دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا گوشت کے اندر سے بھی دکھائی دے گا، اور جنت میں کوئی کنوار ہ نہیں ہوگا۔

اخْتَصَمَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ أَيُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ فَأَتَوْا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَسَأَلُوهُ، ← مُحَمَّدًا ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 7420

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr