Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7385

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى [ص:394] الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، وَابْنِ أَبْجَرَ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «قَالَ مُوسَى أَيْ رَبِّ، مَنْ أَهْلُ الْجَنَّةِ أَرْفَعُ مَنْزِلَةً؟ قَالَ: سَأُحَدِّثُكَ عَنْهُمْ أَعْدَدْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي، وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا فَلَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، وَمِصْدَاقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ: {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ}» الْآيَةَ [السجدة: 17].

۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار! اہل جنت میں سب سے بلند مرتبہ کس کا ہوگا، تو پروردگار نے فرمایا: میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں بتاتا ہوں۔ میں نے اپنے دست قدرت کے ذریعے ان کی عزت افزائی کا سامان تیار کیا ہے، اور میں نے اس پر مہر لگا دی ہے وہ ایک ایسی چیز ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ہے کسی کان نے اس کے بارے میں سنا نہیں اور کسی انسان کے ذہن میں اس کا خیال بھی نہیں آیا ہوگا۔ (راوی کہتے ہیں ) اس کا مصداق اللہ کی کتا ب میں موجود (یہ آیت ہے) "کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ پوشیدہ رکھا گیا ہے"۔

سَأُحَدِّثُكَ عَنْهُمْ أَعْدَدْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي، وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا فَلَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ ← مُوسَى أَيْ رَبِّ، مَنْ أَهْلُ الْجَنَّةِ أَرْفَعُ مَنْزِلَةً؟ ← عَلَى الْمِنْبَرِ، يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، وَابْنِ أَبْجَرَ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ ← سُفْيَانَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى [ص:394] الْبَلْخِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 7385

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7386

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَامٍ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا، وَمَا فِيهِمَا وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا، وَمَا فِيهِمَا وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ [ص:395] يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ»

۔ ابو بکر بن عبد اللہ بن قیس اپنے والد (حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "دو جنتیں ایسی ہیں، جو چاندی سے بنی ہوئی ہیں ان کے برتن ان میں موجود تمام چیزیں چاندی سے بنی ہوئی ہیں۔ دو جنتیں ایسی ہیں جن کے برتن اور تمام چیزیں سونے سے بنی ہوئی ہیں، اور لوگوں اور کے پروردگار کے دیدار کے درمیان صرف کبریائی کی چادر حائل ہے، جو جنت عدن میں پروردگار کی ذات پر ہے"۔

النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَامٍ بِالْبَصْرَةِ،

Hadith 7386

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7387

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ رَوَاحَةَ الْمَنْبِجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدٌ الطَّائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْمُدِلَّةِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ رَقَّتْ قُلُوبَنَا، وَكُنَّا مِنْ أَهْلِ الْآخِرَةِ، وَإِذَا فَارَقْنَاكَ أَعْجَبَتْنَا الدُّنْيَا، وَشَمَمْنَا النِّسَاءَ وَالْأَوْلَادَ، فَقَالَ: «لَوْ تَكُونُونَ عَلَى كُلِّ حَالٍ عَلَى الْحَالِ الَّذِي أَنْتُمْ عَلَيْهِ عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ بِأَكُفِّكُمْ، وَلَوْ أَنَّكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ كَيْ يَغْفِرَ لَهُمْ»، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنَا عَنِ الْجَنَّةِ مَا بِنَاؤُهَا؟ قَالَ: «لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ، وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ أَوِ الْيَاقُوتُ، وَتُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ، مَنْ يَدْخُلْهَا يَنْعَمْ، فَلَا يَبْؤُسُ، وَيَخْلُدْ لَا يَمُوتُ لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ، ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمُ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ حِينَ يُفْطِرُ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاوَاتِ، وَيَقُولُ الرَّبُّ: وَعِزَّتِي [ص:397] لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، تو ہمارے دل نرم ہوجاتے ہیں، اور ہمیں آخرت کی فکر ہوجاتی ہے لیکن جب ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں، تو ہمیں دنیا اچھی لگنے لگتی ہے، اور ہم اپنے بیوی بچوں میں گم ہوجاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مستقل اسی حالت میں رہو جو تمہاری حالت اسی وقت ہوتی ہے، جب تم میرے پاس ہوتے ہو ، تو فرشتے اپنے ہاتھوں کے ساتھ تمہارے ساتھ مصافحہ کرنے لگ پڑیں اور اگر تم اپنے گھروں میں رہنے کے دوران گناہ نہ کرو، تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو لے آئے گا، جو گناہ کریں تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مغفرت کرے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمیں جنت اور اس کی بناوٹ کے بارے میں بتائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی ایک اینٹ سونے کی ہے اور ایک اینٹ چاندی کی ہے۔ اس کا گارا مشک اذفرکا ہے۔ اس کی کنکریاں موتیوں اور یا قوت کی ہیں۔ اس کی مٹی زعفران ہے، جو شخص اس میں داخل ہوگا۔ وہ ہمیشہ نعمتوں میں رہے گا کبھی پریشان نہیں ہوگا، اور ہمیشہ زندہ رہے گا، اسے کبھی موت نہیں آئے گی، اور اس کے کپڑے کبھی پرانے نہیں ہوں گے اس کی جوانی ختم نہیں ہوگی۔ تین لوگ ایسے ہیں جن کی دعا مسترد نہیں ہوتی۔ عادل حکمران، روزہ دار شخص جب افطاری کرتا ہے اور مظلوم شخص جس کی دعا بادلوں سے اوپر چلی جاتی ہے۔ اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور پروردگار یہ فرماتا ہے: مجھے اپنی عزت کی قسم! میں تمہاری مدد ضرور کروں گا خواہ کچھ عرصے کے بعد کروں۔

قُلْنَا ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو الْمُدِلَّةِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهُ ← سَعْدٍ الطَّائِیِّ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← فرج بن رواحة الْمَنْبِجِیُّ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجٍ،

Hadith 7387

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7388

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ سَبْعِ سِنِينَ»

حکیم بن معاویہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جنت کے دو کواڑوں کے درمیان سات برس کی مسافت کا فاصلہ ہے"۔

أَبِيهِ ← حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 7388

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7389

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، [ص:402] قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ لَكَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرَ، أَوْ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَبُصْرَى»

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جنت کے دو کواڑوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان ہے۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جتنا مکہ اور بصریٰ کے درمیان فاصلہ ہے"۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← أَبُو حَيَّانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، [ص:267] ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7389

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7390

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَهُوَ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ، وَهُوَ أَعْلَى الْجَنَّةِ، وَفَوْقَهُ الْعَرْشُ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ← هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 7390

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7391

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَاجِكٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ حَارِثَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ هَلَكَ حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ أَصَابَهُ سَهْمُ غَرْبٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْتَ مَوْقِعَ حَارِثَةَ مِنْ قَلْبِي، فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ لَمْ أَبْكِ عَلَيْهِ، وَإِلَّا سَوْفَ تَرَى مَا أَصْنَعُ، فَقَالَ لَهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ هِيَ إِنَّمَا هِيَ جِنَانٌ كَثِيرَةٌ، وَإِنَّهُ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى»

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ ام حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ حضرت حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غزوہ بدر میں انتقال کرگئے تھے۔ انہیں ایک نامعلوم تیر لگا تھا۔ اس خاتون نےعرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! حارثہ کی میری دل میں، جو جگہ تھی اس سے آپ واقف ہیں۔ اگر وہ جنت میں ہے، تو میں اس پر نہیں روتی۔ ورنہ پھر آپ دیکھ لیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: کیا جنت کا ایک درجہ ہے۔ جنت کے کئی درجات ہیں اور وہ فردوس اعلیٰ میں ہے۔

حُمَيْدٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَاجِكٍ،

Hadith 7391

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7392

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بْنِ مَرْزُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الشَّوَارِبِ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَتَرَاءَوْنَ الْغُرْفَةَ مِنْ غَرَفِ الْجَنَّةِ، كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَارِبَ [ص:404] فِي الْأُفُقِ الشَّرْقِيِّ أَوِ الْغَرْبِيِّ»

حضرت سیل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اہل جنت ، جنت کے بالا خانوں میں سے ایک دوسرے کو ایسے دیکھیں گے، جس طرح تم مشرقی یا مغربی افق میں غروب ہونے والے چمکدار ستارے کو دیکھتے ہو"۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← ابْنُ أَبِي الشَّوَارِبِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بْنِ مَرْزُوقٍ،

Hadith 7392

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7393

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ، كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ، أَوِ الْغَائِرُ فِي الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تِلْكَ مَنَازِلُ الْأَنْبِيَاءِ لَا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ، قَالَ: «بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، رِجَالٌ آمَنُوا بِاللَّهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "بے شک اہل جنت اپنے اوپر موجود بالا خانوں میں لوگوں کو ایسے دیکھیں گے۔ " جس طرح تم لوگ مشرق یا مغرب کے افق میں نمودار ہونے والے چمکدار ستارے کو دیکھتے ہو۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ انبیاء کے مخصوص مقامات ہوں گے، جہاں کوئی دوسرا نہیں پہنچ سکے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ پر ایمان لائے جنہوں نے رسولوں کی تصدیق کی"۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← مالک بن أنس ← مَعْن بن عيسی ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ،

Hadith 7393

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7394

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ، قَالَ: يَا جِبْرِيلُ، اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ، فَقَالَ: يَا رَبِّ، وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ، إِلَّا دَخَلَهَا، فَحَفَّهَا بِالْمَكَارِهِ، ثُمَّ قَالَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: يَا رَبِّ، لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلُهَا أَحَدٌ، فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ النَّارَ، قَالَ: يَا جِبْرِيلُ، اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: يَا رَبِّ، وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ، فَيَدْخُلُهَا، فَحَفَّهَا بِالشَّهَوَاتِ، ثُمَّ قَالَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: يَا رَبِّ، وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جب اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا، تو فرمایا: اے جبرائیل جاؤ اور اس کا جائز لو۔ وہ گئے اور انہوں نے اس کا جائزہ لیا، تو عرض کی: اے میرے پروردگار! تیری عزت کی قسم اس کے بارے میں، جو بھی سنے گا وہ اس میں ضرور داخل ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے نا پسندیدہ چیزوں کے ذریعے ڈھانپ دیا۔ پھر فرمایا جاؤ اور اس کا جائزہ لو۔ وہ گئے اور انہوں نے اس کا جائزہ لیا، تو عرض کی: اے میرے پروردگار! اب مجھے یہ اندیشہ ہے کوئی بھی اس میں داخل نہیں ہوگا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ) جب اللہ تعالیٰ نے جہنم کو پیدا کیا، تو فرمایا: اے جبرائیل! جاؤ اور اس کا جائزہ لو۔ وہ گئے اور انہوں نے اس کا جائزہ لیا، تو عرض کی: اے میرے پروردگار! تیری عزت کی قسم اس کے بارے میں، جو بھی سنے گا وہ اس میں داخل نہیں ہوگا۔ پھر پروردگار نے اسے پسندیدہ چیزوں کے ذریعے ڈھانپ دیا پھر فرمایا تم جاؤ اور اس کا جائزہ لو۔ وہ گئے اور انہوں نے اس کا جائزہ لیا تو عرض کی: اے میرے پروردگار! تیری عزت کی قسم مجھے یہ اندیشہ ہے کہ ہر شخص اس میں داخل ہوگا"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 7394

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7395

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي إِسْرَائِيلَ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ فِيَ الْجَنَّةِ خِيَمًا مِنْ لُؤْلُؤَةٍ مُجَوَّفَةٍ، عَرْضُهَا سِتُّونَ مِيلًا، فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ مَا يَرَوْنَ الْآخَرِينَ يَطُوفُ عَلَيْهِنَّ الْمُؤْمِنُ»

۔ ابو بکر بن ابو موسیٰ اشعری اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:

أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي إِسْرَائِيلَ الْمَرْوَزِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 7395

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7396

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الْمَرْأَةَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ لِيُرَى بَيَاضُ سَاقِهَا مِنْ سَبْعِينَ حُلَّةِ حَرِيرٍ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ} [الرحمن: 58]، فَأَمَّا الْيَاقُوتُ، فَإِنَّهُ حَجَرٌ لَوْ أَدْخَلْتَهُ سِلْكًا ثُمَّ اطَّلَعْتَ لَرَأَيْتَهُ مِنْ وَرَائِهِ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "اہل جنت سے تعلق رکھنے والی عورت کی پنڈلی کی سفیدی ستر ریشمی لباسوں کے اندر سے بھی دکھائی دے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا "وہ گویا یا قوت اور مرجان ہیں"۔ یا قوت ایک ایسا پتھر ہے کہ اگر آپ اس میں دھاگہ ڈالیں اور پھر آپ اسے دیکھیں، تو وہ آپ کو اس کے پار بھی نظر آجائے گا۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← عبيدة بن حميد ← مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ

Hadith 7396

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr