صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7385
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى [ص:394] الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، وَابْنِ أَبْجَرَ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «قَالَ مُوسَى أَيْ رَبِّ، مَنْ أَهْلُ الْجَنَّةِ أَرْفَعُ مَنْزِلَةً؟ قَالَ: سَأُحَدِّثُكَ عَنْهُمْ أَعْدَدْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي، وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا فَلَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، وَمِصْدَاقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ: {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ}» الْآيَةَ [السجدة: 17].
۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار! اہل جنت میں سب سے بلند مرتبہ کس کا ہوگا، تو پروردگار نے فرمایا: میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں بتاتا ہوں۔ میں نے اپنے دست قدرت کے ذریعے ان کی عزت افزائی کا سامان تیار کیا ہے، اور میں نے اس پر مہر لگا دی ہے وہ ایک ایسی چیز ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ہے کسی کان نے اس کے بارے میں سنا نہیں اور کسی انسان کے ذہن میں اس کا خیال بھی نہیں آیا ہوگا۔ (راوی کہتے ہیں ) اس کا مصداق اللہ کی کتا ب میں موجود (یہ آیت ہے) "کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ پوشیدہ رکھا گیا ہے"۔
سَأُحَدِّثُكَ عَنْهُمْ أَعْدَدْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي، وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا فَلَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ ← مُوسَى أَيْ رَبِّ، مَنْ أَهْلُ الْجَنَّةِ أَرْفَعُ مَنْزِلَةً؟ ← عَلَى الْمِنْبَرِ، يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، وَابْنِ أَبْجَرَ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ ← سُفْيَانَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى [ص:394] الْبَلْخِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،
Hadith 7385
