Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ ‹ کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ · حديث 5188

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ أَبُو عُمَرَ الْقَزَّازُ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ عَنِ الْمُزَارَعَةِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ»

عبد اللہ بن سائب بیان کرتے ہیں :میں نے عبد اللہ بن معقل سے موزرعت کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو انہوں نے بتایا حضرت ثابت بن ضحاک نے مجھے یہ بات بتائی ہے ‘ نبی اکرمﷺ نے مزارعت سے منع فرمایا ہے۔

ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، ← الْمُزَارَعَةِ، ← سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ ← سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ أَبُو عُمَرَ الْقَزَّازُ بِالْبَصْرَةِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Distress › The Book of Distress · Hadith 5188

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ ‹ کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ · حديث 5189

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ [ص:595] بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: كَانَتْ لِرِجَالٍ مِنَّا فُضُولُ أَرَضِينَ يُؤَاجِرُونَهَا عَلَى الثُّلُثِ، وَالرُّبُعِ، وَالنِّصْفِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ فُضُولُ أَرَضِينَ، فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، يُرِيدُ بِهِ، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ «، وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ الزِّرَاعَةَ نَفْسَهَا لَمْ يَكُنْ لِقَوْلِهِ، أَوْ لِيَزْرَعْهَا، مَعْنَى لِأَنَّهُمْ كَانُوا يُزَارِعُونَ عَلَى الثُّلُثِ، وَالرُّبُعِ، وَالنِّصْفِ عَلَى مَا فِي الْخَبَرِ»

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں :پہلے ہم میں سےکچھ لوگوں کےپاس اضافی زمینیں ہوتی تھیں۔ وہ ایک تہائی یا ایک چوتھائی یا نصف پیداوار کے عوض میں ان زمینوں کو کرائے پہ دے دیتے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے پاس اضافی زمین موجود ہو وہ اس میں خود کھیتی باڑی کرےیا اپنے کسی بھائی کو کھیتی باڑی کے لئے دیدے اگر وہ نہیں مانتا ‘ تو وہ زمین اپنے پاس رکھے۔ ( لیکن کرائے پر نہ دے) ( امام ابن حبال ؓ فرماتے ہیں:) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان :’’ یا وہ اپنے بھائی کو کھیتی باڑی کروا دے ‘‘ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے : وہ اپنے بھائی کو بلا معاوضہ طور پر ( عارضی استعمال کے لئے) دیدے اگر اس کے ذریعے مزارعت ہی مراد ہوتی ‘ تو نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان: ’’ اسے چاہئے کہ وہ اس میں زراعت کرے‘‘ اس کا کوئی مطلب نہ ہوتا کیونکہ وہ لوگ پہلے ہی ایک تہائی یا ایک چوتھائی یا نصف پیداوار کے عوض میں مزارعت کیا کرتے تھے جیسا کہ روایت میں یہ بات مذکور ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Distress › The Book of Distress · Hadith 5189

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ ‹ کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ · حديث 5190

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَطَرُ الْوَرَّاقُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ عَجَزَ عَنْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ»

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس شخص کے پاس زمین ہو ‘ وہ اس میں کھیتی باڑی کرے اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا ‘ تو وہ اپنے بھائی کو ( بلا معاوضہ طور پر عارضی استعمال کے لئے ) دیدے۔

«مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ عَجَزَ عَنْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ» ← النَّبِيِّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Distress › The Book of Distress · Hadith 5190

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ ‹ کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ · حديث 5191

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ [ص:597] لَنَا مُوَافِقًا، فَقُلْتُ: مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ؟ »، قُلْنَا: نُؤَاجِرُهَا عَلَى الثُّلُثِ، وَالرُّبُعِ، وَالْأَوْسُقِ مِنَ الْبُرِّ، وَالشَّعِيرِ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا، أَوْ أَزْرِعُوهَا» َالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَبُو النَّجَاشِيِّ اسْمُهُ، عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبٍ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ»

حضرت ظہیر بن رافع ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ہمیں ایک ایسی چیز سے منع کر دیا جو ہمیں موافق تھی ‘ تو میں نے سوچا نبی اکرمﷺ نے جو بات ارشاد فرمائی ہے وہ حق ہے ‘ انہوں نے بتایا : نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’ تم لوگ اپنے کھیت کے بارے میں کی طریقہ کا ر اختیار کرتے ہو ہم نے عرض کی :ہم ایک تہائی یا ایک چوتھائی پیداوار یا گندم یا جو کے مخصوص و سق کے عوض میں اسے کرائے پر دے دیتے ہیں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو تم خود اس میں کھیتی باڑی کرو یا دوسرے کو کھیتی باڑی کرنے کےلئے دے دو‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) ابو نجاشی نامی راوی کا نام عطا بن صہیب ہے اور یہ حضرت رافع بن خدیج کا غلام ہے۔

أَمْرٍ كَانَ [ص:597] لَنَا مُوَافِقًا، فَقُلْتُ: مَا ← نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ ← عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ، ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← أَبُو النَّجَاشِيِّ، أَنَّهُ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Distress › The Book of Distress · Hadith 5191

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ ‹ کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ · حديث 5192

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَأَنْ يُبَاعَ النَّخْلُ حَتَّى يُشْقِحَ، وَالْإِشْقَاحُ، أَنْ تَحْمَرَّ أَوْ تَصْفَرَّ أَوْ يُطْعَمَ مِنْهُ شَيْءٌ»، قَالَ زَيْدٌ:، فَقُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ذَكَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «أَبُو الْوَلِيدِ هَذَا اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ الْمَكِّيُّ»

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے محاقلہ ‘ مزابنہ ‘ مخابرہ سے منع کیا ہے ‘ اور اس چیز سے منع کیا ہے ‘کھجور کے پھل کو فروخت کیا جائے‘ جب تک وہ سق نہیں ہو جاتا اور شقح نہیں ہو جاتا اور شقح سے مراد یہ ہے : وہ سرخ یا زرد ہو جائے یا کھانے کے قابل ہو جائے۔ زید نامی راوی کہتے ہیں: میں نے عطاء سے کہا: آپ نے حضرت جابر بن عبداللہؓ کے زبانی خود یہ بات سنی ہے‘انہوں نے نبی اکرمﷺ کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی ہو ۔ انہوں ے جواب دیا: جی ہاں۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) ابو ولید نامی راوی کا نام سعید بن میناء مکی ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الْوَلِيدِ الْمَكِّيِّ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← حَكِيمُ1 بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Distress › The Book of Distress · Hadith 5192

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ ‹ کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ · حديث 5193

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ»، قَالَ بُكَيْرٌ: وَحَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: كُنَّا نُكْرِي أَرْضَنَا، تَرَكْنَا ذَلِكَ حِينَ سَمِعْنَا حَدِيثَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے زمین کی کرائے پر دینے سے منع کیا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم زمین کرائے پر دیا کرتے تھے پھر جب ہم نے حضرت رافع بن خدیجؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کی یہ حدیث سنی ‘ تو ہم نے اسے ترک کر دیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ← أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Distress › The Book of Distress · Hadith 5193

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ ‹ کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ · حديث 5194

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: انْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: إِنِّي نُبِّئْتُ أَنَّكَ تُحَدِّثُ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، قَالَ: نَعَمْ، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، إِذَا سُئِلَ بَعْدَ ذَلِكَ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ»

نافع بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ تشریف لے گئے۔ ان کے ہمراہ ہم بھی روانہ ہو گئے ‘ یہاں تک کہ ہم حضرت رافع بن خدیج ؓ کے پاس آئے‘ تو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے ان سے کہا مجھے یہ بات پتہ چلی ہے ‘ آپ نبی اکرمﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے کھیت کو کرائے پر دینے سے منع کیا ہے ۔ حضرت رافع نے جواب دیا :جی ہاں۔ اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے جب بھی اس بارے میں دریافت کیا جاتا ‘ تو وہ یہ کہتے : حضرت رافع بن خدیجؓ نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے ‘ نبی اکرمﷺ نے کھیت کو کرائے پر دینے سے منع کیا ہے۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← نَعَمْ، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، إِذَا سُئِلَ بَعْدَ ذَلِكَ، ← كِرَاءِ الْمَزَارِعِ ← نَبِيِّ اللَّهِ «أَنَّهُ نَهَى ← لَهُ ابْنُ عُمَرَ: إِنِّي نُبِّئْتُ أَنَّكَ تُحَدِّثُ ← انْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Distress › The Book of Distress · Hadith 5194

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ ‹ کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ · حديث 5195

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، بِبُسْتٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَمْ يُحَرِّمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُزَارَعَةَ وَلَكِنْ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْفُقَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے مزارعت کو حرام قرار نہیں دیا بلکہ آپ نے لوگوں کو یہ حکم دیا ہے ‘ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اچھائی کریں۔

«لَمْ يُحَرِّمْ رَسُولُ اللَّهِ الْمُزَارَعَةَ وَلَكِنْ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْفُقَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا» ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← شُعْبَةُ، ← شَرِيکٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Distress › The Book of Distress · Hadith 5195

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ ‹ کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ · حديث 5196

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:604] عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الزُّرَقِيُّ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: «كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ، فَيَسْتَثْنِي صَاحِبَ الْأَرْضِ، مَا عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ، وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، فَيَهْلِكُ هَذَا، وَيَسْلَمُ هَذَا، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ»، فَقَالَ رَافِعٌ: «أَمَّا بِشَيْءٍ مَضْمُونٍ مَعْلُومٍ، فَلَا بَأْسَ بِهِ»

حضرت رافع بن خدیجؓ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم زمین کرائے پر دیا کرتے تھے ‘ تو زمین کا مالک کھیت کےکسی مخصوص حصے کو اور پانی کی آمد کے آس پاس کی جگہ کو مستثنیٰ کر لیا کرتا تھا ‘ تو بعض اوقات ایک حصے کی پیداوار خراب ہو جاتی تھی اور ایک حصے کی ٹھیک رہتی تھی ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اس سے منع کر دیا۔ حضرت رافع ؓ کہتے ہیں : البتہ اگر کسی متعین چیز کے عوض میں ( زمین کو ٹھیکے پر دیا جائے) ‘ تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← حنظلة بن قيس الزرقي ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Distress › The Book of Distress · Hadith 5196

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ ‹ کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ · حديث 5197

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: «كَانَتِ الْأَرْضُ تُكْرَى بِالْمَاذِيَانَاتِ وَشَيْءٍ مِنَ التِّبْنِ يُسْتَثْنَى بِهِ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ»، قَالَ رَافِعٌ: «فَأَمَّا الذَّهَبُ، وَالْوَرِقُ، فَلَا بَأْسَ بِهِ»

حضرت رافع بن خدیجؓ بیان کرتے ہیں : پہلے زمین پیداوار کے عوض میں اور کچھ اناج کے عوض میں بھی جس کا استثنٰی کر لیا گیا ہو ‘ کرائے پر دی جاتی تھی ‘ تو نبی اکرمﷺ نے لوگوں کو زمین کو کرائے پر دینے سے منع کر دیا۔ حضرت رافع ؓ کہتے ہیں: جہاں تک سونے یا چاندی کے عوض میں ( زمین کو کرائے پر دینے کا تعلق ہے) ‘ تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

رَافِعٌ: «فَأَمَّا الذَّهَبُ، وَالْوَرِقُ، فَلَا بَأْسَ بِهِ» ← كِرَاءِ الْأَرْضِ»، ← «كَانَتِ الْأَرْضُ تُكْرَى بِالْمَاذِيَانَاتِ وَشَيْءٍ مِنَ التِّبْنِ يُسْتَثْنَى بِهِ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Distress › The Book of Distress · Hadith 5197

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ ‹ کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ · حديث 5198

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ، قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا إِذَا اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ وَافْتَقَرَ إِلَيْهَا غَيْرُهُ زَارَعَهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ، وَكَانَ يَشْتَرِطُ ثَلَاثَ جَدَاوِلَ، وَمَا سَقَى الرَّبِيعِ، وَكُنَّا نُعَالِجُهَا عِلَاجًا شَدِيدًا بِالْبَقَرِ وَالْحَدِيدِ وَبِأَشْيَاءَ، وَكُنَّا نُصِيبُ مِنْهَا «، فَأَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، فَقَالَ: » إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَنْفَعُكُمْ عَنِ الْحَقْلِ - وَالْحَقْلُ: الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ - فَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَاسْتَغْنَى عَنْهَا، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، أَوْ لِيَزْرَعْ، وَنَهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ «

حضرت اسید بن حضیرؓ بیان کرتے ہیں :پہلے ہم میں سےکسی ایک شخص کو اگر زمین کی ضرورت نہ ہوتی اور کسی دوسرے شخص کو وہاں کھیتی باڑی کی ضرورت ہوتی ‘ تو وہ ایک تہائی یا ایک چوتھائی یا نصف پیداوار کے عوض میں معاہدہ کر لیتا تھا اور وہ تین نالیوں کے ( آس پاس کی جگہ ) کی شرط عائد کرتا تھا یا بڑی نالی کے آس پاس کی جگہ کی شرط عائد کرتا تھا ( یعنی وہاں کی پیداوار میری ہو گی) ہم لوگ گائے لوہے اور دیگر اشیاء کے ذریعے بڑی محنت سے وہاں کام کرتے تھے پھر ہمیں اس میں سےکچھ ملتا تھا۔ حضرت رافع بن خدیج ؓ ہمارے پاس آئے انہوں نے بتایا نبی اکرمﷺ نے تمہیں ایک ایسی چیز سے منع کیا ہے ‘ جو تمہارے لئے حقل کے حوالے سے فائدہ مند تھی حقل سے مراد ایک تہائی یا ایک چوتھائی پیداوار کے عوض میں( زمین ٹھیکے پر دینا ہے) تو جس شخص کے پا س کوئی زمین ہو اور اسے اس کی ضرورت نہ ہو ‘ تو وہ اپنے بھائی کو ( بلا معاوضہ طور پر عارضی استعمال کے لئے ) دیدے یا اس میں خود کھیتی باڑی کرے نبی اکرمﷺ نے مزابنہ سے منع کیا ہے۔

كَانَ أَحَدُنَا إِذَا اسْتَغْنَى ← أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Distress › The Book of Distress · Hadith 5198

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ ‹ کِتَابُ الْمُزَاَعَۃِ · حديث 5199

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ أَبُو يَزِيدَ الْمُعَدِّلُ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فِيمَا يَحْسِبُ أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَاتَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ حَتَّى أَلْجَأَهُمْ إِلَى قَصْرِهِمْ فَغَلَبَ عَلَى الْأَرْضِ، وَالزَّرْعِ، وَالنَّخْلِ، فَصَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يُجْلَوْا مِنْهَا وَلَهُمْ مَا حَمَلَتْ رِكَابُهُمْ، وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفْرَاءُ وَالْبَيْضَاءُ، وَيَخْرُجُونَ مِنْهَا، فَاشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَكْتُمُوا وَلَا يُغَيِّبُوا شَيْئًا، فَإِنْ فَعَلُوا، فَلَا ذِمَّةَ لَهُمْ وَلَا عِصْمَةَ، فَغَيَّبُوا مَسْكًا فِيهِ مَالٌ وَحُلِيٌّ لِحُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ، كَانَ احْتَمَلَهُ مَعَهُ إِلَى خَيْبَرَ، حِينَ أُجْلِيَتِ النَّضِيرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّ حُيَيٍّ: «مَا فَعَلَ مَسْكُ حُيَيٍّ الَّذِي جَاءَ بِهِ مِنَ النَّضِيرِ؟ »، فَقَالَ: أَذْهَبَتْهُ النَّفَقَاتُ وَالْحُرُوبُ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَهْدُ [ص:608] قَرِيبٌ وَالْمَالُ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ»، فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، فَمَسَّهُ بِعَذَابٍ، وَقَدْ كَانَ حُيَيٌّ قَبْلَ ذَلِكَ قَدْ دَخَلَ خَرِبَةً، فَقَالَ: قَدْ رَأَيْتُ حُيَيًّا يَطُوفُ فِي خَرِبَةٍ هَاهُنَا، فَذَهَبُوا فَطَافُوا، فَوَجَدُوا الْمَسْكَ فِي خَرِبَةٍ فَقَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَيْ أَبِي حَقِيقٍ وَأَحَدُهُمَا زَوْجُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَسَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُمْ وَذَرَارِيَّهُمْ، وَقَسَمَ أَمْوَالَهُمْ لِلنَّكْثِ الَّذِي نَكَثُوهُ، وَأَرَادَ أَنْ يُجْلِيَهُمُ مِنْهَا، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ دَعْنَا نَكُونُ فِي هَذِهِ الْأَرْضِ نُصْلِحُهَا، وَنَقُومُ عَلَيْهَا وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا لِأَصْحَابِهِ غِلْمَانُ يَقُومُونَ عَلَيْهَا فَكَانُوا لَا يَتَفَرَّغُونَ أَنْ يَقُومُوا، فَأَعْطَاهُمْ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّ لَهُمُ الشَّطْرَ مِنْ كُلِّ زَرْعٍ وَنَخْلٍ وَشَيْءٍ مَا بَدَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَأْتِيهِمْ كُلَّ عَامٍ يَخْرُصُهَا عَلَيْهِمْ، ثُمَّ يُضَمِّنُهُمُ الشَّطْرَ، قَالَ: فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِدَّةَ خَرْصِهِ، وَأَرَادُوا أَنْ يَرْشُوهُ، فَقَالَ: «يَا أَعْدَاءَ اللَّهِ أَتُطْعِمُونِي السُّحْتَ، وَاللَّهِ لَقَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَلَأَنْتُمْ أَبْغَضُ إَلَيَّ مِنْ عِدَّتِكُمْ مِنَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، وَلَا يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ وَحُبِّي إِيَّاهُ عَلَى أَنْ لَا أَعْدِلَ عَلَيْكُمْ»، فَقَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ. قَالَ: وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَيْنَيْ صَفِيَّةَ خُضْرَةً، فَقَالَ: «يَا صَفِيَّةُ مَا هَذِهِ الْخُضَرَةُ؟، فَقَالَتْ: كَانَ رَأْسِي فِي حِجْرِ بْنِ أَبِي حَقِيقٍ وَأَنَا نَائِمَةٌ، فَرَأَيْتُ كَأَنَّ قَمَرًا وَقَعَ فِي حِجْرِي، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَلَطَمَنِي، وَقَالَ: [ص:609] تَمَنَّيْنَ مَلِكَ يَثْرِبَ؟ قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبْغَضِ النَّاسِ إِلَيَّ قَتَلَ زَوْجِي وَأَبِي وَأَخِي، فَمَا زَالَ يَعْتَذِرُ إِلَيَّ، وَيَقُولُ: » إِنَّ أَبَاكِ أَلَّبَ عَلَيَّ الْعَرَبَ وَفَعَلَ وَفَعَلَ «حَتَّى ذَهَبَ ذَلِكَ مِنْ نَفْسِي، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ كُلَّ عَامٍ وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ. فَلَمَّا كَانَ زَمَنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، غَشُّوا الْمُسْلِمِينَ، وَأَلْقَوْا ابْنَ عُمَرَ مِنْ فَوْقِ بَيْتٍ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَنْ كَانَ لَهُ سَهْمٌ مِنْ خَيْبَرَ، فَلْيَحْضُرْ حَتَّى نَقْسِمَهَا بَيْنَهُمْ، فَقَسَمَهَا عُمَرُ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ رَئِيسُهُمْ: لَا تُخْرِجْنَا دَعْنَا نَكُونُ فِيهَا كَمَا أَقَرَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ عُمَرُ لِرَئِيسِهِمْ: أَتَرَاهُ سَقَطَ عَنِّي قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَ: » كَيْفَ بِكَ إِذَا أَفَضَتْ بِكَ رَاحِلَتُكَ نَحْوَ الشَّامِ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا «وَقَسَمَهَا عُمَرُ بَيْنَ مَنْ كَانَ شَهِدَ خَيْبَرَ مِنْ أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اہل خیبر کے ساتھ جہاد کیا ‘یہاں تک کہ جب ان لوگو ں نے اپنے قلعے میں پناہ لے لی اور نبی اکرمﷺ ان کی زمین کھیتوں اور کھجوروں کے باغات پر غالب آ گئے ‘ تو ان لوگوں نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ اس شرط پر صلح کر لی کہ انہیں وہاں سے جلا وطن کر دیا جائے اور وہ اپنی سواریوں پر جو کچھ لاد کر لے جا سکتے ہیں ‘ اسے لے جا سکیں گے البتہ سونا اور چاندی نبی اکرمﷺ کو ملیں گے وہ لوگ وہاں سے نکلنے کے لئے تیار ہوئے۔ نبی اکرمﷺ نے ان پر یہ شرط عائد کی تھی کہ وہ کوئی چیز چھپائیں گے نہیں اور کوئی چیز غائب نہیں کریں گے ۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں ‘ تو پھر ان کے لئے کوئی ذمہ اور کوئی پناہ نہیں ہو گی۔ انہوں نے اس میں سے ایک تھیلے کو غائب کر دیا جس میں کچھ مال تھا اور زیورات تھے وہ حیی بن اخطب کے تھے وہ اپنے ساتھ اس تھیلے کو اٹھا کر خیبر آیا تھاا اس وقت جب بنو نضیر کو جلا وطن کیا گیا تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے حیی کے چچا سے کہا حیی کے اس تھیلے کا کیا بنا جو وہ بنو نضیر سے لے کر آیا تھا ‘ تو اس کے چچا نے کہا: اخراجات اور جنگوں نے سب کچھ خرچ کر وا دیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ابھی ‘ تو اتنا زیادہ وقت نہیں گزرا وہ مال اس سے زیادہ تھا ( کہ ختم ہو جاتا) پھر نبی اکرمﷺ نے اسے حضرت زبیر بن عوام ؓ کے سپرد کیا۔ حضرت زبیرؓ نے اسے مارا پیٹا حیی بن اخطب اس سے پہلے ایک کھنڈر میں داخل ہو چکا تھا ‘ تو اس نے کہا: میں نے حیی کو یہاں کے ایک کھنڈر میں چکر لگاتے ہوئے دیکھا تھا ۔ لوگ گئے وہاں چکر لگایا ‘ تو انہیں اس کھنڈر میں سے وہ تھیلا مل گیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ابو حقیق کے دونوں بیٹو کو قتل کروا دیا ان میں سے ایک حیی بن اخطب کی صاحب زادی سیدہ صفیہ کا شوہر بھی تھا۔ نبی اکرمﷺ نے ان لوگوں کی خواتین اور بچوں کو قیدی بنا لیا اور ان کے اموال لوگوں میں تقسیم کر دئیے۔ آپ نے ان لوگوں کو وہاں سے جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو ان لوگوں نے کہا: اے حضرت محمد ﷺ آپ ہمیں ہماری سر زمین پر رہنے دیں۔ ہم یہاں کام کاج کریں گے۔ اس کی دیکھ بھال کریں گے۔ نبی اکرمﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے پاس ایسے لوگ نہیں تھے جو زمین کی دیکھ بھال کرتے اور وہاں کی نگرانی کرتے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے خیبر کی سرزمین ان لوگوں کو اس شرط پر دی کہ وہاں کہ زراعت کھجوروں اور دیگر چیزوں میں سے نصف حصہ ان لوگوں کو ملے گا ( اور نصف حصہ نبی اکرمﷺ کو ادا کیا جائے گا ) ‘ جب تک نبی اکرمﷺ چاہیں گے ( یعنی جب نبی اکرمﷺ چاہیں گے یہ معاہدہ ختم کر دیں گے) حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ ہر سال وہاں آیا کرتے تھے ان کی پیداوار کا اندازہ لگاتے تھے پھر وہ ان لوگوں کو نصف ادائیگی کا پابند کرتے تھے راوی کہتے ہیں : ان لوگوں نے حضرت عبد اللہ بن رواحہ ؓ کے اندازے کی سختی کی وجہ سے نبی اکرمﷺ سے شکایت کی انہوں نے پہلے انہیں رشوت دینے کی بھی کوشش کی تھی ‘ تو حضرت عبد اللہ رواحہؓ نے کہا: اے اللہ کے دشمنوں! کیا تم مجھے حرام کھلانا چاہتے ہو۔ اللہ کی قسم میں تمہارے پاس اس ہستی کی طرف آیا ہوں ۔ جو میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں اور تم لوگ میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہو‘ یہاں تک کہ بندروں اور خنزیروں میں بھی زیادہ نا پسندیدہ ہو ‘ لیکن اس کے باوجود تمہارے ساتھ میری نفرت اور نبی اکرمﷺ کے ساتھ میری محبت بھی مجھے اس چیز پر آمادہ نہیں کر سکی کہ میں تمہارے ساتھ نا انصافی کروں‘ تو ان لوگوں نے کہا: اسی ( ایمانداری کی وجہ سے ) آسمان اور زمین میں قائم ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے سیدہ صفیہ ؓ کی دونوں آنکھوں پر سبز رنگ کا نشان دیکھا ‘ تو دریافت کیا: اے صفیہ! یہ سبز رنگ کا نشان کس وجہ سے ہے ‘ تو انہوں نے بتایا میرا سر ابو حقیق کے صاحب زادے ( یعنی میرے سابقہ شوہر) کی گود میں تھا۔ میں اس وقت سوئی ہوئی تھی میں نے خواب دیکھا کہ چاند میری گود میں آ گیا ہے ۔ ( بیدار ہونے کے بعد ) میں نے اپنے شوہر کو اس بارے میں بتایا ‘ تو اس نے مجھے ایک طمانچہ لگایا اور بولا تم یثرب کے بادشاہ ( یعنی نبی اکرمﷺ ) کی آرزو مند ہو۔ سیدہ صفیہؓ بیان کرتی ہیں : پہلے نبی اکرمﷺ میرے نزدیک سب سے زیادہ نا پسندیدہ شخصیت تھے کیونکہ انہوں نے میرے شوہر میرے والد اور میرے بھائی کو قتل کروایا تھا نبی اکرمﷺ مسلسل میرے سامنے عذر بیان کرتے رہے ۔ آپ یہ فر ماتے تھے تمہارے والد نے تمام عربوں کو میرے خلاف کر دیا تھا۔اس نے یہ کیا تھا اس نے وہ کیا تھا ( اس وجہ سے میں اس سے لڑنے پر مجبور ہوا تھا ) ‘ یہاں تک کہ میرے دل میں ( نبی اکرمﷺ کے بارے میں جو ناپسندیدگی تھی ) وہ ختم ہو گئی۔ نبی اکرمﷺ اپنی ازواج میں سے ہر خاتون کو ہر سال کھجور کے اسی (80) وسق اور جو کے بیس (20 ) وسق دیا کرتے تھے۔ جب حضرت عمر بن خطاب ؓ کا عہد خلافت آیا اور ( خبیر ک یہودیوں نے ) مسلمانوں کےک ساتھ دھوکا کرنا شروع کیا اور انہوں نے حضرت عمرؓ کے صاحب زادے کو گھر کی چھت سے نیچے گرا دیا ‘ تو حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا جس شخص کا خبیر میں مخصوص حصہ ہے وہ آ جائے تاکہ ہم اسے ان کے درمیان تقسیم کر دیں پھر حضرت عمرؓ نے اسے ان لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا ۔ ان کے سر دار نے کہا : آپ ہمیں ( خیبر نے) نہ نکالیں آپ ہمیں یہاں رہنے دیں ‘ جس طرح نبی اکرمﷺ اور حضرت ابو بکرؓ نے ہمیں یہاں رہنے دیا تھا ‘ تو حضرت عمرؓ نے ان کے سردار سے کہا: کیا تم اس کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہو کہ میں نے اس بارے میں نبی اکرمﷺ کے قول کے برخلاف کیا ہے۔ اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب تمہاری سواری تمہیں لے کر شام کی طرف بڑھ رہی ہو گی۔ پھر حضرت عمرؓ نے وہاں کی زمین اور لوگوں کے درمیان تقسیم کر دی جو صلح حدیبیہ میں موجود تھے اور غزوۂ خیبر میں شریک ہوئے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فِيمَا يَحْسِبُ أَبُو سَلَمَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ أَبُو يَزِيدَ الْمُعَدِّلُ بِالْبَصْرَةِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Distress › The Book of Distress · Hadith 5199

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr