Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الشُّفْعَۃِ ‹ ذِکْرُ الزَّجْرِ عَنْ اَنْ یَّبِیعَ الْمَرْءُ حَائطَہُ قَبْلَ اَنْ یَّعْرِضَہُ عَلٰی جَارِہِ · حديث 5178

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ لَا يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يَعْرِضَ عَلَى صَاحِبِهِ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ»

حضرت جابر ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ ہر زمین اور باغ میں شفعہ ہو سکتاہے اسے اس وقت تک فروخت کرنا درست نہیں ہے ‘ جب تک آدمی اپنے ساتھی کو اس بارے میں پیشکش نہ کر دے اگر وہ چاہے ‘ توا سے حاصل کر لے اور اگر چاہے ‘ تو اسے ترک کر دے‘‘۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Intercession › The mention of rebuking someone selling a wall before showing it to a neighbor · Hadith 5178

صیح ابن حبان · کِتَابُ الشُّفْعَۃِ ‹ ذِکْرُ الزَّجْرِ عَنْ اَنْ یَّبِیعَ الْمَرْءُ حَائطَہُ قَبْلَ اَنْ یَّعْرِضَہُ عَلٰی جَارِہِ · حديث 5179

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، [ص:583] عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي رَبْعَةٍ، أَوْ نَخْلٍ، فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ، فَإِنْ رَضِيَ أَخَذَ وَإِنْ كَرِهَ تَرَكَ»

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، [ص:583] ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Intercession › The mention of rebuking someone selling a wall before showing it to a neighbor · Hadith 5179

صیح ابن حبان · کِتَابُ الشُّفْعَۃِ ‹ ذِکْرُ الزَّجْرِ عَنْ اَنْ یَّبِیعَ الْمَرْءُ حَائطَہُ قَبْلَ اَنْ یَّعْرِضَہُ عَلٰی جَارِہِ · حديث 5180

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ»

حضرت ابو رافع ؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ پڑوسی اپنے پڑوس کے بارے میں زیادہ حق دار ہوتا ہے‘‘۔

«الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ» ← النَّبِيِّ ← أَبِي رَافِعٍ ← عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Intercession › The mention of rebuking someone selling a wall before showing it to a neighbor · Hadith 5180

صیح ابن حبان · کِتَابُ الشُّفْعَۃِ ‹ ذِکْرُ الزَّجْرِ عَنْ اَنْ یَّبِیعَ الْمَرْءُ حَائطَہُ قَبْلَ اَنْ یَّعْرِضَہُ عَلٰی جَارِہِ · حديث 5181

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، قَالَ: «كُنْتُ مَعَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، فَجَاءَ أَبُو رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ: اشْتَرِ مِنِّي بَيْتَيَّ اللَّذَيْنِ فِي دَارِكَ، فَقَالَ: لَا، إِلَّا بِأَرْبَعَةِ آلَافٍ مُنَجَّمَةٍ، أَوْ قَالَ: مُقَطَّعَةٍ، فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ، لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ [ص:585] رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: » الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا بِعْتُكَهَا، لَقَدْ أُعْطِيتُ بِهَا خَمْسَ مِائَةِ دِينَارٍ «

عمر و بن شرید بیان کرتے ہیں : میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ اور حضرت مسعود بن مخرمہ ؓ کے ہمراہ موجود تھا ۔ اسی دوران نبی اکرمﷺ کے غلام حضرت ابو رافعؓ تشریف لے آئے۔ انہوں نے حضرت سعد بن مالکؓ سے کہا آپ مجھ سے میرے وہ دو گھر خرید لیں جو آپ کے محلے میں ہیں‘ تو حضرت سعد بن ابو وقاص ؓ نے کہا: جی نہیں میں اس شرط پر خریدوں گا ان کی قیمت چار ہزار ( درہم ) ہو گی اور وہ بھی قسطوں میں ادا کی جائے گی ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ‘ تو حضرت ابو رافع نے فرمایا اللہ کی قسم اگر میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بار ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ ’’ پڑوسی اپنے پڑوسی کا زیادہ حق دار ہوتا ہے ‘‘ تو میں وہ گھر آپ کو فروخت نہ کرتا کیونکہ مجھے اس کے پانچ سو دینار مل رہے تھے۔

أَمَا وَاللَّهِ، لَوْلَا أَنِّي ← مُقَطَّعَةٍ، ← لَا، إِلَّا بِأَرْبَعَةِ آلَافٍ مُنَجَّمَةٍ، أَوْ ← لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ: اشْتَرِ مِنِّي بَيْتَيَّ اللَّذَيْنِ فِي دَارِكَ، ← قَّاصٍ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، فَجَاءَ أَبُو رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← «كُنْتُ مَعَ سَعْدِ بْنِ أَبِي ← عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Intercession › The mention of rebuking someone selling a wall before showing it to a neighbor · Hadith 5181

صیح ابن حبان · کِتَابُ الشُّفْعَۃِ ‹ ذِکْرُ الزَّجْرِ عَنْ اَنْ یَّبِیعَ الْمَرْءُ حَائطَہُ قَبْلَ اَنْ یَّعْرِضَہُ عَلٰی جَارِہِ · حديث 5182

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ.

حضرت انسؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ پھر کا پڑوسی گھر کا زیادہ حق دار ہوتا ہے‘‘۔

جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ. ← النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Intercession › The mention of rebuking someone selling a wall before showing it to a neighbor · Hadith 5182

صیح ابن حبان · کِتَابُ الشُّفْعَۃِ ‹ ذِکْرُ الزَّجْرِ عَنْ اَنْ یَّبِیعَ الْمَرْءُ حَائطَہُ قَبْلَ اَنْ یَّعْرِضَہُ عَلٰی جَارِہِ · حديث 5183

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ: وَقَفْتُ عَلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَجَاءَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى أَحَدِ مَنْكِبَيَّ إِذْ جَاءَ أَبُو رَافِعٍ، مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا سَعْدُ ابْتَعْ مِنِّي بَيْتِي فِي دَارِكَ، فَقَالَ سَعْدُ: لَا وَاللَّهِ، لَا أَبْتَاعُهُمَا، فَقَالَ الْمِسْوَرُ: وَاللَّهِ لَتَبْتَاعَنَّهُمَا، فَقَالَ سَعْدٌ: وَاللَّهِ لَا أَزِيدُكَ عَلَى أَرْبَعَةِ آلَافٍ مُنَجَّمَةٍ، أَوْ مُقَطَّعَةٍ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ: وَاللَّهِ لَقَدْ أُعْطِيتُ بِهَا خَمْسَ مِائَةِ دِينَارٍ، وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الْمَرْءُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ»، مَا أَعْطَيْتُكَهُمَا بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ وَأَنَا أُعْطَى بِهِمَا خَمْسَ مِائَةِ دِينَارٍ

عمرو بن شرید بیان کرتے ہیں : میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے پاس کھڑا ہوا تھا۔ اسی دوران حضرت مسور بن مخرمہؓ تشریف لے آئے۔ انہوں نے اپنا ہاتھ میرےکندھے پر رکھا۔ اسی دوران نبی اکرمﷺ کے غلام حضرت ابو رافع ؓ تشریف لے آئے۔ انہوں نے فرمایا: اے حضرت سعدؓ آپ مجھ سے اپنے محلے میں موجود میرے گھر خرید لیجئے۔ حضرت سعدؓ نے کہا: جی نہیں اللہ کی قسم میں ان دونوں گھروں کو نہیں خریدوںگا۔حضرت مسعودؓ نے کہا: اللہ کی قسم آپ ان دونوں کو خریدیں گے۔ حضرت سعدؓ نے کہا: اللہ کی قسم میں چار ہزار ( درہم ) سے زیادہ ادائیگی نہیں کروں گا اور وہ بھی قسطوں میں ہو گی ‘ تو حضرت ابو رافع نے کہا: اللہ کی قسم مجھے اس کے پانچ سو دینار مل رہے ہیں اگر میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سناہوتا۔ آدمی اپنے پڑوسی کا زیادہ حق دار ہوتا ہے‘‘ تو میں چار ہزار درہم کے عوض میں یہ دونوں گھر آپ کو نہ دیتا جبکہ مجھ کو ان کے پانچ سو دینار دیئے جا رہے ہیں‘‘۔

اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ← محمد بن المنذر

Sahih Ibn Hibban · The Book of Intercession › The mention of rebuking someone selling a wall before showing it to a neighbor · Hadith 5183

صیح ابن حبان · کِتَابُ الشُّفْعَۃِ ‹ ذِکْرُ الزَّجْرِ عَنْ اَنْ یَّبِیعَ الْمَرْءُ حَائطَہُ قَبْلَ اَنْ یَّعْرِضَہُ عَلٰی جَارِہِ · حديث 5184

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «إِنَّمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ال شُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ»

حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے شفعہ کا حق ہر اس زمین میں دیا ہے ‘ جو تقسیم نہ ہوئی ہو ‘ لیکن جب حدود واقع ہو جائیں اور راستے مختلف ہو جائیں ‘ تو پھر شفعہ نہیں رہے گا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Intercession › The mention of rebuking someone selling a wall before showing it to a neighbor · Hadith 5184

صیح ابن حبان · کِتَابُ الشُّفْعَۃِ ‹ ذِکْرُ الزَّجْرِ عَنْ اَنْ یَّبِیعَ الْمَرْءُ حَائطَہُ قَبْلَ اَنْ یَّعْرِضَہُ عَلٰی جَارِہِ · حديث 5185

أَخْبَرَنَا الْحَرُّ بْنُ سُلَيْمَانَ بِأَطْرَابُلْسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَاجِشُونُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشُّفْعَةُ فِيمَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «رَفَعَ هَذَا الْخَبَرَ عَنْ مَالِكٍ أَرْبَعَةُ أَنْفَسٍ الْمَاجِشُونُ، وَأَبُو عَاصِمٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي قُتَيْلَةَ، وَأَشْهَبُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَرْسَلَهُ عَنْ مَالِكٍ سَائِرُ أَصْحَابِهِ وَهَذِهِ كَانَتْ عَادَةً لِمَالِكٍ، يَرْفَعُ فِي الْأَحَايِينِ الْأَخْبَارِ وَيُوقِفُهَا مِرَارًا وَيُرْسِلُهَا [ص:592] مَرَّةً وَيُسْنِدُهَا أُخْرَى عَلَى حَسَبِ نَشَاطِهِ، فَالْحُكْمُ أَبَدًا لِمَنْ رَفَعَ عَنْهُ وَأَسْنَدَ بَعْدَ أَنْ يَكُونَ ثِقَةً حَافِظًا، مُتْقِنًا عَلَى السَّبِيلِ الَّذِي وَصَفْنَاهُ، فِي أَوَّلِ الْكِتَابِ»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ شفعہ اس چیز میں ہوتا ہے ‘جو تقسیم نہ ہوئی ہو جب حدود واقع ہو جائیں اور راستے مختلف ہو جائیں ‘ تو شفعہ نہیں رہے گا‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒفرماتے ہیں :) امام مالک کے حوالے سے اس روایت کو چا ر حضرات نے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیاہے ماجثون ، ابو عاصم ، یحیٰی بن ابو قتیلہ اور اشہب بن عبد العزیز۔ جب کہ امام مالک کے حوالے سے ان کے دیگر تمام شاگردوں نے اس روایت کو مرسل حدیث کے طور پر نقل کیا ہے امام مالک کی یہ عادت تھی کہ وہ بعض اوقات روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر نقل کر دیتے تھے اور بعض اوقات موقوف روایت کے طور پر نقل کر دیتے تھے اور کبھی مرسل کے طور پر نقل کر دیتے تھے اور کبھی مسند کے طو رپر نقل کیا ہو اور ان سے نقل کرنے والا راوی ثقہ اور حافظ ہو اور متقن ہو ‘ تو اس کی وہی صورت حال ہو گی جو ہم کتا ب کے آغاز میں بیان کر چکے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَالِكٍ، ← الْمَاجِشُونُ، ← سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ← الْحَرُّ بْنُ سُلَيْمَانَ بِأَطْرَابُلْسَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Intercession › The mention of rebuking someone selling a wall before showing it to a neighbor · Hadith 5185

صیح ابن حبان · کِتَابُ الشُّفْعَۃِ ‹ ذِکْرُ الزَّجْرِ عَنْ اَنْ یَّبِیعَ الْمَرْءُ حَائطَہُ قَبْلَ اَنْ یَّعْرِضَہُ عَلٰی جَارِہِ · حديث 5186

أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي ال شُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ»

حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے شفعہ کے بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے‘ یہ ہر اس چیز میں ہوتا ہے ‘ جو تقسیم نہ ہوئی ہو ‘ لیکن جب حدود واقع ہو جائیں اور راستے مختلف ہو جائیں ‘ تو پھر شفعہ نہیں رہے گا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، ← الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Intercession › The mention of rebuking someone selling a wall before showing it to a neighbor · Hadith 5186

صیح ابن حبان · کِتَابُ الشُّفْعَۃِ ‹ ذِکْرُ الزَّجْرِ عَنْ اَنْ یَّبِیعَ الْمَرْءُ حَائطَہُ قَبْلَ اَنْ یَّعْرِضَہُ عَلٰی جَارِہِ · حديث 5187

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِال شُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ»

حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے شفعہ کے بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے‘ یہ ہر اس زمین میں ہو سکتا ہے ‘ جو تقسیم نہ ہوئی ہو ‘ لیکن جب حدود واقع ہو جائیں اور راستے مختلف ہو جائیں ‘ تو پھر شفعہ نہیں رہے گا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Intercession › The mention of rebuking someone selling a wall before showing it to a neighbor · Hadith 5187

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr