Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْضَصْبِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یَجِبُ عَلَی الْمَرْءِ مِنْ رَدِّ حُقُوقِ النَّاسِ عَلَیْہِمْ وَتَرْکِہِ الْاِتِّکَالَ عَلٰی ھٰذِہِ الدُّنْیَا الْفَانِیَۃِ الزَّائلَۃِ · حديث 5172

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، بِعَسْقَلَانَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولَانِ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزْنِي الزَّانِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ، وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرُ حِينَ يَشْرَبُهَا، وَهُوَ مُؤْمِنٌ» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَانَ يُحَدِّثُهُمْ بِهَؤُلَاءِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَكَانَ يَلْحَقُ فِيهَا، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ، يَرْفَعُ النَّاسَ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ، وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ

حضرت ا بو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ زنا کرنے والا زنا کرتے ہوئےمومن نہیں رہتا ۔ چوری کرنے والا چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا ۔ شراب پینے والا شراب پیتے ہوئے مومن نہیں رہتا ‘‘۔ ابن شہاب کہتے ہیں :عبد المالک بن ابو بکر بن عبدالرحمٰن نے مجھے یہ بتائی کہ ابو بکر بن عبد الرحمٰن نے ان لوگوں کو یہ روایت حضرت ابو ہریرہؓ کے حوالے سے سنائی تھی ۔ وہ اس کےہمراہ ان الفاظ کا اضا فہ کرتے تھے۔ ’’ کسی قیمتی چیز کو لوٹنے والا شخص جس کی طرف لوگ دیکھ رہے ہوں و ہ اسے لوٹتے ہوئے مومن نہیں رہتا‘‘۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولَانِ: ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ، بِعَسْقَلَانَ،

Hadith 5172

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْضَصْبِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یَجِبُ عَلَی الْمَرْءِ مِنْ رَدِّ حُقُوقِ النَّاسِ عَلَیْہِمْ وَتَرْکِہِ الْاِتِّکَالَ عَلٰی ھٰذِہِ الدُّنْیَا الْفَانِیَۃِ الزَّائلَۃِ · حديث 5173

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزْنِي الزَّانِي، حِينَ يَزْنِي، وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ، حِينَ يَسْرِقُ، وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ، حِينَ يَشْرَبُهَا، وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً، وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ»

حضرت ا بو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ زنا کرنے والا زنا کرتے ہوئےمومن نہیں رہتا ۔ چوری کرنے والا چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا ۔ شراب پینے والا شراب پیتے ہوئے مومن نہیں رہتا اور لوٹ مار کرنے والا لوٹ مار کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 5173

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْضَصْبِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یَجِبُ عَلَی الْمَرْءِ مِنْ رَدِّ حُقُوقِ النَّاسِ عَلَیْہِمْ وَتَرْکِہِ الْاِتِّکَالَ عَلٰی ھٰذِہِ الدُّنْیَا الْفَانِیَۃِ الزَّائلَۃِ · حديث 5174

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:577] سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: «إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ، مَا أَخْرَجَ اللَّهُ مِنْ نَبَتِ الْأَرْضِ، وَزَهْرَةِ الدُّنْيَا»، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟، فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يُنَزَّلُ عَلَيْهِ، وَكَانَ إِذَا نُزِّلَ عَلَيْهِ، غَشِيَهُ بُهْرٌ وَعَرَقٌ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ؟ »، فَقَالَ: هَا أَنَا ذَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَمْ أُرِدْ إِلَّا خَيْرًا، فَقَالَ: «إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ، وَلَكِنْ كُلُّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ، يَقْتُلُ حَبَطًا، أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ، فَإِنَّهَا تَأْكُلُ، حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا، اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ، ثُمَّ عَادَتْ، فَأَكَلَتْ، ثُمَّ قَامَتْ، فَاجْتَرَّتْ، فَمَنْ أَخَذَ مَالًا بِحَقِّهِ، بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَنَفَعَهُ، وَمَنْ أَخَذَ مَالًا بِغَيْرِ حَقِّهِ، لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ، وَلَا يَشْبَعُ»

حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں :میں نے نبی اکرمﷺ کو منبر پر یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ۔ ’’ تمہارے بارے میں مجھے سب سے زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے ‘ اللہ تعالیٰ زمین کی نباتات اور دنیا کی آرائش و زیبائش کو ظاہر کر دے گا ۔ ایک صاحب آپ کی خدمت میں کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! کیا بھلائی برائی کو لے آئے گی ۔ نبی اکرمﷺ خاموش رہے ‘یہاں تک کہ ہمیں یہ اندازہ ہو گیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی ‘ تو آپ پر غنودگی طاری ہو جاتی تھی اور آپ کو پسینہ آتا تھا ‘ جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی ‘ تو آپ نے دریافت کیا سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں یہاں ہوں۔ میں نے اس کےذریعے صرف بھلائی کا ارادہ کیا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: بھلائی صرف بھلائی کو لے کر آتی ہے ‘ لیکن موسم بہار جو کچھ اگاتا ہے وہ بہت سےجانوروں کو مار دیتا ہے اور بہت سے جانوروں کو تکلیف کا شکار کرتا ہے۔ صرف سبزہ کھانے والے جانور کا حکم مختلف ہے کیونکہ وہ کھاتا ہے ‘ یہاں تک کہ جب اس کا پیٹ پھول جاتا ہے ‘ تو وہ دھوپ میں آ جاتا ہے وہاں وہ لید کرتاہے ، پیشاب کرتا ہے ، پھر واپس جاتا ہے پھر کھاتا ہے پھر کھڑا ہو جاتا ہے پھر چل پڑتا ہے ‘ جو شخص حق کے ہمراہ مال کو حاصل کرتا ہے اس کے لئے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور وہ مال اسے فائدہ دیتا ہے ‘ جو شخص ناحق طور پر مال کو حاصل کرتا ہے اس کے لئے اس میں برکت نہیں رکھی جاتی اور اس کی مثال اس شخص کی مانند ہوتی ہے وہ کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا ‘‘۔

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← [ص:180] سُفْيَانُ: ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 5174

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْضَصْبِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یَجِبُ عَلَی الْمَرْءِ مِنْ رَدِّ حُقُوقِ النَّاسِ عَلَیْہِمْ وَتَرْکِہِ الْاِتِّکَالَ عَلٰی ھٰذِہِ الدُّنْیَا الْفَانِیَۃِ الزَّائلَۃِ · حديث 5175

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ الظَّالِمَ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يَنْفَلِتْ، ثُمَّ تَلَا: {وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ، إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ} [هود: 102]»

حضرت ابو موسیٰ اشعریٰ ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ بے شک اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا رہتا ہے ‘یہاں تک کہ جب وہ اس کی گرفت کرتا ہے ‘ تو پھر اسے نہیں چھوڑتا ‘‘۔ پھر آپﷺ نے یہ آیت تلاوت کی: ’’ اسی طرح تمہارے پروردگار کی پکڑ ہوتی ہے ‘ جب اس نے اس بستی کی پکڑ کی جو ظالم تھی بے شک اس کی پکڑ درد ناک اور زبردست ہوتی ہے۔

النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 5175

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْضَصْبِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یَجِبُ عَلَی الْمَرْءِ مِنْ رَدِّ حُقُوقِ النَّاسِ عَلَیْہِمْ وَتَرْکِہِ الْاِتِّکَالَ عَلٰی ھٰذِہِ الدُّنْیَا الْفَانِیَۃِ الزَّائلَۃِ · حديث 5176

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَأَبُو دَاوُدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ، وَلَا التَّفَحُّشَ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الشُّحُّ، أَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ، فَقَطَعُوا أَرْحَامَهُمْ، وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ، فَفَجَرُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ، فَبَخِلُوا»، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «أَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ، وَيَدِكَ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ، قَالَ: «أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ»، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ، هِجْرَةُ الْحَاضِرِ، وَهِجْرَةُ الْبَادِي، أَمَّا الْبَادِي، فَيُجِيبُ إِذَا دُعِيَ، وَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ، وَأَمَّا الْحَاضِرُ، فَهُوَ أَعْظَمُهُمَا بَلِيَّةً، وَأَعْظَمُهُمَا أَجْرًا»

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ ظلم کرنے سے بچو کیونکہ قیامت کے دن ظلم تاریکیوں کی شکل میں ہو گا اور فحش گفتگو سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ فحش گفتگو اور بد زبانی کا مظاہرہ کرنے والے شخص کو پسند نہیں کرتا اور کنجوسی سے بچو کیونکہ تم سے پہلے کے لوگوں کو کنجوشی نے ہلاکت کا شکار کیاتھا۔ اس نے انہیں رشتہ داری کے حقوق کی پامالی کی ترغیب دی ‘ تو ان لوگوں نے رشتہ داری کے حقوق کو پامال کیا اس نے انہیں گناہ کرنے کی ترغیب دی تو انہوں نے گناہ کیا۔ اس نے انہیں کنجوسی کرنے کی ترغیب دی ‘ تو انہوں نے کنجوسی کی۔ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! کون سا اسلام زیادہ فٖضیلت رکھتا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ( یہ کہ ) مسلمان تمہاری زبان اور ہاتھوں سے محفوظ رہیں۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! کون سی لا تعلقی زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: یہ کہ تم اس چیز سے لا تعلق ہو جاؤ جسے تمہارا پروردگار نا پسند کرتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ ہجرت دو طرح کی ہوتی ہے ۔ شہری کی ہجرت اور دیہاتی کی ہجرت جہاں تک دیہاتی کی ہجرت کا تعلق ہے ‘ تو وہ یہ ہے ‘جب اسے بلایا جائے ‘ تو وہ آ جائے اور جب اسے حکم دیا جائے ‘ تو وہ اس کی فرمانبرداری کرے ۔ جہاں تک شہری کی ہجرت کا تعلق ہے اس میں آزمائش بڑی ہوتی ہے اور اس کا اجر بھی زیادہ ہوتا ہے‘‘۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَأَبُو دَاوُدَ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 5176

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْضَصْبِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَمَّا یَجِبُ عَلَی الْمَرْءِ مِنْ رَدِّ حُقُوقِ النَّاسِ عَلَیْہِمْ وَتَرْکِہِ الْاِتِّکَالَ عَلٰی ھٰذِہِ الدُّنْیَا الْفَانِیَۃِ الزَّائلَۃِ · حديث 5177

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارِ الرَّمَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَاحِشَ، وَالْمُتَفَحِّشَ، وَإِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ هِيَ الظُّلُمَاتُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ، فَإِنَّ الشُّحَّ دَعَا مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَسَفَكُوا دِمَاءَهُمْ، وَقَطَعُوا أَرْحَامَهُمْ» *

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ فحش گفتگو سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ فحش گفتگو اور بد زبانی کا مظاہرہ کرنے والے کو پسند نہیں کرتا اور ظلم کرنے سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کی شکل میں ہو گا۔ اور کنجوسی سے بچو کیونکہ کنجوسی نے تم سے پہلے لوگوں کو اپنی طرف بلا لیا‘ تو انہوں نے ( کنجوسی کی وجہ سے) ایک دوسرے بہایا اور رشتہ داری کے حقوق کو پامال کیا‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٌ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 5177

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr