Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِجَارَۃِ ‹ ذِکْرُ الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ قَالَ: مِنَ الْمُتَصَوِّفَۃِ بِاِبْطَالِ الْکَسْبِ · حديث 5142

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَانَ زَكَرِيَّا نَجَّارًا»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ حضرت زکریا علیہ السلام بڑھئی تھے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Alijjar › Mentioning the negative news of someone who said: “Of the mystic, the invalidity of the gain · Hadith 5142

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِجَارَۃِ ‹ ذِکْرُ الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ قَالَ: مِنَ الْمُتَصَوِّفَۃِ بِاِبْطَالِ الْکَسْبِ · حديث 5143

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجْتَنِي الْكَبَاثَ، فَقَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ، فَإِنَّهُ أَطْيَبُ»، فَقُلْنَا، وَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ، قَالَ: «نَعَمْ وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ رَعَاهَا»

حضر ت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے ہم پیلو چن رہے تھے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم لوگ سیاہ رنگ کے پیلو چنو کیونکہ وہ زیادہ پاکیزہ ہوتے ہیں۔ ہم نےدریافت کیا :کیا آپ بکریاں چراتے رہے ہیں ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں۔

«نَعَمْ وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ رَعَاهَا» ← «عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ، فَإِنَّهُ أَطْيَبُ»، فَقُلْنَا، وَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ، ← كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ نَجْتَنِي الْكَبَاثَ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Alijjar › Mentioning the negative news of someone who said: “Of the mystic, the invalidity of the gain · Hadith 5143

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِجَارَۃِ ‹ ذِکْرُ الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ قَالَ: مِنَ الْمُتَصَوِّفَۃِ بِاِبْطَالِ الْکَسْبِ · حديث 5144

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَجْتَنِي الْكَبَاثَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ، فَإِنَّهُ أَطْيَبُ، وَإِنِّي كُنْتُ آكُلُهُ زَمَنَ كُنْتُ أَرْعَى»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكُنْتَ تَرْعَى؟، فَقَالَ: «وَهَلْ بُعِثَ نَبِيٌّ، إِلَّا وَهُوَ رَاعٍ»

حضرت جابر بن ؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے ہم پیلو چن رہے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ان میں سے سیاہ رنگ کے چنو کیونکہ وہ زیادہ پاکیزہ ہوتے ہیں ۔ میں انہیں اس زمانے میں کھایا کرتاتھا ‘ جب میں بکریاں چراتا تھا ۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! کیا آپ بکریاں چراتے رہے ہیں ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس بھی نبی کو مبعوث کیا گیا اس نے بکریاں چرائی ہیں۔

كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ وَنَحْنُ نَجْتَنِي الْكَبَاثَ، ← جَابِرٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← بُنْدَارٌ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Alijjar › Mentioning the negative news of someone who said: “Of the mystic, the invalidity of the gain · Hadith 5144

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِجَارَۃِ ‹ ذِکْرُ الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ قَالَ: مِنَ الْمُتَصَوِّفَۃِ بِاِبْطَالِ الْکَسْبِ · حديث 5145

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَهُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشَرِ سِنِينَ مَقْدِمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَكُنَّ أُمَّهَاتِي يُحَرِّضْنَنِي عَلَى خِدْمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «فَخَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَشْرًا حَيَاتَهُ بِالْمَدِينَةِ، وَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً»، قَالَ: «وَكُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ، حِينَ أُنْزِلَ، لَقَدْ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، يَسْأَلُنِي عَنْهُ»، قَالَ: «وَكَانَ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ فِي مُبْتَنَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا عَرُوسًا، فَدَعَا الْقَوْمَ، فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ، وَخَرَجُوا، وَبَقِيَ مِنْهُمْ رَهْطٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطَالُوا الْمُكْثَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ، وَخَرَجْتُ مَعَهُ، لِكَيْ يَخْرُجُوا، فَمَشَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ، حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا، فَرَجَعَ، وَرَجَعْتُ مَعَهُ، حَتَّى دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ، وَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ لَمْ يَقُومُوا، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَجَعْتُ مَعَهُ، حَتَّى بَلَغَ عَتْبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، فَظَنَّ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا، فَرَجَعَ، وَرَجَعْتُ، فَإِذَا هُمْ [ص:546] قَدْ خَرَجُوا، فَضَرَبَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ سِتْرًا، وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت حضرت انس ؓ کی عمر دس سال تھی ۔ میری والدہ اور خالائیں وغیرہ مجھے نبی کرمﷺ کی خدمت کرنے کی ترغیب دیا کرتی تھیں۔ میں نے دس سال تک نبی اکرمﷺ کی خدمت کی یعنی اس دوران جب آپ مدینہ منورہ میں قیام پذیر رہے پھر جب نبی اکرمﷺ کا وصال ہوا ‘ تو میری عمر بیس سال تھی۔ حضرت انسؓ بیا ن کرتے ہیں : حجاب کے حکم کے بارے میں مجھے سب سے زیادہ علم ہے ‘ یہ کب نازل ہوا تھا۔ حضرت ابی بن کعبؓ جیسے افراد مجھ سے اس بار ے میں دریافت کیا کرتے تھے۔ حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں :جب نبی اکرمﷺ نے سیدہ زینب بنت جحش ؓ کے ساتھ شادی کی تھی۔ یہ اس وقت نازل ہوا تھا شادی کے اگلے دن صبح نبی اکرمﷺ نے لوگوں کو بلایا۔ ان لوگوں نے کھانا کھایا پھر وہ لوگ چلے گئے۔ ان میں سے کچھ لوگ نبی اکرمﷺ کےہاں بیٹھے رہے ۔ وہ کافی دیر بیٹھے رہے ‘ پھر نبی اکرمﷺ اٹھے اور آپﷺ تشریف لے گئے آپ کے ہمراہ میں بھی چلا گیا۔ مقصد یہ تھا وہ لوگ بھی اٹھ کے چلے جائیں پھر نبی اکرمﷺ چلتے ہوئے تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ کے ساتھ میں بھی گیا۔ نبی اکرمﷺ جب سیدہ عائشہ ؓ کے حجرے کی چوکھٹ کے پاس پہنچے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے یہ اندازہ لگایا کہ وہ لوگ چلے گئے ہوں گے۔ آپ واپس آ گئے آپ کے ہمراہ میں بھی واپس آیا۔ نبی اکرمﷺ سیّدہ زینبؓ کے گھر پہنچے ‘ تو وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ لوگ اٹھ کر نہیں گئے تھے ‘ تو نبی اکرمﷺ واپس تشریف لے آئے۔ آپ کے ہمراہ میں بھی واپس آ گیا پھر جب نبی اکرمﷺ سیدہ عائشہؓ کے حجرے کے دروازے کے پاس پہنچے ‘ تو آپ نے یہ گمان کیا کہ وہ لوگ چلے گئے ہوں گے۔ آپ واپس تشریف لے گئے۔ میں بھی واپس آیا‘ تو وہ لوگ جا چکے تھے ۔ نبی اکرمﷺ نے ان لوگوں کے اور اپنے درمیان پردہ ڈلوا دیا اور اس وقت حجاب کے حکم سے متعلق آیت نازل ہوئی تھی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Alijjar › Mentioning the negative news of someone who said: “Of the mystic, the invalidity of the gain · Hadith 5145

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِجَارَۃِ ‹ ذِکْرُ الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ قَالَ: مِنَ الْمُتَصَوِّفَۃِ بِاِبْطَالِ الْکَسْبِ · حديث 5146

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرُّوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، وَفِيهِمْ لَدِيغٌ - أَوْ سَلِيمٌ - فَقَالُوا: هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَرَقَاهُ عَلَى شَاءٍ فَبَرَأَ، فَلَمَّا أَتَى أَصْحَابُهُ كَرِهُوا [ص:547] ذَلِكَ، فَقَالُوا: أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرُوهُ بِذَلِكَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الرَّجُلَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا مَرَرْنَا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فِيهِمْ لَدِيغٌ - أَوْ سَلِيمٌ - فَقَالُوا: هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ، فَرَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَقَّ، مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے کچھ اصحاب کا کسی عرب قبیلے کے پاس سے گزر ہوا ‘ ان میں سانپ یا بچھو کا ڈنگ مارا ہوا کوئی شخص تھا۔ ان لوگوں نے دریافت کیا : کیا آپ کے درمیان کسی کو دم کرنا آتا ہے ۔ ان صحابہ کرام ؓ میں سے ایک صاحب چلے گئے۔ انہوں نے کچھ چڑھ کر اس پر دم کیا ‘ تو وہ آدمی ٹھیک ہو گیا۔ جب وہ صاحب اپنے ساتھیوں کے پاس آئے ‘ تو اس کے ساتھیوں نے اس بات کو پسند نہیں کیا۔ انہوں نے کہا : آپ نے اللہ کی کتاب کا معاوضہ وصول کیا ہے۔ جب یہ لوگ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا‘ تو نبی اکرمﷺ نے ان صاحب کو بلاا اور ان سے دریافت کیا ‘ تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ ! ہم ایک عرب قبیلے کے پاس سے گزرے جس میں بچھو یا سانپ کا ڈنگ مارا ہوا ایک شخص تھا۔ ان لوگوں نے دریافت کیا: کیا آپ میں سے کسی کو دم کرنا آتا ہے ‘ تو میں نے سورہ فاتحہ پڑھ کر ا س پر دم کیا ‘ تو وہ ٹھیک ہو گیا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم جس چیز کا معاوضہ وصول کرتے ہو اس میں زیادہ حق دار اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔

ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، ← أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ ← الْقَوَارِيرِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Alijjar › Mentioning the negative news of someone who said: “Of the mystic, the invalidity of the gain · Hadith 5146

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِجَارَۃِ ‹ ذِکْرُ الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ قَالَ: مِنَ الْمُتَصَوِّفَۃِ بِاِبْطَالِ الْکَسْبِ · حديث 5147

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، [ص:548] عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَفَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَاوَمَنَا سَرَاوِيلَ، وَعِنْدَهُ وَزَّانٌ يَزِنُ بِالْأَجْرِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «زِنْ فَأَرْجِحْ» [ص:549] أَرَادَ بِهِ مِنْ مَالِهِ، لِيُعْطِيَ ثَمَنَ السَّرَاوِيلِ رَاجِحًا

حضرت سوید بن قیسؓ بیان کرتے ہیں: میں نے اور مخرفہ عبدی نے ’’ ہجر ‘‘ کے مقام سے کپڑا خریدا نبی اکرمﷺ ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ایک شلوار کے بارے میں ہمارے ساتھ سودا طے کیا۔ آپ کے ہمراہ وزن کرنے والا یک شخص تھا جو معاوضے کا وزن کرتا تھا نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا وزن کرو اور زیادہ ادائیگی کرنا۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) اس کے ذریعے مراد یہ ہے : نبی اکرمﷺ اپنے مال میں سے ‘ شلوار کی زیادہ قیمت ادا کرنا چاہتے تھے۔

لَهُ النَّبِيُّ «زِنْ فَأَرْجِحْ» أَرَادَ بِهِ مِنْ مَالِهِ، لِيُعْطِيَ ثَمَنَ السَّرَاوِيلِ رَاجِحًا ← وَمَخْرَفَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ فَسَاوَمَنَا سَرَاوِيلَ، وَعِنْدَهُ وَزَّانٌ يَزِنُ ← جَلَبْتُ ← سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Alijjar › Mentioning the negative news of someone who said: “Of the mystic, the invalidity of the gain · Hadith 5147

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِجَارَۃِ ‹ ذِکْرُ الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ قَالَ: مِنَ الْمُتَصَوِّفَۃِ بِاِبْطَالِ الْکَسْبِ · حديث 5148

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَزْرَعَهَا، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، وَلَا يُؤَاجِرْهَا إِيَّاهُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» وَلَا يُؤَاجِرْهَا إِيَّاهُ «، لَفْظَةُ زَجْرٍ عَنْ فِعْلٍ قُصِدَ بِهَا النَّدْبُ، وَالْإِرْشَادُ، لِأَنَّ الْقَوْمَ كَانَ بِهِمُ الضِّيقُ فِي الْعَيْشِ، وَالْمِنْحَةُ كَانَتْ أَوْقَعَ عِنْدَهُمْ لِلْأَرْضِ، مِنْ إِكْرَائِهَا، فَأَمَّا الْمُسْلِمُونَ، فَإِنَّهُمْ مُجْمِعُونَ عَلَى جَوَازِ كَرْيِ الْأَرْضِ، إِلَّا الْجِنْسَ، الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص کے پاس زمین موجو د ہو وہ اس میں کھیتی باڑی کرے اگر وہ کھیتی باڑی نہیں کر سکتا ‘ تو وہ اپنے کسی بھائی کو بلا معاوضہ طور دیدے وہ اس سے اس کا کرایہ نہ لے‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : وہ اس سے اس کا معاوضہ نہ لے یہاں پر لفظی طو ر پر فعل سے منع کیا گیا ہے ‘ لیکن اس کے ذریعے مراد استحباب کا اظہار کرنا ہے اوررہنمائی کرنا ہے کیونکہ لوگوں کو اپنے معاملات میں تنگی پیش آتی تھی ‘ تو عطیے کے طور پر زمین دینا ان کے نزدیک کرائے پر دینے سے زیادہ بہتر تھا ورنہ تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے : زمین کا کرایہ لینا جائز ہے ‘ ماسوائے اس جنس کے ‘ جس سے نبی اکرمﷺ نے منع کیاہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Alijjar › Mentioning the negative news of someone who said: “Of the mystic, the invalidity of the gain · Hadith 5148

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِجَارَۃِ ‹ ذِکْرُ الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ قَالَ: مِنَ الْمُتَصَوِّفَۃِ بِاِبْطَالِ الْکَسْبِ · حديث 5149

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْزِلْ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ، قَالَ: «وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ، أَوْ دُورٍ»، وَكَانَ عَقِيلٌ، وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ، وَطَالِبٌ، وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ، وَلَا عَلِيٌّ شَيْئًا، لِأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ، وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ، فَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ، يَقُولُ: لَا يَرِثُ الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ

حضرت اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ! آپ مکہ میں اپنے گھر میں پڑاؤ کریں گے؟ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی رہائشی جبگہ چھوڑی ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں : ) جناب عقیل اور جناب طالب ‘ جناب ابو طالب کے وارث ہوئے تھے۔ حضرت جعفر طیار ؓ اور حضرت علیؓ ان کے وارث نہیں بنے تھے ۔ کیونکہ یہ دونوں صاحبان مسلمان تھے جب کہ جناب عقیل اور جناب طالب کفر کے عالم میں فوت ہوئے تھے۔ اسی وجہ سے حضرت عمر بن خطاب ؓ یہ فرماتے تھے :کوئی مومن کسی کافر کا وارث نہیں بنتا۔

أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Alijjar › Mentioning the negative news of someone who said: “Of the mystic, the invalidity of the gain · Hadith 5149

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِجَارَۃِ ‹ ذِکْرُ الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ قَالَ: مِنَ الْمُتَصَوِّفَۃِ بِاِبْطَالِ الْکَسْبِ · حديث 5150

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:554] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَاسْتَعَطَ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے پچھنے لگوائے آپ نے پچھنے لگانے والے کو معاوضہ ادا کیا اور زیادتی ادائیگی کی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ، [ص:184] ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← وُهَيْبٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Alijjar › Mentioning the negative news of someone who said: “Of the mystic, the invalidity of the gain · Hadith 5150

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِجَارَۃِ ‹ ذِکْرُ الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ قَالَ: مِنَ الْمُتَصَوِّفَۃِ بِاِبْطَالِ الْکَسْبِ · حديث 5151

أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ ابْنَةِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ، بِوَاسِطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ السُّكَّرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ «النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے پچھنے لگوائے آپ ﷺ نے پچھنے لگانے والے کو اس کا معاوضہ ادا کیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانَ السُّكَّرِيُّ، ← الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ ابْنَةِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ، بِوَاسِطٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Alijjar › Mentioning the negative news of someone who said: “Of the mystic, the invalidity of the gain · Hadith 5151

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِجَارَۃِ ‹ ذِکْرُ الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ قَالَ: مِنَ الْمُتَصَوِّفَۃِ بِاِبْطَالِ الْکَسْبِ · حديث 5153

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ قَارِظٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «كَسْبُ الْحَجَّامِ مُحَرَّمٌ، إِذَا كَانَ عَلَى شَرْطٍ مَعْلُومٍ، بِأَنْ يَقُولَ: أُخْرِجُ مِنْكَ مِنَ الدَّمِ كَذَا، فَإِذَا عُدِمِ هَذَا الشَّرْطُ، الَّذِي هُوَ الْمُضْمَرُ فِي الْخَطَّابِ، جَازَ كَسْبُهُ، إِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَجَازَهُ لِأَبِي طَيْبَةَ، وَجَازَاهُ عَلَى فِعْلِهِ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ مُحَرَّمَانِ جَمِيعًا»

حضرت رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ پچھنے لگانے والے کی آمدن خبیث ہے فاحشہ عورت کی آمدن خبیث ہے اور کتے کی قیمت خبیث ہے ‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) پچھنے لگانے والے کی کمائی کو اس وقت حرام قرار دیا گیا ‘ جبکہ وہ کسی متعین شرط کے ساتھ ہو یعنی وہ یہ کہے ‘ میں تمہارا اتنا خون اتنے عوض میں نکالوں گا ۔ جب یہ شرط معلوم ہو جو خطاب میں پوشیدہ ہے ‘ تو یہ آمدن جائز ہو گی کیونکہ نبی اکرمﷺ نے خود حضرت ابو طیبہ ؓ کے لئے اسے جائز قرارد یا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے اپنے فعل کے ذریعے اسے جائز قرار دیا ہے۔ جہاں تک کتے اور فاحشہ عورت کا آمدن کا تعلق ہے ‘ تو یہ دونوں حرام ہیں۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ قَارِظٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Alijjar › Mentioning the negative news of someone who said: “Of the mystic, the invalidity of the gain · Hadith 5153

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِجَارَۃِ ‹ ذِکْرُ الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ قَالَ: مِنَ الْمُتَصَوِّفَۃِ بِاِبْطَالِ الْکَسْبِ · حديث 5154

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ مُحَيِّصَةَ، أَنَّ أَبَاهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَرَاجِ الْحَجَّامِ، فَأَبَى أَنْ [ص:558] يَأْذَنَ لَهُ فَلَمْ يَزَلْ بِهِ، حَتَّى قَالَ: «أَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ، وَأَعْلِفْهُ نَاضِحَكَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «تَأَبِّي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْإِذْنِ فِي خَرَاجِ الْحَجَّامِ فِيهِ شَرْطٌ مُضْمَرٌ، وَهُوَ أَنْ يُشَارِطَ الْحَجَّامَ فِي حَجْمِهِ، عَلَى إِخْرَاجِ شَيْءٍ مِنَ الدَّمِ مَعْلُومٍ، فَلِعَدَمِ قُدْرَتِهِ عَلَى إِيجَادِ هَذَا الشَّرْطِ، كَرِهَ أَنْ يَأْذَنَ لَهُ فِي كَسْبِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ، وَأَعْلِفُهُ نَاضِحَكَ، وَلَوْ كَانَ كَسْبُ الْحَجَّامِ مَنْهِيًّا عَنْهُ، لَمْ يَأْمُرْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِطْعَامَ الْمَرْءِ رَقِيقَهُ مِنْهُ، إِذِ الرَّقِيقُ مُتَعَبَّدُونَ، وَمِنَ الْمُحَالِ أَنْ يَأْمُرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمَ، بِإِطْعَامِ رَقِيقِهِ حَرَامًا»

ابن محیصہ بیان کرتے ہیں : ان کے والد نے نبی اکرمﷺ سے پچھنے لگانے کے خراج ( معاوضے ) کے بارے میں اجازت مانگی ‘ تو نبی اکرمﷺ نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ وہ نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں مسلسل بات چیت کرتے رہے ‘ یہاں تک کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ( اس کی آمدن کو ) اپنے غلام کو کھلا دو یا اپنے اونٹ کو چارہ کھلا دو۔ ( امام ابن حبان ؒفرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ نے پچھنے لگانے کے معاوضے کے بارے میں اجازت دینے سے اس لئے انکار کیا تھا جس میں یہ شرط پوشیدہ ہے ‘پچھنے لگانے والے شخص نے پچھنے لگانے میں اس بات کی شرط عائد کی تھی کہ وہ متعین مقدار میں خون باہر نکالے گا ‘ تو کیونکہ وہ اس شرط کو پوری کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اس لئے نبی اکرمﷺ نے اس بات کو نا پسند کیا کہ وہ اس کی آمدن کے بارے میں اجازت دیں پھر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اسے اپنے غلام کو کھلا دو یا اپنے اونٹ کو چارے میں کے طور پر کھلا دو ‘ تو اگرپچھنے لگانے کی آمدن مکمل طور پر منع ہوتی ‘ تو نبی اکرمﷺ غلام کو اس میں سے کھلانے کی اجازت نہ دیتے کیونکہ غلام بھی عبادت گزار ہوتے ہیں اور یہ بات نا ممکن ہے ‘ نبی اکرمﷺ کسی مسلمان کو اپنے غلام کو کوئی حرام چیز کھلانے کا حکم دیں۔

ابن محيصة، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Alijjar › Mentioning the negative news of someone who said: “Of the mystic, the invalidity of the gain · Hadith 5154

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr