صیح ابن حبان · کِتَابُ الذَّبَائحِ ‹ کِتَابُ الذَّبَائحِ · حديث 5895
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا، وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا، وَصَلُّوا صَلَاتَنَا، فَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ، لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ، وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَيْهِمْ» مَا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ إِلَّا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنَ الْغُرَبَاءِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ سُمَيْعٍ»
حضرت انس بن مالکؓ ‘نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے ‘ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں ‘ جب تک وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور جب وہ اس بات کی گواہی دے دیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسو ل ہیں وہ ہمارے قبلہ کی طرف رخ کر لیں ہمارے ذبیحہ کو کھائیں ہماری نماز کے مطابق نماز ادا کریں ‘ تو ان کی جانیں اور مال ہمارے لیے قابل احترام ہو جائیں گے انہیں وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو مسلمانوں کو حاصل ہوتےہیں اور ان پر وہ تمام پابندیاں عائد ہوں گی جو مسلمانوں پر عائد ہوتی ہیں ‘‘۔ یہ روایت حمید طویل کے حوالے سے صرف تین آدمیوں نے نقل کی ہے عبد اللہ بن مبارک ، یحییٰ بن ایوب عجلی اور محمد بن عیسیٰ بن قاسم بن سمیع ۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Hadith 5895
