Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الذَّبَائحِ ‹ کِتَابُ الذَّبَائحِ · حديث 5883

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ»

حضرت شداد بن او سؓ بیان کرتے ہیں: دو باتیں میں نے نبی اکرمﷺ کی زبانی یاد رکھی ہیں ( آپﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ اچھائی کرنے کو لازم قرار دیا ہے ‘ تو جب تم قتل کرو ‘ تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو ‘ تو اچھے طریقے سے ذبح کرو تمہیں اپنی چھری کو تیز کر لینا چاہئے اور اپنے ذبیحہ کو تکلیف نہیں پہنچانی چاہئے‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ «إِنَّ اللَّهَ ← ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا ← شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sacrifices › The Book of Sacrifices · Hadith 5883

صیح ابن حبان · کِتَابُ الذَّبَائحِ ‹ کِتَابُ الذَّبَائحِ · حديث 5884

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ، بِالْبَصْرَةَ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ»

حضرت شداد بن اوسؓ بیان کرتے ہیں: دو باتیں میں نے نبی اکرمﷺ کی زبانی یاد رکھی ہیں ( آپﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ اچھائی کرنے کو لازم قرار دیا ہے ‘ تو جب تم قتل کرو ‘ تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو ‘ تو اچھے طریقے سے ذبح کرو تمہیں اپنی چھری کو تیز کر لینا چاہئے اور اپنے ذبیحہ کو تکلیف نہیں پہنچانی چاہئے‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان :’’ اچھے طریقے سے قتل کرو ‘‘ اس سے مراد یہ ہے : جب قصاص لیتے ہوئے قتل کرو ( تو تکلیف نہ پہنچاؤ )

رَسُولِ اللَّهِ «إِنَّ اللَّهَ ← ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا ← شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ، بِالْبَصْرَةِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sacrifices › The Book of Sacrifices · Hadith 5884

صیح ابن حبان · کِتَابُ الذَّبَائحِ ‹ کِتَابُ الذَّبَائحِ · حديث 5885

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعَبَّاسِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ [ص:201] حَاضِرَ بْنَ الْمُهَاجِرِ أَبَا عِيسَى الْبَاهِلِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ ذِئْبًا نَيَّبَ فِي شَاةٍ، فَذَبَحُوهَا بِمَرْوَةٍ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا فَأَكَلُوا «

حضرت زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک بھیڑیئے نے ایک بکری میں پنجے گاڑھ دیئے ( اسے زخمی کر دیا ) ‘ تو لوگوں نے پتھر کے ذریعے اس بکری کو ذبح کر لیا۔ لوگوں نے نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا ‘ تو آپﷺ نے انہیں اس بکری کا گوشت کھانے کی اجازت دی ‘ تو لوگوں نے اسے کھا لیا۔

سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← [ص:201] حَاضِرَ بْنَ الْمُهَاجِرِ أَبَا عِيسَى الْبَاهِلِيَّ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْعَبَّاسِ السَّامِیُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sacrifices › The Book of Sacrifices · Hadith 5885

صیح ابن حبان · کِتَابُ الذَّبَائحِ ‹ کِتَابُ الذَّبَائحِ · حديث 5886

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا [ص:202] أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ، وَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ، فَعَجِلُوا فَذَبَحُوا وَنَصَبُوا الْقُدُورَ، فَرَجَعَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَمَ، فَعَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ، فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ خَيْلٌ يَسِيرَةٌ، فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذِهِ الْبَهَائِمَ لَهَا أَوَابِدُ كَأَوَابِدِ الْوحُوشِ، فَمَا نَدَّ عَلَيْكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا»، وَقَالَ جَدِّي: إِنَّا نَرْجُو أَنْ نَلْقَى غَدًا عَدُوًّا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى، فَنَذْبَحُ بِالْقُضُبِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَنْهَرَ الدَّمُ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ» فِي هَذَا الْخَبَرِ كَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْبَدَنَةَ تَقُومُ عَنْ عَشْرَةٍ عِنْدَ النَّحْرِ قَالَهُ الشَّيْخُ»

حضرت رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں :ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ ذوالحلیفہ میں موجود تھے لوگوں کو بھوک لا حق تھی ہمیں کچھ اونٹ اور بکریاں ملے نبی اکرمﷺ لوگوں سے کچھ پیچھے تشریف لا رہے تھے لوگوں نے جلدی سے انہیں ذبح کیا اور ہنڈیا چڑھا دیں۔ جب نبی اکرمﷺ ان تک پہنچے ‘ تو آپﷺ کے حکم تحت ہنڈیا الٹا دی گئیں ‘ پھر نبی اکرمﷺ نے انہیں تقسیم کرنا شروع کیا ‘ تو دس بکریاں ایک اونٹ کی جگہ ایک آدمی کے حصے میں آئیں ان میں اسے ایک اونٹ سرکش ہو گیا لوگوں کے پاس کھوڑے کم تھے وہ لوگ اس اونٹ کے پیچھے بھاگے ‘ لیکن تھک گئے ( اور اسے پکڑ نہ سکے ) ایک شخص نے اپنا تیر اسے مار کر اسے رکنے پر مجبور کر دیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ان جانوروں میں بھی بعض جانور وحشی جانوروں کی طرح سرکش ہوتے ہیں ان میں سے جو سرکش ہو جائے تم اس کے ساتھ یہی طرز عمل اختیار کرو۔ ( راوی بیان کرتے ہیں: ) میرے دادا نے یہ عرض کی: ہمیں یہ امید ہے ‘ ہم کل دشمن سے سامنا کریں گے ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں ‘ تو کیا ہم بانس کے ذریعے ذبح کر لیں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو چیز خون کو بہا دے اور جس چیز کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو ‘ تو تم اسے کھا لو‘ ماسوائے اس کے ‘ جسے ہڈی کے ذریعے ذبح کیا جائے ‘ یا جسے حبشیوں کی مخصوص چھری کے ذریعے ذبح کیا جائے۔ ( راوی کہتے ہیں: ) میں تمہیں ا بارے میں بتاتا ہو ں لفظ ’’ سن ‘‘ سے مراد ہڈی ہے اور لفظ ’ ظفر ‘‘ سے مراد حبشیوں کی مخصوص چھر ی ہے۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے ‘ ایک اونٹ قربانی میں دس آدمیوں کی طرف سے کافی ہوتا ہے یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔

جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ← عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ← سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sacrifices › The Book of Sacrifices · Hadith 5886

صیح ابن حبان · کِتَابُ الذَّبَائحِ ‹ کِتَابُ الذَّبَائحِ · حديث 5887

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ الْأَنْصَارِيِّ: «أَنَّهُ صَادَ أَرْنَبَيْنِ، فَذَبَحَهُمَا بِمَرْوَةٍ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهِمَا»

حضرت محمد بن صفوان انصاری ؓ بیان کرتے ہیں: انہوں نے دو خرگوشوں کا شکار کیا انہوں نے پتھر کے ذریعے انہیں ذبح کر لیا پھر انہوں نے نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں دریافت کا ‘ تو آپﷺ نے انہیں ان دونوں کو کھانے کی اجازت دی۔

الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sacrifices › The Book of Sacrifices · Hadith 5887

صیح ابن حبان · کِتَابُ الذَّبَائحِ ‹ کِتَابُ الذَّبَائحِ · حديث 5888

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ [ص:206] إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرِيطَةِ الشَّيْطَانِ» قَالَ عِكْرِمَةُ: «كَانُوا يَقْطَعُونَ مِنْهَا الشَّيْءَ الْيَسِيرَ، ثُمَّ يَدَعُونَهَا حَتَّى تَمُوتَ، وَلَا يَقْطَعُونَ الْوَدَجَ، نَهَى عَنْ ذَلِكَ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیا ن کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے شیطان کے شریطہ سے منع کیا ہے۔ عکرمہ کہتے ہیں :پہلے لو گ تھوڑے سے حصے کو کاٹ دیتے تھے پھر جانور کو یونہی چھوڑ دیتے تھے ‘ یہاں تک کہ وہ مر جا تا تھا وہ اس کی رگیں نہیں کاٹتے تھے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اس چیز سے منع کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مَعْمَرٌ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sacrifices › The Book of Sacrifices · Hadith 5888

صیح ابن حبان · کِتَابُ الذَّبَائحِ ‹ کِتَابُ الذَّبَائحِ · حديث 5889

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا [ص:207] عَلِيُّ بْنُ أَنَسٍ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ»

حضرت ابو سعید خدریؓ ‘ نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ ( حاملہ جانور کے پیٹ میں موجود ) بچے کی ماں کو ذبح کرنا اسے ذبح کرنا شمار ہو گا‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، ← [ص:207] عَلِيُّ بْنُ أَنَسٍ الْعَسْكَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sacrifices › The Book of Sacrifices · Hadith 5889

صیح ابن حبان · کِتَابُ الذَّبَائحِ ‹ کِتَابُ الذَّبَائحِ · حديث 5890

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا فَرَعَ، وَلَا عَتِيرَةَ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ فرع اور عتیرہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے ‘‘۔

«لَا فَرَعَ، وَلَا عَتِيرَةَ» ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sacrifices › The Book of Sacrifices · Hadith 5890

صیح ابن حبان · کِتَابُ الذَّبَائحِ ‹ کِتَابُ الذَّبَائحِ · حديث 5891

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّا كُنَّا [ص:211] نَذْبَحُ ذَبَائِحَ * فَنَأْكُلُ مِنْهَا، وَنُطْعِمُ مَنْ جَاءَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا بَأْسَ بِذَلِكَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذِهِ الذَّبَائِحُ الَّتِي أَبَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَفْعَلُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ إِنَّمَا هِيَ غَيْرُ الْفَرَعِ، وَالْعَتِيرَةِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُمَا فِي الْإِسْلَامِ»

حضرت ابو ر زین ؓ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرمﷺ سے سوال کیا انہوں نے عرض کی: ہم اپنے جانور کو ذبح کرتے ہیں پھر اس میں سے کھا لیتے ہیں اور جو ہمارے پاس آتا ہے اسے کھلا دیتے ہیں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ا س میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) یہ وہ ذبائح ہیں ‘ جنہیں زمانہ جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے اور نبی اکرمﷺ نے انہیں مباح قرار دیا ہے ‘ لیکن فرع اور عتیرہ کے علاوہ ہے جن سے اسلام میں منع کیا گیا ہے۔

رَسُولُ اللَّهِ «لَا بَأْسَ بِذَلِكَ» ← كُنَّا [ص:211] نَذْبَحُ ذَبَائِحَ فَنَأْكُلُ مِنْهَا، وَنُطْعِمُ مَنْ جَاءَنَا، ← عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ← وَکِیْعِ بْنِ عُدَّسٍ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sacrifices › The Book of Sacrifices · Hadith 5891

صیح ابن حبان · کِتَابُ الذَّبَائحِ ‹ کِتَابُ الذَّبَائحِ · حديث 5892

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ خَادِمًا لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمَهُ بِسَلْعٍ، فَأَرَادَتْ شَاةٌ مِنْهَا أَنْ تَمُوتَ، فَلَمْ تَجِدْ حَدِيدَةً تُذَكِّيهَا، فَذَكَّتْهَا بِمَرْوَةٍ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِأَكْلِهَا»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: حضرت کعب بن مالکؓ کا ایک ملازم ان کی بکریاں ’’ سلع ‘‘ پہاڑ کے پاس چرا رہا تھا ان میں سے ایک بکری مرنے کے قریب ہوئی ‘ تو اس کنیز کو اسے ذبح کرنے کے لئے چھری نہیں ملی ‘ تو اس نے پتھر کے ذریعے اسے ذبح کر دیا۔ نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا گیا ‘ تو آپﷺ نے ا س کا گوشت کھانے کا حکم دیا (یعنی اجازت دی)

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sacrifices › The Book of Sacrifices · Hadith 5892

صیح ابن حبان · کِتَابُ الذَّبَائحِ ‹ کِتَابُ الذَّبَائحِ · حديث 5893

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، يُخْبِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ كَانَتْ تَرْعَى بِسَلْعٍ، فَرَأَتْ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا مَوْتًا، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: لَا تَأْكُلُوا مِنْهُ حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ جَارِيَةً لَنَا كَانَتْ تَرْعَى بِسَلْعٍ، فَأَبْصَرَتْ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا مَوْتًا، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَكْلِهَا « قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: » الْخَبَرُ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ «

نافع بیان کرتے ہیں: انہوں نے حضرت کعب بن مالکؓ کے صاحب زادے کو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو یہ بتاتے ہوئے سنا : ان کے والد ( یعنی حضرت کعب دن مالکؓ ) نے انہیں بتایا: ان کی ایک کنیز تھی جو ’’ سلع ‘‘ پہاڑ کے پاس بکریاں چرا رہی تھی اس نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری کو مرنے کے قریب دیکھا ‘ تو ایک پتھر توڑ کر اس کے ذریعے اسے ذبح کر لیا پھر حضرت کعب ؓ نے اپنے گھر والوں سے کہا: تم اس کا گوشت اس وقت تک نہ کھاؤ ‘ جب تک میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپﷺ سے اس بارے میں دریافت نہ کر لوں ‘ تو میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں نے نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! ہماری ایک کنیز ’’ سلع ‘‘ پہاڑ کے پاس بکریاں چرا رہی تھی اس نے ان بکریوں میں سے ایک بکری کو قریب مر گ دیکھا ‘ تو پتھر توڑ کر اس کے ذریعے اسے ذبح کر لیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے انہیں اس ( بکر ی) کا گوشت کھانے کی اجازت دی۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) یہ روایت نافع کے حوالے سے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے منقول ہے اور نافع کے حوالے سے حضرت کعب بن مالکؓ کے صاحبزادے کے حوالے سے ان کے والد سے بھی منقول ہے ‘ تو اس کے تمام طرق محفوظ ہیں۔

نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sacrifices › The Book of Sacrifices · Hadith 5893

صیح ابن حبان · کِتَابُ الذَّبَائحِ ‹ کِتَابُ الذَّبَائحِ · حديث 5894

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، عَنْ خَلَفِ بْنِ مِهْرَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّرِيدَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا عَبَثًا عَجَّ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ: يَا رَبِّ، إِنَّ فُلَانًا قَتَلَنِي عَبَثًا، وَلَمْ يَقْتُلْنِي مَنْفَعَةً»

حضرت عمر بن شرید ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ جو شخص بلا وجہ کسی چڑیا کو مار دیتا ہے ‘ تو وہ چڑیا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فریاد کرے گی اے میرے پروردگار فلاں شخص نے مجھے بلا وجہ مار دیا تھا اس نے کسی فائدے کے لئے مجھے نہیں مارا تھا ‘‘۔

يَا رَبِّ، إِنَّ فُلَانًا قَتَلَنِي عَبَثًا، وَلَمْ يَقْتُلْنِي مَنْفَعَةً» ← «مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا عَبَثًا عَجَّ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← الشَّرِيدَ، ← عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، ← صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ، ← عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، ← خَلَفِ بْنِ مِهْرَانَ، ← أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sacrifices › The Book of Sacrifices · Hadith 5894

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr