Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5109

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ طِيبٌ، فَلَا يَرُدَّهُ، فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمَلِ، طَيِّبُ الرَّائِحَةِ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جس شخص کو خوشبو دی جائے وہ اسے واپس نہ کرے کیونکہ اس کا وزن بھی زیادہ نہیں ہوتا اور خوشبو بھی پاکیزہ ہوتی ہے ‘‘۔

«مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ طِيبٌ، فَلَا يَرُدَّهُ، فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمَلِ، طَيِّبُ الرَّائِحَةِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 5109

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5110

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، [ص:511] عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِ أَبِي أَيُّوبَ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فِيهِ ثُومٌ، فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ وَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ، فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ أَبُو أَيُّوبَ، إِذْ لَمْ يَرَ فِيهِ أَثَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَتَاهُ، فَسَأَلَهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَرَامٌ هُوَ؟، قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ كَرِهْتُهُ مِنْ أَجْلِ الرِّيحِ»، فَقَالَ: إِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ

حضرت جابر بن سمرہؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کے گھر میں موجود تھے۔ آپ کی خدمت میں کھانا لایا گیا جس میں لہسن تھا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اسے نہیں کھایا۔ آپ نے وہ حضرت ابو ایوبؓ کو بھجوا دیا۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے بھی اس میں سے نہیں کھایا کیونکہ انہیں اس میں نبی اکرمﷺ کے استعمال کا نشان نظر نہیں آیا تھا ‘ پھر وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت حاضر ہوئے اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ یہ حرام ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ‘ لیکن میں اس کی بو کی وجہ سے اسے نا پسند کیا ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ نے عرض کی: جسے آپ نے ناپسند کیا ہے اسے میں بھی نا پسند کرتا ہوں۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، [ص:573] ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ،

Hadith 5110

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5111

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنِ الْبَهْزِيِّ*، أَنَّ [ص:512] رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يُرِيدُ مَكَّةَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ، إِذَا حِمَارٌ وَحْشِيٌّ عَقِيرٌ، فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «دَعُوهُ، فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ صَاحِبَهُ»، فَجَاءَ الْبَهْزِيُّ، وَهُوَ صَاحِبُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ، فَقَسَمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْأُثَايَةَ بَيْنَ الرُّوَيْثَةِ، وَالْعَرْجِ، إِذَا ظَبْيٌ حَاقِفٌ، فِي ظِلٍّ، وَفِيهِ سَهْمٌ، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَ رَجُلًا يَقِفُ عِنْدَهُ لَا يَرِيبُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ حَتَّى يُجَاوِزَهُ

حضرت بہزیؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ مکہ کی طرف روانہ ہونے کے لئے نکلے ‘ یہاں تک کہ جب آپ روحاء کے مقام پر پہنچے ‘ تو وہاں ایک زیبرا تھا جس کا پاؤں کٹا ہوا تھا اس بات کا تذکرہ نبی اکرمﷺ سے کیا گیا ‘ تو آپ نے ارشا د فرمایا : تم اسے رہنے دو عنقریب اس کا مالک اس تک آ جائے گا ‘ پھر حضرت بہزی ؓ آ گئے وہ اس ک مالک تھے وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں آئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! آپ اس زیبرے کو استعمال کریں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اس کے بارے میں حضرت ابو بکرؓ کو حکم دیا۔ حضرت ابو بکرؓ نے اس اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا پھر نبی اکرمﷺ روانہ ہوئے ‘ یہاں تک کہ رویثہ اور عرج کے درمیان اثایا کے مقام پر پہنچے ‘ تو وہاں ایک سائے میں ہرن بیٹھا ہوا تھا جس کو تیر لگا ہوا تھا۔ حضرت بہزیؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ اس ہرن کے پاس ٹھہرا رہے ‘ تاکہ کوئی بھی شخص کو اس کو تنگ نہ کرے ‘یہاں تک کہ وہ لوگ وہاں سے گزر جائیں۔

الْبَهْزِيِّ ← عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ أَنَّهُ ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 5111

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5112

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ*، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِبَعْضِ أَثْنَاءِ الرَّوْحَاءِ، وَهُمْ حُرُمٌ، إِذَا حِمَارٌ مَعْقُورٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعُوهُ، فَيُوشِكُ صَاحِبُهُ أَنْ يَأْتِيَهُ»، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَهْزٍ هُوَ الَّذِي عَقَرَ الْحِمَارَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَبَا بَكْرٍ، فَقَسَمَهُ بَيْنَ النَّاسِ

حضرت عمیر بن سلمہ ضمریؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرمﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ روحاء کے قریب ہم پہنچے ‘ تو ہم سب حالت احرام میں تھے ۔ وہاں ایک زیبرا تھا جو زخمی تھا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اسے رہنے دو اس کا مالک اس کے پاس آ جائے گا ‘ پھر بہزیؓ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا یہ وہ شخص تھا جس نے اس زیبرے کو زخمی کیا تھا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ اس کو استعمال کر سکتے ہیں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے حضرت ابو بکرؓ کو حکم دیا ‘ تو انہوں نے اس کا گوشت لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔

عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ، ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنِ الْھَادِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 5112

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5113

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ فَرَأَى حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ فِي السُّوقِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْتَرِهَا فَالْبَسْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَحِينَ يَقْدَمُ عَلَيْكَ الْوفُودُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ، مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ»، قَالَ: ثُمَّ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثِ حُلَلٍ مِنْهَا، فَكَسَا عُمَرَ حُلَّةً، وَكَسَا عَلِيًّا حُلَّةً، وَكَسَا أُسَامَةَ حُلَّةً، فَأَتَاهُ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ: فِيهَا مَا قُلْتَ: ثُمَّ بَعَثْتَ بِهَا إِلَيَّ، فَقَالَ: «بِعْهَا، فَاقْضِ بِهَا حَاجَتَكَ، أَوْ شُقَّهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ حضر ت عمربن خطابؓ ( بازار ) گئے انہوں نے استبرق سے بنا ہوا ایک حلہ بازار میں فروخت ہوتے ہوئے دیکھا ‘ تو وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! آپ اسے خرید لیجئے اور جمعہ کے دن اور جب عفو آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوں۔ اس دن اسے زیب تن کر لیا کریں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اسے وہ شخص پہنے گا ‘ جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں اسی قسم کے تین حلے پیش کئے گئے ‘ تو آپ نے حضرت عمرؓ کو ان میں سے ایک حلہ عطا کیا۔ ایک عدد حضرت علیؓ کو عطاکیا اور ایک حضرت اسامہ ؓ کو عطا کیا۔ حضرت عمرؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ! آپ نے‘ تو اس کےبارے میں فلاں بات ارشاد فرمائی تھی اب آپ نے یہ میری طرف بھیج دیا ہے۔نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اسے فروخت کرو اور اس کےذریعے اپنی ضروریات کو پورا کر دیا پھر اسے کاٹ کر اپنی بیویوں کی چادریں بنوا دو۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← حَنْظَلَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 5113

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5114

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: لَمَّا تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنِّي قَدْ [ص:516] أَهْدَيْتُ إِلَى النَّجَاشِيِّ حُلَّةً وَأَوَاقِيَّ مِسْكٍ، وَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ مَاتَ، وَسَتُرَدُّ الْهَدِيَّةُ، فَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ، فَهِيَ لَكَ»، قَالَتْ: فَكَانَ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَاتَ النَّجَاشِيُّ، وَرُدَّتِ الْهَدِيَّةُ، فَدَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أُوقِيَّةَ مِسْكٍ، وَدَفَعَ الْحُلَّةَ، وَسَائِرَ الْمِسْكِ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ

سیدہ ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرمﷺ نے میرے ساتھ شادی کی ‘ تو آپﷺ نے فرمایا: میں نے نجاشی کو ایک حلہ اور مشک کے کچھ اوقیہ تحفے کے طو ر پر بھجوائے تھے۔ میرا خیال ہے اس کا انتقال ہو گیا ہے ‘ تو یہ تحفہ واپس آ جائے گا اگر ایسا ہی ہوا ‘ تو وہ تمہیں ملے گا ۔ سیدہ ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں: پھر ویسا ہی ہوا جس طرح نبی اکرمﷺ نے بیان کی تھا نجاشی کا انتقال ہو گیا تھا وہ تحفہ واپس آ گیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اپنی تمام ازواج کی طرف مشک کا ایک اوقیہ بھجوایا اور وہ حلہ اور باقی تمام مشک سیدہ ام سلمہ ؓ کو دےدی۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← أُمِّ کُلْثُومٍ ← أُمِّهِ2، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ

Hadith 5114

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5115

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ، بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ، فَاشْتَرَطُوا، وَلَاءَهَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» وَأُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمٌ، فَقُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: «هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ»، قَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : انہوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لئے اسے خریدنے کا ارادہ کیا ‘ تو اس کے مالکان نے اس کے ولاء کی شرط عائد کی۔ اس بات کا تذکرہ نبی اکرمﷺ سے کیا گیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اسے خرید کر اسے آزاد کر دو کیونکہ ولاء حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ کو گوشت تحفے کے طور پر دیا گیا ‘ تو میں نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی : یہ بریرہ کو صدقے کے طور پر دیا گیا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ اس کے لئے صدقہ تھا اور ہمارے لئے تحفہ ہے۔ عبد الرحمٰن نامی راوی بیا ن کرتے ہیں: اس خاتون کا شوہر آزاد شخص تھا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ

Hadith 5115

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5116

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ إِحْدَى السُّنَنِ الثَّلَاثِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ، فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ، وَإِدَامٌ مِنْ إِدَامِ الْبَيْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً، فِيهَا لَحْمٌ»، قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنْ ذَاكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں :بریرہ کے بارے میں تین شرعی احکام سامنے آئے جب وہ آزاد ہوئی ‘ تو اسے اس کے شوہر کے ساتھ رہنے ( یا علیحدگی اختیار کرنے) کے بارے میں اختیار دیا گیا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے۔ نبی اکرمﷺ گھر میں داخل ہوئے ‘ تو ہنڈیا میں گوشت پک رہا تھا ‘ جب نبی اکرمﷺ کی خدمت میں روٹی اور گھر اور دوسرا سالن پیش کیا گیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا :کیا میں نے ہنڈیا میں گوشت نہیں دیکھا تھا۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں ‘ یا رسول اللہﷺ ‘ لیکن یہ گوشت ہے ‘ جو بریرہ کو صدقے کے طور پر دیا گیا تھا اور آپ صدقہ نہیں کھاتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشا د فرمایا : یہ اس کے لئے صدقہ تھا اور ہمارے لئے تحفہ ہے۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 5116

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5117

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ السَّبَّاقِ، زَعَمَ [ص:519] أَنَّ جُوَيْرِيَةَ زَوْجَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: «هَلْ مِنْ طَعَامٍ؟ »، قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِنْدَنَا طَعَامٌ، إِلَّا عَظْمَ شَاةٍ، أُعْطِيَتْ مَوْلَاتِي مِنَ الصَّدَقَةِ، قَالَ: «قَرِّبِيهِ، فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا»

نبی اکرمﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ جویریہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ ان کے ہاں تشریف لائے آپ نے دریافت کیا : کیاکھانے کے لئے کچھ ہے ا س خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! اللہ کی قسم نہیں ہے۔ ہمارے پاس کوئی کھانا نہیں ہے صرف ایک بکری کی ہڈی ( والا گوشت) ہے ‘ جو میری کنیز کو صدقے کے طور پر دیا گیا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: وہ ہی پیش کردہ کیونکہ وہ اپنے مقام تک پہنچ چکا ہے۔

اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 5117

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5118

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: «هَلْ مِنْ طَعَامٍ؟ »، قَالَتْ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا طَعَامٌ أُعْطِيَتْهُ مَوْلَاةٌ لَنَا، مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَرِّبِيهِ»

سیدہ جویریہ بن حارثؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ ان کے ہاں تشریف لائے۔ آپ نے دریافت کیا: کیا کچھ کھانے کے لئے ہے۔ انہوں نے عر ض کی : یا رسول اللہﷺ! جی نہیں صرف وہ کھانا ہے ‘ جو ہماری کنیز کو صدقے میں سے دیا گیا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اسے ہی پیش کر دو۔

حَدَّثَتْنِي جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، ← عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Hadith 5118

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5119

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعَائِشَةَ: «عِنْدَكِ شَيْءٌ تُطْعِمِينِي؟ »، قَالَتْ: لَا، إِلَّا مِنَ الشَّاةِ، الَّتِي بُعِثَتْ بِهَا إِلَى نُسَيْبَةُ مِنَ الصَّدَقَةِ، قَالَ: «هَاتِيهِ، فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا»

ام عطیہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے سیدہ عائشہؓ سے فرمایا کی اتمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے ‘ جو مجھے کھانے کے لئے دو۔ انہوں نے عرض کی: جی نہیں ۔ صرف وہ بکری ہے ‘ جو نسیبہ کو صدقے میں سے دی گئی تھی۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اسے ہی پیش کر دو وہ اپنے مقام تک پہنچ چکی ہے۔

أُمِّ عَطِيَّةَ ← حَفْصَةَ، ← خَالِدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 5119

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5120

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:521] تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اشْتَرَتْ عَائِشَةُ بَرِيرَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ لِتُعْتِقَهَا، وَاشْتَرَطُوا عَلَيْهَا، أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ وَلَاءَهَا فَشَرَطَتْ ذَلِكَ، فَلَمَّا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا، لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ»، وَكَانَ لِبَرِيرَةَ زَوْجٌ فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَمْكُثَ مَعَ زَوْجِهَا كَمَا هِيَ، وَإِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْهُ فَفَارَقَتْهُ، وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْبَيْتَ، وَفِيهِ رِجْلُ شَاةٍ، أَوْ يَدٍ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ: «أَلَا تَطْبُخُونَ لَنَا هَذَا اللَّحْمَ»، فَقَالَتْ: تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَأَهْدَتْهُ لَنَا، فَقَالَ: «اطْبُخُوا، فَهُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ ؓ نے بریرہ کو انصار سے خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا‘ تو اس کے مالکان نے یہ شرط عائد کی کہ اس کی ولاء کا حق ان کے پاس رہے گا۔ سیدہ عائشہ ؓ نے یہ شرط تسلیم کر لی نبی اکرمﷺ تشریف لائے اور سیدہ عائشہؓ نے آپ کو اس بارے میں بتایا‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے ‘ پھر نبی اکرمﷺ منبر پر چڑھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ‘ وہ ایسی شرط کرتے ہیں جن کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے۔ ( حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ) بریرہ کا شوہر بھی تھا نبی اکرمﷺ نے اس خاتون کو اس بات کا اختیار دیا کہ وہ چاہے ‘ تو اپنے شوہر کے ساتھ رہے جیسے پہلے رہ رہی تھی اور اگر چاہے ‘ تو اس علیحدگی اختیار کرے ‘ تو اس خاتون نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی۔ نبی اکرمﷺ گھر میں تشریف لائے‘ تو وہاں ایک بکری کا پایہ یا دستی تھی۔ نبی اکرمﷺ نے سیدہ عائشہؓ سے فرمایا کیا تم لوگوں نے یہ گوشت نہیں پکایا۔ انہوں نے عرض کی : یہ ‘ تو بریرہ کو صدقے کے طور پر دیا گیا تھا وہ اس نے ہمیں تحفے کے طور پر دے دیا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اسے پکاؤ کیونکہ یہ اس کے لئے صدقہ تھا اور ہمارے لئے تحفہ ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ"1" الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 5120

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr