Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5097

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ بَشِيرَ بْنَ سَعْدٍ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا، هَذَا الْعَبْدَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ هَذَا؟ »، قَالَ: لَا، قَالَ: «فَارْدُدْهُ»

حضرت نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں: حضرت بشیر بن سعد ؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: میں اپنے اس بیٹے کو یہ غلام عطیے کے طور پر دیا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اسی طرح عطیہ دیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :تو تم اسے واپس لے لو۔

فَارْدُدْهُ ← لَا۔ ← النَّبِيُّ «أَوَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ هَذَا؟ ← إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا، هَذَا الْعَبْدَ، ← النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ بَشِيرَ بْنَ سَعْدٍ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Gift › The Book of Gift · Hadith 5097

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5098

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسَدٍ بِفَمِ الصُّلْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ الْخُرْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: انْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ، عَلَى عَطِيَّةٍ يُعْطِينِيهَا، فَقَالَ: «هَلْ لَكَ، وَلَدٌ غَيْرَهُ؟ »، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «سَوِّ بَيْنَهُمْ»

حضرت نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں: میرے والد مجھے ساتھ لے کر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں تشریف لے گئے تاکہ نبی اکرمﷺ کو اس عطیے ک بارے میں گواہ بنا لیں جو انہوں نے مجھے دیا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہاری اس کے علاوہ اور اولاد ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر ( عطیہ دینے میں) تم ان کے درمیان برابری رکھو۔

«سَوِّ بَيْنَهُمْ» ← قُلْتُ: نَعَمْ، ← «هَلْ لَكَ، وَلَدٌ غَيْرَهُ؟ ← انْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ لِيُشْهِدَهُ، عَلَى عَطِيَّةٍ يُعْطِينِيهَا، ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَبِي الضُّحَى، ← فِطْرِ بن خليفة ← حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ← يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ الْخَرَقِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسَدٍ بِفَمِ الصُّلْحِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Gift › The Book of Gift · Hadith 5098

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5099

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، وَهُوَ يَخْطُبُ، يَقُولُ: انْطَلَقَ بِي أَبِي [ص:499] إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ عَلَى عَطِيَّةٍ أَعْطَانِيهَا، فَقَالَ: «هَلْ لَكَ بَنُونَ سِوَاهُ؟ »، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «سَوِّ بَيْنَهُمْ»

حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے خطبہ دیتے ہوئے یہ بات بیان کی میرے والد مجھے ساتھ لے کر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں گئے تاکہ وہ نبی اکرمﷺ کو اس عطیے کے بارے میں گواہ بنا لیں جو انہوں نے مجھے دیا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہارے اس کے علاوہ اور بھی بیٹے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا :جی ہاں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر تم ان کے درمیان برابری کرو۔

«سَوِّ بَيْنَهُمْ» ← نَعَمْ ← «هَلْ لَكَ بَنُونَ سِوَاهُ؟ ← انْطَلَقَ بِي أَبِي [ص:499] إِلَى النَّبِيِّ لِيُشْهِدَهُ عَلَى عَطِيَّةٍ أَعْطَانِيهَا، ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، وَهُوَ يَخْطُبُ، ← مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، ← فِطْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Gift › The Book of Gift · Hadith 5099

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5100

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا كَانَ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا؟ »، فَقَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَارْجِعْهُ»

حضرت نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں: ان کے والد انہیں ساتھ لے کر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں گئے۔ انہوں نے عرض کی: میں نے اپنے اس بیٹے کو اپنا غلام عطیے کے طور پر دیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اسی طرح عطیہ دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر تم اسے واپس لے لو۔

رَسُولُ اللَّهِ «فَارْجِعْهُ» ← لَا۔ ← رَسُولُ اللَّهِ «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا؟ ← إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا كَانَ لِي، ← النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ ← حميد بن عبد الرحمن ومحمد بن النعمان بن بشير ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Gift › The Book of Gift · Hadith 5100

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5101

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ: انْحَلِ ابْنِي هَذَا غُلَامًا، وَأَشْهِدْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ - يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَلَهُ إِخْوَةٌ؟ »، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَأَعْطَيْتُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتُهُ؟ »، فَقَالَ: لَا، فَقَالَ: «لَا يَصْلُحُ هَذَا، وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلَى الْحَقِّ»

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں : حضرت بشیر ؓ کی اہلیہ نے کہا: آپ میرے اس بیٹے کو غلام عطیے کے طور پر دیں اور نبی اکرمﷺ کو اس بارے میں گواہ بنالیں‘ تو انہوں نے یعنی نبی اکرمﷺ نے ( حضرت نعمان بن بشیر ؓ کے والد سے ) دریافت کیا : کیا اس کے اور بھی بھائی ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : کیاتم نے ان میں سے ہر ایک کو اسی طرح عطیہ دیا ہے ‘ جس طرح اسے دیا ہے؟ انہوں نے عرض کی: جی نہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : یہ درست نہیں ہے اور میں صرف حق بات پر گواہ بنتا ہوں

لَا۔ ← «فَأَعْطَيْتُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتُهُ؟ ← نَعَمْ ← يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ «أَلَهُ إِخْوَةٌ؟ ← امْرَأَةُ بَشِيرٍ: انْحَلِ ابْنِي هَذَا غُلَامًا، وَأَشْهِدْ رَسُولَ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Gift › The Book of Gift · Hadith 5101

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5102

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَعْطَاهُ غُلَامًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذَا الْغُلَامُ؟ »، قَالَ: غُلَامٌ أَعْطَانِيهِ أَبِي، قَالَ: «فَكُلُّ إِخْوَتِكَ أَعْطَاهُ كَمَا أَعْطَاكَ؟ »، قَالَ: لَا، قَالَ: «فَارْدُدْهُ»، وَقَالَ لِأَبِيهِ: لَا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ «

ضرت نعمان بن بشیرؓ بیا ن کرتے ہیں: ان ک والد نے انہیں غلام عطیے کے طور پر دیا ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا یہ کس کا غلام ہے۔ انہوں نے جواب دیا: یہ وہ غلام ہے ‘ جو میرے والد نے مجھے عطا کیا ہے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا انہوں نے تمہارے تمام بھائیوں کو اسی طرح عطا کیا ہے ‘ جس طرح تمہیں عطا کیا ہے ؟ حضرت نعمان ؓ نے عرض کی :جی نہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر تم اسے واپس کر دو۔ نبی اکرمﷺ نے ان کے والد سے فرمایا: تم کسی زیادتی کے کام میں مجھے گواہ نہ بناؤ۔

لأبيه: «لاَ تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ» ← فَارْدُدْهُ ← لَا۔ ← «فَكُلُّ إِخْوَتِكَ أَعْطَاهُ كَمَا أَعْطَاكَ؟ ← غلام أعطانيه أبي ← رَسُولُ اللَّهِ «مَا هَذَا الْغُلَامُ؟ ← النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَعْطَاهُ غُلَامًا، ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Gift › The Book of Gift · Hadith 5102

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5103

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: سَأَلَتْ أُمِّي أَبِي بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ مِنْ مَالِهِ فَالْتَوَى بِهِ سَنَةً، ثُمَّ بَدَا لَهُ، فَوَهَبَهَا لِي، وَإِنَّهَا قَالَتْ: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّ هَذَا بِنْتَ رَوَاحَةَ، قَاتَلَتْنِي مُنْذُ سَنَةٍ عَلَى بَعْضِ مَوْهِبَةٍ لِابْنِي هَذَا، وَقَدْ بَدَا لِي، فَوَهَبْتُهَا لَهُ، وَقَدْ أَعْجَبَهَا، أَنْ تُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: «يَا بَشِيرُ، أَلَكَ وَلَدٌ سِوَى هَذَا؟ »، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «لَا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ»

حضرت نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں: میر ی والدہ نے میرے والد سے یہ گزارش کی کہ وہ اپنے مال میں سے کوئی چیز مجھے ہبہ کر دیں۔ وہ ایک سال تک اسے ملتوی کرتے رہے ‘ پھر انہیں یہ مناسب لگا انہوں نے وہ چیز مجھے ہبہ کر دی۔ میری والدہ نے یہ کہا میں اس وقت تک رااضی نہیں ہوں گی ‘ جب تک آپ نبی اکرمﷺ کو اس بارے میں گواہ نہیں بنا لیتے ‘ تو حضرت بشیرؓ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! اس لڑکے کی والدہ جو رواحہ کی صاحب زادی ہے ۔ وہ ایک سال سے مجھے یہ کہہ رہی تھیں میں اپنے اس بیٹے کو کوئی چیز ہبہ کروں اب مجھے مناسب لگا ‘ تو میں نے اسے ہبہ کر دیا۔ اس عورت کی یہ خواہش ہے ‘ یا رسول اللہﷺ ! آپ اس کے گواہ بن جائیں۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : اے بشیر کیا تمہاری اس کے علاوہ اور اولاد بھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر تم کسی زیادتی کے کام میں مجھے گواہ نہ بناؤ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Gift › The Book of Gift · Hadith 5103

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5104

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: طَلَبَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ، إِلَى بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنْ يَنْحِلَنِيَ، نَحْلًا مِنْ مَالِهِ، وَإِنَّهُ أَبَى عَلَيْهَا، ثُمَّ بَدَا لَهُ بَعْدَ حَوْلٍ، أَوْ حَوْلَيْنِ، أَنْ يَنْحَلَنِيهِ، فَقَالَ لَهَا: الَّذِي سَأَلْتِ لِابْنِي كُنْتُ مَنَعْتُكِ، وَقَدْ بَدَا لِي، أَنْ أَنْحَلَهُ إِيَّاهُ، قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ، لَا أَرْضَى، حَتَّى تَأْخُذَ بِيَدِهِ، فَتَنْطَلِقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتُشْهِدَهُ، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ مَعَهُ وَلَدٌ غَيْرَهُ؟ »، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَهَلْ آتَيْتَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مِثْلَ الَّذِي آتَيْتَ هَذَا؟ »، قَالَ: لَا، قَالَ: «فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى هَذَا، هَذَا جَوْرٌ أَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي، اعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ، فِي النَّحْلِ كَمَا تُحِبُّونَ أَنْ يَعْدِلُوا بَيْنَكُمْ فِي الْبِرِّ، وَاللُّطْفِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» أَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي «، أَرَادَ بِهِ الْإِعْلَامَ، بِنَفْيِ جَوَازِ اسْتِعْمَالِ الْفِعْلِ، الْمَأْمُورِ بِهِ لَوْ فَعَلَهُ، فَزَجَرَ عَنِ الشَّيْءِ، بِلَفْظِ الْأَمْرِ بِضِدِّهِ، كَمَا قَالَ لِعَائِشَةَ: اشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»

حضرت نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں: ( میری والدہ ) عمرہ بنت رواحہ نے ( میرے والد ) حضرت بشیر بن سعد سے یہ کہا کہ وہ اپنے مال میں سے مجھے ( یعنی حضرت نعمان بن بشیر کو ) کوئی عطیہ دیں ‘ لیکن انہوں نے اس خاتون کی بات تسلیم نہیں کی۔ ایک یا دو سال گزرنے کے بعد انہیں یہ مناسب لگا ‘ تو انہوں نے مجھے ایک عطیہ دے دیا۔ انہوں نے اس خاتون سے کہا تم نے جو میرے بیٹے کے بارے میں درخواست کی تھی اسے میں نے پورا نہیں کیا تھا۔ اب مجھے یہ مناسب لگا کہ میں اسے عطیہ دے دوں۔ اس خاتون نے کہا: جی نہیں اللہ کی قسم میں اس وقت تک راضی نہیں ہو ں گی ‘ جب تک آپ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساتھ لے کر نبی اکرمﷺ کے پاس نہیں جاتے اور نبی اکرمﷺ کو اس بات کا گواہ نہیں بناتے ۔ حضرت نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں: انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کر نبی اکرمﷺ کے پاس گئے او ر آپ کو پورا واقعہ سنایا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ان سے دریافت کیا : کیا تمہاری اس کے علاوہ اور اولاد بھی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: جس طرح تم نے اسے دیا ہے۔ اسی طرح ان میں سے ہر ایک کو بھی دیا ہے۔ انہوں نے عرض کی: جی نہیں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر میں اس بات کا گواہ نہیں بنتا یہ زیادتی ہے ‘ تم میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو تم لوگ اپنی اولاد کے درمیان عطیات کے حوالے سے انصاف سے کام لو جس طرح تم لوگ اس بات کو پسند کرتے ہو کہ وہ نیکی اور بھلائی کے حوالے سے تمہارے ساتھ انصاف سے کام لے۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’ میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو‘‘۔ اس کے ذریعے اس بات کی اطلاع دینا مراد ہے‘ اگر وہ یہ فعل کر لیتے ہیں ‘ تو اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہو گا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اس چیز کی ممانعت اس کے متضاد کا حکم دینے کے الفاظ کے ذریعے کی ہے ‘ جس طرح نبی اکرمﷺ نے سیدہ عائشہ ؓ سے فرمایا تھا : تم ( ولاء ) کی شرط ان کے لئے رہنے کیونکہ ولاء کا حق کرنے والے کا ملتا ہے ‘‘۔

طَلَبَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ، إِلَى بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Gift › The Book of Gift · Hadith 5104

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5105

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، خَتَنُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَشِيرَ بْنَ سَعْدٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ رَوَاحَةَ أَرَادَتْنِي أَنْ أَتَصَدَّقَ عَلَى ابْنِهَا بِصَدَقَةٍ، وَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ [ص:505] بَنُونَ سِوَاهُ؟ »، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَكُلُّهُمْ أَعْطَيْتَهُمْ، مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ هَذَا؟ »، قَالَ: لَا، قَالَ: «فَلَا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ»

حضرت نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ حضرت بشیر بن سعدؓ کے پاس تشریف لائے ‘ تو انہوں نے عرض کی:یا رسول اللہﷺ ! ( میری بیوی) عمرہ بنت رواحہ نے یہ ارادہ کیا کہ میں اس کے بیٹے کو کوئی چیز عطیے کے طور پردوں۔ اس نے مجھے کہا ہے‘ میں آپ کو اس بات پر گواہ بنا لوں نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا تمہارے اس کے علاوہ اور بھی بچے ہیں ۔ انہوں نے عرض کی: جی ہان نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا تم نے ان سب کو عطیہ دیا ہے‘ جس طرح تم نے اسے عطیہ دیا ہے۔ اس نے عرض کی: جی نہیں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر تم زیادتی کے کام میں مجھے گواہ نہ بناؤ۔

أَتَى رَسُولُ اللَّهِ بَشِيرَ بْنَ سَعْدٍ، فَقَالَ: ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← عَامِرٍ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، خَتَنُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، ← عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ سُلَيْمَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Gift › The Book of Gift · Hadith 5105

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5106

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: إِنَّ أَبِي نَحَلَنِي كَذَا، وَكَذَا، فَأَتَى بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِيُشْهِدَهُ، فَقَالَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ أَعْطَيْتَ، مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ؟ »، فَقَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَشْهِدْ عَلَى هَذَا [ص:506] غَيْرِي، هَذَا جَوْرٌ» ثُمَّ قَالَ: «أَتُحِبُّونَ أَنْ يَكُونُوا فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟ »، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَلَا إِذًا»

حضرت نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں :میرے والد نے مجھے فلاں ‘ فلاں چیز عطیے کے طور پر دی وہ مجھے ساتھ لے کر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں آئے تاکہ نبی اکرمﷺ کو اس بارے میں گواہ بنا لیں نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اسی طرح عطیہ دیا ہے ‘ جس طرح اسے دیا ہے۔ انہوں نے عرض کی: جی نہیں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میری بجائے کسی او ر کو گواہ بنا لو یہ ظلم ہے پھر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تمہاری تمام اولاد تمہارے ساتھ نیکی کرنے میں برابر ہو۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر یہ درست نہیں ہے۔

«فَلَا إِذَا» ← نَعَمْ ← «أَتُحِبُّونَ أَنْ يَكُونُوا فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟ ← رَسُولُ اللَّهِ «أَشْهِدْ عَلَى هَذَا [ص:506] غَيْرِي، هَذَا جَوْرٌ» ثُمَّ ← لَا۔ ← «أَكُلَّ وَلَدِكَ أَعْطَيْتَ، مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ؟ ← إِنَّ أَبِي نَحَلَنِي كَذَا، وَكَذَا، فَأَتَى بِي رَسُولَ اللَّهِ لِيُشْهِدَهُ، ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Gift › The Book of Gift · Hadith 5106

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5107

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، أَنَّ عَامِرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، قَالَ: إِنَّ وَالِدِي بَشِيرَ بْنَ سَعْدٍ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ رَوَاحَةَ نُفِسَتْ بِغُلَامٍ، وَإِنِّي سَمَّيْتُهُ نُعْمَانَ، وَإِنَّهَا أَبَتْ أَنْ تُرَبِّيَهُ حَتَّى جَعَلْتُ لَهُ حَدِيقَةً لِي أَفْضَلَ مَالِي هُوَ، وَإِنَّهَا قَالَتْ: أَشْهِدِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى [ص:507] ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ وَلَدٌ غَيْرَهُ؟ »، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «لَا تُشْهِدْنِي، إِلَّا عَلَى عَدْلٍ، فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «تَبَايُنُ الْأَلْفَاظِ فِي قِصَّةِ النَّحْلِ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ قَدْ يُوهِمُ عَالِمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّ الْخَبَرَ فِيهِ تَضَادٌّ وَتَهَاتُرٌ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، لِأَنَّ النَّحْلَ مِنْ بَشِيرٍ لِابْنِهِ كَانَ فِي مَوْضِعَيْنِ مُتَبَايِنَيْنِ، وَذَاكَ أَنَّ أَوَّلَ مَا وَلَدُ النُّعْمَانُ أَبَتْ عَمْرَةُ أَنْ تُرَبِّيَهُ حَتَّى يَجْعَلَ لَهُ بَشِيرٌ حَدِيقَةً، فَفَعَلَ ذَلِكَ، وَأَرَادَ الْإِشْهَادَ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » لَا تُشْهِدْنِي إِلَّا عَلَى عَدْلٍ، فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ «، عَلَى مَا فِي [ص:508] خَبَرِ أَبِي حَرِيزٍ، تُصَرِّحُ هَذِهِ اللَّفْظَةُ، أَنَّ الْحَيْفَ فِي النَّحْلِ بَيْنَ الْأَوْلَادِ غَيْرُ جَائِزٍ، فَلَمَّا أَتَى عَلَى الصَّبِيِّ مُدَّةٌ، قَالَتْ عَمْرَةُ لِبَشِيرٍ: انْحَلِ ابْنِي هَذَا فَالْتَوَى عَلَيْهِ سَنَةً أَوْ سَنَتَيْنِ عَلَى مَا فِي خَبَرِ، أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، وَالْمُغِيرَةِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، فَنَحَلَهُ غُلَامًا، فَلَمَّا جَاءَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِيُشْهِدَهُ، قَالَ: » لَا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ «، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ النُّعْمَانُ، قَدْ نَسِيَ الْحُكْمَ الْأَوَّلَ، أَوْ تَوَهَّمَ أَنَّهُ قَدْ نُسِخَ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » لَا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ «، فِي الْكَرَّةِ الثَّانِيَةِ زِيَادَةُ تَأْكِيدٍ فِي نَفْيِ جَوَازِهِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ النَّحْلَ فِي الْغُلَامِ لِلنُّعْمَانِ كَانَ ذَلِكَ، وَالنُّعْمَانُ مُتَرَعْرِعٌ، أَنَّ فِيَ خَبَرِ عَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: » مَا هَذَا الْغُلَامُ؟ «، قَالَ: غُلَامٌ أَعْطَانِيهِ أَبِي، فَدَلَّتْكَ هَذِهِ اللَّفْظَةُ، عَلَى أَنَّ هَذَا النُّحْلَ غَيْرَ النُّحْلِ الَّذِي فِي خَبَرِ، أَبِي حَرِيزٍ، فِي الْحَدِيقَةِ، لِأَنَّ ذَلِكَ عِنْدَ امْتِنَاعِ عَمْرَةَ، عَنْ تَرْبِيَةِ النُّعْمَانِ عِنْدَمَا وَلَدَتْهُ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ، أَنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَتَضَادُّ، وَتَهَاتَرُ، وَأَبُو حَرِيزٍ، كَانَ قَاضِيَ سِجِسْتَانَ»

حضرت نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں: میرے والد حضرت بشیر بن سعد ؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ! ( میری اہلیہ ) عمرہ بنت رواحہ کے ہاں بچہ پیدا ہوا میں نے اس کا نام نعمان رکھا ۔ اس نے اس بچے کو پالنے پوسنے سے انکار کر دیا ‘ جب تک میں اس بچے کو اپنا وہ باغ نہیں دیتا جو سب سے بہترین مال ہے اور اس عورت نے یہ کہا کہ آپ نبی اکرمﷺ کو اس بارے میں گواہ بنا لیں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے حضرت بشیرؓ سے کہا : کہا تمہاری اس کے علاوہ اور اولاد بھی ہے۔ انہوں نے جواد دیا: جی ہاں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم مجھے صرف انصاف کے کام میں گواہ بناؤ۔ میں زیادتی کے کام میں گواہ نہیں بنتا۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں :) عطیہ دینے کا یہ جو واقعہ ہم نے ذکر کیا ہے اس کے الفاظ میں اختلاف پایا جاتا ہے ‘ جس نے ایک عالم کو اس غلط فہمی کا شکار کیا کہ اس روایت میں شاید اختلاف پایا جاتا ہے ‘ حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ عطیہ حضرت بشیر نے ا پنے بیٹے کو دیا تھا یہ دو مختلف مقامات پر منقول ہیں ۔ وہ یوں کہ جب پہلی مرتبہ حضرت نعمان پیدا ہوئے ‘ تو ا ن کی والدہ سیدہ عمرہ نے ان کی تربیت کرنے سے اس وقت تک انکار کر دیا‘ جب تک حضرت بشیر انہیں کوئی باغ عطیے کے طور پر نہیں دیتے ‘ تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ انہوں نے اس بارے میں گواہ بنانے کا ارادہ کیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم صرف انصاف کے کام پر مجھے گواہ بناؤ کیونکہ میں زیادتی کے کام میں گواہ نہیں بناتا۔ جیسا کہ ابو حریز نامی راوی کی روایت میں یہ بات مذکور ہے اور یہ الفاظ اس بار کی صراحت کرتے ہیں‘ عطیہ دیتے ہوئے والد کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا درست نہیں ہے ‘ پھر جب بچہ بڑا ہو گیا ‘ تو عمرہ نے حضرت بشیر سے کہا آپ میرے اس بیٹے کو کوئی عطیہ دیجئے ‘ تو وہ ایک سال یا دو سال تک اس کو ملتوی کرتے رہے ۔ جیسا کہ ابو حیان تیمی اور مغیرہ کی شعی کے حوالے سے نقل کردہ روایت میں یہ بات مذکور ہے پھر انہوں نے اسے غلام عطیہ کر دیا جب وہ نبی اکرمﷺ کے پاس آئے تاکہ انہیں اس بارے میں گواہ بنائیں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ظلم کے کام میں مجھے گواہ نہ بناؤ ‘ تو اس بات کا احتمال موجود ہے ‘ حضرت نعمانؓ پہلا حکم بھول چکے ہوں ‘ یا انہیں یہ غلط فہمی ہوئی ہو کہ وہ حکم منسوخ ہو گیا اور نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’ تم ظلم کے کام میں مجھے گواہ نہ بناؤ ‘‘۔ یہ دوسری مرتبہ اس کام کے جائز ہونے کی نفی میں زیادہ تاکید پیدا کرنے کے لئے ہو اور اس بات کی دلیل کی غلام کی صورت میں دیا جانے والا عطیہ بھی حضرت نعمانؓ کو ہی دیا گیا تھا یہ ہے ‘ عاصم نے امام شعی کے حوالے سے روایت نقل کی ہے اس میں یہ بات مذکور ہے ‘ نبی اکرمﷺ نے حضرت نعمانؓ سے دریافت کیا یہ غلام کہاں سے آیا ہے۔ انہو ں نے کہا: یہ وہ غلام ہے ‘ جو میرے والد نے مجھے عطا کیا ہے ‘ تو یہ الفاظ آپ کی رہنمائی اس بات کی طرف کریں گے کہ یہ عطیہ اس عطیے کے علاوہ تھا جس کا ذکر ابو حریز کی نقل کردہ روایت میں کیا گیا ہے ‘ جو باغ کے بارے میں ہے کیونکہ ( حضرت نعمان بن بشیرؓ کی والدہ ) عمرہ کا ان کی تربیت کرنے سے انکار کرنا اس وقت تھا ‘ جب ان کی پیدائش ہوئی تھی ۔ یہ بات ا س شخص کے موقف کے برخلاف ہے ‘ جو اس بات کا قائل ہے ‘ نبی اکرمﷺ کے حوالے سے منقول روایات متضاد ہیں اور ان میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ابو حریز نامی راوی بحستان کے قاضی تھے۔

إِنَّ وَالِدِي بَشِيرَ بْنَ سَعْدٍ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: ← أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَبِي حَرِيزٍ، أَنَّ عَامِرًا، ← عَلَى الْفُضَيْلِ، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Gift › The Book of Gift · Hadith 5107

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْھِبَۃِ ‹ کِتَابُ الْھِبَۃِ · حديث 5108

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى بْنِ خَتٍّ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ عَنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ، وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ، فَلْيَقْبَلْهُ، وَلَا يَرُدَّهُ»

حضرت خالد بن زید جہنیؓ بیان کرتے ہیں‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ جس شخص کو اپنے بھائی کی طرف سے مانگے بغیر اور لالچ کے بغیر کوئی بھلائی ( یعنی مال و دولت وغیرہ ) ملے اسے اس کو قبول کر لینا چاہئے اسے وہ واپس نہیں کرنا چاہئے ‘‘۔

أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ، وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ، فَلْيَقْبَلْهُ، وَلَا يَرُدَّهُ» ← «مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ ← رَسُولِ اللَّهِ ← خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ، ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← الْمُقْرِئُ ← يَحْيَى بْنُ مُوسَى بْنِ خَتٍّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Gift › The Book of Gift · Hadith 5108

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr