Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدَّعْویٰ ‹ کِتَابُ الدَّعْویٰ · حديث 5080

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ طَلَبَ حَقًّا فَلْيَطْلُبْهُ فِي عَفَافٍ وَافٍ، أَوْ غَيْرَ وَافٍ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي» عَفَافٍ «، شَرْطٌ أُرِيدَ بِهِ الزَّجْرُ، عَنْ ضِدِّ الْعَفَافِ مِمَّا لَا يَحِلُّ اسْتِعْمَالُهُ»

حضرت عبد اللہ بن عمرﷺ اور سیدہ عائشہ صدیقہ ‘ نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص حق کا مطالبہ کرے اسے نرمی کے ساتھ اس کا مطالبہ کرنا چائیے ‘ خواہ وہ پورا ملے یا پورا نہ ملے ‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’ نرمی کے ہمراہ کرنا چاہیے ‘‘ یہ ایک ایسی شرط ہے ‘ جس کے ذریعے ممانعت مراد لی گئی ہے ‘ جو اس چیز سے ممانعت ہے ‘ جو نرمی کی متضاد ہوتی ہے ‘ جس پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔

ابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5080

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدَّعْویٰ ‹ کِتَابُ الدَّعْویٰ · حديث 5081

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: «إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ، فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا، أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٍ: خَمْسًا فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَإِيَّاكَ، وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَ اللَّهِ، وَبَيْنَهُ حِجَابٌ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ نے حضرت معاذ کو یمن بھیجا ‘ تو آپ نے فرمایا تم اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے پاس جا رہے ہو تم ان کے پاس جاؤ ‘ تو اس بات کی دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسو ل ﷺ ہیں اور اگر وہ اس بارے میں تمہاری بات مان لیں ‘ تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ نمازیں فرض کی ہیں ‘ اس بارے میں بھی ‘ اگر تمہاری بات ما لیں‘ تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے اپ روزانہ پانچ نمازیں فرض کی ہیں ‘ اس بارے میں بھی ‘ اگر تمہاری بات مان لیں ‘ تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے ‘ جو ان کے خوشحال لوگوں سے وصول کی جائے گی اور ان کے غریب لوگوں کی طرف لوٹاد ی جائے گی۔ اگر وہ اس بارے میں بھی تمہاری بات مان لیں ‘ تو تم لوگوں کے عمدہ مال حاصل کرنے سے بچنا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اور اس کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔

لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أبو معبد مولى ابن عباس ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5081

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدَّعْویٰ ‹ کِتَابُ الدَّعْویٰ · حديث 5082

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَخْرُزَانِ، لَيْسَ مَعَهُمَا فِي الْبَيْتِ غَيْرَهُمَا، فَخَرَجَتْ إِحْدَاهُمَا، قَدْ طُعِنَ فِي بَطْنِ كَفِّهَا، بِإِشْفَى خَرَجَ مِنْ ظَهْرِ كَفِّهَا، تَقُولُ: طَعَنَتْهَا صَاحِبَتُهَا، وَتُنْكِرُ الْأُخْرَى، فَأَرْسَلَتْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِمَا، فَأَخْبَرَتْهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: لَا تُعْطِي شَيْئًا، إِلَّا بِالْبَيِّنَةِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ، لَادَّعَى رِجَالٌ أَمْوَالَ رِجَالٍ، وَدِمَاءَهُمْ، وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، فَادْعُهَا، فَاقْرَأْ عَلَيْهَا الْقُرْآنَ، وَاقْرَأْ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ، وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: 77]، فَفَعَلْتُ، فَاعْتَرَفَتْ»

ابن ابو ملیکہ بیان کرتے ہیں: دو خواتین گھر میں اکیلی تھیں گھر میں ان دونوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ان دونوں میں سے ایک گھر سے باہر نکلی ‘ تو اس کےپیٹ میں نیزہ مارا جا چکا تھا جو اس کی کمر کی طرف سے باہر نکل آیا تھا۔ اس عورت نے یہ بتایا: دوسری عورت نے اسے یہ نیزہ مارا ہے ‘ جبکہ دوسری عورت نے ا س کا انکار کیا میں نے یہ مقدمہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے پاس بھیج دیا اس عورت نے انہیں اس بارے میں بتایا‘ تو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے فرمایا تم صرف ثبوت پیش کرو کیونکہ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ’’اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ جات کی بنیاد پر دینا شروع کر دیا جائے ‘ تو کچھ لوگ دوسرے لوگوں کے مال اور جانوں کے بارے میں دعویٰ کرنا شروع کر دیں گے جس شخص کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے اس پر قسم اٹھانا لازم ہے تماس عورت کا بلاؤ اس کے سامنے قرآن کی تلاوت کرو اور یہ آیت پڑھو: ’’ بے شک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے عہد اور اس کی قسم کے عوض میں تھوڑی قیمت حاصل کر لیتے ہیں ‘‘۔ پھر میں نے ایسا ہی کیا‘ تو ( اس عورت نے ) اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔

ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ،

Hadith 5082

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدَّعْویٰ ‹ کِتَابُ الدَّعْویٰ · حديث 5083

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى النَّاسُ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کی بنیاد پر دینا شروع کر دیا جائے ‘ تو لوگ دوسرے لوگوں کی جانوں اور مالوں کے بارے میں دعویٰ کرنے لگ جائیں گے۔ اس لئے جس شخص کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے اس پر قسم اٹھانا لازم ہے ‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 5083

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدَّعْویٰ ‹ کِتَابُ الدَّعْویٰ · حديث 5084

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالًا، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ» وَنَزَلَ تَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ} [آل عمران: 77] الْآيَةَ، فَمَرَّ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا يَقُولُ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ؟ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: صَدَقَ، إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِيَّ وَفِي صَاحِبِي فِي بِئْرٍ ادَّعَيْتُهَا، وَلَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَّا بَيِّنَةٌ، [ص:479] فَحَلَفَ عَلَيْهَا، فَذَكَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا، عِنْدَ ذَلِكَ

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور وہ اس میں جھوٹا ہو اور اس کا مقصد یہ ہو کہ اس کےذریعے وہ مال ہتھیا لے ‘ تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا‘ تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہو گا۔ تو اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں یہ آیت نازل ہوئی: ’’ بے شک وہ لوگ جو اللہ کے نام کے عہد کے عوض میں خریدتےہیں‘‘۔ اسی دوران حضرت اشعث بن قیسؓ وہاں سے گزرے وہ لوگ مسجد میں اس حدیث کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے ۔ انہوں نے دریافت کیا ابن ام عبد کیا بیان کر رہے ہیں ۔ لوگوں نے انہیں اس بارے میں بتایا ‘ تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا ہے ٰہ آیت میرے اور میرے مقابل فریق کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ ہمارا ایک کنوئیں کے بارے میں اختلاف تھا جس کا میں دعویدار تھا ہم میں سے کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا ‘ تو اس شخص نے اس بارے میں قسم اٹھالی تھی ‘ تو اس موقع پر نبی اکرمﷺ نے اس کا ذکر کیا تھا۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← سُلَیْمَانَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Hadith 5084

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدَّعْویٰ ‹ بَابُ الْاِسْتِحْلَافِ · حديث 5085

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ بِالْمَوْصِلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ كَاذِبًا لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ أَخِيهِ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ»، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ [آل عمران: 77].

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں‘نبی اکرم نے ارشاد فرمایا: ’’ جو شخص کوئی چھوٹی قسم اٹھاتا ہے ‘ تاکہ اس کے ذریعے اپنے بھائی کامال ہڑپ کر لے ‘ جب وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ‘ تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہو گا‘‘۔ ( حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں ) اس کی تائید اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ہوتی ہے۔ ’’ بے شک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے نام کے عہد اور اس کے نام کی قسم کے عوض میں تھوڑی قیمت حاصل کر لیتے ہیں ‘‘۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ بِالْمَوْصِلِ

Hadith 5085

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدَّعْویٰ ‹ بَابُ الْاِسْتِحْلَافِ · حديث 5086

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ»، فَقَالَ الْأَشْعَثُ: فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟ »، قُلْتُ: لَا، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ: «احْلِفْ»، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا يَحْلِفُ، فَيَذْهَبُ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ، وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ [آل عمران: 77]

اللہ تعالیٰ کا اس شخص کے لئے جنت کو حرام قرار دینا اور اس کے ہمراہ جہنم کو لازم قرار دینا ‘ جو وہ فعل کرتا ہے ‘ جس کا ہم نے ذکر کیا ہے اگرچہ اس فعل کو کرتے ہوئے اس کا ارادہ تھوڑے سے مال کو حاصل کرنا ہو

عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 5086

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدَّعْویٰ ‹ بَابُ الْاِسْتِحْلَافِ · حديث 5087

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَاجِرَةٍ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، بِغَيْرِ حَقٍّ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ، وَأَوْجَبَ لَهُ النَّارَ»، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا؟، قَالَ: «وَإِنْ كَانَ قَضِيبًا، مِنْ أَرَاكٍ»

حضرت عبد اللہ ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جوشخص قسم اٹھائے اور وہ اس میں جھوٹا ہو ‘ تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ‘ تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہو گا‘۔ اس پر اشعث یہ کہا اللہ کی قسم! یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ میرے اور یہودیوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے درمیان زمین کا جھگڑا چل رہا تھا ‘ تو اس نے مجھے وہ دینے سے انکار کیا۔ میں اسے لے کر نبی اکرمﷺ کے پاس آیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے۔ میں نے عرض کی: جی نہیں نبی اکرمﷺ نے یہودی سے فرمایا تم قسم اٹھالو اشعث کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ ! یہ تو قسم اٹھا لے گا اور میرا مال لے جائے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ’’ بے شک وہ لوگ جو اللہ کے نام کے عہد اور اس کی نام کی قسموں کے عوض میں تھوڑی قیمت حاصل کر لیتے ہیں ‘‘۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، ← مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← حَكِيمُ1 بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Hadith 5087

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدَّعْویٰ ‹ بَابُ الْاِسْتِحْلَافِ · حديث 5088

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرْدُوسٍ التَّغْلِبِيِّ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ أَجْذَمَ»

حضرت اشعث بن قیسؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو شخص جھوٹی قسم اٹھا کر اس کے ذریعے مسلمان کا مال ہڑپ کرنا چاہتا ہے اور وہ شخص اس قسم میں جھوٹا ہو ‘ تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ‘ تو وہ جذام کا شکار ہو گا‘‘۔

الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، ← كُرْدُوسٍ التَّغْلِبِيِّ، ← الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← وَكِيعٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 5088

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدَّعْویٰ ‹ بَابُ عُقُوبَۃِ الْمَاطِلِ · حديث 5089

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ الطَّائِفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ - وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا - عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي: «الْوَاجِدُ يُحِلُّ عِرْضُهُ وَعُقُوبَتُهُ»

عمر و بن شرید اپنے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے مجھ سے فرمایا: ’’ ( قرض کی واپسی کےلئے اپنے پاس گنجائش) پانے والا شخص ( ٹال مٹول کر کے ) اپنی عزت اور سزا کو حلال کر دیتا ہے ‘‘۔

لِي: «الْوَاجِدُ يُحِلُّ عِرْضُهُ وَعُقُوبَتُهُ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا ← وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ الطَّائِفِيُّ، ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 5089

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدَّعْویٰ ‹ بَابُ عُقُوبَۃِ الْمَاطِلِ · حديث 5090

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ»

حضرت ابو ہریرہؓ رویت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ خوشحال شخص کا ( ادائیگی کرنے میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے او ر جب کسی شخص کو ( اپنے مال کی وصولی کے لئے ) کسی دوسرے شخص کے سپرد کیا جائے ‘ تو وہ اسے قبول کر لے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 5090

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr