صیح ابن حبان · کِتَابُ الدَّعْویٰ ‹ کِتَابُ الدَّعْویٰ · حديث 5080
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ طَلَبَ حَقًّا فَلْيَطْلُبْهُ فِي عَفَافٍ وَافٍ، أَوْ غَيْرَ وَافٍ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي» عَفَافٍ «، شَرْطٌ أُرِيدَ بِهِ الزَّجْرُ، عَنْ ضِدِّ الْعَفَافِ مِمَّا لَا يَحِلُّ اسْتِعْمَالُهُ»
حضرت عبد اللہ بن عمرﷺ اور سیدہ عائشہ صدیقہ ‘ نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص حق کا مطالبہ کرے اسے نرمی کے ساتھ اس کا مطالبہ کرنا چائیے ‘ خواہ وہ پورا ملے یا پورا نہ ملے ‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’ نرمی کے ہمراہ کرنا چاہیے ‘‘ یہ ایک ایسی شرط ہے ‘ جس کے ذریعے ممانعت مراد لی گئی ہے ‘ جو اس چیز سے ممانعت ہے ‘ جو نرمی کی متضاد ہوتی ہے ‘ جس پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔
ابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Hadith 5080
