Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5067

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ بِوَاسِطٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطُّرُقِ فَدَعُوا سَبْعَةَ أَذْرُعٍ»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جب راستے کے بارے میں تمہارے درمیان اختلاف ہو جائے ‘ تو سات ذراع تک جگہ چھوڑ دو‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ، بِوَاسِطَ،

Hadith 5067

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5068

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا دَابَّةً، فَأَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَاهِدَيْنِ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: دو آدمیوں نے ایک جانور کے بارے میں دعویٰ کیا۔ ان دونوں میں سے ہر ایک نے دو گواہ بھی پیش کر دئیے‘ تو نبی اکرمﷺ نے اس جانور کو ان دونوں کے درمیان نصف کے طور پر تقسیم کر دیا۔

بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 5068

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5069

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، مَوْلَى خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، {إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ} [البقرة: 284]، دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْءٌ، لَمْ يَدْخُلْهُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُولُوا سَمِعْنَا، [ص:459] وَأَطَعْنَا، وَسَلَّمْنَا، فَأَلْقَى اللَّهُ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ»، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ} [البقرة: 285] الْآيَةَ، وَقَالَ: «رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا»، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، «{رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا، كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا} [البقرة: 286]، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی: ’’ تمہارے من میں جو کچھ ہے اسے ظاہر کرو یا چھپا کے رکھو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں تم سے حساب لے گا‘‘۔ تو اس آیت کے نزول کی وجہ سے لوگ انتہائی زیادہ پریشان ہو گئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم یہ کہو ہم نے سنا اور اطاعت کی اور ہم نے تسلیم کیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان کو ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ’’ رسول اس چیز پر ایمان لایا جو اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر نازل کی گئی اور اہل ایمان بھی ( ایمان لے آئے) ‘‘۔ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں ( وہ لوگ یہ کہتے ہیں ) ’’ اے ہمارے پروردگار ! اگر ہم بھول جائیں ‘ یا غلطی کر جائیں ‘ تو ہم سے مواخذہ نہ کرنا ‘‘۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے ایسا ہی کیا ( اس میں یہ دعا بھی ہے ) ’’ اے ہمارے پروردگار ‘ تو ہم پر اس طرح بوجھ نہ لاد دینا ‘ جس طرح ‘ تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر لدد دیا تھا ‘‘۔ تو پروردگار نے فرمایا میں نے ایسا ہی کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، مَوْلَى خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 5069

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5070

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ، أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، [ص:460] فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ، مِنْ حَقِّ أَخِيهِ، فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ»

سیدہ زینب ؓ ‘ سیدہ ام سلمہ ؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : میں ایک انسان ہوں تم لوگ اپنے مقدمات لے کر میرے پاس آتے ہو البتہ اگر کوئی شخص اپنے موقف کو ثابت کرنے میں دوسرے کے مقابلے میں زیادہ تیز ہو اور میں نے جو سنا میں اس کے مطابق اس کے حق میں فیصلہ دے دوں ‘ تو میں جس شخص کے حق میں اس کے کسی بھائی کے حق کا فیصلہ دوں تو وہ اسے قبول نہ کرے کیونکہ میں نے اس کے لئے جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہو گا۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← زَيْنَبَ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 5070

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5071

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ، يَكُونُ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ میں ایک انسان ہوں ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے موقف کو پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ تیز ہو ‘ تو جس کے حق میں ‘ میں اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ دے دوں تو میں نے ا س کو جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہو گا ‘‘۔

"إِنَّمَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 5071

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5072

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، [ص:462] عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ، أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ»

سیدہ سلمہ ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ’’ میں ایک انسان ہوں ۔ تم لوگ میرے پاس مقدمات لے کر آتے ہو۔ ہو سکتا ہے کوئی شخص اپنا موقف پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ تیز ہو ‘ تو جس شخص کے حق میں ‘ میں اس کے بھائی کے حق سے متعلق کسی چیز کا فیصلہ دے دوں ‘ تو میں نے اس کوجہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہو گا‘‘۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، [ص:462] ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Hadith 5072

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5073

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرم نے ایک گواہ کے ہمراہ قسم کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 5073

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5074

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، [ص:464] حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ: الْكِنْدِيُّ هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي زَرَعْتُهَا، لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟ »، قَالَ: لَا، قَالَ: «فَلَكَ يَمِينُهُ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ، لَا يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، قَالَ: «لَيْسَ لَكَ مِنْهُ، إِلَّا ذَلِكَ»، قَالَ: فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ: «أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا، لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ»

علقمہ بن وائل اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ حضرت الموت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اور کندہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرمی نے عرض کیا : یا رسول اللہ اس شخص نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے ‘ جو میرے باپ کی ملکیت تھی۔ کندی نے کہا: وہ زمین میری ہے ۔ میرے قبضے میں ہے۔ میں نے اس پر کھیتی باڑی کی ہے۔ اس کا اس زمین میں کوئی حق نہیں ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے حضرت سے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے ۔ اس نے جواب دیا: جی نہیں نبی اکرمﷺ نے فرمایا : پھر تمہیں قسم اٹھانی ہو گی۔ دوسرے شخص نے عرض کی: یہ گناہ گار شخص ہے ۔ یہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ کس بات پر قسم اٹھا رہا ہے ۔ یہ کسی چیز سے ڈرتا نہیں ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اس کی طرف سے تمہیں یہ ہی چیز مل سکتی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ شخص قسم اٹھانے کےلئے تیار ہوا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اس کے جانے کے بعد ارشاد فرمایا: اگر تو اس شخص نے اس مال کے بارے میں اس لئے قسم اٹھائی ہے ‘ تاکہ ظلم کے طور پر اسے ہتھیا لے ‘تو جب یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ‘ تو اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لےگا۔

جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: ← أَبِيهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، [ص:464] ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 5074

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5075

أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَقَتَادَةَ، وَحُمَيْدٍ، وَسِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَعَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، «أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ، فَأَقْرَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّ»

ایک سند کے مطابق حضرت عمران بن حصین ؓ اور ایک سند کے مطابق سعید بن مسیّت بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے اپنے مرنے کے قریب چھ غلاموں کو آزاد کر دیا۔ اس شخص کے پاس اس غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہ تھا۔ نبی اکرمﷺ نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کروائی اور ان میں سے دو کو آزاد قرار دیا اور چار کو غلام رہنے دیا۔

عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← عمران بن حصين وقتادة وحميد وسماك بن حرب ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، بِبَغْدَادَ،

Hadith 5075

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ بَابُ الرِّشْوَۃِ · حديث 5076

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِيَ، وَالْمُرْتَشِيَ فِي الْحُكْمِ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ فیصلہ کرتے ہوئے رشوت لینے والے اور دینے والے پر اللہ نے لعنت کی ہے‘‘۔

«لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِيَ، وَالْمُرْتَشِيَ فِي الْحُكْمِ» ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 5076

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ بَابُ الرِّشْوَۃِ · حديث 5077

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ»

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ نے رشوت لینے والے اور دینے والے پر لعنت کی ہے‘‘۔

«لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← خَالِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← الْقَوَارِيرِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 5077

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ بَابُ الرِّشْوَۃِ · حديث 5078

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، [ص:469] عَنْ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ لَنَا عَمَلًا، فَكَتَمَنَا مِنْهُ، مِخْيَطًا، فَمَا فَوْقَهُ فَهُوَ غَالٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» فَقَامَ رَجُلٌ أَسْوَدُ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أَرَاهُ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟ »، قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ، الَّذِي قُلْتَ: قَالَ: «وَأَنَا أَقُولُهُ الْآنَ: مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ، فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ، وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُوتِيَ أَخَذَ، وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى»

عدی کندی جن کا تعلق بنو ارقم سے ہے روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اے لوگوں ! تم میں سے جو شخص ہمارے لئے ( زکوٰۃ وغیرہ وصول کرنے کا ) کوئی کام کرتا ہے اور پھر ہم سے اس میں سے کوئی ایک سوئی چھپا لیتا ہے یا اس سے بھی اوپر کی کوئی چیز چھپا لیتا ہے‘ تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا ‘ تو وہ خیانت کرنے والا ہو گا ‘ تو ایک سیاہ فام شخص کھڑا ہو ا ‘ یہ منظر آج بھی گویا کہ میری نگاہ میں ہے۔ میرا خیال ہے ‘ وہ ایک انصاری تھا۔ اس نے گزارش کی : یا رسول اللہ ﷺ ! جو آپ نے مجھے ذمہ داری عطا کی تھی۔ اسے واپس لے لیں نبی اکرمﷺ نےدریافت کیا وہ کیوں اس نے عرض ی: میں نے ابھی آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے نبی اکرمﷺ نے فرمایا : میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ جس شخص کو ہم کسی کام کا نگران مقرر کریں وہ تھوڑی اور زیادہ سب چیزیں لے کر آئے جو اسے دیا جائے اسے وصول کر لے جس چیز سے اسے منع کیا جائے اس سے باز آ جائے ‘‘۔

عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي أَرْقَمَ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، [ص:469] ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 5078

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr