صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5055
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْعَلَاءُ الْيَشْكُرِيُّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ سَرْجٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يُدْعَى بِالْقَاضِي الْعَادِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَلْقَى مِنْ شِدَّةِ الْحِسَابِ مَا يَتَمَنَّى، أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ فِي عُمْرِهِ»
سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ قیامت کے دن عادل قاضی کو بلایا جائے گا اور اس سے اتنی سختی سے حساب لیا جائے گا وہ یہ آرزو کرے گا کہ کاش اس نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی دو آدمیوں کے درمیان کوئی فیصلہ نہ دیا ہوتا‘‘۔
رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ ← صَالِحِ بْنِ سَرْجٍ، ← عمرو بن العلاء اليشكري ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،
Sahih Ibn Hibban · Judgment Book › Mentioning the reports describing the discussion of God in the resurrection of the just ruler if he is in the world · Hadith 5055
