Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5055

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْعَلَاءُ الْيَشْكُرِيُّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ سَرْجٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يُدْعَى بِالْقَاضِي الْعَادِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَلْقَى مِنْ شِدَّةِ الْحِسَابِ مَا يَتَمَنَّى، أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ فِي عُمْرِهِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ قیامت کے دن عادل قاضی کو بلایا جائے گا اور اس سے اتنی سختی سے حساب لیا جائے گا وہ یہ آرزو کرے گا کہ کاش اس نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی دو آدمیوں کے درمیان کوئی فیصلہ نہ دیا ہوتا‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ ← صَالِحِ بْنِ سَرْجٍ، ← عمرو بن العلاء اليشكري ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Judgment Book › Mentioning the reports describing the discussion of God in the resurrection of the just ruler if he is in the world · Hadith 5055

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5056

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي جَمِيلَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: اذْهَبْ فَكُنْ قَاضِيًا، قَالَ أَوَ تُعْفِينِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟، قَالَ: اذْهَبْ، فَاقْضِ بَيْنَ النَّاسِ، قَالَ تُعْفِيَنِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟، قَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا ذَهَبْتَ فَقَضَيْتَ، قَالَ: لَا تَعْجَلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ فَقَدْ عَاذَ مَعَاذًا»، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ، أَنْ أَكُونَ قَاضِيًا، قَالَ: وَمَا يَمْنَعُكَ، وَقَدْ كَانَ أَبُوكَ يَقْضِي؟، قَالَ: لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَانَ قَاضِيًا، فَقَضَى بِالْجَهْلِ، كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَمَنْ كَانَ قَاضِيًا، فَقَضَى بِالْجَوْرِ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَمَنْ كَانَ قَاضِيًا عَالِمًا يَقْضِي بِحَقٍّ أَوْ بِعَدْلٍ، سَأَلَ التَّفَلُّتَ كَفَافًا»، فَمَا أَرْجُو مِنْهُ بَعْدَ ذَا قَالَ أَبُو حَاتِمِ: «ابْنُ وَهْبٍ هَذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبِ بْنِ الْأَسْوَدِ الْقُرَشِيُّ مِنَ الْمَدِينَةِ رَوَى عَنْهُ الزُّهْرِيُّ»

عبد اللہ بن وہب بیان کرتےہیں : حضرت عثمان غنی ؓ نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے فرمایا :تم جاؤ تم قاضی ہو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے عرض کی : اے امیر المومنین کی اآپ مجھے اس سے معاف نہیں رکھیں گے۔ حضرت عثمانؓ نے کہا : تم جاؤ اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کر و ‘ انہوں نے گزارش کی : اے امیر المومنین آپ مجھے اس سے معافی نہیں دیتے ۔ حضرت عثمان ؓ نے کہا: میں تمہیں تاکید کر رہا ہوں کہ تم جاؤ اور فیصلہ کرو۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے عرض کی: آپ جلدی نہ کیجئے۔ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ جو شخص اللہ کی پناہ لیتا ہے وہ ایک ایسی ذات کی پناہ لیتا ہے ‘ جس کی پنا ہ لی جاتی ہے‘‘۔ حضر ت عثمان ؓ نےکہا : ٹھیک ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے کہا: تو میں اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں قاضی بن جاؤں حضرت عثمانؓ نے دریافت کیا تم ایسا کیوں نہیں کرتے جبکہ حضرت تمہارے والد فیصلے دیا کرتے تھے ۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے بتایا میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ جو شخص قاضی ہو اور علم نہ ہونے کے باوجود فیصلہ دے وہ اہل جہنم میں سے ہو گا اور جو شخص قاضی ہو کر ظلم کے مطابق فیصلہ دے وہ اہل جہنم میں سے ہو گا اور جو شخص قاضی ہو اور عالم ہو اور حق کے ساتھ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) انصاف کے ساتھ فیصلہ دے وہ بھی ( قیامت کے دن ) یہ آرزو کرے گا اسے برابری کی بنیاد پر چھوڑ دیا جائے‘‘۔ ( حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے کہا ) ‘ تو اب اس کے بعد میں کیا امید رکھ سکتا ہوں۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں :) ابن وہب نامی راوی عبد اللہ بن وہب بن اسود قریشی ہے ‘ جس کا تعلق مدینہ منورہ سے ہے۔ ابن شہاب زہری نے اس کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں۔

لِأَنِّي ← وَمَا يَمْنَعُكَ وَقَدْ كَانَ أَبُوكَ يَقْضِي؟ ← فَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ قَاضِيًا ← نَعَمْ ← "مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ فَقَدْ عَاذَ مَعَاذًا" ← لاَ تَعْجَلْ ← عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلا ذَهَبْتَ فَقَضَيْتَ. ← تُعْفِيَنِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ← اذْهَبْ فَاقْضِ بَيْنَ النَّاسِ. ← أَوَ تَعْفِينِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. ← لابْنِ عُمَرَ اذْهَبْ فَكُنْ قَاضِيًا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ← عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي جَمِيلَةَ، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Judgment Book › Mentioning the reports describing the discussion of God in the resurrection of the just ruler if he is in the world · Hadith 5056

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5057

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاكٍ*، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَتْ قُرَيْظَةُ، وَالنَّضِيرُ، وَكَانَتِ النَّضِيرُ أَشْرَفَ مِنْ قُرَيْظَةَ، قَالَ: وَكَانَ إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْظَةَ رَجُلًا مِنَ النَّضِيرِ قُتِلَ بِهِ، وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلًا مِنْ قُرَيْظَةَ، وَدَى مِائَةَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ، رَجُلًا مِنْ قُرَيْظَةَ، فَقَالُوا: ادْفَعُوهُ إِلَيْنَا نَقْتُلُهُ، فَقَالُوا: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَوْهُ، فَنَزَلَتْ {وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ} [المائدة: 42]، وَالْقِسْطُ النَّفْسُ، بِالنَّفْسِ، ثُمَّ نَزَلَتْ {أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ} [المائدة: 50]

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: ایک قریظہ قبیلہ تھا اور ایک نضیر قبیلہ تھا۔ نضیر قبیلہ قریظہ قبیلے سے زیادہ معزز سمجھا جاتا تھا۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیا ن کرتے ہیں: بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والا جب کوئی شخص بنو نضیر سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو قتل کر دیتا ‘ تو اسے اس کے بدلے میں قتل کر دیا جاتا اور جب بنو نضیر سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو قتل کرتا ‘ تو وہ کھجور کے ایک سو وسق ویت ادا کر دیتا جب نبی اکرمﷺ کو مبعوث کیا گیا ‘ تو بنو نضیر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو قتل کر دیا۔ لوگوں نے کہا: تم لوگ اسے ہمارے حوالے کرو تاکہ ہم بھی اسے قتل کریں۔ ان لوگوں نے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان نبی اکرمﷺ فیصلہ کریں گے ‘ پھر وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ’’ اگر تم فیصلہ دیتے ہو ‘ تو ان کے درمیان انصاف کے مطابق فیصلہ دو ‘‘۔ یہاں انصاف سے مراد یہ ہے : جان کا بدلہ جان ہو پھر یہ آیت نازل ہوئی: ’’ کیا وہ زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق فیصلہ چاہتے ہیں‘‘۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Judgment Book › Mentioning the reports describing the discussion of God in the resurrection of the just ruler if he is in the world · Hadith 5057

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5058

َخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمَّا رَجَعَتْ مُهَاجِرَةُ الْحَبَشَةِ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَلَا تُحَدِّثُونِي بِأَعْجَبَ مَا رَأَيْتُمْ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ»، قَالَ فِتْيَةٌ مِنْهُمْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَرَّتْ عَلَيْنَا عَجُوزٌ مِنْ عَجَائِزِهِمْ، تَحْمِلُ عَلَى رَأْسِهَا قُلَّةً مِنْ مَاءٍ، فَمَرَّتْ [ص:444] بِفَتًى مِنْهُمْ، فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ بَيْنَ كَتِفَيْهَا، ثُمَّ دَفَعَهَا عَلَى رُكْبَتَيْهَا، فَانْكَسَرَتْ قُلَّتُهَا، فَلَمَّا ارْتَفَعَتِ، الْتأَفَتَتْ إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَتْ: سَتَعْلَمُ يَا غُدَرُ إِذَا وَضَعَ اللَّهُ الْكُرْسِيَّ، وَجَمَعَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ، وَتَكَلَّمَتِ الْأَيْدِي وَالْأَرْجُلُ بِمَا كَانَا يَكْسِبُونَ، فَسَوْفَ تَعْلَمُ أَمْرِي وَأَمْرَكَ عِنْدَهُ غَدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَتْ، ثُمَّ صَدَقَتْ، كَيْفَ يُقَدِّسُ اللَّهُ قَوْمًا لَا يُؤْخَذُ لِضَعِيفِهِمْ مِنْ شَدِيدِهِمْ»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: جب حبشہ کے مہاجرین واپس نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم لوگوں نے حبشہ کی سر زمین پر جو حیران کن بات دیکھی ہے اس بارے میں ہمیں کچھ بتاؤ ‘ تو ان میں سے کچھ نوجوانوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ایک مرتبہ ہم بیٹھے ہوئے تھے ۔ اسی دوران ایک بوڑھی عورت ہمارے پاس سے گزری۔ اس نے اپنے سر پر پانی کا مٹکا اٹھایا ہوا تھا وہ حبشیوں سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کے پاس سے گزری ‘ تو اس نو جوان نے اپنا ایک ہاتھ اس کےک دونوں کندھوں کے درمیان رکھا اور پھر اسے گھٹنوں کے بل گرا دیا۔ اس عورت کا مٹکا ٹوٹ گیا ‘ پھروہ عورت کھڑی ہوئی اور اس نوجوان کی طرف متوجہ ہو کر اس نے کہا: اے نالائق عنقریب تم جا ن لو گے اللہ تعالیٰ جب کرسی کو رکھے گا اور تمام پہلے اور بعد والوں کو جمع کرے گا اس دن ہاتھ اور پاؤں اس بارے میں کلام کریں گے کہ انہوں نے کیا کچھ کیا اس وقت تم میرے اور اپنے معاملے کے بارے میں جان لو گے۔ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس عورت نے سچ کہا ہے اس نے سچ کہا ہے اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو کیسے پاک کر سکتا ہے ‘ جس میں کمزور کے لئے طاقت ور سے مواخذہ نہیں کیا جاتا۔

فِتْيَةٌ مِنْهُمْ: ← «أَلَا تُحَدِّثُونِي بِأَعْجَبَ مَا رَأَيْتُمْ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ»، ← لَمَّا رَجَعَتْ مُهَاجِرَةُ الْحَبَشَةِ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← َخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Judgment Book › Mentioning the reports describing the discussion of God in the resurrection of the just ruler if he is in the world · Hadith 5058

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5059

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ أَبِي الدُّمَيْكِ بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كَيْفَ تُقَدَّسُ أُمَّةٌ لَا يُؤْخَذُ مِنْ شَدِيدِهِمْ لِضَعِيفِهِمْ؟ »

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں ‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتےہوئے سنا ہے: ’’ ایسی اُمت کو کیسے پاک کیا جا سکتا ہے جس میں کمزور کے لئے طاقت ور سے مواخذہ نہ کیا جائے‘‘۔

«كَيْفَ تُقَدَّسُ أُمَّةٌ لَا يُؤْخَذُ مِنْ شَدِيدِهِمْ لِضَعِيفِهِمْ؟ ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← الْفَضْلُ بْنُ الْعَلَاءِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ أَبِي الدُّمَيْكِ1 بِبَغْدَادَ

Sahih Ibn Hibban · Judgment Book › Mentioning the reports describing the discussion of God in the resurrection of the just ruler if he is in the world · Hadith 5059

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5060

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، وَحَدَّثَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا [ص:446] عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ، فَاجْتَهَدَ، فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «مَا رَوَى مَعْمَرٌ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، مُسْنِدًا، إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی قاضی فیصلہ کرتے ہوئے اجتہاد کرتا ہے اور دست فیصلہ کرتا ہے ‘ تو اسے دو اجر ملتے ہیں اور جب وہ فیصلہ کرتے ہوئے اجتہاد کرتا ہے اور اسے غلطی ہو جائے‘ تو اسے ایک اجر ملتا ہے ‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) معمر نے ثوری کے حوالے سے مسند روایت کے طور پر یہی روایت نقل کی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← الثَّوْرِيُّ ← مَعْمَرٌ، ← [ص:446] عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، وَحَدَّثَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ

Sahih Ibn Hibban · Judgment Book › Mentioning the reports describing the discussion of God in the resurrection of the just ruler if he is in the world · Hadith 5060

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5061

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرِ بْنِ مُعَاذٍ الْبَزَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ، فَاجْتَهَدَ، فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ»

حضرت عمرو بن العاص بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ جب قاضی فیصلہ کرتے ہوئے اجتہاد کرے اور درست فیصلہ دے ‘ تو اسے دو اجر ملتے ہیں اور جب فیصلہ دیتے ہوئے اجتہاد کرے اور غلطی کرے ‘ تو اسے ایک اجر ملتا ہے‘‘۔

النَّبِيِّ ← عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ ← أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنِ الْھَادِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرِ بْنِ مُعَاذٍ الْبَزَّارُ،

Sahih Ibn Hibban · Judgment Book › Mentioning the reports describing the discussion of God in the resurrection of the just ruler if he is in the world · Hadith 5061

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5062

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَجُرْ» *

حضرت عبد اللہ بن ابو اوفیٰ ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ بیشک اللہ تعالیٰ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے ‘ جب تک وہ ظلم نہ کرے‘‘۔

ابن اَبِیْ اَوْفٰی ← الشَّيْبَانِيِّ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Judgment Book › Mentioning the reports describing the discussion of God in the resurrection of the just ruler if he is in the world · Hadith 5062

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5063

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، [ص:450] عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقْضِي الْقَاضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ»

عبد الرحمٰن بن ابو بکر اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کوئی بھی قاضی غصے کے عالم میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ دے‘‘۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، [ص:450] ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · Judgment Book › Mentioning the reports describing the discussion of God in the resurrection of the just ruler if he is in the world · Hadith 5063

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5064

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، [ص:451] قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقْضِي الْقَاضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ»

عبد الرحمٰن بن ابو بکر اپنےوالد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: ’’ کوئی شخص قاضی غصے کے عالم میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ دے‘‘۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← هُشَيْمٌ، [ص:451] ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Judgment Book › Mentioning the reports describing the discussion of God in the resurrection of the just ruler if he is in the world · Hadith 5064

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5065

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْزِيُّ بِالْمَوْصِلِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِسَالَةٍ*، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَبْعَثُنِي وَأَنَا غُلَامٌ حَدِيثُ السِّنِّ؟، فَأُسْأَلُ عَنِ الْقَضَاءِ وَلَا أَدْرِي مَا أُجِيبُ، قَالَ: «مَا بُدٌّ مِنْ ذَلِكَ، أَنْ أَذْهَبَ بِهَا أَنَا أَوْ أَنْتَ»، قَالَ: فَقُلْتُ: وَإِنْ كَانَ، وَلَا بُدَّ أَذْهِبُ، أَنَا، فَقَالَ: انْطَلِقْ، فَاقْرَأْهَا عَلَى النَّاسِ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى، يُثَبِّتُ لِسَانَكَ، وَيَهْدِي قَلْبَكَ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ النَّاسَ سَيَتَقَاضُونَ، فَإِذَا أَتَاكَ الْخَصْمَانِ، فَلَا تَقْضِي لِوَاحِدٍ، حَتَّى تَسْمَعَ كَلَامَ الْآخَرِ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ تَعْلَمَ لِمَنِ الْحَقُّ؟! » *

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ حضرت علی ؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے مجھے پیغام رساں بنا کر بھیجا میں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ ! آپ مجھے بھیج رہے ہیں میں ایک کم عمر آدمی ہوں۔ مجھ سے قضاء کے بارے میں دریافت کیا جائے گا اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا جواب دوں گا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اس کے بغیر کوئی چارا بھی نہیں ہے ‘ یا مجھے جانا ہو گا یا تم جاؤ گے ۔ حضرت علی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : اگر اس کے بغیر کوئی چارا نہیں ہے ‘ تو پھر میں چلا جاتا ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم جاؤ اور اسےلوگوں کے سامنے تلاوت کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا۔ تمہارے دل کو ہدایت پر ثابت رکھے گا پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : لوگ اپنے مقدمات لے کر آئیں گے جب دو فریق تمہارے پاس آئیں ‘ تو تم کسی بھی فریق کے حق میں اس وقت تک فیصلہ نہ کرنا ‘جب تک دوسرے فریق کا کلام نہ سن لو کیونکہ یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے ‘ تمہیں پتہ چل جائے گا ‘ حق پر کون ہے۔

بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ بِرِسَالَةٍ*، فَقُلْتُ: ← عَلِيٍّ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْزِيُّ بِالْمَوْصِلِ،

Sahih Ibn Hibban · Judgment Book › Mentioning the reports describing the discussion of God in the resurrection of the just ruler if he is in the world · Hadith 5065

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5066

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ امْرَأَتَيْنِ أَتَتَا دَاوُدَ، وَكُلُّ وَاحِدَةٍ تَخْتَصِمُ فِي ابْنِهَا، فَقَضَى لِلْكُبْرَى، فَلَمَّا خَرَجَتَا قَالَ: سُلَيْمَانُ كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمَا، فَأَخْبَرَتَاهُ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ - وَأَوَّلُ مَنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ» السِّكِّينُ «رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا كُنَّا نُسَمِّيهَا الْمُدْيَةَ - فَقَالَتِ الصُّغْرَى: مَهْ؟ قَالَ: أَشُقُّهُ بَيْنَكُمَا، قَالَتِ: ادْفَعْهُ [ص:454] إِلَيْهَا، وَقَالَتِ: الْكُبْرَى شُقَّهُ بَيْنَنَا، قَالَ: فَقَضَاهُ سُلَيْمَانُ لِلصُّغْرَى، وَقَالَ: لَوْ كَانَ ابْنَكِ، لَمْ تَرْضَيْ أَنْ نَشُقَّهُ

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ دو خواتین حضرت داؤد ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئیں وہ ایک بچے کے بارے میں جھگڑا کر رہی تھیں۔ حضرت داؤد ؑ نے بڑی عمر کی عورت کے حق میں فیصلہ لے لیا جب وہ دونوں وہاں سے نکلی تو حضرت سلیمان ؑ نے دریافت کیا حضرت داؤد ؑ نے تم دونوں کے درمیان کیا فیصلہ دیا ہے ۔ ان دونوں خواتین نے حضرت سلیمانؑ کو اس بارے میں بتایا‘ تو حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا تم میرے پاس چھری لے کر آؤ ( راوی کہتے ہیں : پہلی مرتبہ میں نے نبی اکرمﷺ کی زبانی لفظ ‘‘ سکین ‘‘ سنا کیونکہ ہ لوگ چھری کے لئے لفظ مدیہ استعمال کرتے ہیں) تو چھوٹی عمر کی عورت نے دریافت کیا : وہ کیوں؟ حضرتے سلیمان ؑ نے کہا: میں اس بچے کو تم دونوں کے درمیان تقسیم کر دوں گا۔ اس عورت نے کہا: آپ اس بچے کو اس بڑی عمر کی عورت کے سپرد کر دیں جب کہ بڑی عمر کی عورت نے کہا: آپ اسے ہمارے درمیان تقسیم کر دیں۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ‘ تو حضرت سلیمان ؑ نے چھوٹی عمر کی عورت کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ انہوں نے فرمایا: اگر یہ تمہارا بیٹا ہوتا ‘ تو تم اس بات سے راضی نہ ہوتی کہ اس کے ٹکڑے کر دئیے جائیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Judgment Book › Mentioning the reports describing the discussion of God in the resurrection of the just ruler if he is in the world · Hadith 5066

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr