Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّیْدِ ‹ کِتَابُ الصَّیْدِ · حديث 5879

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ مِنْ أَهْلِ كِتَابٍ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ، وَإِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ، أَصِيدُ بِقَوْسِي، وَبِالْكَلْبِ الْمُكَلَّبِ، وَبِالْكَلْبِ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ، فَأَخْبِرْنِي مَاذَا يَحِلُّ لَنَا مِمَّا يَحْرُمُ عَلَيَّ مِنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ تَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمْ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَاغْسِلُوهَا وَكُلُوا فِيهَا، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الصَّيْدِ، فَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَكُلْ مِنْهُ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَأَمَّا مَا أَصَابَ كَلْبُكَ الْمُكَلَّبُ، فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَأَمَّا مَا أَصَابَ كَلْبُكَ الَّذِي لَيْسَ [ص:191] بِمُكَلَّبٍ، فَإِنْ أَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ، وَمَا لَمْ تُدْرِكْ ذَكَاتَهُ فَلَا تَأْكُلْ»

حضرت ابو ثعلبہ خشنی ؓ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! ہم اہل کتاب کی سر زمین پر رہتے ہیں ہم ان کے برتنوں میں کھا لیتے ہیں ہمارا علاقہ ایسا ہے جہاں شکار بہت ہوتاہے میں اپنی کمان کے ذریعے شکار کرتا ہوں اور تربیت یافتہ کتے کے ذ ریعے بھی کرتا ہوں اور غیر تربیت یافتہ کتے کے ذریعے بھی کرتا ہوں ‘ تو آپﷺ مجھے بتائیے کہ ان میں سے کون سے چیز میرے لئے حرام ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: جہاں تک تم نے اس بات کا ذکر کیا ہے ‘ تم اہل کتاب کی سر زمین پر رہتے ہو اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہو ‘ تو اگر تمہیں ان کے برتنوں کے علاوہ برتن مل جاتے ہیں ‘ تو تم ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ ‘لیکن اگر تمہیں ان کے برتنوں کے علاوہ اور برتن نہیں ملتے ‘ تو تم ان کے برتنوں کو دھو کر ان میں کھا لو جہاں تک تم نے شکار کا ذکر کیا ہے‘ تو جس چیز کو تم اپنی کمان کے ذریعے شکار کرتے ہو اسے تم کھا لو اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لے لو اور جو شکار تربیت یافتہ کتا تمہارے لیے محفوظ رکھتا ہے تم اللہ کا نام لے کر اس میں سے کھا لو اور جو شکار غیر تربیت یافتہ کتے کے ذریعے ہوتاہے اگر تمہیں اس شکار کو ذبح کرنے کا موقع مل جاتا ہے ‘ تو اسے کھا لو اور جسے ذبح کرنے کا موقع نہیں ملتا اسے تم نہ کھانا۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ: ← أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، ← أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ، أَنَّهُ ← رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 5879

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّیْدِ ‹ کِتَابُ الصَّیْدِ · حديث 5880

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَرْمِي بِسَهْمِي فَأُصِيبُ، فَلَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ إِلَّا بَعْدَ يَوْمٍ أَوِ اثْنَيْنِ، قَالَ: «إِنْ قَدَرْتَ عَلَيْهِ وَلَيْسَ بِهِ أَثَرٌ، وَلَا خَدْشٌ إِلَّا رَمْيَتُكَ فَكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ بِهِ أَثَرًا غَيْرَ رَمْيَتِكَ فَلَا تَأْكُلْهُ، وَإِنْ أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَأَدْرَكْتَهُ قَبْلَ أَنْ يَقْتُلَهُ فَذَكِّهِ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَهُ وَلَمْ يَأْكُلْ [ص:193] مِنْهُ شَيْئًا فَكُلْهُ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ وَقَدْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ» قَالَ عَدِيٌّ: فَإِنِّي أُرْسِلُ كِلَابِي وَأَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ، فَتَخْتَلِطُ بِكِلَابِ غَيْرِي، فَيَأْخُذْنَ الصَّيْدَ فَيَقْتُلْنَهُ، قَالَ: «فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي: كِلَابُكَ قَتَلَتْهُ أَمْ كِلَابُ غَيْرِكَ»

حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرمﷺ سے سوال کیا کہ میں اپنے تیر کے ذریعے شکار کرتا ہوں بعض اوقات وہ تیر شکار کو لگ جاتا ہے ‘ لیکن ایک یا دو دن گزرنے کے بعد مجھے وہ شکار ملتا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر وہ تمہیں ایسی حالت میں ملتا ہے ‘ اس پر کوئی اور نشان یا زخم نہ ہو ماسوائے تمہارے تیر کے نشان کے ‘ تو تم اسے کھا لو اور اگر تمہیں اپنے تیر کے نشان کے علاوہ کوئی اور نشان اس پر مل جاتاہے ‘ تو تم اسے نہ کھاؤ اگر تم اپنے کتے کو چھوڑتے ہوئے ا للہ تعالیٰ کا نام ذکر دیتے ہو اور تمہیں وہ شکار مل جاتا ہے اور اس کتے نے اسے مارا نہیں تھا ‘ تم اسے ذبح کر لو ‘ اگر وہ تمہیں ایسی حالت میں ملتا ہے ‘ کتے نے اسے مار دیا تھا اور خود اس میں سے کچھ نہیں کھایا تھا ‘ تو تم اسے کھا لو اور اگر تمہیں ایسی حالت میں ملتا ہے ‘ کتے نے خود بھی اس میں سے کچھ کھایا تھا ‘ تو تم اسے نہ کھاؤ کیونکہ یہ شکار اس نے اپنے لیے کیا تھا۔ حضرت عدی ؓ نےعرض کی: اگر میں اپنے کتے کو چھوڑتا ہوں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام بھی لے لیتا ہوں پھر میرے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی ساتھ مل جاتاہے اور وہ دونوں شکار کرتے ہیں اور شکار کو مار دیتے ہیں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اسے نہ کھاؤ کیونکہ تم یہ بھی نہیں جانتے کہ کیا تمہارے کتے نے اسے قتل کیا ہے یا دوسرے کتے نے اسے مارا ہے۔

الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ، ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 5880

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّیْدِ ‹ کِتَابُ الصَّیْدِ · حديث 5881

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ [ص:195] إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ فَيُمْسِكْنَ عَلَيَّ، وَأَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، قَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلِّمَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ»، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَتَلْنَ، مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مَعَهَا» قُلْتُ لَهُ: فَإِنِّي أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ الصَّيْدَ فَأُصِيبُ، قَالَ: «إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ، فَخَزَقَ فَكُلْهُ، وَإِنْ أَصَابَهُ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْهُ»

حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں اپنے تربیت یافتہ کتے کو چھوڑتا ہوں وہ میرے لیے شکار روک لیتا ہے میں اس پر اللہ تعالیٰ کا نام بھی ذکر کر دیتا ہوں ( تو ا س کا کیا حکم ہو گا) نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم اپنے تربیت یافتہ کتے کو چھوڑتے وقت اس پر اللہ کا نام لے لو ‘ تو تم اسے کھا لو۔ میں نے عرض کی: اگرچہ اس نے شکار کو مار دیا ہو ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اگرچہ اس نے شکار کو مار دیا ہو جبکہ اس کے ہمراہ کوئی ایسا کتا شریک نہ ہو جوان میں شامل نہیں تھا میں نے آپﷺ کی خدمت میں عرض کی میں بعض اوقات تیر مارتا ہوں جو اسے لگ جاتا ہے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اگر تم تیر کو چوڑائی کی سمت میں مارتے ہو اور وہ اسے پھا ڑ دیتا ہے ‘ تو تم اسے کھا لو ‘ لیکن اگر وہ اس کو چوڑائی کی سمت میں لگتا ہے ( اور جانور چوٹ لگنے سے مرتا ہے) ‘ تو تم اسے نہ کھاؤ ۔

قُلْتُ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ [ص:268] إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 5881

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّیْدِ ‹ کِتَابُ الصَّیْدِ · حديث 5882

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيَّ* ثُمَّ السُّلَمِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيَ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَالْإِسْلَامَ يَقُولُ: نَصَبْتُ حَبَائِلَ لِي بِالْأَبْوَاءِ، فَوَقَعَ فِي حَبْلِي مِنْهَا ظَبْيٌ، فَأَفْلَتَ بِهِ، فَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ، فَوَجَدْتُ رَجُلًا قَدْ أَخَذَهُ، فَتَنَازَعْنَا فِيهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْنَاهُ نَازِلًا بِالْأَبْوَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ يَسْتَظِلُّ بِنِطَعٍ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَيْهِ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا شَطْرَيْنَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَلْقَى الْإِبِلَ، وَبِهَا لَبُونٌ، وَهِيَ مُصَرَّاةٌ، وَهُمْ مُحْتَاجُونَ، قَالَ: «فَنَادِ صَاحِبَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا، فَإِنْ جَاءَ، وَإِلَّا فَاحْلُلْ صِرَارَهَا، ثُمَّ [ص:197] اشْرَبْ، ثُمَّ صُرَّ، وَأَبْقِ لِلَّبَنِ دَوَاعِيَهُ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الضَّوَالُّ تَرِدُ عَلَيْنَا، هَلْ لَنَا أَجْرٌ أَنْ نَسْقِيَهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ، فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ» ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا، قَالَ: «سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، خَيْرُ الْمَالِ فِيهِ غَنَمٌ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ، تَأْكُلُ مِنَ الشَّجَرِ، وَتَرِدُ الْمَاءَ، يَأْكُلُ صَاحِبُهَا مِنْ رِسْلِهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ لِبَانِهَا، وَيَلْبسُ مِنْ أَصْوَافَهَا»، أَوْ قَالَ: «مِنَ أَشْعَارِهَا، وَالْفِتَنُ تَرْتَكِسُ بَيْنَ جَرَاثِيمِ الْعَرَبِ، وَاللَّهِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي، قَالَ: «أَقِمِ الصَّلَاةَ، وَآتِ الزَّكَاةَ، وَصُمْ رَمَضَانَ، وَحُجَّ الْبَيْتَ، وَاعْتَمِرْ، وَبِرَّ وَالِدَيْكَ، وَصِلْ رَحِمَكَ، وَاقْرِ الضَّيْفَ، وَمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَزُلْ مَعَ الْحَقِّ حَيْثُ زَالَ»

قاسم بن مخول بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا انہیں زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں کو دیکھنے کا موقع ملا ہے وہ بیان کرتے ہیں: میں نے ابواء کے مقام پر کچھ رسیاں باندھ دیں ان رسیوں میں ایک ہرن پھنس گیا پھر وہ وہاں سے نکل گیا میں اس کی تلاش میں نکلا ‘ تو مجھ ایک شخص ملا جس نے اسے پکڑ لیا تھا ہم اس ہرن کے بارے میں اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تو ہم نے آپ کو ابواء میں ایک درخت میں پیش کیا ‘ تو آپﷺ نے یہ فیصلہ دیا کہ وہ ہم دونوں کے درمیان برابر تقسیم ہو گا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! بعض اوقات ہمیں کچھ اونٹ ملتے ہیں جن میں دودھ والی اونٹنیاں بھی ہوتی ہیں جن کے تھنوں میں دوندھ رکا ہوا ہوتا ہے اور ہمیں اس کی شدید ضرورت بھی ہوتی ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم تین مرتبہ اونٹوں کے مالک کو پکارو اگر وہ آ جائے ‘تو ٹھیک ہے ورنہ اس کا دودھ دوہ کر پی لو اور پھر دوہ لو اور پھر کچھ دودھ ( اس کے تھنوں میں ) باقی رہنے دو ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! بعض اوقات کوئی دوسرا جانور ہمارے پاس آ جاتا ہے ‘ تو اگر ہم اسے کچھ پلاتے ہیں ‘ تو کیا ہمیں اس کا اجر ملے گا ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جی ہاں ہر جاندار کے ساتھ ( اچھائی کرنے کا اجر ملتا ہے) پھر اس کے بعد نبی اکرمﷺ ہمارے ساتھ بات چیت کرنے لگے ۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ جب سب سے بہترین مال بکریاں ہوں گی جو دو مسجدوں کے درمیان ہوں گی وہ درختوں سے (پتے ) کھا لیں گی پانی تک آ جائیں گی ان کا مالک ان کے پیچھے پیچھے آئے گا اور ان کا دودھ پی لے گا ان کی اون کے ذریعے کپڑے پہنے گا ( راو ی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ان کے بالوں کے ذریعے کپڑے پہنے گا ‘ جبکہ اللہ تعالیٰ کی قسم فتنے عربوں کے اندر سرایت کر چکے ہوں گے۔ میں نے عرض کی :یا رسول اللہﷺ! مجھے اس بارے میں تلقین کیجئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم نماز ادا کرو ، زکوٰۃ ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو اور عمرہ کرو اور اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھو ، مہمان کی عزت افزائی کرو ، نیکی کا حکم دو، برائی سے منع کرو اور حق کے ساتھ رہو خواہ وہ جہاں بھی ہو۔

أَبِيَ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَالْإِسْلَامَ ← الْقَاسِمَ بْنَ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيَّ* ثُمَّ السُّلَمِيَّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 5882

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr