صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَجَرِ ‹ ذِکْرُ مَایُسْتَحَبُّ لِلْاِمَامِ اِذَا عَلِمَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اِنْسَانٍ ضِدَّ الرُّشْدِ فِیْ اَسْبَابِہٖ اَنْ یَّحْجُرَ عَلَیْہِ · حديث 5049
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو ثَوْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُبَايعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، فَأَتَى أَهْلُهُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ احْجُرْ عَلَى فُلَانٍ، فَإِنَّهُ يُبَايعُ، وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، فَدَعَاهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا أَصْبِرْ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ: «إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ لِلْبَيْعِ، فَقُلْ هَاءً، وَهَاءً، وَلَا خِلَابَةَ»
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص خریدو فروخت کیا کرتا تھا جس کی زبان میں لکنت تھی۔ اس کے اہل خانہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی آپ فلاں کو تصرف کرنے سے روک دیجئے کیونکہ وہ خرید و فروخت کرتا ہے اس کی قوت گویائی ٹھیک نہیں ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اسے بلایا اور خریدو فروخت کرنے سے منع کر دیا ‘ تو اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! میرا خریدو فروخت کئے بغیر گزارا نہیں ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم نے خریدو فروخت ترک نہیں کرنی ‘ تو پھر یہ کہہ دیاکرو : یہ ہے اور کوئی دھوکہ نہیں چلے گا۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← أَبُو ثَوْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Sahih Ibn Hibban · The Stone Book › Mentioning what is mustahabb for the imam, when he knows, when he knows a person is against adulthood, as to why he should stone himself · Hadith 5049
