Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6274

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ سَبْعَ * سِنِينَ، يَتَتَبَّعُ [ص:173] النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ بِعُكَاظَ وَمَجَنَّةَ وَالْمَوَاسِمِ بِمِنًى، يَقُولُ: «مَنْ يُؤْوِينِي وَيَنْصُرَنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَاتِ رَبِّي؟ »، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لِيَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ أَوْ مِنْ مِصْرَ فَيَأْتِيهُ قَوْمُهُ، فَيَقُولُونَ: احْذَرْ غُلَامَ قُرَيْشٍ، لَا يَفْتِنُكَ، وَيَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ وَهُمْ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ، حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ مِنْ يَثْرِبَ، فَآوَيْنَاهُ وَصَدَّقْنَاهُ، فَيَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنَّا وَيُؤْمِنُ بِهِ وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ، وَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا فِيهَا رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ، ثُمَّ إِنَّا اجْتَمَعْنَا، فَقُلْنَا: حَتَّى مَتَى نَتْرُكُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ؟ ‍، فَرَحَلَ إِلَيْهِ مِنَّا سَبْعُونَ رَجُلًا، حَتَّى قَدِمُوا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ فَوَاعَدْنَاهُ بَيْعَةَ الْعَقَبَةِ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهَا مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ، حَتَّى تَوَافَيْنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَامَ نُبَايِعُكَ؟ قَالَ: «تُبَايعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ، وَالنَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَأَنْ يَقُولَهَا لَا يُبَالِي فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِيَ، وَتَمْنَعُونِي إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ، وَلَكُمُ الْجَنَّةُ»، فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ، وَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ وَهُوَ مِنْ أَصْغَرِهِمْ، فَقَالَ: رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ، فَإِنَّا لَمْ نَضْرِبْ أَكْبَادَ الْإِبِلِ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُنَازَعَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً، وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ، وَأَنْ تَعَضَّكُمُ السُّيُوفُ، فَإِمَّا أَنْ تَصْبِرُوا عَلَى ذَلِكَ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ، وَإِمَّا أَنْتُمْ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ جُبْنًا، فَبَيِّنُوا [ص:174] ذَلِكَ فَهُوَ أَعْذَرُ لَكُمْ، فَقَالُوا: أَمِطْ عَنَّا فَوَاللَّهِ لَا نَدَعُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ أَبَدًا، فَقُمْنَا إِلَيْهِ، فَبَايَعْنَاهُ، فَأَخَذَ عَلَيْنَا، وَشَرَطَ أَنْ يُعْطِيَنَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ

حضرت جاجبر ؓ بیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ سات سال تک مکہ میں مقیم رہے۔آپ عکاظ ، مجنہ اور حج کے موقع پر منیٰ میں موجود لوگوں کی رہائش گاہوں پر جاتےتھے ۔ کون مجھے پناہ دے گا اور کون میری مدد کرے گا تاکہ میں اپنے پروردگار کے اس پیغام کی تبلیغ کر سکوں ،یہاں تک کہ ایک شخص جس کاتعلق یمن یا شاید مصر سے تھا وہ نکلا اور اپنی قوم کے پاس آکر بولا۔ قریش کے اس نوجوان سے بچو کہیں یہ تمہیں آزمائش میں مبتلا نہ کر دے۔ نبی اکرمﷺ لوگوں کی رہائش گاہوں کے درمیان چلتے اور وہ لوگ اپنی انگلیوں سے آپ کی طرف اشارہ کیا کرتےتھے،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یثرب سے بھیجا ہم نے آپ کو پناہ دی اور آپ کی تصدیق کی۔ ہم میں سے ایک شخص نکلا وہ آپ نے اسے قرآن کی تلاوت سکھائی ۔وہ شخص اپنے اہل خانہ کے پاس واپس گیا ،تو اس کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے اہل خانہ نے بھی اسلام قبول کرلیا ، یہاں تک کہ انصار کے ہر محلے میں کچھ نہ کچھ مسلمان ہوگئے ۔ انہوں نے اسلام کو ظاہر کیا پھر ہم اکٹھے ہوگئے ۔ ہم نے کہا :ہم کب تک نبی اکرمﷺ کو ایسی حالت میں رہنے دیں گے ۔ کیا آپ مکہ کے پہاڑوں کے درمیان اِدھر اُدھر آتے جاتے رہیں اور پریشانی کا شکار رہیں ،تو ہم سے ستر افراد آپ کی خدمت میں جانے کے لئے روانہ ہوئے ۔ وہ حج کے موقع پر آپ کی خدمت میں آئے ۔ہم نے آپ کے ساتھ طے کیا کہ ہم عقبہ (گھانی ) کے پاس آکر آپ سے بات کریں گے ۔ ہم لوگ ایک ایک دو،دو کرکے وہاں اکٹھے ہوئے، یہاں تک کہ جب ہماری ہونے ست ہونے (ہر حالت میں) اطاعت فرمانبرداری کرنے ، تنگی اور خوشحالی میں خرچ کرنے نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے پر میری بیعت کرو اور آدمی یہ بھی کہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرے گا اور اس بات پر بیعت کرو کہ تم میری مدد کرو گے ، اورجب تمہارے پاس آؤں گا تم میری مدد کرو گے۔ اسی طرح جس طرح تم اپناخیال رکھتے ہو اپنی بیویوں اور بچوں کا خیال رکھتےہو۔ اس کےعوض میں تمہیں جنت لے گی۔ ہم آپ کے سامنے آئے اور ہم نے آپ کی بیعت کر لی۔ حضرت اسعد بن زرارہ جوان تمام افراد میں کم سن تھے انہوں نے نبی اکرمﷺ کا دست مبارک پکڑ ا اور بولے :ا ے اہل یثرب آگے آؤ ۔ ہم نے اونٹوں کے جگر پر نہیں مارا(یعنی سفر نہیں کیا )مگر یہ کہ ہم نے یہ بات جان لی ہے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں ۔ اب نبی اکرمﷺ کا (مدینہ منورہ کی طرف) نکلنا تمام عربوں سے جھگڑا کرنے کا باعث بنے گا۔ اس کے نتیجے میں تمہارے بہترین لوگ قتل ہو سکتے ہیں ۔ تلواریں تمہیں کاٹ سکتی ہیں ،یا تو یہ ہے کہ تم نے اس صورت حال پر صبر سے کام لینا تمہارا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوجائے گا یا پھر یہ ہےکہ تم بزدلی دکھاتےہوئے اپنی ذات کے حوالے سے اندیشے کا شکار ہوجانا(اگر تم نے ایسا کرنا ہے) ،تو تم اس بات کو بیان کردو نبی اکرمﷺ تم لوگوں کا عذر قبول کرلیں گے۔ ان لوگوں نے کہا : تم ایک طرف ہو جاؤ، اللہ کی قسم!ہم اس بیعت کو کبھی ترک نہیں کریں گے پھر ہم نبی اکرمﷺ کے سامنے کھڑے ہوئے ۔ ہم نے آپ کی بیعت کی۔ آپ نے ہم سے بیعت لی اور ساتھ یہ شرط عائد کی کہ آپ ایسا کرنے کی صورت میں ہمیں جنت عطا کریں گے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6274

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ فَصلٌ فِی ھِجرَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ اِلٰی المَدِینَۃِ ، وَکَیفِیَّۃِ اَحوَالِہِ فِیھَا · حديث 6275

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَالْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «رَأَيْتُ فِيَ الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضِ نَخْلٍ، فَذَهَبَ وَهْلِي أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ، فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ، يَثْرِبُ، وَرَأَيْتُ فِيَ رُؤْيَايَ هَذِهِ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ، فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ، ثُمَّ هَزَزْتُ أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ، فَإِذَا هُوَ مَا جَدَّدَ اللَّهُ مِنَ الْمَغْنَمِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ»

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "میں نے خواب میں دیکھا میں مکہ سے ہجرت کرکے کھجوروں کی سرزمین کی طرف جا رہاہوں ۔ میرا ذہن اس طرف گیا کہ وہ یمامہ ی اہجر ہو سکتے ہیں ، لیکن وہ مدینہ تھا یعنی یثرب تھا اور میں نے خواب میں دیکھا میں نے تلوار لہرائی ،تو وہ ٹوٹ گئی۔ اس سے مراد غزوہ احد کے موقع پر مسلمانوں کو لاحق ہونے والا نقصان ہے پھر میں نے دوسری مرتبہ لہرائی ،تو وہ پہلے سے زیادہ اچھی صورت میں آگئی ۔اس سے مراد وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ مال غنیمت کی شکل میں عطا کرے گا اور اہل ایمان کا اجتماع (یعنی ان کی تعداد کا زیادہ ہونا )مراد ہے۔

النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَالْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › A chapter on the emigration of God, may God’s prayers and peace be upon me, to the city, and how are the conditions in it? · Hadith 6275

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ فَصلٌ فِی ھِجرَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ اِلٰی المَدِینَۃِ ، وَکَیفِیَّۃِ اَحوَالِہِ فِیھَا · حديث 6276

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «رَأَيْتُ فِيَ الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ، فَذَهَبَ وَهْلِي إِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ، وَهَجَرُ، فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ، وَرَأَيْتُ فِيَ رُؤْيَايَ هَذِهِ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ، فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَهَزَزْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ، فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ»

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "میں نے خواب میں دیکھا کہ مکہ سے ہجرت کرکے ایسی سرزمین کی طرف جارہا ہوں ۔ وہاں کجھوروں کے باغات ہیں۔ میرا ذہن اس طرف گیا یہ یمامہ یا ہجر ہو سکتا ہیں ، لیکن یہ مدینہ یعنی یثرب تھا ۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار لہرائی ،تو وہ ٹوٹ گئی۔ اس سے مراد غزوہ احد کے موقع پرلاحق ہونے والا نقصان ہے ،پھر میں نے اسے دوسری مرتبہ لہرایا تو وہ پہلے سے زیادہ اچھی حالت میں آگئی ۔اس کے ذریعے وہ فتح اور اہل ایمان کا اجتماع (یعنی ان کی تعداد میں اضافہ ) مراد ہے، جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا۔

النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › A chapter on the emigration of God, may God’s prayers and peace be upon me, to the city, and how are the conditions in it? · Hadith 6276

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ فَصلٌ فِی ھِجرَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ اِلٰی المَدِینَۃِ ، وَکَیفِیَّۃِ اَحوَالِہِ فِیھَا · حديث 6277

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ قَطُّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ، لَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، طَرَفَيِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا، فَلَمَّا ابْتُلِيَ الْمُسْلِمُونَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ مُهَاجِرًا قِبَلَ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، فَلَقِيَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ سَيِّدُ الْقَارَةِ، فَقَالَ: أَيْنَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟ قَالَ: أَخْرَجَنِي قَوْمِي فَأَسِيحُ فِي الْأَرْضِ، وَأَعْبُدُ رَبِّي، فَقَالَ لَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ: إِنَّ مِثْلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ لَا يَخْرُجُ، وَلَا يُخْرَجُ، إِنَّكَ تُكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، [ص:178] وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، وَأَنَا لَكَ جَارٌ، فَارْتَحَلَ ابْنُ الدَّغِنَةِ، وَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُ، فَقَالَ لَهُمْ، وَطَافَ فِي كُفَّارِ قُرَيْشٍ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، لَا يَخْرُجُ، وَلَا يُخْرَجُ مِثْلُهُ، إِنَّهُ يُكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَحْمِلُ الْكَلَّ، وَيَقْرِي الضَّيْفَ، وَيُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، فَأَنْفَذَتْ قُرَيْشٌ جِوَارَ ابْنِ الدَّغِنَةِ، فَأَمَّنُوا أَبَا بَكْرٍ، وَقَالُوا لِابْنِ الدَّغِنَةِ: مُرْ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ وَيُصَلِّيَ مَا شَاءَ، وَيَقْرَأَ مَا شَاءَ، وَلَا يُؤْذِينَا، وَلَا يَسْتَعْلِنْ بِالصَّلَاةِ وَالْقِرَاءَةِ فِي غَيْرِ دَارِهِ، فَفَعَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَلِكَ، ثُمَّ بَدَا لِأَبِي بَكْرٍ فَابْتَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ، فَكَانَ يُصَلِّي فِيهِ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَيَقِفُ عَلَيْهِ نِسَاءُ الْمُشْرِكِينَ وَأَبْنَاؤُهُمْ، فَيَعْجَبُونَ مِنْهُ، وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلًا بَكَّاءً لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ، فَأَرْسَلُوا إِلَى ابْنِ الدَّغِنَةِ، فَقَدِمَ [ص:179] عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: إِنَّمَا أَجَرْنَا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ، وَإِنَّهُ ابْتَنَى مَسْجِدًا، وَإِنَّهُ أَعْلَنَ الصَّلَاةَ وَالْقِرَاءَةَ، وَإِنَّا خَشِينَا أَنْ يَفْتِنَ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا، فَأْتِهِ، فَقُلْ لَهُ: أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ، وَإِنْ أَبَى إِلَّا أَنْ يُعْلِنَ ذَلِكَ فَلْيَرُدَّ عَلَيْنَا ذِمَّتَكَ، فَإِنَّا نَكْرَهُ أَنْ نُخْفِرَ ذِمَّتَكَ، وَلَسْنَا بِمُقِرِّينَ لِأَبِي بَكْرٍ الِاسْتِعْلَانَ، فَأَتَى ابْنُ الدَّغِنَةِ أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتَ الَّذِي عَقَدْتُ لَكَ عَلَيْهِ، فَإِمَّا أَنْ تَقْتَصِرَ عَلَى ذَلِكَ، وَإِمَّا أَنْ تُرْجِعَ إِلَيَّ ذِمَّتِي، فَإِنِّي لَا أُحِبُّ أَنْ تَسْمَعَ الْعَرَبُ أَنِّي أُخْفِرْتُ فِي عَقْدِ رَجُلٍ عَقَدْتُ لَهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَإِنِّي أَرْضَى بِجِوَارِ اللَّهِ، وَجِوَارِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ: «أُرِيتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ، أُرِيتُ سَبَخَةً ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لَابَتَيْنِ، وَهُمَا حَرَّتَانِ». فَهَاجَرَ مَنْ هَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِينَةِ حِينَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، [ص:180] وَرَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْضُ مَنْ كَانَ هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى رِسْلِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤَذَنَ لِي»، فَقَالَ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي أَوَ تَرْجُو ذَلِكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَفْسَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِصَحَابَتِهِ، وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا لَهُ وَرَقَ السَّمُرِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ. قَالَ الزُّهْرِيُّ: قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: إِذْ قَائِلٌ يَقُولُ لِأَبِي بَكْرٍ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُقْبِلًا مُتَقَنِّعًا فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِدًى لَهُ أَبِي وَأُمِّي، إِنْ جَاءَ بِهِ هَذِهِ السَّاعَةُ لَأَمْرٌ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ»، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هُمْ أَهْلُكَ، قَالَ: «فَنَعَمْ»، قَالَ: «قَدْ أُذِنَ لِي»، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَالصُّحْبَةُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ»، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَخُذْ إِحْدَى رَاحِلَتِي هَاتَيْنِ، فَقَالَ: «نَعَمْ، بِالثَّمَنِ»، قَالَتْ: فَجَهَّزْنَاهُمَا أَحَثَّ الْجِهَازِ، [ص:181] وَصَنَعْنَا لَهُمَا سُفْرَةً فِي جِرَابٍ، فَقَطَعَتْ أَسْمَاءُ مِنْ نِطَاقِهَا، وَأَوْكَتْ بِهِ الْجِرَابَ، فَلِذَلِكَ كَانَتْ تُسَمَّى: ذَاتَ النِّطَاقِ، فَلَحِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فِي جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ: ثَوْرٌ، فَمَكَثْنَا فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں :جب سے میں نے ہوش سنبھالا میں نے اپنے والدین کو مسلمان دیکھا روزانہ نبی اکرمﷺ ہمارے ہاں صبح وشا م تشریف لایا کرتےتھے ۔ جب مسلمانوں کو آزمائش کا شکار کیا جانے لگا، تو حضرت ابوبکر حبشہ کی سر زمین کی طرف ہجرت کرنے کے لئے روانہ ہوئے ۔ ان کی ملاقات قارہ قبیلے کے سردار ابن دغنہ سے ہوئے ۔ اس نے دریافت کیا : اے ابوبکر کہاں جارہے ہو۔ انہوں نے کہا :میری قوم نے مجھے نکلنے پر مججبور کردیا ہے۔ اب میں زمین میں سفر کروں گا اور اپنے پروردگار کی عبادت کروں گا۔ ابن دغنہ نے ان سے کہا :اے ابو بکر آپ جیسا شخص(اپنے علاقے سے ) نہ ،تو نکل سکتا ہے اور نہ ہی اسے نکالا جاسکتاہے ۔آپ ضرورت مند کی مدد کرتےہیں رشتہ درای کے حقوق کا خیال رکھتےہیں ، مہمان نوازی کرتےہیں ، دوسروں کا بوجھ اٹھاتےہیں ، حق کے کاموں میں مدد کرتےہیں ، میں آپ کو پناہ دیتاہوں ،پھر ابن دغنہ وہاں سے سوار ہوکر آئے حضرت ابوبکر ؓ بھی ان کے ساتھ واپس آگئے ۔وہ کفار کے پاس گیا اور اس نے ان سے کہا ابوبکر جیسا شخص (اپنے علاقے سے ) نہ ،تو نکل سکتا ہے اور نہ اس جیسے شخص کو نکالا جا سکتاہے۔ وہ ضرورت مند کی مدد کرتا ہے ان کا خیال رکھتا ہے ، دوسروں کا وزن اٹھاتا ہے۔ مہمان نوازی کرتاہے ، حق کے کاموں میں مدد کرتا ہے ، تو قریش نے ابن دغنہ کی دی ہوئی پناہ کو بر قرار رکھا ۔ انہوں نے حضرت ابو بکر کو امان دیدی ۔ انہوں نے ابن دغنہ سے کہا کہ وہ ابوبکر سےکہے وہ اپنے گھر میں اپنے پروردگار کی عبادت کرے اور وہاں جتنی چاہے نماز ادا کرے اور جتنی چاہے تلاوت کرے، لیکن ہمیں تکلیف نہ پہنچائے ۔وہ اعلانیہ طرت پر اپنے گھر سے باہر نماز ادا نہ کرے اور تلاوت نہ کرے ۔ حضرت ابوبکر ایسا ہی کرتےرہے، پھر ان کو مناسب لگا ،تو انہوں نے اپنے صحن میں مسجد بنالی۔ وہاں وہ نماز اداکیا کرتےتھے اور قرآن کی تلاوت کرتےتھے،تو مشرکین کی خواتین اور بچے وہاںآجاتے اور حیران ہوتےتھے اور ان کی طرف دیکھتے رہتے تھے۔ حضرت ابوبکر بہت زیادہ رویا کرتےتھےجب قرآن کی تلاوت کرتےتھے ،تو ان کی آنکھوں پر قابو نہیں رہتا تھا ۔ قریش نے ابن دغنہ کو پیغام بھیجا کہ وہ ان کے پاس آئے ۔ قریش نے کہا : ہم نے ابو بکر کو اس شرط پر پناہ دی تھی کہ وہ اپنے گھر میں اپنے پروردگار کی عبادت کرے گا۔ اب اس نے مسجد بنالی ہے اور وہ اعلانیہ طور پر نماز پڑھتاہے اور تلاوت کرتا ہے ۔ ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ ہمارے نوجوان بچوں کو آزمائش کا شکار کر دے گا تم اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ اپنے گھر میں اپنے پروردگار کی عبادت کرنے پر اکتفاء کرے ۔ اگر وہ نہیں مانتا اور اعلانیہ طور پر ایسا کرنا چاہتاہے ،تو وہ تمہاری دی ہوئی پناہ واپس کردے کیونکہ ہمیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ ہم تمہاری دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کریں اور ہم ابوبکر کو اعلانیہ طور پر ایسا کرنے کی اجازت بھی نہیں دے سکتے۔ ابن دغنہ ابوبکر کے پاس آیا اور بولا آپ یہ بات جانتےہیں کہ میں نے آپ کے بارے میں ایک بار کا ذمہ لیا تھا یا،تو آپ اس پر اکتفاء کریں ،یا پھر میری دی ہوئی پناہ مجھے واپس کردیں مجھے یہ بات پسند نہیں کہ عرب یہ بات سنیں کہ میں نےایک شخص کو پناہ دینے کے بعد اس سے واپس لےلی ۔حضرت ابوبکر نے فرمایا:میں اللہ اور اس کے رسول کی پناہ سے راضی ہوں ۔(راوی کہتےہیں :) نبی اکرمﷺ مکہ میں مقیم تھے۔ نبی اکرمﷺ نے مسلمانوں سے فرمایاتمہارا ہجرت کا مقام مجھے (خواب میں )دکھایا گیاہے۔ مجھے دکھایا گیا ہے کہ وہ ایک شور والی زمین ہے، جس میں کجھوروں کے باغات بہت ہیں اور اس کےدونوں کناروں پر پتھر یلی زمین ہے۔ جب نبی اکرمﷺ نے اس بات کا تذکرہ کیا ، تو جن لوگوں نے ہجرت کرنی تھی وہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرگئے اور حبشہ کی سر زمین کی طرف جن لوگوں نے ہجرت کی تھی ان میں سے کچھ لوگ مدینہ آگئے ۔ حضرت ابو بکر ؓ نے بھی ہجرت کے لئے سازوسامان تیار کیا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:اے ابوبکر ابھی اتظار کرو مجھے یہ امید ہےکہ مجھے اس کی اجازت مل جائے گی ۔ حضرت ابوبکر ؓ نے نبی اکرمﷺ کا ساتھ دینے کے لئے خد کو روک لیا۔وہ اپنی اونٹنیوں کو چارا کھلاتے رہے۔ وہ انہیں ببول کے پتے کھلایا کرتےتھے ۔ایسا چارماہ تک ہوتا رہا۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں :ایک دن کسی نے حضرت ابوبکر ؓ سے کہا نبی اکرمﷺ تشریف لائے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ منہ ڈھانپ کر تشریف لائے تھے اور یہ ایک ایسا وقت تھا جس میں آپ عام طور پر ہمارے ہاں نہیں آتےتھے ۔حضرت ابوبکر نے عرض کی :میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اگر آپ اس وقت میں تشریف لائے ہیں ، تو ضرور کسی اہم کام کے سلسلے میں آئے ہوں گے۔ نبی اکرمﷺ تشریف لائے آپ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی آپ کی خدمت میں اجازت پیش کی گئی ۔ نبی اکرمﷺ اندر تشریف لائے۔ آپ نے فرمایا:اے ابوبکر اپنے پاس موجود لوگوں کو باہر نکال دو۔ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کی:یا رسول اللہ (ﷺ)! صرف میرے اہل خانہ ہی ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:ٹھیک ہے پھر آپ نے بتایا مجھے اجازت دیدی گئی ہے حضرت ابوبکر نے عرض کی :میرے والد آپ پر قربان ہوں ،یا رسول اللہ(ﷺ)! کیا میں ساتھ دوں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا:جی ہاں حضرت ابوبکرؓنے عرض کی:یا رسول اللہ (ﷺ)! میرے والد آپ پر قربان ہوں آپ ان دونوں میں سے ایک اونٹنی لے لیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:ٹھیک ہے لیکن یہ قیمت کے عوض میں ہوگی۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : ہم نے ان دونوں کےلئے بہترین زادہ راہ تیار کیا ۔ ہم نے ان دونوں کےلئے چمڑے کے کھانے کا تھیلا تیار کیا۔ سیدہ اسماء نے اپنے ازاربندکو کاٹ کر اس کے ذریعے اس تھیلے کا منہ باندھا۔ اسی وجہ سے ان کا نام ذات طاق ہے۔ نبی اکرمﷺ ایک پہاڑ پر موجود غار تک پہنچ گئے۔جس کا نام ثور تھا ۔ آپ تین دن تک وہاں قیام پذیر رہے۔

عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › A chapter on the emigration of God, may God’s prayers and peace be upon me, to the city, and how are the conditions in it? · Hadith 6277

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ فَصلٌ فِی ھِجرَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ اِلٰی المَدِینَۃِ ، وَکَیفِیَّۃِ اَحوَالِہِ فِیھَا · حديث 6278

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ [ص:182] فِي الْغَارِ: لَوْ أَرَادَ أَحَدُهُمْ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى قَدَمَيْهِ لَأَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمِهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا؟ »

حضرت انس ؓ بیان کرتےہیں:حضرت ابوبکر ؓ نے ان لوگوں کو بتایا ہم جب غار میں موجود تھے ،تو میں نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی اگر ان میں سے کوئی ایک شخص اپنے پاؤں کی طرف دیکھ لے ،تو وہ اپنے پاؤں کے نیچے ہمیں دیکھ لے گا نبی اکرمﷺ نے فرمایا:ایسے دو آدمیوں کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ۔ جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہو۔

أنس أن أبا بكر ← ثَابِتٍ، ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › A chapter on the emigration of God, may God’s prayers and peace be upon me, to the city, and how are the conditions in it? · Hadith 6278

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ فَصلٌ فِی ھِجرَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ اِلٰی المَدِینَۃِ ، وَکَیفِیَّۃِ اَحوَالِہِ فِیھَا · حديث 6279

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ [ص:183] بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخُرُوجِ مِنْ مَكَّةَ حِينَ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْأَمْرُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اصْبِرْ»، فَقَالُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَطْمَعُ أَنْ يُؤْذَنَ لَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَرْجُو»، فَانْتَظَرَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ظُهْرًا، فَنَادَاهُ، فَقَالَ لَهُ: «اخْرُجْ مَنْ عِنْدَكِ»، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّمَا هُمَا ابْنَتَايَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ: «أَشَعَرْتَ أَنَّهُ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ»، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الصُّحْبَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الصُّحْبَةُ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي نَاقَتَانِ، قَدْ كُنْتُ أَعْدَدْتُهُمَا لِلْخُرُوجِ. قَالَتْ: فَأَعْطَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَاهُمَا وَهِيَ الْجَدْعَاءُ، فَرَكِبَا حَتَّى أَتَيَا الْغَارَ، وَهُوَ بِثَوْرٍ، فَتَوَارَيَا فِيهِ، وَكَانَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ غُلَامًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَخُو عَائِشَةَ لِأُمِّهَا، وَكَانَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْحَةٌ، فَكَانَ يَرُوحُ بِهَا وَيَغْدُو عَلَيْهِمْ، وَيُصْبِحُ فَيَدَّلِجُ إِلَيْهِمَا، ثُمَّ يَسْرَحُ، فَلَا يَفْطِنُ بِهِ أَحَدٌ مِنَ الرِّعَاءِ، فَلَمَّا خَرَجَا، خَرَجَ مَعْهُمَا يُعْقِبَانِهِ حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ «

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں :حضرت ابوبکرؓنے نبی اکرمﷺ سے مکہ سے چلے جانے کی اجازت مانگی ۔جب حالات خراب ہوگئے نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایاتم صبر سے کام لو حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کی :یا رسول اللہ(ﷺ)! کیا آپ کو یہ توقع ہےکہ آپ کو بھی اجازت مل جائے گی ۔نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا:مجھے امید ہے ، پھر حضرت ابوبکر ؓآپ کا انتظار کرتےرہے ، یہاں تک کہ ایک دن نبی اکرمﷺ ظہر کے وقت حضرت ابوبکر ؓکے پاس تشریف لائے۔آپ نے حضرت ابوبکر ؓکو بلوایا اور ان سے فرمایااپنے پاس موجود لوگوں کو باہر نکال دو ۔حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کی :یارسول اللہ (ﷺ)! صرف میری دو بیٹیاں یہاں ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:کیا تمہیں پتہ چلا کہ مجھے روانگی (ہجرت ) کرنے کی اجازت مل گئی ہے ۔ حضرت ابوبکر نے عرض کی :یارسول اللہ(ﷺ)! کیا میں آپ کے ساتھ رہوں نبی اکرمﷺ نے فرمایا:تم ساتھ رہو۔ حضرت ابوبکر ؓنےعرض کی :یارسول اللہ (ﷺ)! میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں ۔ میں نے انہیں روانگی کے لئے تیا ر کیاہے ۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : حضرت ابوبکرؓان دونوں میں سے ایک اونٹنی نبی اکرمﷺ کی دیدی ۔ وہ جد عاء تھی۔ یہ دونوں حضرات اس پر سوار ہو کر ایک غار میں آگئے ،جو ثور نامی پہاڑ میں تھا ۔ دونوں حضرات اس میں چھپ گئے ۔ عبداللہ بن طفیل کا غلام عامر بن فہیر ہ جو سیدہ عائشہ ؓ کا والد کی طرف سے بھائی تھا اور حضرت ابوبکر ؓ کازیر احسان تھا، تو چرواہوں میں سے کسی کو اس بارے میں اندازہ نہیں ہوسکا وہ صبح ان حضرات کے پاس جاتا ، شام کو مکہ آجاتا ، اور پھر رات کے آخری حصے میں ان حضرات کے پاس آجاتا۔ جب یہ دونوں حضرات وہاں سے روانہ ہوئے ،تو وہ بھی ان دونوں کے ہمراہ تیزی سے چلتا ہوا آیا ،یہاں تک کہ یہ لوگ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔

لَهُ النَّبِيُّ «اصْبِرْ»، ← اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ النَّبِيَّ فِي الْخُرُوجِ مِنْ مَكَّةَ حِينَ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْأَمْرُ، ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ [ص:183] بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › A chapter on the emigration of God, may God’s prayers and peace be upon me, to the city, and how are the conditions in it? · Hadith 6279

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ فَصلٌ فِی ھِجرَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ اِلٰی المَدِینَۃِ ، وَکَیفِیَّۃِ اَحوَالِہِ فِیھَا · حديث 6280

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ وَهُوَ ابْنُ أُخْتِ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ سُرَاقَةَ، يَقُولُ: جَاءَتْنَا رُسُلُ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَجْعَلُونَ فِي [ص:185] رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ دِيَةَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِمَنْ قَتَلَهُمَا أَوْ أَسَرَهُمَا، قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِي بَنِي مُدْلِجٍ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْهَا حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: يَا سُرَاقَةُ إِنِّي رَأَيْتُ آنِفًا أَسْوِدَةً بِالسَّاحِلِ لَا أُرَاهَا إِلَّا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ، قَالَ سُرَاقَةُ: فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ هُمْ، فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِهِمْ، وَلَكِنَّكَ رَأَيْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا، انْطَلِقُوا بِنَا، ثُمَّ لَبِثْتُ فِي الْمَجْلِسِ سَاعَةً، ثُمَّ قُمْتُ فَدَخَلْتُ بَيْتِي فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي أَنْ تُخْرِجَ لِي فَرَسِي وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ فَتَحْبِسَهَا عَلَيَّ، وَأَخَذْتُ رُمْحِي، فَخَرَجْتُ بِهِ مِنْ ظَهْرِ الْبَيْتِ، فَخَطَطْتُ بِهِ الْأَرْضَ فَأَخْفَضْتُ عَالِيَةَ الرُّمْحِ حَتَّى أَتَيْتُ فَرَسِي فَرَكِبْتُهَا، وَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي حَتَّى إِذَا رَأَيْتُ أَسْوِدَتَهُمْ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْ حَيْثُ يَسْمِعُهُمُ الصَّوْتُ عَثَرَ بِي فَرَسِي، فَخَرَرْتُ عَنْهَا، فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي إِلَى كِنَانَتِي، فَاسْتَخْرَجْتُ الْأَزْلَامَ، فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا فَخَرَجَ [ص:186] الَّذِي أَكْرَهُ، فَعَصَيْتُ الْأَزْلَامَ، وَرَكِبْتُ فَرَسِي، وَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي حَتَّى إِذَا سَمِعْتُ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ لَا يَلْتَفِتُ وَأَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ الِالْتِفَاتَ سَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الْأَرْضِ، حَتَّى بَلَغَتَا الرُّكْبَتَيْنِ، فَخَرَرْتُ عَنْهَا، فَزَجَرْتُهَا فَنَهَضْتُ وَلَمْ تَكَدْ تُخْرِجُ يَدَيْهَا، فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً، إِذَا عُثَانٌ سَاطِعٌ فِي السَّمَاءِ، قَالَ: مَعْمَرٌ: قُلْتُ لِأَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ: مَا الْعُثَانُ؟ فَسَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: هُوَ الدُّخَانُ مِنْ غَيْرِ نَارٍ، قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ فَاسْتَقْسَمْتُ بِالْأَزْلَامِ فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لَا أَضُرَّهُمْ، فَنَادَيْتُهُمَا بِالْأَمَانِ، فَوَقَفَا، فَرَكِبْتُ فَرَسِي، حَتَّى جِئْتُهُمْ، وَوَقَعَ فِي نَفْسِي، حَتَّى لَقِيتُ مِنَ الْحَبْسِ عَنْهُمْ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ جَعَلُوا فِيكَ الدِّيَةَ، وَأَخْبَرْتُهُمْ مِنْ أَخْبَارِ أَسْفَارِهِمْ وَمَا يُرِيدُ النَّاسُ بِهِمْ، وَعَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الزَّادَ وَالْمَتَاعَ، فَلَمْ يَرْزَءُونِي، وَلَمْ يَسْأَلُونِي، إِلَّا أَنْ قَالُوا: «أَخْفِ عَنَّا»، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَكْتُبَ لِي كِتَابَ مُوَادَعَةٍ، فَأَمَرَ بِهِ [ص:187] عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ، فَكَتَبَ لِي فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدَمٍ بَيْضَاءَ

عبدالرحمٰن بن مالک جو حضرت سراقہ بن مالک ؓ نے بھانجے ہیں ۔ وہ بیان کرتےہیں :ان کے والد نے یہ بات بتائی ہے ۔ انہوں نے حضرت سراقہ کو یہ بیان کرتےہوئے سنا کفار قریش کے پیغام رصاع ہمارے پاس آئے۔ انہوں نے نبی اکرمﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ دونوں کو قتل کرنے یا قید کرنے والے شخص کےلئے انعام مقرر کیا تھا۔ حضرت سراقہ بیان کرتےہیں :میں اپنی قوم بنو مدلج کی محفل میں بیٹھا ہوا تھا۔ اسی دوران ایک شخص آیا اور ہمارے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔ اس نے کہا :اے سراقہ میں نے کچھ دیر پہلے ساحل کی طرف آدمیوں کا ہیولیٰ دیکھا ہے۔ میرا خیال ہے وہ حضرت محمدﷺ اور اس کے ساتھی ہوں گے۔سراقہ کہتےہیں : مجھے بھی اندازہ ہو گیا کہ وہ وہی ہوں گے ۔ میں نےکہا :وہ لوگ وہ نہیں ہوں گے تم نے فلاں اور فلاں کو دیکھا ہوگا ۔ وہ ہمارے پاس سےگئے ہیں پھر میں اس محفل میں تھوڑی دیر ٹھہرا رہا پھر میں اٹھا اپنےگھر میں آیا ۔ میں نے اپنی کنیز سے کہا وہ میرا گھوڑا نکالے وہ ایک ٹیلے کے پیچھے تھا ۔وہ اس نے میرے لئے تیار کرکے رکھا میں نے اپنا نیزہ پکڑا اور گھر کے پیچھےکی طرف سے نکل گیا۔ میں نے اس کے ذریعے زمین پر لکیریں لگائیں ۔ میں نے نیزے کے اوپر والے حصے کو نیچے کردیا، یہاں تک کپ میں اپنے گھوڑے کے پاس آکر اس پر سوار ہوا میں اپنا گھوڑا دوڑاتا رہا ، یہاں تک کہ مجھے ان لوگوں کا ہیولیٰ نظر آیا ۔ جب میں اتنا قیب ہوا کہ میری آواز ان تک جا سکتی تھی،تو میرے گھوڑے کو ٹھوکرلگی اور میں اس سے نیچے اتر گیا ۔ میں نے اپنا ہاتھ اپنی کمان کی طرف بڑھایا اور اس میں سے پانسے نکالنے والے تیر نکالے میں نے اس میں پانسے کا تیر نکالا، تو وہ چیز سامنے آئی جسے میں پسند نہیں کرتا تھا ۔میں نے پانسے کے فیصلے کو نہیں مانا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوگیا پھر میں نے ایڑھ لگائی، یہاں تک کہ میں نے نبی اکرمﷺ کی قرأت کی آواز سنی نبی اکرمﷺ ادھر ادھر نہیں نہیں دیکھ رہے تھے، لیکن حضرت ابوبکر بہت زیادہ ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔ میرے گھوڑے کے دونوں پاؤں زمین میں دھنس گئے، یہاں تک کہ وہ گھٹنوں تک زمین میں چلے گئے می اس پر سے نیچے گر گیا۔ میں اسے ڈانٹا اور پھر میں اٹھ گیا ،لیکن اس کے دونوں پاؤں زمین سےنہیں نکلے پھر جب وہ سیدھا کھڑا ہوا ،تو اسی دوران آسمان میں ایک چمک دار دھواں نظر آیا۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ وَهُوَ ابْنُ أُخْتِ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › A chapter on the emigration of God, may God’s prayers and peace be upon me, to the city, and how are the conditions in it? · Hadith 6280

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ فَصلٌ فِی ھِجرَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ اِلٰی المَدِینَۃِ ، وَکَیفِیَّۃِ اَحوَالِہِ فِیھَا · حديث 6281

أَخْبَرَنِي الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْغُدَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ: اشْتَرَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ عَازِبٍ رَحْلًا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعَازِبٍ: مُرِ الْبَرَاءَ فَلْيَحْمِلْهُ إِلَى أَهْلِي، فَقَالَ لَهُ عَازِبٌ: لَا حَتَّى تُحَدِّثُنِي كَيْفَ صَنَعْتَ أَنْتَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ خَرَجْتُمَا مِنْ مَكَّةَ، وَالْمُشْرِكُونَ يَطْلُبُونَكُمْ؟ فَقَالَ: ارْتَحَلْنَا مِنْ مَكَّةَ فَأَحْيَيْنَا لَيْلَتَنَا حَتَّى أَظْهَرْنَا، وَقَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ، فَرَمَيْتُ بِبَصَرِي، هَلْ نَرَى ظِلًّا نَأْوِي إِلَيْهِ؟ فَإِذَا أَنَا بِصَخْرَةٍ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهَا، فَإِذَا بَقِيَّةُ ظِلِّهَا، فَسَوَّيْتُهُ، ثُمَّ فَرَشْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْتُ: اضْطَجِعْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاضْطَجَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ أَنْظُرُ، هَلْ أَرَى مِنَ الطَّلَبِ أَحَدًا؟ فَإِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ يَسُوقُ غَنَمَهُ إِلَى الصَّخْرَةِ، يُرِيدُ مِنْهَا مِثْلَ الَّذِي أُرِيدُ - يَعْنِي الظِّلَّ - فَسَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ: لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلَامُ؟ قَالَ الْغُلَامُ: لِفُلَانِ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَعَرَفْتُهُ، فَقُلْتُ: هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَبَنٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: هَلْ أَنْتَ حَالِبٌ لِي؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرْتُهُ، فَاعْتَقَلَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ، وَأَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ ضَرْعَهَا مِنَ الْغُبَارِ، [ص:189] ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ يَنْفُضَ كَفَّيْهِ، فَقَالَ هَكَذَا، وَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى، فَحَلَبَ لِي كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ، وَقَدْ رَوَيْتُ مَعِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِدَاوَةً عَلَى فَمِهَا خِرْقَةٌ، فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرُدَ أَسْفَلُهُ فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَافَقْتُهُ قَدِ اسْتَيْقَظَ، فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَشَرِبَ، فَقُلْتُ: قَدْ آنَ الرَّحِيلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَارْتَحَلْنَا وَالْقَوْمُ يَطْلُبُونَنَا، فَلَمْ يُدْرِكْنَا أَحَدٌ مِنْهُمْ غَيْرُ سُرَاقَةِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ عَلَى فَرَسٍ لَهُ، فَقُلْتُ: هَذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَبَكَيْتُ، فَقَالَ: «لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا»، فَلَمَّا دَنَا مِنَّا، وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ قِيدُ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ، قُلْتُ: هَذَا الطَّلَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ لَحِقَنَا، فَبَكَيْتُ، قَالَ: «مَا يُبْكِيكَ؟ »، قُلْتُ: أَمَا وَاللَّهِ مَا عَلَى نَفْسِي أَبْكِي، وَلَكِنْ أَبْكِي عَلَيْكَ، فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اكْفِنَاهُ بِمَا شِئْتَ»، قَالَ: فَسَاخَتْ بِهِ فَرَسُهُ فِي الْأَرْضِ إِلَى بَطْنِهَا فَوَثَبَ عَنْهَا، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ هَذَا عَمَلُكَ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُنَجِّينِي مِمَّا أَنَا فِيهِ، فَوَاللَّهِ لَأُعَمِّيَنَّ عَلَى مَنْ وَرَائِي مِنَ الطَّلَبِ، وَهَذِهِ كِنَانَتِي، فَخُذْ مِنْهَا سَهْمًا، فَإِنَّكَ سَتَمُرُّ عَلَى إِبِلِي وَغَنَمِي فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَخُذْ مِنْهَا حَاجَتَكَ، [ص:190] فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حَاجَةَ لَنَا فِي إِبِلِكَ»، وَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ رَاجِعًا إِلَى أَصْحَابِهِ، وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ لَيْلًا، فَتَنَازَعَهُ الْقَوْمُ، أَيُّهُمْ يَنْزِلُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي أَنْزِلُ اللَّيْلَةَ عَلَى بَنِي النَّجَّارِ أَخْوَالِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أُكْرِمُهُمْ بِذَلِكَ»، فَخَرَجَ النَّاسُ حِينَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فِي الطُّرُقِ، وَعَلَى الْبُيُوتِ مِنَ الْغِلْمَانِ وَالْخَدَمِ يَقُولُونَ جَاءَ مُحَمَّدٌ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ انْطَلَقَ، فَنَزَلَ حَيْثُ أُمِرَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} [البقرة: 144] قَالَ: وَقَالَ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ وَهُمُ الْيَهُودُ: {مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمِ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا} [البقرة: 142] فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: {قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ} [البقرة: 142]، قَالَ: وَصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَخَرَجَ بَعْدَمَا صَلَّى فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ: هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهُ قَدْ وُجِّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ، فَانْحَرَفَ الْقَوْمُ حَتَّى تَوَجَّهُوا إِلَى الْكَعْبَةِ، قَالَ الْبَرَاءُ: وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مُصْعَبُ بْنُ [ص:191] عُمَيْرٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَيٍّ، فَقُلْنَا لَهُ: مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هُوَ مَكَانَهُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى أَثَرِي، ثُمَّ أَتَى بَعْدَهُ عَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى أَخُو بَنِي فِهْرٍ، فَقُلْنَا: مَا فَعَلَ مَنْ وَرَاءَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ؟ قَالَ: هُمُ الْآنَ عَلَى أَثَرِي، ثُمَّ أَتَانَا بَعْدَهُ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَبِلَالٌ، ثُمَّ أَتَانَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي عِشْرِينَ مِنْ أَصْحَابِهِ رَاكِبًا، ثُمَّ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُمْ، وَأَبُو بَكْرٍ مَعَهُ، قَالَ الْبَرَاءُ: فَلَمْ يَقْدَمْ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَرَأْتُ سُوَرًا مِنَ الْمُفَصَّلِ، ثُمَّ خَرَجْنَا نَلْقَى الْعِيرَ، فَوَجَدْنَاهُمْ قَدْ حَذِرُوا

حضرت براء ؓ بیان کرتےہیں :حضرت ابوبکر صدیقؓ نے (میرے والد سے) تیرہ درہم کے عوض میں ایک پالان خریدا۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عازب ؓسے کہا آپ براء کو ہدایت کریں کہ وہ اسے اٹھا کر میرے گھر پہنچا دے ، تو حضرت عازب نے ان سےکہا ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا،جب تک آپ ہمیں یہ نہیں بتاتے کہ جب آپ اور نبی اکرمﷺ مکہ سے نکلے اور مشرکین آپ کی تلاش میں تھے، تو آپ کے ساتھ کیا صورت حال پیش آئی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے بتایا ہم لوگ مکہ سے روانہ ہوئے ۔ ہم رات بھی سفرکرتےرہے،یہاں تک کہ جب دن چڑھ گیا ،تو میں نے اس بات کاجائزہ لیا کہ کیا ہمیں کوئی سایہ دار جگہ نظر آرہی ہے ،جس کی پناہ میں ہم چلے جائیں ۔ وہاں ایک چٹان موجود تھی ۔ میں اس کے پاس آیا جس کا تھوڑا سا سایہ تھا۔ میں نے وہاں زمین کو درست کیا اور نبی اکرمﷺ کےلئے بچھونا بچھا دیا،پھر میں نے عرض کی :یارسول اللہ (ﷺ)! آپ لیٹ جائیں نبی اکرمﷺ لیٹ گئے پھر میں نے اس بات کا جائزہ کیا کہ کیا مجھے کوئی ایسا شخص نظر آرہا ہے، جو ہماری تلاش میں ہو وہاں مجھے بکریوں کا ایک چرواہا نظرا ٓیا جو اپنی بکریوں لے کر چٹان کی طرف آرہا تھا ۔ وہ بھی چٹان سےوہی فائدہ حاصل کرنا چاہتا تھا جو میں چاہتا تھا یعنی سائے میں آنا چاہتا تھامیں نے اس سے دریافت کیا۔ میں نے کہا :تم کس کے (ملازم یا غلام) ہو نوجوان نے کہا:میں فلاں شخص کا(غلام ہوں ) اس نے قریش کے ایک شخص کا نام لیا جس سے میں واقف تھا میں نے دریافت کیا :کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے۔ اس نے جواب دیا:جی ہاں ! میں نے کہا: کیا تم میرے لئے اسے دوہ دو گے۔ اس نےکہا جی ہاں میں نے اسے ہدایت کی ،تو اس نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری لے لی ۔میں نے اسے ہدایت کی کہ وہ اس کے تھنوں سے غبار کو صاف کردے،پھر میں نے اسے ہدایت کی کہ وہ اپنے ہاتھ جھاڑ لے پھر راوی نے اس طرح کےکے دکھایا یعنی ایک ہاتھ دوسرے پر مار کر دیکھایا پھر اس نے دودھ کا ایک پیالہ مجھے دوہ کردیا۔ میں اپنے ساتھ نبی اکرمﷺ کے لئے ایک برتن لےکر آیا تھا جس کےمنہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔ میں نے وہ (پانی) دودھ پر انڈیلا،یہاں تک کہ اس کے نیچے کا حصہ ٹھنڈا ہوگیا۔ میں نبی اکرمﷺکےپاس آیا ، تو میں نے آپ کو پایا کہ آپ بیدار ہوچکے تھے۔ میں نے عرض کی :یا رسول اللہ(ﷺ)! اسے پی لیجئے ۔ نبی اکرمﷺ نے اسے پی لیا ۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ(ﷺ)! روانگی کا وقت ہوگیا، پھر ہم لوگ روانہ ہوئے ۔ لوگ ہماری تلاش میں تھے ان میں سے کوئی ہم تک نہیں پہنچ سکا ۔ صرف سراقہ بن مالک اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ہم تک آگیا۔ میں نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)! ایک تلاش کرنے والا شخص ہم تک پہنچ چکا ہے،تو میں رو پڑا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:تم غمگین نہ ہو ۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ جب وہ ہمارے قریب ہوا اور ہمارے اور کے درمیان دو یا تین نیزوں جتنا فاصلہ رہ گیا ،تو میں نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)! یہ تلاش میں آنے والا شخص ہمارے قریب پہنچ چکا ہے۔میں پھر رو پڑا نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا تم کیوں رو رہے ہو۔ میں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! میں اپنی ذات کے حولے سے نہیں رو رہا بلکہ آپ کی وجہ سے رورہاہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے اس کےلئے دعائے ضرر کی آپ نے کہا :اے اللہ ،تو اس کے حوالے سے ہمارے لئے جیسے ،تو چاہے کافی ہوجاراوی کہتےہیں :،تو اس شخص کا گھوڑ اپیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ وہ شخص اس سے اتر ا اور بولا:اے حضرت محمد ﷺ میں یہ بات جانتاہوں کہ یہ آپ کا کام ہے آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ میں ، جس مصیبت کا شکار ہوا ہوں وہ مجھے اس سے نجات کردے ۔ اللہ کی قسم ! میں اپنے فلاں مقام پر میرے اونٹوں اور بکریوں کے پاس سے ہوگا۔ وہاں آپ اپنی ضرورت کے مطابق چیزیں حاصل کرلیجئے گا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:ہمیں تمہارے اونٹوں کی ضرورت نہیں ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس کے حق میں دعا کی ، تو وہ انے ساتھیوں کے پاس واپس چلا گیا اور نبی اکرمﷺ آگے روانہ ہوگئے ، یہاں تک کہ ہم رات کے وقت مدینہ منورہ پہنچے لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہوگیا ۔ نبی اکرمﷺ ان میں سے کس کے ہاں پڑاؤ کریں گے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: آج رات میں بنو نجار کے ہاں پڑاوکروں گا۔ وہ جناب عبدالطلب کےننھیال ہیں ۔ میں اس حوالے سے ان کی عزت افزائی کروں گا۔

أَبُو بَكْرٍ لِعَازِبٍ: مُرِ الْبَرَاءَ فَلْيَحْمِلْهُ إِلَى أَهْلِي، ← اشْتَرَى أَبُو بَكْرٍ مِنْ عَازِبٍ رَحْلًا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا، ← الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ رَجَاءٍ الْغُدَانِیُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › A chapter on the emigration of God, may God’s prayers and peace be upon me, to the city, and how are the conditions in it? · Hadith 6281

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ فَصلٌ فِی ھِجرَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ اِلٰی المَدِینَۃِ ، وَکَیفِیَّۃِ اَحوَالِہِ فِیھَا · حديث 6282

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ قَدِمُوا وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ، وَكَانَ الْأَنْصَارُ أَهْلَ الْأَرْضِ وَالْعَقَارِ، قَالَ: فَقَاسَمَهُمُ الْأَنْصَارِ عَلَى أَنْ يُعْطُوهُمْ أَنْصَافَ ثِمَارِ أَمْوَالِهِمْ كُلَّ عَامٍ، فَيَكْفُوهُمُ الْعَمَلَ، قَالَ: وَكَانَتْ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَعْطَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْذَاقًا لَهَا، فَأَعْطَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَوْلَاتَهُ أُمَّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ خَيْبَرَ، وَانْصَرَفَ إِلَى الْمَدِينَةِ، رَدَّ الْمُهَاجِرُونَ إِلَى الْأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمُ الَّتِي كَانُوا مَنَحُوهُمْ مِنْ ثِمَارِهِمْ، قَالَ: فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّي أَعْذَاقَهَا، وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ مَكَانَهَا مِنْ حَائِطِهِ»

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتےہیں : جب مہاجر ین نجی سے مدینہ منورہ آئے وہ ایسی حالت میں آئے کہ ان کے پاس کوئی بھی چیز نہیں تھی ،جب کہ انصار کے پاس زمینیں بھی تھیں اور جائیدادیں بھی تھیں ۔ حضرت انس ؓ بیان کرتےہیں ،تو انصار نے ان کے ساتھ یہ طے پایا کہ وہ ہر سال اپنی زمینوں کی پیداوار کا نصف پھل مہاجرین کو دیں گے، اور مہاجرین کی جگہ کام کاج کر لیا کریں گے۔ راوی بیان کرتےہیں :حضرت انس بن مالکؓ کی والدہ نے اپنی کجھور کے کچھ خوشے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں پیش کئے،تو نبی اکرمﷺ نے وہ اپنی کنیز ام ایمن کو عطا کردیے جو حضرت اسامہ بن زید ؓ کی والدہ تھی،جب نبی اکرمﷺ اہل خیبر کی طرف سے فارغ ہوئے اور واپس مدینہ منورہ تشریف لائے، تو مہاجرین نے انصار کے عطیات انہیں واپس کر دئےجو انہوں نے اپنے پھر وغیرہ انہیں عطیے کے طور پر دئے تھے۔ حضرت انس ؓ بیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ نے میری والدہ کو ان کے کجھوروں کے خوشے بھی واپس کر دئے اور نبی اکرمﷺ نے سیدہ ام ایمن ؓ کو اس کی جگہ اپنا باغ عطا کیا۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › A chapter on the emigration of God, may God’s prayers and peace be upon me, to the city, and how are the conditions in it? · Hadith 6282

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ فَصلٌ فِی ھِجرَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ اِلٰی المَدِینَۃِ ، وَکَیفِیَّۃِ اَحوَالِہِ فِیھَا · حديث 6283

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، وَابْنُ كَثِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: خَرَجَ النَّاسُ يَسْتَسْقُونَ وَفِيهِمْ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، مَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا رَجُلٌ، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ غَزَا؟ وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ: يَا أَبَا عَمْرٍو كَمْ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «تِسْعَ عَشْرَةَ»، قُلْتُ: كَمْ غَزَوْتَ مَعَهُ؟ قَالَ: سَبْعَ عَشْرَةَ، قُلْتُ: مَا أَوَّلُ مَا غَزَا؟ قَالَ: ذُو الْعُشَيْرَةِ أَوِ الْعُسَيْرَةِ، فَصَلَّى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ

ابو اسحاق بیان کرتےہیں :لوگ نماز استسفا ء ادا کرنے کےلئے نکلے ۔ ان میں حضرت زید بن ارقم بھی تھے ۔ میرے والد اور ان کے درمیان صرف ایک شخص تھا میں نے دریافت کیا آپ نے کتنے غزوات میں شرکت کی ہے۔ یہاں ابن کثیر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں ۔ اے ابو عمرو! نبی اکرمﷺ نےکتنے غزوات میں شرکت کی ہے۔ انہوں نے جواب دیا:19غزوات میں ،میں نے دریافت کیا آپ نے نبی اکرمﷺ کے ہمراہ کتنے غزوات میں شرکت کی ہے ۔انہوں نے جواب دیا:سترہ(17)میں دریافت کیا سب سے پہلا غزوہ کون سا تھا ۔انہوں نے بتایا ذوعشرہ(راوی کو شک ہے شایدیہ الفاظ ہے)عسیرہ پھر عبداللہ بن زید نے لوگوں کو دور کعات نماز پڑھائی۔

سَبْعَ عَشْرَةَ، قُلْتُ: مَا أَوَّلُ مَا غَزَا؟ ← «تِسْعَ عَشْرَةَ»، قُلْتُ: كَمْ غَزَوْتَ مَعَهُ؟ ← ابْنُ كَثِيرٍ: يَا أَبَا عَمْرٍو كَمْ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ ← قُلْتُ: كَمْ غَزَا؟ ← خَرَجَ النَّاسُ يَسْتَسْقُونَ وَفِيهِمْ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، مَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا رَجُلٌ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← اَبُو الْوَلِیْدِ وَابْنُ کَثِیْرِ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › A chapter on the emigration of God, may God’s prayers and peace be upon me, to the city, and how are the conditions in it? · Hadith 6283

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6284

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا الْحَوْضِيُّ، وَابْنُ كَثِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مَرْبُوعًا، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، لَهُ شَعَرٌ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ، رَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ، لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت براء ؓبیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ درمیانی قدکے مالک تھے ۔ آپ کا سینہ چوڑا تھا ،آپ کے بال کانوں کی لو تک آتےتھے۔ میں نے آپ کو سرخ حلے میں دیکھا ہے میں نے آپ سے زیادہ خوبصورت کوئی نہیں دیکھا۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← الْحَوْضِيُّ، وَابْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6284

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6285

أَخْبَرَنَا السِّخْتِيَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًا، وَأَحْسَنَهُمْ خَلْقًا وَخُلُقًا لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الذَّاهِبِ [ص:197] وَلَا بِالْقَصِيرِ»

حضرت براء ؓبیان کرتےہیں :نبی اکرم ﷺ سب سے زیادہ خوبصورت تھے۔ آپ اپنی شکل وصورت اور اخلاق کے اعتبار سے سب سے اچھے تھے۔ آپ نہ بہت زیادہ لمبے تھے ،نہ ہی چھوتے قد کے مالک تھے۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← السِّخْتِيَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6285

chevron_left Previous
1…789…60
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr